Ash-Shu'araa 26:194

Ash-Shu'araa · from ayah 194

26:194

عَلٰی قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۟ۙعَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَۙ

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Upon your heart, [O Muhammad] - that you may be of the warners -

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:194

تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) تمہارے قلب پر اترا ہے تاکہ تم ان (پیغمبروں) میں شامل ہوجاؤ جو لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں سے ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ آپ ڈرانے والوں میں شامل ہوجائیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہارے قلب پر، تاکہ تم لوگوں کو آگاہ کردینے والوں میں سے بنو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ کے دل پر اے پیغمبر تاکہ آپ ہوجائیں خبردار کرنے والوں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کے دل پر تاکہ آپ ﷺ ہوجائیں خبردار کرنے والوں میں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے تمہارے دل پر القا کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

to your heart that you might become one of those who warn (others on behalf of Allah),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

upon your heart, so that you become one of the warners

— Muhammad Taqi Usmani

upon your heart, so that you become one of the warners

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Upon your heart that you may be (one) of the warners,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Upon thy heart, that thou mayst be (one) of the warners,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Upon your heart, [O Muhammad] - that you may be of the warners -

— Saheeh International

to your heart, so that you will warn (the people of the dangers of disobeying God).

— Muhammad Sarwar

Upon your heart that you may be of the warners

— Muhammad Habib Shakir

Upon thy heart, that thou mayest be of the warners,

— Abdul Majid Daryabadi

To thy heart and mind, that thou mayest admonish.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:194

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 192–195

مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97؀) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 194–195

سورة الشُّعَرَآء 121 اس فقرے کا تعلق " امانت دار روح اتری ہے " سے بھی ہوسکتا ہے اور " متنبہ کرنے والے ہیں " سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ امانت دار روح اسے صاف صاف عربی زبان میں لائی ہے، اور دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ ان انبیاء میں شامل ہوں جنہیں عربی زبان میں خلق خدا کو متنبہ کرنے کے لیے مامور فرمایا گیا تھا، یعنی ہود، صالح، اسماعیل اور شعیب علیہم السلام۔ دونوں صورتوں میں مقصود کلام ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ رب العالمین کی طرف سے یہ تعلیم کسی مردہ یا جنّاتی زبان میں نہیں آئی ہے، نہ اس میں کوئی معمے یا چیستاں کی سی گنجلک زبان استعمال کی گئی ہے، بلکہ یہ ایسی صاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 193–204

معارف و مسائل نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔ قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 192–194

آگے کا مضمون … آیات 227-192 خاتمہ سورة آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں اور سلسلہ کلام سورة کی تمہید یعنی اصل عمود سے جڑ گیا ہے۔ وہاں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بالکل واضح ہے جو لوگ اس کو ماننے کے لئے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ محض نہ ماننے کا ایک بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو کوئی ایسی نشانی بھی ان کو دیکھا سکتا ہے جس کے آگے ان کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک جائیں لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس طرح کی کوئی نشانی دیکھنے کے بجائے یہ عقل و بصیرت سے کام لیں۔ تاہم اگر ان کی یہی ہٹ دھرمی قائم رہی تو قرآن ان کو جن خطرات سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ایک خطرہ ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

194-1دل کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ حواس باختہ میں دل ہے سب سے زیادہ ادراک اور حفظ کی قوت رکھتا ہے۔ 194-2یعنی نزول قرآن کی علت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 189–195

42: کئی دن تک سخت گرمی پڑنے کے بعد ایک بادل ان کی بستی کے قریب آیا جس کے نیچے بظاہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بستی کے سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس بادل نے ان پر انگارے برسائے جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 192–195

درس نمبر 169 ایک نظر میں یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔ اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔ لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 190–194

