Ash-Shu'araa 26:193

Ash-Shu'araa · from ayah 193

26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۟ۙنَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Trustworthy Spirit has brought it down

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:193

اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

امانت دار فرشتہ اسے لے کر اترا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسے روح الا مین لے کر اترا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جسے روح الامین لے کر آپ کے دل پر نازل ہوا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کو روح الامین جیسا عظیم الشان فرشتہ لے کر اترا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اسے روح الامین نے آپ کے قلب پر اتارا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اُترے ہیں اسے لے کر روح الامین ؑ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

which the truthful spirit has carried down

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Trusted Spirit has brought it down

— Muhammad Taqi Usmani

The Trusted Spirit has brought it down

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Which the trustworthy Ruh (Jibril) has brought down.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which the True Spirit hath brought down

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Trustworthy Spirit has brought it down

— Saheeh International

It has been revealed through the trustworthy Spirit

— Muhammad Sarwar

The Faithful Spirit has descended with it,

— Muhammad Habib Shakir

The Trusted spirit hath brought it down.

— Abdul Majid Daryabadi

With it came down the spirit of Faith and Truth-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:193

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 192–195

مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97؀) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 120 مراد ہیں جبریل علیہ السلام، جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ۔ (البقرہ۔ آیت 97)۔ " کہہ دے کہ جو کوئی دشمن ہے جبریل ؑ کا تو اسے معلوم ہو کہ اسی نے یہ قرآن اللہ کے حکم سے تیرے دل پر نازل کیا ہے۔ " یہاں ان کا نام لینے کے بجائے ان کے لیے روح امین (امانت دار روح) کا لقب استعمال کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ رب العالمین کی طرف سے اس تنزیل کو لے کر کوئی مادی طاقت نہیں آئی ہے جس کے اندر تغیر و تبدل کا امکان ہو، بلکہ وہ ایک خالص روح ہے بلا شائبہ مادیت، اور وہ پوری طرح امین ہے، خدا کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 193–204

معارف و مسائل نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔ قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 192–194

آگے کا مضمون … آیات 227-192 خاتمہ سورة آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں اور سلسلہ کلام سورة کی تمہید یعنی اصل عمود سے جڑ گیا ہے۔ وہاں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بالکل واضح ہے جو لوگ اس کو ماننے کے لئے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ محض نہ ماننے کا ایک بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو کوئی ایسی نشانی بھی ان کو دیکھا سکتا ہے جس کے آگے ان کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک جائیں لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس طرح کی کوئی نشانی دیکھنے کے بجائے یہ عقل و بصیرت سے کام لیں۔ تاہم اگر ان کی یہی ہٹ دھرمی قائم رہی تو قرآن ان کو جن خطرات سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ایک خطرہ ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 190–193

193-1کفار مکہ نے قرآن کے وحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا (علیہم السلام) کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیا کہ یہ قرآن یقینا وحی الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا ؟ اس لئے یہ قرآن یقینا اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ جبرائیل ؑ لے کر آئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 189–195

42: کئی دن تک سخت گرمی پڑنے کے بعد ایک بادل ان کی بستی کے قریب آیا جس کے نیچے بظاہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بستی کے سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس بادل نے ان پر انگارے برسائے جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 192–195

درس نمبر 169 ایک نظر میں یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔ اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔ لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 190–194

2 آغاز سورت میں قرآن کریم کا ذکر تھا اور اس کی تکذیب پر دھمکی دی گئی تھی، درمیان میں مکذبینِ حق کے واقعات بیان ہوئے، یہاں سے پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کریم وہ مبارک اور عظیم الشان کتاب ہے جسے رب العالمین نے اتارا، جبرائیل امین لے کر اترے اور تیرے پاک و صاف قلب پر اتاری گئی کیونکہ یہ ہی قلب تھا جو اللہ کے علم میں اس بھاری امانت کو اٹھانے اور سنبھالنے کے لائق تھا، چناچہ وحی قرآنی آئی اور سیدھی تیرے دل میں اترتی چلی گئی۔ تو نے اس کو اپنے سارے دل سے سنا اور سمجھا اور محفوظ رکھا، شاید " عَلٰی قَلْبِکَ " کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہو کہ نزول وحی کی جو دو کیفیتیں احادیث صحیحہ میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 192–193

آیت 193 نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ” ”الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ“ امانت دار روح سے مراد جبریل امین علیہ السلام ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 191–193

112 یعنی یہ قرآن اور اس میں بیان کردہ یہ تاریخی واقعات اس اللہ رب العالمین کی طر سے نازل شدہ ہیں جو عام الغیب والشہادۃ ہے۔ پھر ان قرآنی آیات کو لے کر امین روح یعنی جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے۔ جو اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ پھر جب بھیجنے والا غیب اور شہادت کو پوری طرح جانتا ہو اور اس کو لانے والا بھی امین ہو تو ان آیات کے منبی بر حقائق ہونے میں شک کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 190–194

