Explained with ayahs 185–191
مشرکین کی وہی حماقتیں
ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 117
اس عذاب کی کوئی تفصیل قرآن مجید میں یا کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ ظاہر الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ آسمانی عذاب مانگا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل بھیج دیا اور وہ چھتری کی طرح ان پر اس وقت تک چھایا رہا جب تک باران عذاب نے ان کو بالکل تباہ نہ کردیا۔ قرآن سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اصحاب مدین کے عذاب کی کیفیت اصحاب الایکہ کے عذاب سے مختلف تھی۔ یہ جیسا کہ یہاں بتایا گیا ہے، چھتری والے عذاب سے ہلاک ہوئے، اور ان پر عذاب ایک دھماکے اور زلزلے کی شکل میں آیا (فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْ فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–191
خدا کا مجرم اپنے پاؤں چل کر آتا ہے اسے وارنٹ کی ضرورت نہیں
فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ، عذاب یوم الظلہ، جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے اس کا واقعہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کی قوم پر سخت گرمی مسلط فرمائی کہ نہ مکان کے اندر چین آتا نہ باہر، پھر ان کے قریب جنگل میں ایک گہرا بادل بھیج دیا جس کے نیچے ٹھنڈی ہوا تھی، ساری قوم گرمی سے پریشان تھی سب دوڑ دوڑ کر اس بال کے نیچے جمع ہوگئے جب ساری قوم بادل کے نیچے آگئی تو اس بادل نے ان پر پانی کے بجائے آگ برسا دی جس سے سب بھسم ہو کر رہ گئے۔ (کذا روی عن ابن عباس۔ روح)
Read the full tafseer →قوم شعیب کے عذاب کی نوعیت ہم سورة اعراف آیت 91 کے تحت بیان کرچکے ہیں، تفصیل کے طالب وہاں دیکھ لیں۔ اس عذاب کی تعبیر سورة ہود آیت 94 میں لفظ صیحۃ س ی کی گئی ہے جس کیم عنی ڈانٹ اور کرک کے ہیں۔ پھر اسی کی تعبیر یہاں عذاب یوم الضلۃ سے کی گی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب دور سے دیکھنے میں غبار یا ابریا دھوئیں کے ایک سوتن یا سائبان کی شکل میں نظر آیا۔ یہ قرینہ جیسا کہ ہم قوم لوط کی سرگزشت میں بیان کرچکے ہیں حصب کے عذاب کا ہے۔ حصب کے عذاب میں خاصب رجف صیحۃ اور ظلمہ سب جمع ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →189-1انہوں نے بھی کفار مکہ کی طرح آسمانی عذاب مانگا تھا، اللہ نے اس کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما دیا اور وہ اس طرح کے بعض روایات کے مطابق سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی، اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا اور یہ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے اس سائے تلے جمع ہوگئے اور کچھ سکھ کا سانس لیا لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انھیں ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلا دیا یوں تین قسم کا عذاب ان پر آیا اور یہ اس دن آیا جس دن ان پر بادل سایہ فگن ہوا، اس لئے فرمایا کہ سائے والے دن کے عذاب نے انھیں پکڑ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–195
42: کئی دن تک سخت گرمی پڑنے کے بعد ایک بادل ان کی بستی کے قریب آیا جس کے نیچے بظاہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بستی کے سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس بادل نے ان پر انگارے برسائے جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →فکذبوہ فاخذھم ……یوم عظیم (189)
’ ان کے بعد عذاب کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس قدر گری ہوئی کہ دم گھٹ کر مرنے لگے۔ اس کے بعد انہیں ایک بادل سا نظر آیا۔ اس کی طرف لپکے کہ سایہ لیں تو وہ اس قدر ٹھنڈا تھا جس طرح برف ۔ پھر یہ بادل ایک کڑک کی شکل اختیار کر گیا اور ان کو ہلاک کر کے رکھ دیا ۔ اس حوال ی سے ان کے عذاب کو بادل کے ٹکڑے کے دن سے تعبیر کیا گیا۔
اور اب وہی تبصرہ اور سبق آتا ہے جو تمام قصص کے بعد اس پوری سورت میں دہرایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →1 سائبان کی طرح ابر آیا اس میں سے آگ برسی، نیچے سے زمین کو بھونچال آیا اور سخت ہولناک آواز آئی۔ اس طرح سب قوم تباہ ہوگئی۔ ان کا قصہ بھی پہلے مفصل گزر چکا ہے۔ ایک نظر وہاں کے فوائد پر ڈال لی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 189 فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَہُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ط ”
یوں لگتا ہے جیسے اس قوم پر پہلے اوپر سے کوئی عذاب آیا تھا اور ان پر سائبان کی طرح چھا گیا تھا۔