2 آغاز سورت میں قرآن کریم کا ذکر تھا اور اس کی تکذیب پر دھمکی دی گئی تھی، درمیان میں مکذبینِ حق کے واقعات بیان ہوئے، یہاں سے پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کریم وہ مبارک اور عظیم الشان کتاب ہے جسے رب العالمین نے اتارا، جبرائیل امین لے کر اترے اور تیرے پاک و صاف قلب پر اتاری گئی کیونکہ یہ ہی قلب تھا جو اللہ کے علم میں اس بھاری امانت کو اٹھانے اور سنبھالنے کے لائق تھا، چناچہ وحی قرآنی آئی اور سیدھی تیرے دل میں اترتی چلی گئی۔ تو نے اس کو اپنے سارے دل سے سنا اور سمجھا اور محفوظ رکھا، شاید " عَلٰی قَلْبِکَ " کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہو کہ نزول وحی کی جو دو کیفیتیں احادیث صحیحہ میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 194 عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ” میں نے قبل ازیں بھی بار ہا یہ ذکر کیا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات میں اصل مہبط وحی آپ ﷺ کا قلب مبارک تھا اور قلب مبارک کے اندر آپ ﷺ کی روح وحی کو قبول receive کرتی تھی۔ انسانی علم کے حوالے سے یہ بات بھی گزشتہ سطور میں کئی دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ بنیادی طور پر انسانی علم کی دو اقسام ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو انسان کو اس کے حواس خمسہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہ اکتسابی علم Acquired knowledge ہے جس کے لیے ہر انسان کوشش اور محنت کرتا ہے۔ اس علم کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ انسان حواس خمسہ سے معلومات حاصل کرکے انہیں process کرنیکے لیے دماغ یا عقل قرآن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

113 پھر یہی مبنی برحقائق آیات جبریل امین لے کر براہ راست آپ کے دل پر اس کلام کو نازل کرتے ہیں تاکہ آپ ایسے واقعات تمام لوگوں کو سنا کر نافرمانوں کو ان کے برے انجام سے بروقت متنبہ کردیں۔ واضح رہے وحی الٰہی تین صورتیں قرآن میں مذکور ہیں سب سے معروف شکل یہ ہے کہ جبریل پیغمبر کے دل پر نازل ہو کر وحی کے الفاظ پیغمبر میں ڈال دے اس صورت میں پیغمبر رشتہ عالم دنیا سے کٹ کر عالم بالا جڑ جاتا ہے۔ وحی کے دوران پیغمبر کے حواس ظاہری کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قلبی حواس کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ پیغمبر دل کی آنکھ سے فرشتہ کو دیکھتا ہے۔ دل کے کانوں سے وحی سنتا ہے۔ بالفاظ دیگر وحی کے دوران پیغمبر کوش بشریت سے کٹ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 190–194

101۔ یہاں قرآن مجید سے متعلق سب سے پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ وہ کسی مخلوق کا نہیں، خود پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے اور دوسری بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک تک جبرئیل امین جیسے زبردست محافظ نے پہنچایا ہے۔ جن کے لائے ہوئے پیام پر کسی غلطی وتحریف کا امکان نہیں۔ (آیت) ” نزل بہ “۔ نزل صلہ ب کے بعد انزل کے معنی میں ہے۔ اے انزل علی ان الباء للتعدبۃ (روح) (آیت) ” روح الامین “۔ یعنی امانت دار فرشتہ مراد حضرت جبرئیل ہیں، اور ملت کا اس پر اتفاق ہے۔ وھوجبرئیل (علیہ السلام) قال غیر واحد من السلف۔ ابن عباس ومحمد بن کعب وقتادۃ وعطیۃ العوفی والسدی والضحاک والزھری وابن جریج وھذا ممالانزاع فیہ (ابن کثیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علی قلبک روح الامین (اور) تمہارے دل پر (اس نے نازل کیا ہے۔ پھر اس نے اس کو یاد کرلیا ہے) قلب سے مراد ہے یہی صنوبری قلب جو سینہ کے اندر ہے۔ وہ لامکانی لطیفۂ ربانی مراد نہیں ہے جس کا مقام عرش کے اوپر ہے اور اس کا ظہور اسی صنوبری دل پر۔ لطیفۂ ربانی تو عالم امر سے ہے یہ نہ وحی کا بار اٹھا سکتا ہے نہ نبوت کا یہ بوجھ اٹھانے والا تو قلب صنوبری ہی ہے جو عناصر کا مجموعہ اور نقوش کا محل اور عالم امر کے ظہور کا مقام ہے اسی لئے ہمیشہ وحی کا صدور جسمانی ساخت کی تکمیل یعنی چالیس سال کی عمر کے بعد ہوا۔ جبرئیل امین وحی الٰہی ہیں اس لئے ان کو امین کہا جاتا ہے۔ لتکون من المنذرین۔ تاکہ آپ (اللہ کی نافرمانی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 192–194

