Explained with ayahs 185–191
مشرکین کی وہی حماقتیں
ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
سورة الشُّعَرَآء 116
یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ یعنی نہ کمی کرو لوگوں کی اپنی چیزوں میں۔ مراد یہ ہے کہ معاہدہ کے مطابق جتنا کسی کا حق ہے اس سے کمی کرنا حرام ہے خواہ وہ ناپنے تولنے کی چیز ہو یا کوئی دوسری۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ملازم مزدور اگر اپنے مقررہ وقت میں چوری کرتا ہے وقت کم لگاتا ہے وہ بھی اس وعید میں داخل ہے۔ امام مالک نے مؤ طا میں روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز عصر میں شریک نہیں ہوا۔ وجہ پوچھی تو اس نے کچھ عذر کیا تو حضرت فاروق اعظم نے فرمایا طففت یعنی تو نے تولنے میں کمی کردی، چونکہ نماز کوئی تولنے کی چیز نہیں اس لئے یہ حدیث نقل فرما کر امام مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–187
آیت 187-185
مکذبین کا مطالبہ عذاب
قوم نے حضرت شعیب کی اس دردمندانہ تنبیہ کا وہی جواب دیا جو دوسرے رسولوں کے مکذبین سے منقول ہوا ہے۔ اول یہ کہ یہ الٹی پلٹی باتیں جو تم کر رہے ہو یہ اس بات کا قرینہ ہیں کہ تم پر کسی نے نہایت سخت قسم کا جادو کردیا ہے دوسرا یہ کہ جب تم ہمارے ہی جیسے ایک بشر ہو تو ہم تمہیں خدا کا بھیجا ہوا رسول کس طرح مان لیں ؟ تیسرا یہ کہ اگر تم سچ مچ رسول ہو، اگر ہم نے تمہاری بات نہ مانی تو ہم پر آسمان ٹوٹ پڑے گا تو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا کر دکھائ۔ کسف جمع ہے کسغۃ کی دوسری سورتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت شعیب نے قوم کو آگاہ کیا تھا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر…
Read the full tafseer →187-1یہ حضرت شعیب ؑ کی تہدید کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تو واقعی سچا ہے تو جا ہم تجھے نہیں مانتے، ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا کر دکھا !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
40: یہ لوگ مسافروں کو لوٹنے کے لیے ڈاکے بھی ڈالتے تھے۔
Read the full tafseer →فاسقط علینا کسفاً من السمآء ان کنت من الصدیقین (187)
یہ ایک ایسے شخص کا چیلنج ہے جو نہایت ہی سرکش ، مغرور اور لاپرواہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں مشرکزین بھی للہ ﷺ سے ایسے ہی مطالبہ کرتے تھے۔
Read the full tafseer →6 اگر سچا ہے تو آسمان کا یا بادل کا کوئی ٹکڑا گروا کر ہم کو ہلاک کیوں نہیں کردیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–188
آیت 188 قَالَ رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ”
میری دعوت پر تمہارے ایک ایک ردِّ عمل سمیت تمہارے طرز عمل اور تمہارے تمام کرتوتوں سے میرا پروردگار خوب واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–188
109 یعنی عذاب نازل کرنا یا آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دینا میرا کام نہیں۔ میرا پروردگار تمہاری کرتوتوں کو دیکھ رہا ہے۔ جب تمہارے گناہوں کا ڈول بھر جائے گا یا جب وہ مناصب موقع سمجھے گا تم پر عذاب نازل کردے گا تو تمہیں صرف یہ بتلا سکتا ہوں کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اللہ کا طریقہ یہی ہے کہ ان پر عذاب بھیج کر انھیں تباہ کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–187
98۔ نبی کے سحر زدہ ہونے اور اس کی بشریت و رسالت کے درمیان حسب تخیل مشرکین تنافی پر حاشیے کئی بار اوپر گزر چکے۔ (آیت) ” فاسقط ..... السمآء “۔ شعیب کے قوم والے کہتے ہیں کہ اگر دعوائے نبوت میں برحق ہو تو کوئی ایسا نمایاں خارق عادت پیش کرو، جیسے یہی کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا ٹوٹ کر ہم پر گر پڑے۔ (آیت) ” ان ..... الصدقین “۔ گویا وبال نازل نہ ہونا ان جاہلوں کے خیال میں دلیل تھی ان کے انکار کے قبیح ترنہ ہونے کی۔ اور یہی ذہنیت آج بھی بہت سے جاہلیوں اور جاہلوں کی ہے۔ کسی بزرگ سے انکار پر وبال نازل نہ ہونے کو اس انکار کے قبیح نہ ہونے کی دلیل قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت نمبر 176 تا 191
ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…
Read the full tafseer →فاسقط علینا کسفا من السمآء ان کنت من الصدقین۔ اگر سچ ہونے کا دعویٰ ہے اور سچے ہو تو
