Ash-Shu'araa 26:188

Ash-Shu'araa · from ayah 188

26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۟قَالَ رَبِّىۡۤ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ

شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "My Lord is most knowing of what you do."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:188

شعیبؑ نے کہا "میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

شعیب نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم کیا کررہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک (کرتوت) ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا میرا رب زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

شعیب نے کہا : جو کچھ تم کرتے ہو میرا پروردگار اسے خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا۔ میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

شعیب نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کر رہے ہو۔

— مولانا اسحاق مدنی

(شعیب ؑ نے) کہا میرا پروردگار ہی خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے رہتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس ؑ نے جواب دیا کہ میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا رب اس سے خوب واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Shuayb said: "My Lord knows well all what you do."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My Lord knows well what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My Lord knows well what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "My Lord is the Best Knower of what you do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord is Best Aware of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "My Lord is most knowing of what you do."

— Saheeh International

He said, "My Lord knows all that you do."

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord knows best what you do.

— Muhammad Habib Shakir

He. said: My Lord is the Best Knower of that which ye work.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:188

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 185–191

مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 177–188

سورة الشُّعَرَآء 116 یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 183–188

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ یعنی نہ کمی کرو لوگوں کی اپنی چیزوں میں۔ مراد یہ ہے کہ معاہدہ کے مطابق جتنا کسی کا حق ہے اس سے کمی کرنا حرام ہے خواہ وہ ناپنے تولنے کی چیز ہو یا کوئی دوسری۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ملازم مزدور اگر اپنے مقررہ وقت میں چوری کرتا ہے وقت کم لگاتا ہے وہ بھی اس وعید میں داخل ہے۔ امام مالک نے مؤ طا میں روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز عصر میں شریک نہیں ہوا۔ وجہ پوچھی تو اس نے کچھ عذر کیا تو حضرت فاروق اعظم نے فرمایا طففت یعنی تو نے تولنے میں کمی کردی، چونکہ نماز کوئی تولنے کی چیز نہیں اس لئے یہ حدیث نقل فرما کر امام مالک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال ربی اعلم بما تعملون 188 حضرت شعیب ہر طرف سے تفویض الی اللہ یہ تفویض الی اللہ کا کلمہ ہے مطلب یہ ہے کہ آسمان سے ٹکڑے گرانا میرے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ تمہاری کارستانیوں سے اچھی طرح باخبر ہے تو میں اس معاملے کو اسی کے حوالہ کرتا ہوں۔ اس کی حکمت کا جو تقاضا ہوگا وہ ظہور میں آئے گا اور بالکل ٹھیک وقت پر ظہور میں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

188-1یعنی تم جو کفر و شرک کر رہے ہو، سب اللہ کے علم میں ہے اور وہی اس کی جزا تمہیں دے گا، اگر چاہے گا تو دنیا میں بھی دے دے گا، یہ عذاب اور سزا اس کے اختیار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

41: یعنی کس وقت کونسا عذاب نازل کیا جائے، یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ جب چاہے گا، جس قسم کا عذاب مناسب ہوگا، نازل فرما دے گا، کیونکہ وہ تمہارے سب کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال ربی اعلم بما تعملون (188) اور اس کے بعد پھر سیاق کلام میں جلد ہی فیصلہ چکا دیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی وہ ہی جانتا ہے کہ کس جرم پر کس وقت اور کتنی سزا ملنی چاہیے۔ عذاب دینا ہمارا کام نہیں۔ ہمارا کام ہوشیار کردینا تھا، سو کرچکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 186–188

آیت 188 قَالَ رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ” میری دعوت پر تمہارے ایک ایک ردِّ عمل سمیت تمہارے طرز عمل اور تمہارے تمام کرتوتوں سے میرا پروردگار خوب واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 186–188

109 یعنی عذاب نازل کرنا یا آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دینا میرا کام نہیں۔ میرا پروردگار تمہاری کرتوتوں کو دیکھ رہا ہے۔ جب تمہارے گناہوں کا ڈول بھر جائے گا یا جب وہ مناصب موقع سمجھے گا تم پر عذاب نازل کردے گا تو تمہیں صرف یہ بتلا سکتا ہوں کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اللہ کا طریقہ یہی ہے کہ ان پر عذاب بھیج کر انھیں تباہ کر دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

99۔ (سوتمہارے عمل کا جو مقتضا ہے یعنی عذاب کیا ہو اور کب ہو، اسے بھی وہی خوب جانتا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ خوارق اہل اللہ کے بس میں نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 176–191

