Ash-Shu'araa 26:192

Ash-Shu'araa · from ayah 192

26:192

وَاِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟ؕوَاِنَّهٗ لَـتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ

اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, the Qur'an is the revelation of the Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:192

یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک یہ قرآن رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک یہ نہایت اہتمام سے خداوند عالم کا اتارا ہوا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ یہ قرآن اتارا ہوا ہے رب العالمین کا

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک یہ (قرآن) پروردگار کا عالم کا اتارا ہوا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً یہ (قرآن) تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ قرآن اللہ رب العلمین کا اتارا ہوا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed this is a revelation from the Lord of the Universe;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This (Qur‘an) is the revelation of the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

This (Qur‘an) is the revelation of the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And truly, this is a revelation from the Lord of all that exists,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! it is a revelation of the Lord of the Worlds,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, the Qur'an is the revelation of the Lord of the worlds.

— Saheeh International

This, (Quran), is certainly the revelation from the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

And most surely this is a revelation from the Lord of the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

And verily it is a revelation of the Lord of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily this is a Revelation from the Lord of the Worlds:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:192

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 192–195

مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97؀) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 190–192

سورة الشُّعَرَآء 118 تاریخی بیان ختم کر کے اب سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف پھرتا ہے جس سے سورة کا آغاز فرمایا گیا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر پلٹ کر پہلے رکوع کو دیکھ لینا چاہیے۔ سورة الشُّعَرَآء 119 یعنی یہ " کتاب مبین " جس کی آیات یہاں سنائی جا رہی ہیں، اور یہ " ذکر " جس سے لوگ منہ موڑ رہے ہیں کسی انسان کی من گھڑت چیز نہیں ہے، اسے محمد ﷺ نے خود تصنیف نہیں کرلیا ہے، بلکہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے اس کو امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے آپ کے قلب پر صاف عربی زبان میں تاکہ آپ (بھی) منجملہ ڈرانے والوں کے ہوجاویں (یعنی جس طرح اور پیغمبروں نے اپنی امت کو احکام الہیہ پہنچائے آپ بھی پہنچائیں) اور اس (قرآن) کا ذکر پہلی امتوں کی (آسمانی) کتابوں میں (بھی) ہے (کہ ایک ایسی شان کا پیغمبر ہوگا اور اس پر ایسا کلام نازل ہوگا۔ چناچہ تفسیر حقانی کے اس مقام کے حواشی میں چند بشارتیں کتب سابقہ تورات و انجیل کی نقل کی ہیں۔ آگے اس مضمون وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کی توضیح ہے یعنی) کیا ان لوگوں کے لئے (اس پر) یہ بات دلیل نہیں ہے کہ اس (پیشین گوئی) کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 192–194

آگے کا مضمون … آیات 227-192 خاتمہ سورة آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں اور سلسلہ کلام سورة کی تمہید یعنی اصل عمود سے جڑ گیا ہے۔ وہاں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ قرآن کا کتاب الٰہی ہونا بالکل واضح ہے جو لوگ اس کو ماننے کے لئے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ محض نہ ماننے کا ایک بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو کوئی ایسی نشانی بھی ان کو دیکھا سکتا ہے جس کے آگے ان کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک جائیں لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس طرح کی کوئی نشانی دیکھنے کے بجائے یہ عقل و بصیرت سے کام لیں۔ تاہم اگر ان کی یہی ہٹ دھرمی قائم رہی تو قرآن ان کو جن خطرات سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ایک خطرہ ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 190–193

193-1کفار مکہ نے قرآن کے وحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا (علیہم السلام) کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیا کہ یہ قرآن یقینا وحی الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا ؟ اس لئے یہ قرآن یقینا اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ جبرائیل ؑ لے کر آئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 189–195

42: کئی دن تک سخت گرمی پڑنے کے بعد ایک بادل ان کی بستی کے قریب آیا جس کے نیچے بظاہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بستی کے سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس بادل نے ان پر انگارے برسائے جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 192–195

درس نمبر 169 ایک نظر میں یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔ اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔ لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 190–194

2 آغاز سورت میں قرآن کریم کا ذکر تھا اور اس کی تکذیب پر دھمکی دی گئی تھی، درمیان میں مکذبینِ حق کے واقعات بیان ہوئے، یہاں سے پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کریم وہ مبارک اور عظیم الشان کتاب ہے جسے رب العالمین نے اتارا، جبرائیل امین لے کر اترے اور تیرے پاک و صاف قلب پر اتاری گئی کیونکہ یہ ہی قلب تھا جو اللہ کے علم میں اس بھاری امانت کو اٹھانے اور سنبھالنے کے لائق تھا، چناچہ وحی قرآنی آئی اور سیدھی تیرے دل میں اترتی چلی گئی۔ تو نے اس کو اپنے سارے دل سے سنا اور سمجھا اور محفوظ رکھا، شاید " عَلٰی قَلْبِکَ " کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہو کہ نزول وحی کی جو دو کیفیتیں احادیث صحیحہ میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 192–193

