Explained with ayahs 200–209
کفر و انکار
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 125
یعنی یہ اہل حق کے دلوں کی طرح تسکین روح اور شفائے قلب بن کر ان کے اندر نہیں اترتا بلکہ ایک گرم لوہے کی سلاخ بن کر اس طرح گزرتا ہے کہ وہ سیخ پا ہوجاتے ہیں اور اس کے مضامین پر غور کرنے کے بجائے اس کی تردید کے لیے حربے ڈھونڈنے میں لگ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
معارف و مسائل
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔
قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے
آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
آیت 203-200)
سلک کے معنی کسی چیز کو کسی چیز کے اندر داخل کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں یہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
مخالفین قرآن کی اصل بیماری
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ قرآن سے جو بدک رہے ہیں اس کا سبب قرآن کی کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ ان کے دلوں کی خرابی ہے۔ مسلسل مجرمانہ زندگی بسر کرنے کے سبب سے ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر اب کوئی صحیح چیز قبول کرنے کی صلاحیت باقی ہی نہیں رہ گئی۔ ایک غلط روش پر پختہ ہوجانے کے باعث ان کے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے قرآن کی سیدھی باتیں ان کے دلوں کو چیری ہوئی داخل ہوتی ہیں اور ان کی طبیعتیں اس کو قبول کرنے سے ابا کرتی ہیں۔ جس کا…
Read the full tafseer →20-1یعنی سَلَکْنَاہ میں ضمیر کا مرجع کفر و تکذیب اور جحود وعناد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
46: مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم اگرچہ ہدایت کی کتاب ہے اور جو لوگ حق کے طلب گار ہوں، ان کے دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان کی ہدایت کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن چونکہ انہوں نے ضد کا راستہ اپنا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کے دلوں میں قرآن اس طرح داخل کرتے ہیں کہ اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
کذلک ……لا یشعرون (202)
قرآن کریم ان کی جانب سے تکذیب کا نقشہ یوں کھینچتا ہے کہ یہ تکذیب ان کے ساتھ چپکی رہے گی اور یہ لوگ اسی طرح تکذیب کی حالت میں رہیں گے اور قرآن کریم کا انکار کرتے رہیں گے۔ ان کے دلوں کے اندر تکذیب کی رو گزار دی گئی ہے۔ تکذیب ان کے دل ہی میں جاری ہے۔ یہ ایسے ہی حالات میں ہوں گے کہ ان کو عذاب الیم پکڑے گا۔ یہ عذاب اچانک آئے گا ان کو اس کا کوئی احساس نہ ہوگا ان میں سے بعض تو ایسی ہی حالت میں رہے کہ واصل جہنم ہوئے یا مارے گئے اور جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
7 یعنی جو آدمی جرائم اور گناہوں کا خوگر ہوجاتا ہے اور اپنے قویٰ کو شرارت اور سرکشی میں لگا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی عادت کے موافق ڈھیل چھوڑ دیتا ہے اور اس کے دل میں انکار و تکذیب کے اثر کو جاگزین کردیتا ہے۔ یہ تقریر ترجمہ کے موافق ہوئی۔ لیکن بہت سے مفسرین نے " سلکناہ " کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے۔ یعنی قرآن کو ہم نے اس طرح مجرمین کے دل میں گھسا دیا ہے کہ وہ دل میں خوب سمجھتے ہیں کہ یہ کلام بشر نہیں ہوسکتا۔ پھر بھی ہٹ دھرمی سے ایمان نہیں لاسکتے اور تکذیب کیے چلے جاتے ہیں تاآنکہ دنیا یا آخرت میں دردناک عذاب کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں، اس وقت مانیں گے کہ ہاں پیغمبر سچے تھے اور جو…
Read the full tafseer →آیت 200 کَذٰلِکَ سَلَکْنٰہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ”
قرآن کا انکار ان لوگوں کے دلوں میں اب ڈیرے جما چکا ہے۔ اب انہیں لاکھ معجزے دکھا دیے جائیں یہ ماننے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →118 اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ اور اوپر کے حاشیہ سے واضح ہے اور ربط مضمون کے لحاظ سے یہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ تاہم بعض مفسرین نے ملکتژ میں کا کی ضمیر کو قرآن کی طرف لوٹایا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے قرآن کو ان مجرموں کے دلوں میں گھسا دیا ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اس کو بہرحال جھٹلانے پر کمر بستہ ہیں۔
