Ash-Shu'araa 26:190

Ash-Shu'araa · from ayah 190

26:190

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ— وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً ‌ ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:190

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس واقعہ میں (بھی) ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور انکے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے، مگر لوگوں کی اکثریت پھر بھی ایمان لانے والی نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

یقیناً اس (ماجرے) میں ایک (بڑا) نشان ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس میں یقینا نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely there is a Sign in this, but most of them would not believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! herein is indeed a portent; yet most of them are not believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

In this there is an evidence of the Truth, but many of them did not have any faith.

— Muhammad Sarwar

Most surely there is a sign in this, but most of them do not believe.

— Muhammad Habib Shakir

Verily herein is a sign; but most of them are not believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily in that is a Sign: but most of them do not believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:190

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 185–191

مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 190–192

سورة الشُّعَرَآء 118 تاریخی بیان ختم کر کے اب سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف پھرتا ہے جس سے سورة کا آغاز فرمایا گیا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر پلٹ کر پہلے رکوع کو دیکھ لینا چاہیے۔ سورة الشُّعَرَآء 119 یعنی یہ " کتاب مبین " جس کی آیات یہاں سنائی جا رہی ہیں، اور یہ " ذکر " جس سے لوگ منہ موڑ رہے ہیں کسی انسان کی من گھڑت چیز نہیں ہے، اسے محمد ﷺ نے خود تصنیف نہیں کرلیا ہے، بلکہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 189–191

خدا کا مجرم اپنے پاؤں چل کر آتا ہے اسے وارنٹ کی ضرورت نہیں فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ، عذاب یوم الظلہ، جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے اس کا واقعہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کی قوم پر سخت گرمی مسلط فرمائی کہ نہ مکان کے اندر چین آتا نہ باہر، پھر ان کے قریب جنگل میں ایک گہرا بادل بھیج دیا جس کے نیچے ٹھنڈی ہوا تھی، ساری قوم گرمی سے پریشان تھی سب دوڑ دوڑ کر اس بال کے نیچے جمع ہوگئے جب ساری قوم بادل کے نیچے آگئی تو اس بادل نے ان پر پانی کے بجائے آگ برسا دی جس سے سب بھسم ہو کر رہ گئے۔ (کذا روی عن ابن عباس۔ روح)

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 190–193

193-1کفار مکہ نے قرآن کے وحی الٰہی اور منزل من اللہ ہونے کا انکار کیا اور اسی بنا پر رسالت محمدیہ اور دعوت محمدیہ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیا (علیہم السلام) کے واقعات بیان کرکے یہ واضح کیا کہ یہ قرآن یقینا وحی الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیغمبر جو پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے گزشتہ انبیاء اور قوموں کے واقعات کس طرح بیان کرسکتا تھا ؟ اس لئے یہ قرآن یقینا اللہ رب العالمین ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے ایک امانت دار فرشتہ جبرائیل ؑ لے کر آئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 189–195

42: کئی دن تک سخت گرمی پڑنے کے بعد ایک بادل ان کی بستی کے قریب آیا جس کے نیچے بظاہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بستی کے سب لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس بادل نے ان پر انگارے برسائے جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 190–191

ان فی ذلک ……(191) یہاں آ کر اس سورت کے قصص ختم ہوجاتے ہیں اور اگلا سبق اس پوری سورت کے مضامین پر ایک تبصرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 190–194

2 آغاز سورت میں قرآن کریم کا ذکر تھا اور اس کی تکذیب پر دھمکی دی گئی تھی، درمیان میں مکذبینِ حق کے واقعات بیان ہوئے، یہاں سے پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کریم وہ مبارک اور عظیم الشان کتاب ہے جسے رب العالمین نے اتارا، جبرائیل امین لے کر اترے اور تیرے پاک و صاف قلب پر اتاری گئی کیونکہ یہ ہی قلب تھا جو اللہ کے علم میں اس بھاری امانت کو اٹھانے اور سنبھالنے کے لائق تھا، چناچہ وحی قرآنی آئی اور سیدھی تیرے دل میں اترتی چلی گئی۔ تو نے اس کو اپنے سارے دل سے سنا اور سمجھا اور محفوظ رکھا، شاید " عَلٰی قَلْبِکَ " کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہو کہ نزول وحی کی جو دو کیفیتیں احادیث صحیحہ میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 190–191