آسمان کا کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دو ۔
Read the full tafseer →(187) سو اگر تم اپنے اس دعوی میں سچے ہو کہ ہم پر عذاب نازل ہوگا تو ہمارے اوپر آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرا دو۔
Read the full tafseer →فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ : ”كِسَفًا“ ”کِسْفَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”قِطْعَۃٌ“ کی جمع ”قِطَعٌ“ ہے۔ ”کسفا“ کا معنی ہے ٹکڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “
2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…
Read the full tafseer →فَاَسْقِطْ [ پس تو گرا ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] كِسَفًا [ کوئی ٹکڑا ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] اِنْ كُنْتَ [ اگر تو ہے ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–193
قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے
ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–189
66:۔ آخر جب قوم تکذیب پر قائم رہی تو اللہ نے ان کو عذاب ظلہ سے ہلاک کردیا جو بڑا ہی دردناک عذاب تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اللہ نے اصحاب الایکہ پر شدید گرمی مسلط کردی وہ گرمی سے بھاگ کر گھروں میں داخل ہوئے تو وہاں باہر سے بھی زیادہ گرمی تھی آخر پھر گھروں سے باہر نکل آئے۔ پھر اللہ نے ایک بادل (ظلہ) بھیج دیا سب اس کے سائے میں جمع ہونے شروع ہوگئے۔ جب سب اس کے نیچے جمع ہوگئے تو اللہ نے اس ظلہ سے آگ برسا دی جس سے سب جل کر ہلاک ہوگئے۔ ھی سحابۃ اظلہم بعد ما حبست عنھم الریح وعذبوا بالحر سبعۃ ایام فاجتمعوا تحتھا مستجیرین بھا مما نالھم من الحر فامطرت علیہم نارا فاحترقوا (مدارک ج 3 ص 149) ۔ ” ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
حضرت شعیب (علیہ السلام)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…
Read the full tafseer →فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 187ۭ
سقط
السُّقُوطُ : طرح الشیء، إمّا من مکان عال إلى مکان منخفض کسقوط الإنسان من السّطح، قال تعالی: أَلا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا[ التوبة/ 49] ، وسقوط منتصب القامة، وهو إذا شاخ وکبر، قال تعالی: وَإِنْ يَرَوْا كِسْفاً مِنَ السَّماءِ ساقِطاً [ الطور/ 44] ، وقال : فَأَسْقِطْ عَلَيْنا كِسَفاً مِنَ السَّماءِ [ الشعراء/ 187] ، والسِّقَطُ والسُّقَاطُ : لما يقلّ الاعتداد به، ومنه قيل : رجل سَاقِطٌ لئيم في حَسَبِهِ ، وقد أَسْقَطَهُ كذا، وأسقطت المرأة اعتبر فيه الأمران :
السّقوط من عال، والرّداءة جمیعا، فإنه لا يقال : أسقطت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
2 ؎ یوم الظلۃ ابر کے نمودار ہونے کے دن کو کہتے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–187
قَالُوْٓا اِنَّمَـآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ۔ وَمَـآ اَنْتَ اِلاَّبَشَرٌ مِّثْـلُنَا وَاِنْ نَّظُنُّـکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَـآئِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔
(الشعرآء : 185 تا 187)
(انھوں نے جواب دیا، تم تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہو۔ اور تم کچھ نہیں ہو، مگر ہمارے ہی جیسے ایک انسان، اور ہم تو تم کو بالکل جھوٹوں میں سے ہی خیال کرتے ہیں۔ پس تم ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرائو، اگر تم سچے ہو۔ )
قومِ شعیب کا مطالبہ عذاب
قومِ شعیب نے بالکل وہی جواب دیا جو ہمیشہ بگڑی ہوئی قومیں پیغمبروں کو دیتی رہی ہیں۔ اور اس سے پہلے گزرنے والی سرگزشتوں میں ہم اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–192
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے سات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتوں اقوام کا بنیادی جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی جس کے سبب انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
سرورِ دو عالم ﷺ کے مخالفین کو سات قوموں کی تباہی کے واقعات سنانے کے بعد سمجھایا گیا کہ تم محمد ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہو حالانکہ اس قرآن کو رب العالمین نے جبرئیل امین کے ذریعے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمایا ہے جو فصیح عربی زبان میں ہے۔ یقیناً اس نبی اور قرآن مجید کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے نزول کا مقصد یہ ہے…