Read the full tafseer →105۔ اور وہ لوگ اپنے انکار پر ہٹ کی شدت کے ساتھ قائم ہیں۔ اعجمی اور عجمی کے درمیان یہی فرق ہے کہ عجمی غیر عرب کے لیے آتا ہے اور اعجمی غیر فصیح کیلیے خواہ وہ عرب ہی ہو۔ العجم خلاف العرب والعجمی منسوب الیھم والاعجم من فی لسانہ عجمۃ عرب یا کان اور غیر عربی (راغب) یقال رجل اعجمی واعجم اذا کان غیر فصیح وان کان عرب یا ورجل عجمی وان کان فصیحا ینسب الی اصلہ (قرطبی) (آیت) ” سلکنہ “۔ میں ضمیر کفر وعدم ایمان کی طرف ہے، جو شامل ہے (آیت) ” ما کانوا بہ مومنین “۔ میں۔ اے التکذیب والکفر والجحود والعناد (ابن کثیر) قال ابن عباس و مجاھد ادخلنا الشرک والتکذیب (معالم) اے ادخلنا التکذیب او الکفر وھو مدلول قولہ ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →کذلک سلکنہ فی قلوب المجرمین۔ اسی طرح ہم نے اس (شرک و تکذیب) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کردیا ہے۔ کذا قال والحسن ومجاہد۔ آیت کے اس تشریحی ترجمہ سے معلوم ہوگیا کہ شرک کا شرک کا خالق بھی اللہ ہی ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ سَلَکْنَاہُمیں ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی ہم نے اس قرآن کو ان مجرموں کے دلوں میں داخل کردیا انہوں نے قرآن کے اعجاز کو خوب پہچان لیا ہے اس کے باوجود محض عناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →(200) اسی طرح ہم نے اس جھٹلانے کو ان مشرکین یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ۔۔ : ”سَلَکَ یَسْلُکُ“ پرونا، سوئی میں دھاگا داخل کرنا، کسی چیز کو دوسری کے اندر گھسا دینا۔ ”سَلَكْنٰهُ“ میں ”ہٗ“ کی ضمیر اس انکار اور تکذیب کی طرف جا رہی ہے جس کا ذکر پچھلی آیت ”مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِيْنَ“ میں ہے، یعنی ہم نے اس ایمان نہ لانے کو ان مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں کے اندر اس طرح داخل کردیا ہے جس طرح سوئی میں دھاگا داخل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ لوگ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، حتیٰ کہ ”عذاب الیم“ دیکھ لیں۔ اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لانا ہی نہیں تو ان پر آپ غم زدہ کیوں ہوتے ہیں۔ آیت کے سیاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–203
ولو نزلنہ علی بعض الا عجین ایسے آدمی پر جو عربی زبان والا نہیں۔ فقراہ علیھم، لغت عرب کے بغیر ان پر پڑھتا تو وہ ایمان نہ لاتے اور کہتے ہم اسے سمجھے ہی نہیں۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَلَوْ جَعَلْنٰـہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا “ (فصلت : 44) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر ہم اسے غیر عربی آدمی پر بھیجتے تو تکبر کی وجہ سے وہ ایمان نہ لاتا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ رجل اعجمی واعجم۔ جب وہ فصیح نہ ہو اگرچہ وہ عربی ہو۔ رجل عجمی اگرچہ فصیح ہو اسے اپنے اصل کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر فراء نے اجازت دی ہے کہ یہ کہا جائے : رجل عجمی یہ اعجمی کے معنی میں ہے۔ حضرت حسن بصری نے علی بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔
3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ [ اس طرح ] سَلَكْنٰهُ [ ہم نے ڈالا اس (انکار) کو ] فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والوں کے دلوں میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–204
پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن
برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ
قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔
(ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
70:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” سلکنہ “ میں ضمیر مفعول شرک و تکذیب یا استہزاء سے کنایہ ہے۔ قال ابن عباس والحسن و مجاھد ادخلنا الشرک والتکذیب (معالم و خازن ج 5 ص 105) ، مشرکین کے دلوں میں شرک کی بیماری اور پھر توحید کی تکذیب اور اس سے استہزاء کا روگ سرایت کرچکا ہے اور وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ المناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔ ” فیاتیہم بغتۃ الخ “ لیکن عذاب اچانک انہیں آ لے گا اور اس سے پہلے انہیں اس کا علم نہ ہوگا تاکہ اس کی آمد سے پہلے وہ ایمان لے آئیں۔ ” فیقولوا الخ “ جب عذاب آپہنچے گا تو اب حسرت و افسوس کے ساتھ تمنا کریں گے کہ انہیں مہلت مل جائے تاکہ وہ اپنی گذشتہ بد اعمالیوں کی تلافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
ربط آیات
گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔
اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ سَلَكْنٰہُ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ 200ۭ
سلك
السُّلُوكُ : النّفاذ في الطّريق، يقال : سَلَكْتُ الطّريق، وسَلَكْتُ كذا في طریقه، قال تعالی:
لِتَسْلُكُوا مِنْها سُبُلًا فِجاجاً [ نوح/ 20] ، وقال : فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] ، يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ [ الجن/ 27] ، وَسَلَكَ لَكُمْ فِيها سُبُلًا [ طه/ 53] ، ومن الثاني قوله : ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] ، وقوله : كَذلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ
[ الحجر/ 12] ، كَذلِكَ سَلَكْناهُ [ الشعراء/ 200] ، فَاسْلُكْ فِيها[ المؤمنون/ 27] ، يَسْلُكْهُ عَذاباً [ الجن/ 17] . قال بعضهم : سَلَكْتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–210
ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔
تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت ﷺ پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
کَذٰلِکَ سَلَکْنٰـہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ حَتّٰی بَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ فَیَاْتِیَھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ فَیَقُوْلُوْا ھَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 200 تا 203)
(ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو اسی طرح گزارتے ہیں۔ یہ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔ پس وہ ان پر اچانک آدھمکے گا اور وہ اس سے بیخبر ہوں گے۔ اس وقت کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی۔ )
قرآن کریم کی دعوت قبول نہ کرنے کا سبب
قرآن کریم کی حقانیت، فہم و افہام کے لیے اس کی سہولت، پہلی آسمانی کتابوں اور علماء بنی اسرائیل کی شہادت کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–202
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قرآن جس عذاب کا انتظار یا مطالبہ کرتے ہیں وہ عنقریب ان پر نازل ہوگا۔
منکرین قرآن ایمان لانے کی بجائے نبی کریم ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے رہتے ہو وہ اب تک ہم پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟
اس کے انھیں کئی جواب دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک جواب یہ بھی ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ اچانک اور ایسے وقت تم پر نازل ہوگا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس وقت تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ تم پکار پکار کر کہہ رہے ہو گے کہ کاش ہمیں مہلت دی گئی ہوتی۔ کیا اس عذاب کے بارے میں تم جلدی کا مظاہرہ کرتے ہو ؟
اے نبی ! غور فرمائیں کہ اگر ہم انھیں مدت مدید مہلت دیئے جائیں…
Read the full tafseer →200: کَذٰلِکَ سَلَکْنٰہُ (اسی طرح ہم نے اس کو داخل کردیا) یعنی تکذیب کو داخل کردیا یا کفر کو یہ ماکانوا بہٖ مؤمنین کا مدلول ہے۔ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ (مجرمین کے قلوب میں) المجرمین سے مراد وہ کفار ہیں جن کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ وہ کفر ہی اختیار کریں گے اور ان کی طرف سے اصرار کفر ہی ظاہر ہوگا۔۔ مطلب یہ ہے مثل ھذا السلک سلکناہ فی قلوبھم وقررنا فیھا فکیف ما فعل بھم و علی ای وجہ دبرامرھم فلا سبیل الی ان یتغیروا عمّا ھم علیہ من الکفربہٖ والتکذیب لہ اس داخل کرنے کی طرح ہم نے تکذیب کو ان کے دلوں میں داخل کردیا۔ اور دلوں میں پختہ کردیا ان کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے اور جو تدبیر ان کو…
Read the full tafseer →200۔ کذالک سلکناہ ، ابن عباس، حسن ، مجاہد کا قول ہے کہ شرک اور تکذیب کو ہم نے ان کے دلوں میں داخل کردیا۔ فی قلوب المجرمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–203
(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–203
آیت 192 سے 203
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →103 منکروں کے دلوں کے فساد و بگاڑ کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے اس کو ڈال دیا مجرموں کے دلوں میں۔ یعنی ان کے کفر و انکار کو یعنی ہمارا قانون یہی ہے کہ جو ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے وہ صدق و صواب سے محروم ہوجاتا ہے۔ سو ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ کفر و انکار ان کے دلوں میں پکا ہوگیا جو ان کی جان نہیں چھوڑے گا۔ یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ ضمیر منصوب کا مرجع قرآن حکیم ہو۔ یعنی یہ لوگ قرآن حکیم کی صداقت اور حقانیت کو اچھی طرح جانتے ہیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی اور دنیائے دوں کے کچھ وقتی اور عارضی فائدوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →8 ۔ ” جو ان کی ہٹ دھرمی اور پے درپے گناہوں کی سزا ہے۔ “ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” سلکناہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر انکار و تکذیب کے لئے قرار دی جائے مگر بہت سے مفسرین (رح) نے یہ ضمیر قرآن کے لئے قرار دی ہے۔ یعنی ” قرآن کی صداقت تو ان کے دلوں میں اتار دی گئی ہے مگر ان کی ہٹ دھرمی کا حا یہ ہے کہ …“ اور سیاق کے اعتبار سے بھی یہی معنی بہتر ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