101۔ یہاں قرآن مجید سے متعلق سب سے پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ وہ کسی مخلوق کا نہیں، خود پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے اور دوسری بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک تک جبرئیل امین جیسے زبردست محافظ نے پہنچایا ہے۔ جن کے لائے ہوئے پیام پر کسی غلطی وتحریف کا امکان نہیں۔ (آیت) ” نزل بہ “۔ نزل صلہ ب کے بعد انزل کے معنی میں ہے۔ اے انزل علی ان الباء للتعدبۃ (روح) (آیت) ” روح الامین “۔ یعنی امانت دار فرشتہ مراد حضرت جبرئیل ہیں، اور ملت کا اس پر اتفاق ہے۔ وھوجبرئیل (علیہ السلام) قال غیر واحد من السلف۔ ابن عباس ومحمد بن کعب وقتادۃ وعطیۃ العوفی والسدی والضحاک والزھری وابن جریج وھذا ممالانزاع فیہ (ابن کثیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 192–194

(192 تا 194) اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امانت دار فرشتہ جبریل امین ؑ کے ذریعے آپ کے قلب مبارک پر اتارا جس قدر آپ اس کو محفوظ رکھ سکیں۔ یا یہ کہ جس وقت آپ کے سامنے اس کی تلاوت کی جائے صاف عربی زبان میں کہ آپ ان لوگوں کو ان کی زبان میں یہ کلام پہنچا دیں تاکہ آپ بھی منجملہ اور ڈرانے والوں کے ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ : ”الرُّوْحُ“ سے مراد فرشتہ ہے، اسے ”روح“ اس لیے کہا گیا ہے کہ فرشتے عالم اجسام کے بجائے عالم ارواح سے تعلق رکھتے ہیں۔ (ابن عاشور) ”الْاَمِيْنُ“ نہایت امانت دار، اس سے مراد جبریل ؑ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں انبیاء تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے امین قرار دیا ہے۔ ان کی یہ صفت اور دوسری صفات سورة تکویر (19 تا 21) میں ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 192–196

(وانہ لتنزیل رب العلمین۔۔۔۔۔ ) وانہ لتنزیل رب العٰلمین سورت کے آغاز میں جس کا ذکر ہے اس کی طرف رجوع کیا کہ مشرکین نے قرآن سے اعراض کیا۔ نزل بہ الروح الامین۔ علی قبلک، نزل کو نافع، ابن کثیر اور ابو عمر نے مخفف پڑھا باقی فراء نے نزل کو مشدد پڑھا ہے بہ الروح الامین منصوب ہے۔ وہ ابو حاتم اور ابو عبیدہ کا پسندیدہ قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانہ لتنزیل یہ نزل کا مصدر ہے۔ جس نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ کہے یہ مقدر نہیں کیونکہ معنی ہے قرآن رب العالمین کی نازل شدہ ہے جسے جبریل امین نے تیری طرف نازل کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 177–193

قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 192–209

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 193–196

68:۔ یہ دلیل نقلی از کتب سابقہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ دعوی کوئی نیا نہیں بلکہ کتب سابقہ میں بھی مذکور ہے اور اگر ضمیر سے قرآن مراد ہو تو اس میں تاویل کرنی پڑے گی یعنی ذکر القرآن۔ یا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کے اغلب مضامین کتب سابقہ میں موجود ہیں ای وان ذکر القران لفی الکتب المتقدمۃ و قیل وان معناہ لفی الکتب المتقدمۃ وھو باعتبار الاغلب فان التوحید وسائر ما یتعلق بالذات والصفات و کثیر من المواعظ والقصص مسطور فی الکتب السابقۃ (روح 19 ص 125) ۔ چونکہ اس صورت میں تاویل کرنی پڑتی ہے اس لیے انسب یہی ہے کہ ضمیر منصوب سے دعویٰ ” تبارک “ مراد ہو جیسا کہ حضرت شیخ قدس سرہ کی رائے ہے۔ ” اولم یکن لھم ایۃ الخ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–209

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ۝ 193ۙ روح ( فرشته) وسمّي أشراف الملائكة أَرْوَاحاً ، نحو : يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ صَفًّا[ النبأ/ 38] ، تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] ، نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] ، سمّي به جبریل، وسمّاه بِرُوحِ القدس في قوله : قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ [ النحل/ 102] ، وَأَيَّدْناهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ [ البقرة/ 253] ، وسمّي عيسى عليه السلام روحاً في قوله : وَرُوحٌ مِنْهُ [ النساء/ 171] ، وذلک لما کان له من إحياء الأموات، وسمّي القرآن روحاً في قوله : وَكَذلِكَ أَوْحَيْنا إِلَيْكَ رُوحاً مِنْ أَمْرِنا [ الشوری/ 52] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 190–193