Read the full tafseer →110 اس آیت سے چند باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ اصحاب مرین اور اصحاب الایکہ دو الگ الگ قومیں تھیں۔ اصحاب مرین پر زلزلہ اور اسی سے پیدا ہونے والی ہولناک آواز کا عذاب چند آیا تھا (7: 91، 11: 94) جبکہ اصحاب الایکہ پر سائے کے دن کا عذاب آیا تھا اگرچہ اس عذاب کی تفصیل کتاب و سنت میں کہیں مذکور نہیں تاہم اتنا ضرور معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ عذاب کی الگ نوع ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سخت گہرے اور گاڑھے بادل ان پر چھتری کی صورت میں محیط ہوگئے تھے۔ اور اسی کے تادیر ان پر سایہ کئے رکھنے اور اس کی دہشت سے ان کی تبہی ہوئی تھی۔ اور ایسے ہی عذاب کا ان لوگوں نے مطالبہ کیا تھا۔ اور دوسرے یہ کہ ان قوموں کی طرف…
Read the full tafseer →100۔ عذاب کے وقت پہلے ایک ابر نمودار ہوا تھا، گرمی پہلے سے مسلط تھی، لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں اس کے نیچے جمع ہوگئے، اس میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل گئے، وہ ابر سائبان سا تھا۔ اسی بناء پر اسے عذاب سائبان سے تعبیر کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت نمبر 176 تا 191
ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…
Read the full tafseer →فکذبوہ فاخذہم عذاب یوم الظلۃ غرض ایکہ والوں نے شعیب کی تکذیب کی اس لئے یوم الظلہ
(سائبان کے دن) کے عذاب نے ان کو آپکڑا۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ ایکہ والوں کے جنگل میں سخت گرمی پڑی ‘ لوگ بےتاب ہو کر تہ خانوں میں گھس گئے اندر پہنچے تو وہاں اور بھی شدید گرمی محسوس ہوئی مجبور ہو کر باہر آگئے اس وقت آسمان پر ایک بدلی آئی اور بدلی کے سایہ میں سب جمع ہوگئے اسی بدلی کو ظلہ (سائبان) کہا گیا ہے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بادل سے آگ برسنے لگی اور سب جل بھن گئے یہ قصہ سورت ہود میں گزر چکا ہے۔
انہ کان عذاب یوم عظیم۔ بیشک یہ یوم عظیم کا عذاب تھا (یعنی عذاب عظیم تھا جو اس روز واقعہ ہوا) ۔
Read the full tafseer →(189) چناچہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کی تکذیب کی اور ان کو سائبان کے عذاب نے آپکڑا بادل کی مانند عذاب ان کے اوپر آگیا اور اس میں سے آگ برسنا شروع ہوئی جس نے ان سب کو جلا دیا بیشک یہ ان لوگوں کے حق میں بڑے سخت دن کا عذاب تھا۔
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ۔۔ : اس عذاب کی کوئی تفصیل قرآن مجید یا کسی صحیح حدیث میں نہیں آئی۔ ظاہر الفاظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے کچھ ٹکڑے گرانے کے مطالبے کے جواب میں ان پر بادل کا ایک سائبان بھیج دیا، جس سے ایسا عذاب برسا کہ وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ اس عذاب کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر خود اللہ تعالیٰ نے اس سوال کا جواب دیا کہ وہ کس قسم کا عذاب تھا، فرمایا یقیناً وہ ایک عظیم دن کا عذاب تھا۔ جب وہ دن عظیم تھا تو اس میں اترنے والے عذاب کی عظمت کا خود اندازہ کرلو۔
3 یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ”اصحاب مدین“ اور ”اصحاب الایکہ“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “
2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ [ پھر ان لوگوں نے جھٹلایا ان کو ] فَاَخَذَهُمْ [ تو پکڑا ان لوگوں کو ] عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۭ [ سائبان کے دن کے عذاب نے ] اِنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] كَانَ [ وہ تھا ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کا عذاب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–193
قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے
ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–189
66:۔ آخر جب قوم تکذیب پر قائم رہی تو اللہ نے ان کو عذاب ظلہ سے ہلاک کردیا جو بڑا ہی دردناک عذاب تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اللہ نے اصحاب الایکہ پر شدید گرمی مسلط کردی وہ گرمی سے بھاگ کر گھروں میں داخل ہوئے تو وہاں باہر سے بھی زیادہ گرمی تھی آخر پھر گھروں سے باہر نکل آئے۔ پھر اللہ نے ایک بادل (ظلہ) بھیج دیا سب اس کے سائے میں جمع ہونے شروع ہوگئے۔ جب سب اس کے نیچے جمع ہوگئے تو اللہ نے اس ظلہ سے آگ برسا دی جس سے سب جل کر ہلاک ہوگئے۔ ھی سحابۃ اظلہم بعد ما حبست عنھم الریح وعذبوا بالحر سبعۃ ایام فاجتمعوا تحتھا مستجیرین بھا مما نالھم من الحر فامطرت علیہم نارا فاحترقوا (مدارک ج 3 ص 149) ۔ ” ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