آیت نمبر 176 تا 191 ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ربی اعلم بما تعملون۔ شعیب نے کہا جو کچھ تم کرتے ہو میرا رب اس سے بخوبی واقف ہے یعنی تم جو کم تولتے ‘ ناپتے ‘ لوٹتے ‘ قتل کرتے اور راہزنی کرتے ہو اس سے میرا رب خوب واقف ہے وہی اگر چاہے گا تو اس کی سزا تم کو جب چاہے گا دے گا عذاب لانے کا اختیار مجھے نہیں ہے میری ذمہ داری تو صرف تبلیغ و دعوت کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(188) حضرت شعیب ؑ نے فرمایا کہ میرا پروردگار تمہاری ان کفریہ باتوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور میں بھی تمہاری حالت سے اور اس عذاب سے جو تم پر نازل ہوگا بخوبی واقف ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّيْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : شعیب ؑ نے جواب دیا کہ عذاب لانا یا آسمان سے ٹکڑے گرانا میرا کام نہیں، میرے رب کا کام ہے، کیونکہ وہی خوب جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو، تم پر عذاب آنا ہے یا نہیں اور آنا ہے تو تمہارے اعمال کے مطابق کب آنا ہے اور کس قدر آنا ہے ؟ میرا کام متنبہ کرنا تھا وہ میں نے کردیا۔ شعیب ؑ کے اس واقعہ میں قریش کے لیے بھی تنبیہ ہے، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبے کرتے تھے : (اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) [ بني إسرائیل : 92 ] ”یا آسمان کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے، جیسا کہ تونے دعویٰ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 176–191

(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ ) کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 176–191

1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “ 2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (شعیب (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبِّيْٓ [ میرا رب ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کو تے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 177–193

قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–191

قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 186–189

66:۔ آخر جب قوم تکذیب پر قائم رہی تو اللہ نے ان کو عذاب ظلہ سے ہلاک کردیا جو بڑا ہی دردناک عذاب تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اللہ نے اصحاب الایکہ پر شدید گرمی مسلط کردی وہ گرمی سے بھاگ کر گھروں میں داخل ہوئے تو وہاں باہر سے بھی زیادہ گرمی تھی آخر پھر گھروں سے باہر نکل آئے۔ پھر اللہ نے ایک بادل (ظلہ) بھیج دیا سب اس کے سائے میں جمع ہونے شروع ہوگئے۔ جب سب اس کے نیچے جمع ہوگئے تو اللہ نے اس ظلہ سے آگ برسا دی جس سے سب جل کر ہلاک ہوگئے۔ ھی سحابۃ اظلہم بعد ما حبست عنھم الریح وعذبوا بالحر سبعۃ ایام فاجتمعوا تحتھا مستجیرین بھا مما نالھم من الحر فامطرت علیہم نارا فاحترقوا (مدارک ج 3 ص 149) ۔ ” ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 176–191

حضرت شعیب (علیہ السلام) اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّيْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝ 188 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 188) (حضرت شعیب نے کہا، میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ ) اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے جب پیغمبر اپنی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوجاتا ہے تو ان کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوا اس طرح کی بات کہتا ہے۔ کہنا مقصود یہ ہے کہ آسمان سے ٹکڑے گرانا میرے اختیار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ میں تو اتنی بات جانتا ہوں کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کی تکذیب کرتی اور اس پر نازل کیے جانے والے دین کا انکار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک خاص حد تک اسے سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ آخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ قوم عذاب کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 186–192

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے سات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتوں اقوام کا بنیادی جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی جس کے سبب انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سرورِ دو عالم ﷺ کے مخالفین کو سات قوموں کی تباہی کے واقعات سنانے کے بعد سمجھایا گیا کہ تم محمد ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہو حالانکہ اس قرآن کو رب العالمین نے جبرئیل امین کے ذریعے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمایا ہے جو فصیح عربی زبان میں ہے۔ یقیناً اس نبی اور قرآن مجید کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے نزول کا مقصد یہ ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

188: قَالَ رَبِّیْ (اس نے کہا اے میرے رب) قراءت : حجازی نے رَبِّی پڑھا ہے اور دیگر قراء اور ابو عمرو نے رَبِیْ سکون سے پڑھا ہے۔ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کا علم ہے اور جس سے تم عذاب کے مستحق بنتے ہو۔ اگر آسمان کا ٹکڑا گرا کر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے اور اگر وہ اور کوئی سزا دینا چاہے تو وہ اس کی مرضی اور اس کے حکم پر موقوف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