ترکیب : بلسان نزل سے متعلق اور منذرین سے بھی ہوسکتا ہے۔ لم یکن کان تامہ ہے تو فاعل ایتۃ ان یعلمہ بدل اور ناقصہ ہے تو آیۃ خبر مقدم ان یعلمہ الخ اسم۔ تفسیر : ان ساتوں قصوں کے بعد چند باتیں ثبوت نبوت ورد منکرین کے لیے ذکر فرماتا ہے۔ (1) وانہ لتنزیل رب العالمین کہ یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ لفظ رب العالمین دو باتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے فرمایا اول یہ کہ جس طرح ہم تمہاری جسمانی پرورش کرتے ہیں رزق روزی دیتے ہیں اسی طرح روحانی تربیت بھی ہمارا کام ہے اور روحانی تربیت کا ذریعہ وحی اور پیغمبر پر کتاب نازل کرنا ہے۔ دوم یہ کہ تم جو اس نعمت آسمانی کا مقابلہ کرتے ہو اور پھر اب تک تم عذاب سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 192–194

وَاِنَّـہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۔ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَـکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 192 تا 194) (اور بیشک یہ ( قرآن کریم) نہایت اہتمام سے پروردگارِ عالم کا اتارا ہوا ہے۔ اسے لے کر آپ کے دل پر امانتدار روح اتری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو انذار کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ ) خاتمہ سورة کی آیات، قرآن کریم کا مرتبہ و مقام یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں اور اس سورة کی آخری آیات اپنے اسلوب کے مطابق اولین آیات کا تتمہ اور اس کے مرکزی مضمون سے وابستہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کس قدر مربوط کتاب ہے۔ سورة کے آغاز میں نبی کریم ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 193–198

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید من جانب اللہ ہونے کے مزید دلائل۔ اہل مکہ ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کے بارے میں ایک سے ایک بڑھ کر بہکی ہوئی بات کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر اعتراض کرتے محمد ﷺ کسی عربی سے سیکھ کر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں پڑھ کر ہمیں سنائے دیتا ہے۔ (النحل : 103) دوسرے موقع پر خود مطالبہ کرتے یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہونا چاہیے تھا۔ یہ مطالبہ بذات خود ان کی حماقت کی دلیل تھا کیونکہ قرآن مجید عجمی زبان میں ہوتا تو اس کے سمجھنے میں انھیں کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا بالخصوص نزول قرآن کے وقت چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی عرب اَن پڑھ تھے۔ یہاں ان کی بات کا یہ جواب دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

193: نَزَلَ بِہِ (اس کو لے کر اترا) الرُّوْحُ الْاَمِیْنٍ (روح الامین) یعنی جبرئیل علیہ السلام۔ نحو : فعل نزل ہے اس کا فاعل الروح الامین ہے۔ الامینؔ اس لئے کہ وہ وحی کا امین ہے جس میں زندگی ہے۔ قراءت : حجازی، ابو عمرو، زید، حفص وغیرہ نے تخفیف سے پڑھا اور دیگر قراء نے تشدید سے اور الروحؔ کا نصب پڑھا اور فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی جعل اللہ الروح نازلابہٖ ۔ اللہ تعالیٰ نے روح کو مقرر کیا اس حال میں کہ وہ اس کو لے کر اترنے والا ہے باء دونوں قراءتوں میں تعدیہ کیلئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

193۔ نزل بہ الروح الامین۔ اہل حجاز ابوعمرو حفص نے نزل تخیف کے ساتھ پڑھا ہے حاء اور نون کے ضمہ کے ساتھ ، یعنی حضرت جبرائیل قرآن لے کرنا زل ہوئے۔ دوسرے قراء نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور حاء اور نون کے فتحہ کے ساتھ حضرت جبرائیل اللہ کے حکم سے نازل ہوئے۔ وانہ لتنزیل رب العالمین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 192–203

(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 192–203

آیت 192 سے 203 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 قرآن حکیم کا نزل روح الامین کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو روح الامین لے کر اترے ہیں "۔ مراد ہیں جبریل امین جو ہمیشہ اللہ پاک کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے نور وحی لانے کی خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ اور قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر آپ کو ان دونوں وصفوں " روح " اور " امین " کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس لئے کہ وحی روح کی غذا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَکَذَالِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ رُوْحًا مِنْ اَمْرِنَا } ۔ (الشوری : 52) ۔ سو اسی لئے اس کو لانے والے فرشتے ۔ جبریل ۔ کو بھی " روح " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور " امین " اس لئے کہ آپ (علیہ السلام) نے وحی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 193–194