آیت 193 نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ” ”الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ“ امانت دار روح سے مراد جبریل امین علیہ السلام ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 191–193

112 یعنی یہ قرآن اور اس میں بیان کردہ یہ تاریخی واقعات اس اللہ رب العالمین کی طر سے نازل شدہ ہیں جو عام الغیب والشہادۃ ہے۔ پھر ان قرآنی آیات کو لے کر امین روح یعنی جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے۔ جو اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ پھر جب بھیجنے والا غیب اور شہادت کو پوری طرح جانتا ہو اور اس کو لانے والا بھی امین ہو تو ان آیات کے منبی بر حقائق ہونے میں شک کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 190–194

101۔ یہاں قرآن مجید سے متعلق سب سے پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ وہ کسی مخلوق کا نہیں، خود پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے اور دوسری بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک تک جبرئیل امین جیسے زبردست محافظ نے پہنچایا ہے۔ جن کے لائے ہوئے پیام پر کسی غلطی وتحریف کا امکان نہیں۔ (آیت) ” نزل بہ “۔ نزل صلہ ب کے بعد انزل کے معنی میں ہے۔ اے انزل علی ان الباء للتعدبۃ (روح) (آیت) ” روح الامین “۔ یعنی امانت دار فرشتہ مراد حضرت جبرئیل ہیں، اور ملت کا اس پر اتفاق ہے۔ وھوجبرئیل (علیہ السلام) قال غیر واحد من السلف۔ ابن عباس ومحمد بن کعب وقتادۃ وعطیۃ العوفی والسدی والضحاک والزھری وابن جریج وھذا ممالانزاع فیہ (ابن کثیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ لتنزیل رب العلمین۔ اور بیشک قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ تنزیل مصدر) بمعنی منزل (اسم مفعول) کے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 192–194

(192 تا 194) اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امانت دار فرشتہ جبریل امین ؑ کے ذریعے آپ کے قلب مبارک پر اتارا جس قدر آپ اس کو محفوظ رکھ سکیں۔ یا یہ کہ جس وقت آپ کے سامنے اس کی تلاوت کی جائے صاف عربی زبان میں کہ آپ ان لوگوں کو ان کی زبان میں یہ کلام پہنچا دیں تاکہ آپ بھی منجملہ اور ڈرانے والوں کے ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : شروع سورت میں تمہیداً قرآن کے ذکر سے مقصود رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت کو ثابت کرنا تھا، پھر جھٹلانے والوں کو دھمکی دی اور اس سلسلہ میں انبیاء کے سات قصے بیان فرمائے، تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو اور آپ کو جھٹلانے والے عبرت حاصل کریں۔ اب یہاں سے پھر رسالت کا اثبات شروع کیا اور آپ کی نبوت کے حق ہونے کے دلائل اور کفار کے شبہات کے جواب آخر سورت تک چلے گئے ہیں۔ (کبیر، قرطبی) ”تَنْزِیْلٌ“ مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں ہے، نازل کیا ہوا۔ کفار قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا انکار کرتے تھے، اس لیے وہ نبی ﷺ کی رسالت کے بھی منکر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 192–196

(وانہ لتنزیل رب العلمین۔۔۔۔۔ ) وانہ لتنزیل رب العٰلمین سورت کے آغاز میں جس کا ذکر ہے اس کی طرف رجوع کیا کہ مشرکین نے قرآن سے اعراض کیا۔ نزل بہ الروح الامین۔ علی قبلک، نزل کو نافع، ابن کثیر اور ابو عمر نے مخفف پڑھا باقی فراء نے نزل کو مشدد پڑھا ہے بہ الروح الامین منصوب ہے۔ وہ ابو حاتم اور ابو عبیدہ کا پسندیدہ قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانہ لتنزیل یہ نزل کا مصدر ہے۔ جس نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ کہے یہ مقدر نہیں کیونکہ معنی ہے قرآن رب العالمین کی نازل شدہ ہے جسے جبریل امین نے تیری طرف نازل کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ (قرآن)] لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ یقینا تمام جہانوں کے رب کا اتارنا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 177–193

قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 192–209

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 190–192

67:۔ یہ ابتدائے سورت میں ” وما یاتیہم من ذکر من الرحمن الخ “ سے متعلق ہے اور ” انہ “ میں ضمیر منصوب دعوی ” تبارک “ سے کنایہ ہے اور یہ دعوی ” تبارک “ پر دلیل وحی ہے یا ضمیر سے قرآن مراد ہے۔ مشرکین اس دعوے کی تکذیب اور اس سے استہزاء کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ دعوی تو رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ” نزل بہ الروح الخ “ جسے روح امین حضرت جبریل (علیہ السلام) نے آپ کے قلب مبارک پر اتارا ہے تاکہ آپ اس دعوے کی تبلیغ فرمائیں اور نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ آپ کے اولین مخاطب چونکہ عرب ہیں اس لیے اسے فصیح عربی زبان کے الفاظ کا جامہ پہنا کر نازل کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–209

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّہٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 192ۭ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 190–193

ترکیب : بلسان نزل سے متعلق اور منذرین سے بھی ہوسکتا ہے۔ لم یکن کان تامہ ہے تو فاعل ایتۃ ان یعلمہ بدل اور ناقصہ ہے تو آیۃ خبر مقدم ان یعلمہ الخ اسم۔ تفسیر : ان ساتوں قصوں کے بعد چند باتیں ثبوت نبوت ورد منکرین کے لیے ذکر فرماتا ہے۔ (1) وانہ لتنزیل رب العالمین کہ یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ لفظ رب العالمین دو باتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے فرمایا اول یہ کہ جس طرح ہم تمہاری جسمانی پرورش کرتے ہیں رزق روزی دیتے ہیں اسی طرح روحانی تربیت بھی ہمارا کام ہے اور روحانی تربیت کا ذریعہ وحی اور پیغمبر پر کتاب نازل کرنا ہے۔ دوم یہ کہ تم جو اس نعمت آسمانی کا مقابلہ کرتے ہو اور پھر اب تک تم عذاب سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 192–194

وَاِنَّـہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۔ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَـکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 192 تا 194) (اور بیشک یہ ( قرآن کریم) نہایت اہتمام سے پروردگارِ عالم کا اتارا ہوا ہے۔ اسے لے کر آپ کے دل پر امانتدار روح اتری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو انذار کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ ) خاتمہ سورة کی آیات، قرآن کریم کا مرتبہ و مقام یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں اور اس سورة کی آخری آیات اپنے اسلوب کے مطابق اولین آیات کا تتمہ اور اس کے مرکزی مضمون سے وابستہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کس قدر مربوط کتاب ہے۔ سورة کے آغاز میں نبی کریم ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 186–192

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے سات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتوں اقوام کا بنیادی جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی جس کے سبب انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سرورِ دو عالم ﷺ کے مخالفین کو سات قوموں کی تباہی کے واقعات سنانے کے بعد سمجھایا گیا کہ تم محمد ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہو حالانکہ اس قرآن کو رب العالمین نے جبرئیل امین کے ذریعے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمایا ہے جو فصیح عربی زبان میں ہے۔ یقیناً اس نبی اور قرآن مجید کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے نزول کا مقصد یہ ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

192: وَاِنَّہٗ (اور بیشک وہ) یعنی قرآن لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (وہ البتہ اتارا ہوا ہے رب العالمین کی طرف سے) اس کی طرف سے اتار گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 192–203

(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 192–203

آیت 192 سے 203 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 191–192

95 قرآن حکیم رب العالمین کا کلام : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن مجید اتارا گیا ہے رب العالمین کی طرف سے۔ یہاں پر " منزل " نہیں " تنزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے یعنی یہ کتاب حکیم ۔ زَادَنَا اللّٰہِ بِہ حُبًّا وَ اِیْمَانًا ۔ ایسی منزل من اللہ کتاب ہے جس میں تنزیل کے سوا دوسرے کسی حرف یا حرکت یا شوشہ و شائبہ تک کا کوئی دخل و احتمال نہیں۔ اور مصدر بھی انزال کی بجائے تنزیل لایا گیا ہے کہ اس کے اتارے جانے کی تکمیل بھی بتدریج تیئس (23) سال کے طویل عرصے میں ہوئی۔ سو اس کلام مجید میں کسی کہانت یا شیطانی مداخلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جیسا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 190–192