(192 تا 194) اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امانت دار فرشتہ جبریل امین ؑ کے ذریعے آپ کے قلب مبارک پر اتارا جس قدر آپ اس کو محفوظ رکھ سکیں۔ یا یہ کہ جس وقت آپ کے سامنے اس کی تلاوت کی جائے صاف عربی زبان میں کہ آپ ان لوگوں کو ان کی زبان میں یہ کلام پہنچا دیں تاکہ آپ بھی منجملہ اور ڈرانے والوں کے ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

عَلٰي قَلْبِكَ : دوسری جگہ فرمایا : (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ) [ البقرۃ : 97 ] ”کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بیشک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے۔“ یعنی اس قرآن مجید کو جبریل ؑ نے کانوں کے ذریعے سے آپ کو سنانے کے بجائے آپ کے دل پر نازل کیا ہے۔ اگرچہ کانوں نے بھی دل ہی کو بات پہچانی ہے، مگر بلاواسطہ دل پر نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے سمجھنے میں اور یاد رکھنے میں کوئی کمی نہ رہے، جیسا کہ فرمایا : (سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ) [ الأعلٰی : 6، 7 ] ”ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 192–196

(وانہ لتنزیل رب العلمین۔۔۔۔۔ ) وانہ لتنزیل رب العٰلمین سورت کے آغاز میں جس کا ذکر ہے اس کی طرف رجوع کیا کہ مشرکین نے قرآن سے اعراض کیا۔ نزل بہ الروح الامین۔ علی قبلک، نزل کو نافع، ابن کثیر اور ابو عمر نے مخفف پڑھا باقی فراء نے نزل کو مشدد پڑھا ہے بہ الروح الامین منصوب ہے۔ وہ ابو حاتم اور ابو عبیدہ کا پسندیدہ قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانہ لتنزیل یہ نزل کا مصدر ہے۔ جس نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ کہے یہ مقدر نہیں کیونکہ معنی ہے قرآن رب العالمین کی نازل شدہ ہے جسے جبریل امین نے تیری طرف نازل کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

عَلٰي قَلْبِكَ [ آپ ﷺ کے دل پر ] لِتَكُوْنَ [ تاکہ آپ ﷺ ہوجائیں ] مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ [ خبردار کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 194–204

پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 192–209

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 193–196

68:۔ یہ دلیل نقلی از کتب سابقہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ دعوی کوئی نیا نہیں بلکہ کتب سابقہ میں بھی مذکور ہے اور اگر ضمیر سے قرآن مراد ہو تو اس میں تاویل کرنی پڑے گی یعنی ذکر القرآن۔ یا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کے اغلب مضامین کتب سابقہ میں موجود ہیں ای وان ذکر القران لفی الکتب المتقدمۃ و قیل وان معناہ لفی الکتب المتقدمۃ وھو باعتبار الاغلب فان التوحید وسائر ما یتعلق بالذات والصفات و کثیر من المواعظ والقصص مسطور فی الکتب السابقۃ (روح 19 ص 125) ۔ چونکہ اس صورت میں تاویل کرنی پڑتی ہے اس لیے انسب یہی ہے کہ ضمیر منصوب سے دعویٰ ” تبارک “ مراد ہو جیسا کہ حضرت شیخ قدس سرہ کی رائے ہے۔ ” اولم یکن لھم ایۃ الخ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–209

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۝ 194ۙ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 194–198

1 ؎ العجم یا بالضم و التحرک خلاف العرب 12۔ قاموس بہ اعجمی جمع اعج میں علی التخفیف ولذلک جمع جمع السلام ۃ 12 بیضاوی ای لیس جمع اعجم لانہ علیٰ وزن افعل و افعل اذاکان اتناہ نعلاء کعجماء یکون من الصفات لایحمع جمع السلام ۃ۔ 12 ابو محمد عبدالحق