188۔ قال ربی اعلم بماتعملون۔ تم جو ناپ تول میں کمی کرتے ہو اس کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے اعمال کا بدلہ دیں گے اور میں تمہیں عذاب نہیں دے سکتا، میری ذمہ داری تو صرف دعوت دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 176–191

(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 176–191

آیت 176 سے 191 (اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

92 تفویض الی اللہ کا درس عظیم : حضرت شعیب کی طرف سے تفویض الی اللہ کے درس عظیم کا عمدہ اور پاکیزہ نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو ان لوگوں کی طرف سے مطالبہ عذاب کے جواب میں تفویض الی اللہ سے کام لیتے ہوئے حضرت شعیب نے فرمایا کہ آسمان سے ٹکڑے گرا دینا نہ میرا کام ہے اور نہ میرے اختیار میں۔ بلکہ یہ میرے رب ہی کے اختیار میں ہے اور میرا رب خوب جانتا ہے وہ سب کام جو تم لوگ کر رہے ہو۔ یعنی عذاب لانا یا آسمان کے ٹکڑے گرا دینا نہ تو میرے بس میں ہے اور نہ ہی میں نے کبھی اس کا کوئی دعویٰ ہی کیا ہے۔ میرا کام تو بس اتنا ہے کہ اللہ کا پیغام بلا کم وکاست تمہیں پہنچا دوں۔ مانو گے تو تمہارا اپنا فائدہ، نہیں تو تمہارا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 176–191

آیات 176 تا 191 اسرار و معارف بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 186–188

1 ۔ اس لئے وہی تم پر جب چاہے گا ان کی پاداش میں عذاب بھیجے گا۔ میرا کام تو صرف تمہیں متنبہ کردینا تھا سو میں نے کردیا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 187–188

(26:187) فاسقط : اسقط۔ اسقط یسقط اسقاط (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو گرادے۔ کسفا : کسفۃ کی جمع اکساف کسوف جمع الجمع ٹکڑے۔ کسف الشمس سورج گرہن ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 176–191

لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 : اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 : جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 180–191

حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 177–189

[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(188) شعیب (علیہ السلام) نے کہا جو کام تم کر رہے ہو ان کو میرا پروردگار خوب جانتا ہے یعنی آسمان کا ٹکڑا گرا نا یا عذاب لانا یہ پروردگار کا کام ہے وہ جانتا ہے کہ تمہارے اعمال کس عذاب کے مستحق ہیں اور تم پر کب عذاب بھیجا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 188–189

ف 2۔ عذاب سائبان کا یہ تھا کہ اول ان لوگوں پر گرمی مسلط ہوئی، پھر ایک ابر نمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی، سب لوگ اس کے نیچے جمع ہوگئے، اس میں سے آگ برسنا شروع ہوئی، اور سب جل گئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو : 188۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا جو میں نے کہا ہے اللہ کے حکم سے کہا ہے اور نہ ہی میں اس کو کرسکتا ہوں اللہ نے کہا ہے اور وہی اس کا کرنے والا ہے میں تمہارے معاملہ کو اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کرتا ہوں اس کی حکمت کا جو تقاضا ہوگا وہی ہوگا وہ تمہارے اعمال کو بھی جانتا ہے اور تمہاری ان واہیات باتوں کو بھی سن رہا ہے جو ظہور میں آئے گا تم دیکھ لو گے اور یقینا ہم وہ سن لیں گے اگرچہ اس وقت تمہارا دیکھنا تمہارے لئے ہرگز مفید نہیں ہوگا ۔ ہاں ! تمہارے حال پر مجھے افسوس ہے کہ اتنی بڑی مدت تک میں نے تم کو نصیحت کی لیکن تم نصیحت کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 183–188

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ And do not make people short of their things - 26:183 What it means is that it is unlawful to reduce any quantity or amount from that which has been contracted with anyone, whether it is a measurable thing or otherwise. Therefore, if a servant or a laborer does not work his full time at his workplace, he too is included in this warning. Imam Malik (رح) has reported a narration in his Muwatta' that Sayyidna ` Umar ؓ noticed that someone did not join in the ` Asr prayer. So, he enquired about the reason for that, to which he offered some excuse. Then…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 177–188

116 That is, "It is not in my power to bring down the torment; it is in Allah's power, and He is fully aware of your misdeeds. He will send down the torment as and when He wills." In this demand of the people of Aiykah and the answer of Prophet Shu'aib to them there was an admonition for the Quraish as well. They also demanded from the Holy Prophet to bring down the torment on them: "Or.... you cause the sky to fall down on us in fragments, as you threaten us." (Bani Isra'il: 92). As such the Quraish are being told that the people of Aiykah had also demanded a similar thing from their…

Read the full tafseer →