3 ۔ شروع سورت میں تمہیداً قرآن کے ذکر سے مقصود آنحضرت ﷺ کی رسالت و نبوت کا اثبات تھا پھر مکذبین کو دھمکی دی اور اس سلسلہ میں انبیا ( علیہ السلام) کے سات قصے بیان فرمائے تاکہ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہو اور آپ ﷺ کی تکذیب کرنے والے عبرت حاصل کریں۔ اب یہاں سے پھر رسالت کا اثبات شروع کیا اور صحت نبوت کے دلائل اور کفار کے شبہات کے جواب آخر سورت تک چلے گئے۔ (کبیر۔ قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:192) انہ۔ ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع القرآن ہے۔ (الکتاب المبین سورة ہذا کی آیت 2) صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں سورة کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ کفار قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے کے لئے تیار نہیں تھے جس سے حضور ﷺ کو سخت دکھ پہنچتا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو مطمئن فرمانے کے لئے متعدد انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات بیان فرمائے اب پھر سلسلہ کلام کفار کے انہی اعتراضات کی طرف لوٹتا ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا وضع کردہ نہیں بلکہ اسے اس خدا نے اتارا ہے جو رب العالمین ہے۔ تنزیل۔ اتارنا۔ بروزن تفعیل مصدر ہے تنزیل اور انزال میں فرق یہ ہے کہ تنزیل میں ترتیب اور یکے بعد دیگرے تفریق…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانا۔ (ف 1) حکم الٰہی کے سبب سے پچھلی چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور پہلے لوگوں کے سچے حال بیان کرتا ہے جس کو اے محبوب ﷺ تمہارے اوپر ہم نے قرآن کو اس لیے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈر سناؤ، صاف صاف عربی زبان میں ، اور اس قرآن کا ذکر اور تمہاری نبوت اور رسالت کا ذکر پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے پھر فرمایا کہ مکہ کے کفار کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 190–193

[30] روح الامین کے معنی ہیں امانت دار روح۔ مراد اس سے جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 189–192

حل لغات :۔ یوم الظلۃ ۔ ان پر بادل سائبان کی طرح چھا گیا ۔ اور وہی بات ان کے لئے عذاب کا باعث ہوا ۔ اس لئے عذاب کے ان کو سائبان کا دن کہا جاتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(192) یہاں تک کہ مختلف لوگوں کے سات واقعات بیا ن ہوئے یہ واقعات اوپر مفصلاً مذکور ہوچکے ہیں یہاں مختصراً ذکر ہوئے عاد کی قوم جس طرح تکبر اور تفاخر کی خوگر تھی اسی طرح قوم ثمود کھانے پینے اور مکان تراشنے کی خوگر اور عادی تھی یہ واقعات بھی سورة اعراف میں گزر چکے ہیں اب آگے مکہ والوں کو توجہ دلاتے ہیں اور سابقہ مضمون پھر بیان ہوتا ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں اور بلاشبہ یہ قرآن کریم رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے یعنی اس قرآن ک ریم کو اس پروردگار نے اتارا ہے جو تمام اقوام عالم کا پروردگار ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ قرآن کریم کا نزول رب العالمین کی طرف سے ہے : 192۔ غور کرو کہ (انہ) کا مرجع اس سے کتنے فاصلے پر چلا گیا اور جب بات واپس پھیری تو اس کو ضمیر ہی کے ساتھ دوبارہ چلا دیا کہ اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام موجود نہ تھا یہ بات اس لئے عرض کی جا رہی ہے کہ قرآن کریم میں اکثر مقامات پر ایسا ہوا ہے اور لوگوں نے اس سے بڑی بحثیں اٹھائی ہیں اور خواہ مخواہ ان بحثوں کو طول دیا گیا ہے حالانکہ سیاق وسباق مضمون کی وضاحت کردیتا ہے کہ میری مراد کیا ہے ، فرمایا یہ قرآن کریم مخالفین اور منکرین کو متنبہ کر رہا ہے کہ غور کرلو کہ میرے اتارے جانے کا اصل مقصد کیا ہے ؟ کیا یہ ہے کہ اس کو سمجھ کر اس سے مطابق اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 189–192

فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ so they were seized by the torment of the Day of Canopy. - 26:189 عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ (the Torment of the Canopy), mentioned in this verse refers to an incident, which is this: Allah Ta’ ala sent down such an extreme heat on a people that they could not find comfort either inside the houses or outside. Then He sent down a mass of dark cloud over a nearby forest, under which there was a cool breeze. As the entire people were distressed due to excessive heat, they ran to take shelter under the cloud. When all of them assembled under the cover of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 190–192

118 At the end of the historical account, the same theme, with which the Surah began, is resumed. For reference, see vv. 1-9. 119 That is, "This lucid Book whose verses are being recited to you, and this 'Admonition' from which the people are turning away, is not the product of the whims of a man; it has not been written and compiled by Muhammad (upon whom be Allah's peace) himself, but it consists of the Revelations of the Lord of this universe."

Read the full tafseer →