بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ۟ؕبِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيۡنٍؕ
اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)
— Fateh Muhammad Jalandhari
In a clear Arabic language.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz
بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ۟ؕبِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيۡنٍؕ
اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)
— Fateh Muhammad Jalandhari
In a clear Arabic language.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
صاف صاف عربی زبان میں
اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)
صاف عربی زبان میں ہے
ایسی عربی زبان میں اترا ہے جو پیغام کو واضح کردینے والی ہے۔
روشن عربی زبان میں،
(اس کا نزول) فصیح عربی زبان میں (ہوا) ہے،
واضح عربی زبان میں۔
جو کہ فصیح عربی زبان میں ہے۔
واضح عربی زبان میں
فصاحت و بلاغت سے لبریز ایک واضح اور روشن عربی زبان میں
صاف عربی زبان میں
(یہ نازل ہوا ہے) واضح عربی زبان میں
اور فصیح عربی زبان میں کیا ہے۔
(a revelation) in clear Arabic language,
in plain Arabic language.
in plain Arabic language.
In the plain Arabic language.
In plain Arabic speech.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
In a clear Arabic language.
It has been revealed in plain Arabic.
In plain Arabic language.
In plain Arabic speech.
In the perspicuous Arabic tongue.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 192–195
مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
سورة الشُّعَرَآء 121 اس فقرے کا تعلق " امانت دار روح اتری ہے " سے بھی ہوسکتا ہے اور " متنبہ کرنے والے ہیں " سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ امانت دار روح اسے صاف صاف عربی زبان میں لائی ہے، اور دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ ان انبیاء میں شامل ہوں جنہیں عربی زبان میں خلق خدا کو متنبہ کرنے کے لیے مامور فرمایا گیا تھا، یعنی ہود، صالح، اسماعیل اور شعیب علیہم السلام۔ دونوں صورتوں میں مقصود کلام ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ رب العالمین کی طرف سے یہ تعلیم کسی مردہ یا جنّاتی زبان میں نہیں آئی ہے، نہ اس میں کوئی معمے یا چیستاں کی سی گنجلک زبان استعمال کی گئی ہے، بلکہ یہ ایسی صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
معارف و مسائل نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔ قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…
Read the full tafseer →بلسان عربی مبین 95 اہل عرب کو تنبیہ یہ اہل عرب پر اظہار احسان ہے کہ اللہ نے یہ تم پر خاص فضل فرمایا ہے کہ اس نے اس کلام کو نہایت واضح عربی زبان میں اتارا ہے۔ یہ چیز تمہارے لئے باعث شرف بھی ہے اور اس میں تمہارے اوپر اتمام حجت بھی ہے۔ اب تم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ تم اس کے سمجھنے سے قاصر رہے۔ اس اہتمام کے بعد اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو اس کی ذمہ داری تمہارے ہی اوپر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
196-1یعنی جس طرح پیغمبر آخری زمان ﷺ کے ظہور و بعث کا اور آپ ﷺ کی صفات کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں ہے، اسی طرح اس قرآن کے نزول کی خوشخبری بھی سابقہ آسمانی کتابوں میں دی گئی تھی۔ ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ یہ قرآن مجید، بہ اعتبار ان احکام کے، جن پر شریعتوں کا اتفاق رہا ہے، پچھلی کتابوں میں بھی موجود رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–195
42: کئی دن تک سخت گرمی پڑنے کے بعد ایک بادل ان کی بستی کے قریب آیا جس کے نیچے بظاہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بستی کے سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس بادل نے ان پر انگارے برسائے جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–195