آیت 191 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ” چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ مشرکین مکہ کو ابھی مزید مہلت دی جائے۔ اسی لیے حسی معجزے کے بارے میں ان کا مطالبہ ابھی پورا نہیں کیا جا رہا۔ یہاں انبیاء الرسل علیہ السلام کا بیان ختم ہوا۔ اس کے بعد اب ایک طویل رکوع آ رہا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

111 سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے سات اقوام کا ذکر کیا ہے۔ قوم موسیٰ ، قوم ابراہیم، قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب ان سب قوموں نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی۔ اگرچہ ان اقوام کے تمدنی حالات ایک دوسرے سے مختلف تھے اور انبیاء سے ان کی بحث وجدال اور سوال و جواب کا انداز بھی کچھ حد مختلف اور کچھ حد تک یکساں رہا۔ لیکن چونکہ ان کے بنیادی جرم کی نوعیت ایک جیسی تھی یعنی تکذیب رسالت لہذا ان کا انجام بھی ایک ہی جیسا رہا یعنی وہ بالاخر اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور ان پر ایمان والوں کو ان ظالموں کے ہاتھوں سے بھی اور اپنے عذاب سے بھی بچا لیا۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 190–194

101۔ یہاں قرآن مجید سے متعلق سب سے پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ وہ کسی مخلوق کا نہیں، خود پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے اور دوسری بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک تک جبرئیل امین جیسے زبردست محافظ نے پہنچایا ہے۔ جن کے لائے ہوئے پیام پر کسی غلطی وتحریف کا امکان نہیں۔ (آیت) ” نزل بہ “۔ نزل صلہ ب کے بعد انزل کے معنی میں ہے۔ اے انزل علی ان الباء للتعدبۃ (روح) (آیت) ” روح الامین “۔ یعنی امانت دار فرشتہ مراد حضرت جبرئیل ہیں، اور ملت کا اس پر اتفاق ہے۔ وھوجبرئیل (علیہ السلام) قال غیر واحد من السلف۔ ابن عباس ومحمد بن کعب وقتادۃ وعطیۃ العوفی والسدی والضحاک والزھری وابن جریج وھذا ممالانزاع فیہ (ابن کثیر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 176–191

آیت نمبر 176 تا 191 ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اس قصہ میں درحقیقت (عبرت اندوزی کی) بڑی نشانی تھی اور ان میں سے اکثر لوگ مؤمن نہیں تھے (اس لئے ان پر عذاب نازل کیا گیا)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 190–191

(190۔ 191) اور اس واقعہ میں بھی بڑی عبرت ہے باقی اس کے باوجود بھی ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے اور آپ کا پروردگار کفار کو سزا دینے میں بڑی قدرت والا ہے اور مومینن کے حق میں رحمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 190–191

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً۔۔ : اس سورت میں سات انبیاء کے واقعات میں سے ہر ایک کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں، ان سے مقصود نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا اور جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنا ہے کہ ان میں سے ہر واقعہ میں ایک عظیم نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بار بار دہرانے سے بات زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 176–191

(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ ) کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 176–191

1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “ 2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً ۭ[ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 177–193

قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–191

قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 190–192

67:۔ یہ ابتدائے سورت میں ” وما یاتیہم من ذکر من الرحمن الخ “ سے متعلق ہے اور ” انہ “ میں ضمیر منصوب دعوی ” تبارک “ سے کنایہ ہے اور یہ دعوی ” تبارک “ پر دلیل وحی ہے یا ضمیر سے قرآن مراد ہے۔ مشرکین اس دعوے کی تکذیب اور اس سے استہزاء کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ دعوی تو رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ” نزل بہ الروح الخ “ جسے روح امین حضرت جبریل (علیہ السلام) نے آپ کے قلب مبارک پر اتارا ہے تاکہ آپ اس دعوے کی تبلیغ فرمائیں اور نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ آپ کے اولین مخاطب چونکہ عرب ہیں اس لیے اسے فصیح عربی زبان کے الفاظ کا جامہ پہنا کر نازل کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 176–191

حضرت شعیب (علیہ السلام) اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً۝ 0ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 190 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 190–193

ترکیب : بلسان نزل سے متعلق اور منذرین سے بھی ہوسکتا ہے۔ لم یکن کان تامہ ہے تو فاعل ایتۃ ان یعلمہ بدل اور ناقصہ ہے تو آیۃ خبر مقدم ان یعلمہ الخ اسم۔ تفسیر : ان ساتوں قصوں کے بعد چند باتیں ثبوت نبوت ورد منکرین کے لیے ذکر فرماتا ہے۔ (1) وانہ لتنزیل رب العالمین کہ یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ لفظ رب العالمین دو باتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے فرمایا اول یہ کہ جس طرح ہم تمہاری جسمانی پرورش کرتے ہیں رزق روزی دیتے ہیں اسی طرح روحانی تربیت بھی ہمارا کام ہے اور روحانی تربیت کا ذریعہ وحی اور پیغمبر پر کتاب نازل کرنا ہے۔ دوم یہ کہ تم جو اس نعمت آسمانی کا مقابلہ کرتے ہو اور پھر اب تک تم عذاب سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 190–191

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 190، 191) (بیشک اس میں بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ) گزشتہ ہر سرگزشت کے بعد اس آیت کی تشریح ہوچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 186–192

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے سات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتوں اقوام کا بنیادی جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی جس کے سبب انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سرورِ دو عالم ﷺ کے مخالفین کو سات قوموں کی تباہی کے واقعات سنانے کے بعد سمجھایا گیا کہ تم محمد ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہو حالانکہ اس قرآن کو رب العالمین نے جبرئیل امین کے ذریعے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمایا ہے جو فصیح عربی زبان میں ہے۔ یقیناً اس نبی اور قرآن مجید کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے نزول کا مقصد یہ ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

190: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بلاشبہ اس میں البتہ نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 189–191

تفسیر۔ 189۔ فکذبوہ فاخذھم عذاب یوم الظلہ، چونکہ ان کو شدید گرمی نے تنگ کردیا تھا، وہ تنگ آکر تہہ خانوں میں داخل ہوگئے جب وہ تہہ خانوں میں جاتے تو ان کو اس سے بھی زیادہ گرمی محسوس ہوتی۔ پھر وہ باہر نکلے ان پر ایک بادل نے چھاؤں کردی وہ ساری قوم اس سائبان کے نیچے آگئی پھر ان پر آگ کی بارش برسی جس سے وہ سب جل کر راکھ ہوگئے اس کو ہم نے سورة ہود میں نقل کیا ہے ، انہ کان عذاب یوم عظیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 176–191

(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 176–191

آیت 176 سے 191 (اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94 نشانی عبرت میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے اس پر کہ حق اور اہل حق کی مخالفت اور دشمنی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اور اس پر کہ اللہ پاک جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرما دیتا ہے تو اس کے لئے وہ کس طرح ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ وہ قوم بغیر کسی ظاہری فوج اور پولیس کے خود بخود چل کر وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں ان لوگوں کے لئے عذاب طے کیا گیا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ پاک کے لشکروں اور اس کے عذاب کے طریقوں کو کوئی نہیں جان سکتا سوائے اس وحدہ لاشریک کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ۔ { وَمَا یَعْلَمُ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 176–191

آیات 176 تا 191 اسرار و معارف بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 190–192