(26:200) کذلک۔ اول کاف حرف تشبیہ ذا اسم اشارہ ( یہ۔ اس) ل علامت اشارہ بعید آخری کاف حرف خطاب واحد مذکر۔ کذلک سے اشارہ مذکورہ سابق کی طرف ہوتا ہے۔ ایسے ہی۔ اسی طرح۔ مؤنث کے لئے ہو تو کذلک آئے گا۔ اسی طرح کذلکم وکذلکن ہے۔
سلکنہ : سلکنا ماضی جمع متکلم سلک یسلک (باب نصر) سلک مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ ہم نے اس کو چلایا۔ ہم نے اس کو داخل کیا ہم نے اس کو گھسایا۔ ضمیر ہ واحد مذکر غائب تکذیب و تکفیر کے لئے ہے یعنی ہم نے تکذیب و تکفیر کی عادت مجرموں کے دل میں داخل کردی ہے۔
یروا مضارع منصوب جمع مذکر غائب رویۃ (یہاں تک کہ) وہ دیکھ لیں ۔ مضارع کا نصب حتی کی وجہ سے ہے کہ اس کے بعد ان مقدرہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 :
روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 :
اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
مشرکین کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح کے جھٹلانے پر مجرموں کے دل سخت ہوگئے ہیں اس لیے یہ لوگ حق بات کو اس وقت تک نہیں مانتے جب تک کہ سخت عذاب کو نہ دیکھ لیں اور جب دیکھ لیں گے عذاب ان پر اچانک آجائے گا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی، پھر اس وقت کہیں گے کہ اگر تھوری سی بھی مہلت دی جاوے تو ہم اللہ تعالیٰ کی فرمابرداری اور بندگی کرلیں لیکن ان کا بےوقت پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے ایسے بےبسی کے وقت وہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا، چناچہ سورة یونس میں گزر چکا ہے کہ ڈوبنے کے وقت فرعون نے راہ راست پر آنے کا اقرار…
Read the full tafseer →[34] یعنی جو آدمی جرائم اور گناہوں کا خوگر ہوجاتا ہے اور اپنے قویٰ کو شرارت اور سرکشی میں لگا دیتا ہے تو اللہ بھی اپنی عادت کے مواقف اسے ڈھیل دیتا ہے اور اس کے دل میں انکار و تکذیب کے اثر کو جاگزیں کر
دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–213
سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔
Read the full tafseer →(200) اور اسی طرح ہم نے اس کفرو انکار اور ایمان نہ لانے کو ان گناہ گاروں کے دلوں میں داخل کردیا ہے۔
یعنی ان کی شرارت اور ان کے عناد کی وجہ سے ہم نے ان کو مہلت دی لیکن یہ ہماری مہلت سے ناجائز فائدہ حاصل کرتے رہے تا آنکہ ہم نے ان سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا نولہ ما تولی اسی کو تعبیر فرمایا کذلک سلکنہ اور یہ اثر ہے انتہائی بدبختی اور شقاوت کا ہم پہلے پارے میں مفصلاً عرض کرچکے ہیں یہ حالت روحانی موت کے مرادف ہے العیاد با اللہ آخر میں جب گناہ کا احساس باقی نہ رہے اور کفر کا خوگر بن جائے تو سمجھناچاہئے کہ کام ختم ہوگیا اب ان کے ایمان لانے کی کوئی توقع نہیں لہٰذا ان کے ایمان نہ لانے پر افسوس نہ کیجئے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
ف 3۔ یعنی کفر میں شدید اور اس پر مصر ہیں۔
Read the full tafseer →نہ ماننا تو مجرمین کے دلوں میں داخل ہوچکا ہے :
200۔ پہلے بھی کتنی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ جو چیز کسی کی اصلیت میں داخل ہو وہ اس سے جدا نہیں کی جاسکتی اور اگر وہ جدا ہوجائے تو یقینا وہ اس کی اصلیت میں نہیں تھی بلکہ کوئی وقتی اندھیرا تھا ، ہمارے دیہاتی بھائی جانتے ہیں کہ چاول اور پانی کس قدر لازم وملزوم ہیں چاول کا بویا جانا ہے تو پانی میں ‘ چاول کا پکانا ہے تو پانی میں اور چاول کا کھانے والا کھالے گا تو بس پیاس کا دور دورہ شروع ہوجائے گا گویا وہ اس کی اصل میں داخل ہے جو کبھی اس سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ مجرمین کے دلوں کی کیفیت بھی بڑی عجیب ہوتی ہے کہ وہ منہ سے ہاں ہاں بھی کہتے ہیں جب بھی اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
Commentary
Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾
It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196]
The words بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…
Read the full tafseer →125 That is, unlike the truth-loving people to whom the Qur'an brings peace of the mind and heart, it passes like a hot iron rod through the hearts of the disbelievers, which sets them ill at ease, and they, instead of pondering over its themes, start looking for subterfuges to deny it.
Read the full tafseer →