درس نمبر 169 ایک نظر میں یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔ اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔ لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو…
Read the full tafseer →3 یعنی اتارا نہایت فصیح، واضح اور شگفتہ عربی زبان میں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ " عَلٰی قَلْبِکَ " سے مراد یہ ہیں کہ صرف مضامین قرآن کے آپ ﷺ کے دل میں اتار دیے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اپنے الفاظ میں ادا کردیا۔ بلکہ الفاظ اور مضامین سب وحی ربانی سے قلب مبارک پر القاء کیے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
آیت 196 وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ ” اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس کا ذکر اور اس کے بارے میں پیشین گوئیاں سابقہ آسمانی کتب میں پائی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ اس کے بنیادی مضامین پہلی کتب اور صحیفوں میں بھی موجود ہیں۔ ان صحیفوں اور تورات و انجیل کی بنیادی تعلیمات وہی تھیں جو قرآن کی تعلیمات ہیں۔ اگر کوئی فرق یا اختلاف تھا تو صرف مختلف شریعتوں کے جزئیاتی احکام میں تھا۔ اس لحاظ سے قرآن ان تمام صحائف و کتب کا مُتَمِّم یعنی تکمیلی ایڈیشن ہے۔
Read the full tafseer →114 یعنی یہ وحی جو جبریل امین لے کر آپ کے دل پر اترا ہے بڑی فصیح، واضح اور شگفتہ زبان میں ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ کی قوم عربی زبان بھی بولتی ہے اور سمجھتی ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ جب انھیں ان کے انجام سے خبردار کریں تو بات پوری طرح ان کی سمجھ میں آسکے۔ یہ واضح رہے کہ وحی جلی کے الفاظ بھی من جانب اللہ القا ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
102۔ (آیت) ” انہ “ میں مضاف مقدر ہے۔ عربی محاورہ میں عام طور سے آتا ہے۔ فلان فی دفتر الامیر۔ اور فلاں سے مراد فلاں کے نام یا ذکر سے ہوتی ہے۔ اے اسمہ وذکرہ فی دفتر یہاں بھی تقدیر کلام کچھ یوں ہی معلوم ہوتی ہے۔ ان ذکر ہ فی زبر الاولین، یعنی ذکرہ (کشاف) اے ذکر انزال القران قالہ اکثر المفسرین (معالم) اے ذکر ھذا القران والتنویہ بہ (ابن کثیر) یعنی ذکرہ ثبت فی سائر کتب السماویۃ (مدارک) لیکن بہرحال الفاظ قرآنی سے یہ بھی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ چونکہ ” قرآن “ کا ”(آیت) ” زبر الاولین “ میں ہونا ارشاد ہوگیا ہے۔ حالانکہ قرآن ان اگلی کتابوں میں بجنسہ عربی زبان میں نہیں اس لیے قرآن کا اطلاق غیر عربی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →بلسان عربی مبین۔ واضح عربی زبان میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے قریش کی زبان مراد ہے تاکہ قریش کو یہ عذر نہ ہو کہ ہم وحی کی زبان کو نہیں سمجھتے۔ اس آیت کا بعض اہل تفسیر نے یہ معنی بیان کیا ہے کہ روح الامین نے یہ قرآن آپ کے دل پر عربی زبان میں اتارا ہے اگر کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو آپ کے کانوں پر نازل ہوتا دل پر نازل نہ ہوسکتا کیونکہ غیر عربی الفاظ کے معنی آپ سمجھ نہ پاتے۔ آدمی کبھی چند زبانوں سے واقف ہوتا ہے اگر کوئی اس کی مادری زبان میں بات کرے تو فوراً اس کا ذہن مطلب کی طرف متوجہ ہوتا ہے الفاظ کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی اور اگر مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری سیکھی ہوئی زبان میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–197
(195 تا 197) اور اس قرآن کریم کا اور آپ کا ذکر پہلے انبیاء کرام ؑ کی کتابوں میں بھی ہے۔ کیا ان کفار مکہ کے لیے رسول اکرم ﷺ کی رسالت پر یہ بات دلیل نہیں ہے کہ علماء بنی اسرائیل اس پیشین گوئی کو جانتے ہیں کہ جس وقت ان کفار نے علماء بنی اسرائیل سے آپ کے اور قرآن کریم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے لوگوں کے بارے میں بتادیا۔