4 ۔ متعلق بنزل لا بالامین۔ یعنی آپ ﷺ کے دل پر اس کی تلاوت کی کہ آپ ﷺ اس کے الفاظ و مضامین اچھی طرح یاد کرلیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ قرآن آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک میں بالکل محفوظ ہے اس میں تغیر ممکن نہیں۔ (شوکانی۔ کبیر) معلوم ہوا کہ جبریل امین قرآن لے کر آئے ہیں جو عربی زبان میں ہے اور قرآن کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کے کلام ہیں۔ متکلمین اور فلاسفہ نے نزول وحی کی کیفیت میں جو تفاصیل بیان کی ہیں وہ ان کے اپنے وحدانی کوائف ہیں یا قیاس آرائیاں ہیں۔ قرآن و حدیث کی نصوص سے ان کی تائید نہیں ملتی۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:193) نزل بہ علی قلبک۔ اس نے اس کو تیرے دل پر اتارا۔ ضمیر فاعل نزل ب الروح الامین کے لئے ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب القرآن (تنزیل) کے لئے۔ یعنی روح الامین نے قرآن کو تیرے دل پر نازل کیا۔ یا روح الامین اس کے لے کر تیرے دل پر اترا ۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو روح الامین (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعے تجھ پر اتارا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانا۔ (ف 1) حکم الٰہی کے سبب سے پچھلی چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور پہلے لوگوں کے سچے حال بیان کرتا ہے جس کو اے محبوب ﷺ تمہارے اوپر ہم نے قرآن کو اس لیے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈر سناؤ، صاف صاف عربی زبان میں ، اور اس قرآن کا ذکر اور تمہاری نبوت اور رسالت کا ذکر پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے پھر فرمایا کہ مکہ کے کفار کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 190–193

[30] روح الامین کے معنی ہیں امانت دار روح۔ مراد اس سے جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 193–195

ف 1: قصص واخبار کا ذکر کرکے یہ بتایا کہ یہ وہ کتاب ہے ۔ جو اقوام و ملل کے حالات پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں زندگی کے ہر شعبہ پر کماحقہ بحث ہے ۔ جو انتہا درجے کی فصاحت وبلاغت سے متصف ہے اور جو تعلیمات اور پیغام کے لحاظ سے کائنات کی جامع ترین کتاب ہے ۔ اللہ کا پیغام ہے جو عوام مادی وروحانی سب کا یکساں رب ہے ۔ اس کو روح الامین یعنی جبرائیل لائے ہیں ۔ جبرائیل الامین اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں ۔ اور تبلیغ احکام پر نظر رہیں آپ کے قلب پر اللہ کی جانب سے تعلیم کا نزول ہوتا ہے ۔ وہ اللہ سے آیات سن کر آپ ﷺ کے دل تک پہنچادیتے ہیں ۔ یہ کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی یعنی ایک ایسی زبان میں جو روحانی مطالب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(193) اس کو ایک امانت دار فرشتہ آپ کے قلب پر لے کر آیا ہے یعنی اس قرآن کریم کا مطلب یہ ہے کہ جیسا رب العالمین نے اتارا ویسا ہی اس نے آپ کو قلب پر القا کردیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم جس کو دے کر روانہ کیا جاتا رہا وہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ روح الامین ہے : 193۔ قرآن کریم بحیثیت کلام اللہ کا کلام ہے زبان کی حیثیت سے عربی مبین ہے جو انسانوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو انسان اس وقت اس کے مخاطبین اول تھے اس کو لانے والا کوئی عام آدمی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں سے ایک خاص فرشتہ ہے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) کے پاس اترتا رہا ہے اور وہی اس کو پہچان پاتے تھے اور اس کو ملکہ نبوت و رسالت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے اور بلاشبہ یہ ایک ہی چیز کی مختلف تعبیریں ہیں تاکہ سمجھنے والے کو جس طرح سمجھنا آسان ہو وہ اسی طرح سمجھ لے کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 193–204

Commentary Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196] The words بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

120 That is, Angel Gabriel, as mentioned in Al-Baqarah: 97: "Say to them, `Whoever is the enemy to Gabriel, he should understand that he has, by Allah's Command, revealed to your heart the Qur'an'." Here the object of using the title of "the trustworthy Spirit" for Gabriel implies that the Qur`an is not being sent down by Allah through some material agency, which is subject to change and vacillation; but through a pure Spirit, having no tinge of materialism, and. who is perfectly trustworthy. This Spirit conveys the Messages of Allah precisely in the same form and with the same content as…

Read the full tafseer →