حضرت شعیب (علیہ السلام)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْہُ فَاَخَذَہُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّۃِ 0ۭ اِنَّہٗ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ 189
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
2 ؎ یوم الظلۃ ابر کے نمودار ہونے کے دن کو کہتے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ط اِنَّـہٗ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 189)
(پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس آدبوچا ان کو چھتری والے دن کے عذاب نے، بیشک وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔ )
یَوْمِ الظُّلَّۃِ کا عذاب آگیا
قومِ شعیب پر جو عذاب آیا، اس کی کوئی تفصیل قرآن مجید میں یا کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ اس آیت کے ظاہر الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ آسمانی عذاب مانگا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل بھیج دیا، وہ چھتری کی طرح ان پر اس وقت تک چھایا رہا جب تک عذاب نے ان کو بالکل تباہ نہ کردیا۔ سورة ہود آیت 94 میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–192
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے سات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتوں اقوام کا بنیادی جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی جس کے سبب انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
سرورِ دو عالم ﷺ کے مخالفین کو سات قوموں کی تباہی کے واقعات سنانے کے بعد سمجھایا گیا کہ تم محمد ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہو حالانکہ اس قرآن کو رب العالمین نے جبرئیل امین کے ذریعے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمایا ہے جو فصیح عربی زبان میں ہے۔ یقیناً اس نبی اور قرآن مجید کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے نزول کا مقصد یہ ہے…
Read the full tafseer →یوم ظلہ کا عذاب :
189: فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ (پس انہوں نے جھٹلا دیا اس لئے یوم ظلہ کے عذاب نے ان کو آپکڑا) ظُلۃؔ وہ ایک
بادل تھا جس نے ہوا کی بندش کے بعد ان پر سایہ کرلیا ان کو سات روز تک گرمی کی حرارت سے عذاب دیا گیا چناچہ وہ گرمی سے پناہ لینے کیلئے اس بادل کے نیچے پناہ گزیں ہوئے۔ اس پر آگ برسنے لگی جس سے تمام جل گئے اِنَّہٗ کَانَ عذاب یوم عظیم (بلاشبہ وہ بڑے دن کا عذاب تھا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–191
تفسیر۔
189۔ فکذبوہ فاخذھم عذاب یوم الظلہ، چونکہ ان کو شدید گرمی نے تنگ کردیا تھا، وہ تنگ آکر تہہ خانوں میں داخل ہوگئے جب وہ تہہ خانوں میں جاتے تو ان کو اس سے بھی زیادہ گرمی محسوس ہوتی۔ پھر وہ باہر نکلے ان پر ایک بادل نے چھاؤں کردی وہ ساری قوم اس سائبان کے نیچے آگئی پھر ان پر آگ کی بارش برسی جس سے وہ سب جل کر راکھ ہوگئے اس کو ہم نے سورة ہود میں نقل کیا ہے ، انہ کان عذاب یوم عظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →93 قوم شعیب پر یوم الظلہ کا عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار آپکڑا ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے "۔ روایات کے مطابق ان لوگوں پر سخت گرمی مسلط کردی گئی جس سے یہ لوگ بلبلا اٹھے۔ اس کے بعد ان کے اس جنگل پر ابر کا ایک سائبان قدرت کی طرف سے تن دیا گیا جس کے درختوں کی وہ پوجا کیا کرتے تھے۔ اور اس کے سائبان کے نیچے ایک ٹھنڈی ہوا چلا دی گئی جس سے یہ سب کے سب گھروں سے نکل نکل کر وہاں جمع ہوگئے۔ تب اس بادل سے ان پر ایک ایسی خوفناک آگ برسائی گئی جس نے ان سب کو ان کے ان باطل معبودوں سمیت بھسم کردیا اور ان کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا۔ (روح المعانی، ابن کثیر، جامع، محاسن، مدارک، مراغی اور صفوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیات 176 تا 191
اسرار و معارف
بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…
Read the full tafseer →2 ۔ قرآن کی کسی آیت یا حدیث سے اس عذاب کی تفصیل معلوم نہیں ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : سات دن تک سخت لو چلتی رہی جس سے ان کے بدن پک گئے اور کنوئوں اور چشموں کا پانی سوکھ گیا۔ وہ گھبرا کر جنگل کی طرف نکلے، وہاں دھوپ کی شدت اور نیچے سے گرم زمین نے ان کے پائوں کی کھال ادھیڑدی۔ پھر ایک سیاہ بادل سائبان کی شکل میں نمودار ہوا وہ سارے کے سارے خوشی کے مارے اس کے سائے میں جمع ہوگئے اس وقت ناگہاں بادل سے آگ برسنا شروع ہوئی جس سے سب ہلاک ہوگئے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ” یوم الظلہ “ کے عذاب کے بارے میں جو کوئی اور تفسیر بیان کرے اسے جھوٹا سمجھو۔ ممکن ہے حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–191