Read the full tafseer →بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ : معلوم ہوا کہ نبی ﷺ پر صرف قرآن مجید کے مفہوم و معانی نازل نہیں ہوئے کہ آپ نے انھیں الفاظ کا جامہ پہنایا ہو، بلکہ یہ عربی زبان کے الفاظ کی صورت میں آپ پر نازل ہوا ہے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کے ساتھ کلام کرنے کے منکر ہیں، یہ آیت اور دوسری بہت سی آیات ان کا رد کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کا معجز کلام ہے جو اللہ تعالیٰ کا امتیاز ہے، ساری مخلوق جمع ہو کر بھی صرف معانی ہی نہیں اس کے الفاظ کی مثال لانے سے بھی عاجز ہے۔ مُّبِيْنٍ : یعنی منکرین کا اس پر ایمان نہ لانا اس کے بیان میں کسی خامی کی وجہ سے نہیں بلکہ خود ان کی نااہلی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–196
(وانہ لتنزیل رب العلمین۔۔۔۔۔ ) وانہ لتنزیل رب العٰلمین سورت کے آغاز میں جس کا ذکر ہے اس کی طرف رجوع کیا کہ مشرکین نے قرآن سے اعراض کیا۔ نزل بہ الروح الامین۔ علی قبلک، نزل کو نافع، ابن کثیر اور ابو عمر نے مخفف پڑھا باقی فراء نے نزل کو مشدد پڑھا ہے بہ الروح الامین منصوب ہے۔ وہ ابو حاتم اور ابو عبیدہ کا پسندیدہ قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانہ لتنزیل یہ نزل کا مصدر ہے۔ جس نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ کہے یہ مقدر نہیں کیونکہ معنی ہے قرآن رب العالمین کی نازل شدہ ہے جسے جبریل امین نے تیری طرف نازل کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…
Read the full tafseer →بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ [ واضح عربی زبان میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–204
پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–196
68:۔ یہ دلیل نقلی از کتب سابقہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ دعوی کوئی نیا نہیں بلکہ کتب سابقہ میں بھی مذکور ہے اور اگر ضمیر سے قرآن مراد ہو تو اس میں تاویل کرنی پڑے گی یعنی ذکر القرآن۔ یا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کے اغلب مضامین کتب سابقہ میں موجود ہیں ای وان ذکر القران لفی الکتب المتقدمۃ و قیل وان معناہ لفی الکتب المتقدمۃ وھو باعتبار الاغلب فان التوحید وسائر ما یتعلق بالذات والصفات و کثیر من المواعظ والقصص مسطور فی الکتب السابقۃ (روح 19 ص 125) ۔ چونکہ اس صورت میں تاویل کرنی پڑتی ہے اس لیے انسب یہی ہے کہ ضمیر منصوب سے دعویٰ ” تبارک “ مراد ہو جیسا کہ حضرت شیخ قدس سرہ کی رائے ہے۔ ” اولم یکن لھم ایۃ الخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…
Read the full tafseer →بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ 195ۭ لسن اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فاختلاف الْأَلْسِنَةِ إشارة إلى اختلاف اللّغات، وإلى اختلاف النّغمات، فإنّ لكلّ إنسان نغمة مخصوصة يميّزها السّمع، كما أنّ له صورة مخصوصة يميّزها البصر . ( ل س ن )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
1 ؎ العجم یا بالضم و التحرک خلاف العرب 12۔ قاموس بہ اعجمی جمع اعج میں علی التخفیف ولذلک جمع جمع السلام ۃ 12 بیضاوی ای لیس جمع اعجم لانہ علیٰ وزن افعل و افعل اذاکان اتناہ نعلاء کعجماء یکون من الصفات لایحمع جمع السلام ۃ۔ 12 ابو محمد عبدالحق
Read the full tafseer →بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ۔ (الشعرآء : 195) (ایسی عربی زبان میں جو بالکل واضح ہے۔ ) اہلِ عرب پر احسان اور تنبیہ قرآن کریم کی حقانیت کو واضح کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس کو ایک ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو خود تمہاری اپنی زبان ہے اور اسلوب ایسا رکھا گیا ہے جو تمہارے لیے اطمینان بخش طریقے سے قابل فہم اور واضح الدلالت ہے، جس کی کوئی آیت بھی چیستان کی طرح گنجلک زبان نہیں رکھتی۔ اس کا مفہوم و مدعا ہر عربی زبان جاننے والا شخص بےتکلف سمجھ سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے اندر ایسی فصاحت و بلاغت اور ایسے اعلیٰ پائے کا اندازِ بیان رکھتی ہے کہ جس کی مثال لانا انسانی استطاعت سے باہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–198
فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید من جانب اللہ ہونے کے مزید دلائل۔ اہل مکہ ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کے بارے میں ایک سے ایک بڑھ کر بہکی ہوئی بات کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر اعتراض کرتے محمد ﷺ کسی عربی سے سیکھ کر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں پڑھ کر ہمیں سنائے دیتا ہے۔ (النحل : 103) دوسرے موقع پر خود مطالبہ کرتے یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہونا چاہیے تھا۔ یہ مطالبہ بذات خود ان کی حماقت کی دلیل تھا کیونکہ قرآن مجید عجمی زبان میں ہوتا تو اس کے سمجھنے میں انھیں کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا بالخصوص نزول قرآن کے وقت چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی عرب اَن پڑھ تھے۔ یہاں ان کی بات کا یہ جواب دیا…
Read the full tafseer →عربی زبان میں اتارنے کا بیان : 195: بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ (عربی زبان میں) لغت قریش وجرھم میں مُّبِیْنٍ (واضح) اس میں ایسی وضاحت ہے کہ عام لوگوں کی زبان میں جو نقائص ہیں ‘ یہ ان سے پاک ہے۔ نحو : باء نمبر 1۔ یہ منذرین سے متعلق ہے تقدیر کلام یہ ہے لتکون من الذین انذر وابھذا اللسان اور وہ ہود، صالح، شعیب و اسماعیل (علیہم السلام) ہیں۔ نمبر 2۔ نزل سے متعلق ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے نزل بلسان عربی لتنذربہٖ لانہ لونزلہ بلسان اعجمی لتجافوا عنہ اصلاً ولقاموا مانصنع بما لا نفھمہ فیتعذر الانذار بہٖ اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ آپ اسکے ذریعہ ڈرائیں کیونکہ اگر اس کو عجمی زبان میں اتارتے تو یہ اس سے بالکل دوری…
Read the full tafseer →195۔ لسان عربی مبین، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ اس سے قریش کی زبان مراد ہے تاکہ قریش کو یہ عذر نہ ہو کہ ہم وحی کی زبان کو نہیں سمجھتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–203
(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–203
آیت 192 سے 203 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →99 روشن ۔ و واضح۔ عربی زبان میں : جس میں نہ کوئی اونچ نیچ ہے نہ کجی و ٹیڑھ اور نہ کسی طرح کا کوئی زیغ و ابہام۔ اور عربی زبان کے سوا دوسری کوئی زبان ایسی تھی ہی نہیں اور ہے ہی نہیں جو قرآن حکیم کے معانی و مطالب اور اس کے مضامین و معارف کو اپنے الفاظ و تراکیب اور محاورے و زبان میں ادا کرسکے۔ یہ عربی زبان ہی کی عظیم الشان وسعتیں اور حیرت انگیز باریکیاں اور وجد آفریں لطافتیں اور نزاکتیں ہیں جو قرآنی علوم و معارف کو سمیٹ سکتی ہیں۔ مگر افسوس کے آج کا مسلمان اس زبان کی ان عظمتوں اور باریکیوں سے غافل و بیخبر ہے ۔ اِلا مَا شَائَ اللّٰہُ ۔ بہرکیف یہ اہل عرب پر قدرت کا ایک عظیم الشان احسان ہے کہ اس کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
5 ۔ یعنی اپنے ان احکام وتعلیمات کے اعتبار سے جن پر تمام شریعتوں کا اتفاق ہے یا ” اس قرآن کی خبر لکھی ہے اگلی کتابوں میں اور اس کا مدعا بھی یہی ہے اکثر۔ (موضح) یہ بھی ممکن ہے کہ ” انہ “ میں ” ہ “ ضمیر سے آنحضرت ﷺ مراد ہوں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی آمد کی بشارت اور آپ ﷺ کے اوصاف پہلی کتابوں میں موجود ہیں۔ جیسے فرمایا : ” یجدونہ مکتوبا عندھم فی النوراۃ والانجیل۔ “ کہ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ (اعراف :157) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہٗ احمد۔ اور اپنے بعد ایک رسول کے آنے کی بشارت دیتا ہوں جس کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