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 192–194

وَاِنَّـہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۔ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَـکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 192 تا 194) (اور بیشک یہ ( قرآن کریم) نہایت اہتمام سے پروردگارِ عالم کا اتارا ہوا ہے۔ اسے لے کر آپ کے دل پر امانتدار روح اتری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو انذار کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ ) خاتمہ سورة کی آیات، قرآن کریم کا مرتبہ و مقام یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں اور اس سورة کی آخری آیات اپنے اسلوب کے مطابق اولین آیات کا تتمہ اور اس کے مرکزی مضمون سے وابستہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کس قدر مربوط کتاب ہے۔ سورة کے آغاز میں نبی کریم ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 193–198

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید من جانب اللہ ہونے کے مزید دلائل۔ اہل مکہ ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کے بارے میں ایک سے ایک بڑھ کر بہکی ہوئی بات کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر اعتراض کرتے محمد ﷺ کسی عربی سے سیکھ کر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں پڑھ کر ہمیں سنائے دیتا ہے۔ (النحل : 103) دوسرے موقع پر خود مطالبہ کرتے یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہونا چاہیے تھا۔ یہ مطالبہ بذات خود ان کی حماقت کی دلیل تھا کیونکہ قرآن مجید عجمی زبان میں ہوتا تو اس کے سمجھنے میں انھیں کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا بالخصوص نزول قرآن کے وقت چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی عرب اَن پڑھ تھے۔ یہاں ان کی بات کا یہ جواب دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

194: عَلٰی قَلْبِکَ (آپ کے دل پر) یعنی آپ کے حافظہ اور فہم پر اور اس کو آپ کے دل میں اس طرح پختہ کردیا جو بالکل نہ بولنے پائے جیسا کہ ارشاد فرمایا سنقرئک فلا تنسٰی ] الاعلی : 6[ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ (تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

194۔ علی قلبک ، اے محمد، آپ کے دل پر ہم نے اس کو رکھا ہے۔ لتکون من المنذرین، تاکہ آپ اس قران کے ذریعے سے لوگوں کو ڈرائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 192–203

(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 192–203

آیت 192 سے 203 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

97 قرآن حکیم کا نزول پیغمبر کے قلب مطہر پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو اتارا ہے آپ ﷺ کے دل پر " ۔ سبحان اللہ ۔ دنیا والوں کے یہاں تو برس ہا برس کی تعلیم و محنت کے بعد جا کر کوئی چیز دل میں اترتی اور رسوخ حاصل کرتی ہے۔ مگر تعلیم نبوت کا آغاز ہی دل کے رسوخ سے ہوتا ہے۔ یہاں سے پھر وہ حقیقت واضح ہوتی ہے جس کا اظہار ہم نے بارہا کیا ہے کہ عقل اور اہل عقل کی پرواز جہاں ختم ہوجاتی ہے وحی اور نبوت کی حدود کا وہاں سے آغاز ہوتا ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نور وحی کا مہبط قلب پیغمبر ہے۔ جو کہ انسانی وجود کا سب سے اعلیٰ اور اشرف حصہ ہے۔ بس اس میں کسی وسوسہ شیطانی یا دغدغہ انسانی کا کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 193–194

4 ۔ متعلق بنزل لا بالامین۔ یعنی آپ ﷺ کے دل پر اس کی تلاوت کی کہ آپ ﷺ اس کے الفاظ و مضامین اچھی طرح یاد کرلیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ قرآن آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک میں بالکل محفوظ ہے اس میں تغیر ممکن نہیں۔ (شوکانی۔ کبیر) معلوم ہوا کہ جبریل امین قرآن لے کر آئے ہیں جو عربی زبان میں ہے اور قرآن کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کے کلام ہیں۔ متکلمین اور فلاسفہ نے نزول وحی کی کیفیت میں جو تفاصیل بیان کی ہیں وہ ان کے اپنے وحدانی کوائف ہیں یا قیاس آرائیاں ہیں۔ قرآن و حدیث کی نصوص سے ان کی تائید نہیں ملتی۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 194–195