(26:189) یوم الظلۃ مضاف مضاف الیہ۔ سائبان والا دن ظلۃ سائبان ظلل جمع ظللۃ وہ بدلی ہے جو سایہ فگن ہو اور اکثر اس کا استعمال بری اور ناپسند صورت حال میں ہوتا ہے جیسے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ (7:171) اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر جیسے کہ سائبان۔
فاخذھم عذاب یوم الظلۃ پھر آن پکڑا ان گو سائبان والے دن کے عذاب نے۔ کہتے ہیں کہ ایک بدلی ان کے سر پر سایہ فگن ہوگئی۔ جب لوگ اس کے نیچے تیش سے پناہ لینے کے لئے جمع ہوئے تو وہ یکایک ان پر آکرگر پڑی اور سب وہیں ڈھیر ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 :
اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 :
جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–191
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–192
حل لغات :۔ یوم الظلۃ ۔ ان پر بادل سائبان کی طرح چھا گیا ۔ اور وہی بات ان کے لئے عذاب کا باعث ہوا ۔ اس لئے عذاب کے ان کو سائبان کا دن کہا جاتا ہے ۔
Read the full tafseer →(189) سو یہ لوگ شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے رہے آخر کار ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا بلاشبہ وہ ایک بڑے خوفناک دن کا عذاب تھا یعنی بادل آیا اور سائبان کی طرح ان پر چھا گیا اس بادل سے آگ برسی بھونچال آیا سخت آواز آئی اور سب مرے کے مرے رہ گئے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سائبان کے دن ابر آیا اس میں سے آگ برسی سب قوم جل گئی 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
ف 2۔ عذاب سائبان کا یہ تھا کہ اول ان لوگوں پر گرمی مسلط ہوئی، پھر ایک ابر نمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی، سب لوگ اس کے نیچے جمع ہوگئے، اس میں سے آگ برسنا شروع ہوئی، اور سب جل گئے۔
Read the full tafseer →انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور یک بڑے عذاب نے ان کو آلیا :
189۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق ان لوگوں کو نافرمانی اور سرکشی کی پاداش میں دو قسم کے عذاب نے آگھیرا ایک زلزلہ کا عذاب اور دوسرا آگ کی بارش کا یعنی عین اس وقت جب وہ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اس علاقہ سے نکال دیا گیا اور باقی لوگوں کو یک بیک ایک ہولناک زلزلہ نے آلیا اس طرح کہ ان کے قریب ہی آتش فشاں پھٹا اور ان کی ہولناکی نے ان سب کو گھٹنوں کے بل اوندھے گراکر جھلسا دیا یا جھلسا کر گھٹنوں کے بل اوندھا کردیا ۔ تفصیل اس کی سورة الاعراف کی آیات 91 ‘ 92 ‘ سورة ہود آیات 94 ‘ 95 ‘ میں دیکھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–192
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
so they were seized by the torment of the Day of Canopy. - 26:189
عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ (the Torment of the Canopy), mentioned in this verse refers to an incident, which is this: Allah Ta’ ala sent down such an extreme heat on a people that they could not find comfort either inside the houses or outside. Then He sent down a mass of dark cloud over a nearby forest, under which there was a cool breeze. As the entire people were distressed due to excessive heat, they ran to take shelter under the cloud. When all of them assembled under the cover of the…
Read the full tafseer →117 The details of this torment are neither found in the Qur'an nor in any authentic Tradition. What one can learn from the Text is this: As these people had demanded a torment from the sky. Allah sent upon them a cloud which hung over them like a canopy and kept hanging until they were completely destroyed by the torment of continuous rain. The Qur'an clearly points out that the nature of the torment sent upon the Midianites was different from that sent upon the people of Aiykah The people of Aiykah, as mentioned here, were destroyed by the torment of the Canopy, while the torment visiting…
Read the full tafseer →