(26:194) المنذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر مجرور ڈرانے والے پیغمبر۔ انذار (افتعال) مصدر۔ ہر پیغمبر عذاب الٰہی سے سرکشوں اور نافرمانوں کو ڈراتا ہے اس لئے ہر پیغمبر کو منذر کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–199
کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانا۔ (ف 1) حکم الٰہی کے سبب سے پچھلی چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور پہلے لوگوں کے سچے حال بیان کرتا ہے جس کو اے محبوب ﷺ تمہارے اوپر ہم نے قرآن کو اس لیے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈر سناؤ، صاف صاف عربی زبان میں ، اور اس قرآن کا ذکر اور تمہاری نبوت اور رسالت کا ذکر پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے پھر فرمایا کہ مکہ کے کفار کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
[31] یعنی بنی اسرائیل کے علماء خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب اور پیغمبر ہے جس کی خبر پہلے سے آسمانی صحیفوں میں دی گئی تھی۔ چناچہ ان میں سے بعض نے علانیہ اور بعض نے اپنی خصوصی مجلسوں میں امر حق کا اقرار کیا اور بعض انصاف پسند اس علم کی بناء پر مسلمان ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–195
ف 1: قصص واخبار کا ذکر کرکے یہ بتایا کہ یہ وہ کتاب ہے ۔ جو اقوام و ملل کے حالات پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں زندگی کے ہر شعبہ پر کماحقہ بحث ہے ۔ جو انتہا درجے کی فصاحت وبلاغت سے متصف ہے اور جو تعلیمات اور پیغام کے لحاظ سے کائنات کی جامع ترین کتاب ہے ۔ اللہ کا پیغام ہے جو عوام مادی وروحانی سب کا یکساں رب ہے ۔ اس کو روح الامین یعنی جبرائیل لائے ہیں ۔ جبرائیل الامین اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں ۔ اور تبلیغ احکام پر نظر رہیں آپ کے قلب پر اللہ کی جانب سے تعلیم کا نزول ہوتا ہے ۔ وہ اللہ سے آیات سن کر آپ ﷺ کے دل تک پہنچادیتے ہیں ۔ یہ کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی یعنی ایک ایسی زبان میں جو روحانی مطالب…
Read the full tafseer →(195) وہ فرشتہ اس قرآن کریم کو صاف اور واضح عربی زبان میں لے کر آیا ہے اس آیت کا تعلق بھی نزل بہ کے ساتھ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
ف 3۔ یعنی کفر میں شدید اور اس پر مصر ہیں۔
Read the full tafseer →اس کی زبان عربی مبین ہے یعنی خود بخود واضح ہے : 195۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو قلب رسول پر نازل کرنے کا کوئی یہ مطلب نہ سمجھے کہ اس کے الفاظ نبی کریم ﷺ کے اپنے تھے ہرگز نہیں بلکہ اس کے الفاظ ہی آپ ﷺ کے دل پر نازل کئے گئے تھے گویا یہ رسول کا بیان کردہ مفہوم نہیں بلکہ الفاظ ہیں اور یہی اس کلام کے معجزانہ ہونے کی دلیل ہے اور یہی ” مبین “ کی وضاحت ہے اس پر مزید غور کرنے کے لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول قرآن کریم کی عبارت کے علاوہ بھی بولتا تھا نہ کہ کوئی باجا تھا کہ جب اللہ میاں نے چاہا اس کا بٹن آن کردیا پھر دونوں کلاموں کو آج بھی ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر دیکھ لیا جائے تو کبھی دونوں کلام ایک جیسے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
Commentary Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196] The words بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–195
121 This sentence may be related to: "... the trustworthy Spirit has come down" and also to: ".... who are (appointed by God) to warn. " In the first case, it will mean that the trustworthy Spirit has brought it down in plain Arabic language, and in the second case, it will mean that the Holy Prophet is included among those Prophets who were appointed to warn the people in the Arabic language, i.e., Hud, Salih, Ishmael and Shu'aib (Allah's peace be upon them). In both cases the object is the same: the Divine Message has not been sent down in a dead or mysterious language, or in a language of…
Read the full tafseer →