3 ۔ شروع سورت میں تمہیداً قرآن کے ذکر سے مقصود آنحضرت ﷺ کی رسالت و نبوت کا اثبات تھا پھر مکذبین کو دھمکی دی اور اس سلسلہ میں انبیا ( علیہ السلام) کے سات قصے بیان فرمائے تاکہ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہو اور آپ ﷺ کی تکذیب کرنے والے عبرت حاصل کریں۔ اب یہاں سے پھر رسالت کا اثبات شروع کیا اور صحت نبوت کے دلائل اور کفار کے شبہات کے جواب آخر سورت تک چلے گئے۔ (کبیر۔ قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 189–191

(26:189) یوم الظلۃ مضاف مضاف الیہ۔ سائبان والا دن ظلۃ سائبان ظلل جمع ظللۃ وہ بدلی ہے جو سایہ فگن ہو اور اکثر اس کا استعمال بری اور ناپسند صورت حال میں ہوتا ہے جیسے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ (7:171) اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر جیسے کہ سائبان۔ فاخذھم عذاب یوم الظلۃ پھر آن پکڑا ان گو سائبان والے دن کے عذاب نے۔ کہتے ہیں کہ ایک بدلی ان کے سر پر سایہ فگن ہوگئی۔ جب لوگ اس کے نیچے تیش سے پناہ لینے کے لئے جمع ہوئے تو وہ یکایک ان پر آکرگر پڑی اور سب وہیں ڈھیر ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 176–191

لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 : اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 : جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 180–191

حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 190–193

[30] روح الامین کے معنی ہیں امانت دار روح۔ مراد اس سے جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 189–192

حل لغات :۔ یوم الظلۃ ۔ ان پر بادل سائبان کی طرح چھا گیا ۔ اور وہی بات ان کے لئے عذاب کا باعث ہوا ۔ اس لئے عذاب کے ان کو سائبان کا دن کہا جاتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(190) اور بیشک اصحاب الایکہ ہے واقعہ میں بڑی عبرت آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور ماننے والے نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں : 190۔ زیر نظر آیت وہی ہے جو گزشتہ سرگزشتوں کے آختتام پر آرہی ہے کہ ان لوگوں کے لئے گزشتہ واقعات میں نشانی موجود تھی لیکن انہوں نے اس پر دھیان نہ دیا اور اپنے رسول سے ایک نشانی طلب کرتے ہی رہے کہ اگر تم سچے ہو تو وہ نشان آکیوں نہیں جاتا ‘ اچھا اب وہ نشان آگیا اور تم ہی بتاؤ کہ یہ آنے والا نشان تمہارے لئے نصیحت کا باعث ہوا ہرگز نہیں جس طرح گزشتہ قوموں کی طلب کی گئی نشانی نے انکو کچھ فائدہ نہ دیا اب انکی طلب کردہ نشانی بھی نہ ان کے اپنے کام آئی اور نہ ہی کسی گزشتہ آنے والی قوم نے اس سے فائدہ حاصل کیا اور اسی طرح ساری داستانیں گزر گئیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 189–192

فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ so they were seized by the torment of the Day of Canopy. - 26:189 عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ (the Torment of the Canopy), mentioned in this verse refers to an incident, which is this: Allah Ta’ ala sent down such an extreme heat on a people that they could not find comfort either inside the houses or outside. Then He sent down a mass of dark cloud over a nearby forest, under which there was a cool breeze. As the entire people were distressed due to excessive heat, they ran to take shelter under the cloud. When all of them assembled under the cover of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 190–192

118 At the end of the historical account, the same theme, with which the Surah began, is resumed. For reference, see vv. 1-9. 119 That is, "This lucid Book whose verses are being recited to you, and this 'Admonition' from which the people are turning away, is not the product of the whims of a man; it has not been written and compiled by Muhammad (upon whom be Allah's peace) himself, but it consists of the Revelations of the Lord of this universe."

Read the full tafseer →