(26:194) المنذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر مجرور ڈرانے والے پیغمبر۔ انذار (افتعال) مصدر۔ ہر پیغمبر عذاب الٰہی سے سرکشوں اور نافرمانوں کو ڈراتا ہے اس لئے ہر پیغمبر کو منذر کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانا۔ (ف 1) حکم الٰہی کے سبب سے پچھلی چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور پہلے لوگوں کے سچے حال بیان کرتا ہے جس کو اے محبوب ﷺ تمہارے اوپر ہم نے قرآن کو اس لیے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈر سناؤ، صاف صاف عربی زبان میں ، اور اس قرآن کا ذکر اور تمہاری نبوت اور رسالت کا ذکر پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے پھر فرمایا کہ مکہ کے کفار کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 194–197

[31] یعنی بنی اسرائیل کے علماء خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب اور پیغمبر ہے جس کی خبر پہلے سے آسمانی صحیفوں میں دی گئی تھی۔ چناچہ ان میں سے بعض نے علانیہ اور بعض نے اپنی خصوصی مجلسوں میں امر حق کا اقرار کیا اور بعض انصاف پسند اس علم کی بناء پر مسلمان ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 193–195

ف 1: قصص واخبار کا ذکر کرکے یہ بتایا کہ یہ وہ کتاب ہے ۔ جو اقوام و ملل کے حالات پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں زندگی کے ہر شعبہ پر کماحقہ بحث ہے ۔ جو انتہا درجے کی فصاحت وبلاغت سے متصف ہے اور جو تعلیمات اور پیغام کے لحاظ سے کائنات کی جامع ترین کتاب ہے ۔ اللہ کا پیغام ہے جو عوام مادی وروحانی سب کا یکساں رب ہے ۔ اس کو روح الامین یعنی جبرائیل لائے ہیں ۔ جبرائیل الامین اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں ۔ اور تبلیغ احکام پر نظر رہیں آپ کے قلب پر اللہ کی جانب سے تعلیم کا نزول ہوتا ہے ۔ وہ اللہ سے آیات سن کر آپ ﷺ کے دل تک پہنچادیتے ہیں ۔ یہ کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی یعنی ایک ایسی زبان میں جو روحانی مطالب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(194) تاکہ آپ بھی منجملہ ڈرانے والے کے ہوں یعنی جس طرح اور پیغمبر نافرمانوں کو ڈرایا کرتے تھے آپ بھی ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کا نزول محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر ہوا ہے اور آپ کی زبان ہی نے اس کو ادا کیا : 194۔ اس حقیقت کو الفاظ میں پوری وضاحت کے ساتھ نہیں سمجھایا جاسکتا بلکہ یہ خود سمجھ لینے کی چیز ہے یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کو مسلسل دوسروں ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے وہ ہمیشہ راستہ سے بھٹک گئے ہیں اس کی تفہیم بہت ضروری ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے اور کیا سمجھا جا رہا ہے چونکہ اس کا کوئی مضمون بھی ایسا نہیں جو فقط ایک ہی بار اتارا گیا ہو بلکہ ہر ایک مضمون ایک سے زیادہ بار نازل کیا گیا ہے اور وہ خود اپنے مفہوم کی وضاحت کرتا ہے اس لئے جب تک اس کو بار بار اس پر نہ لوٹایا جائے اس وقت تک بات صاف نہیں ہوتی اس کا دعوی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 193–204

Commentary Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196] The words بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 194–195

121 This sentence may be related to: "... the trustworthy Spirit has come down" and also to: ".... who are (appointed by God) to warn. " In the first case, it will mean that the trustworthy Spirit has brought it down in plain Arabic language, and in the second case, it will mean that the Holy Prophet is included among those Prophets who were appointed to warn the people in the Arabic language, i.e., Hud, Salih, Ishmael and Shu'aib (Allah's peace be upon them). In both cases the object is the same: the Divine Message has not been sent down in a dead or mysterious language, or in a language of…

Read the full tafseer →