Read the full tafseer →187: فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا کِسَفًا (پس تو ہم پر ایک بادل کا ٹکڑا گرا دے)
قراءت : کسْفًا یہ حمزہ، کسائی، ابن کثیر، دیگر تمام قراء کی قرات ہے جبکہ حفص نے کِسَفًا پڑھا ہے اور یہ دونوں کِسْفَۃٍ کی جمعیں ہیں اور وہ ٹکڑے کو کہتے ہیں کَسَفَہٗ کا معنی قَطَعہٗ ہے۔ مِّنَ السَّمَآ ئِ (آسمان سے) یعنی بادل نمبر 2۔ سائبان اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تو سچوں میں سے ہے) اگر تو نبوت کا دعویٰ کرنے میں سچا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے یعنی آسمان کا ٹکڑا بطور سزا و عذاب گرا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–187
184۔ واتقوی الذی خلقکم والجبلۃ ، خلقت کو کہتے ہیں۔ الاولین، اس سے مراد گزشتہ امتیں، جبلہ، خلقت کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →91 قوم شعیب کی طرف سے عذاب کا مطالبہ : سو انہوں نے حضرت شعیب کی دعوت پر کان دھرنے اور اس کو قبول کرنے کی بجائے ان سے کہا کہ " تم ہم پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دو اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں "۔ یعنی ہم نے تمہاری دعوت کو بہرحال نہیں ماننا۔ پس تم آسمان کے کچھ ٹکڑے ہم پر گرا دو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ جیسا کہ کفار مکہ نے کہا تھا ۔ { اَللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَائِٓ اَوْئْتِنَا بَعَذَابٍ اَلِیْمٍ } ۔ (الانفال :32 ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان سے محروم انسان کس قدر اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے کہ وہ عافیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیات 176 تا 191
اسرار و معارف
بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–188
1 ۔ اس لئے وہی تم پر جب چاہے گا ان کی پاداش میں عذاب بھیجے گا۔ میرا کام تو صرف تمہیں متنبہ کردینا تھا سو میں نے کردیا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
(26:187) فاسقط : اسقط۔ اسقط یسقط اسقاط (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو گرادے۔
کسفا : کسفۃ کی جمع اکساف کسوف جمع الجمع ٹکڑے۔ کسف الشمس سورج گرہن ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 :
اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 :
جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–191
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–188
الجبلۃ ۔ مخلوق ، خلقت ۔
Read the full tafseer →(187) لہٰذا اگر تو سچوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے یعنی اول تو تو ہم جیسا ہی ایک معمولی بشر ہے پھر یہ کہ ہم تجھ کو جھوٹا سمجھتے اور خیال کرتے ہیں لہٰذا اگر تو سچا ہے تو کوئی ٹکڑا آسمان کا ہم پر گرا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
ف 1۔ تاکہ ہم کو معلوم ہوجائے کہ کہ واقعی تم بنی تھے، تمہاری تکذیب سے ہم کو یہ سزا ہوئی۔
Read the full tafseer →قوم نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دو :
187۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے وقت اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اسی طرح کا کوئی عذاب آئے گا جس طرح کے عذاب عاد ‘ ثمود ‘ اور قوم لوط پر آئے اب اس انذار کے جواب میں قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے مطالبہ شروع کردیا کہ اگر تم سچے رسول ہو تو ہم نے جب تمہاری بات نہیں مانی تو چاہئے کہ ہم پر آسمان ٹوٹ پڑے اگر اس وقت تک تم نے اس کو روک رکھا ہے تو جاؤ ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دو گویا قوم اس قدر حد سے تجاوز کرگئی کہ اب ان کی ہلاکت لازم ٹھہری اور آخر وہی ہوا جو قانون الہی کا ابدی و سرمدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
And do not make people short of their things - 26:183
What it means is that it is unlawful to reduce any quantity or amount from that which has been contracted with anyone, whether it is a measurable thing or otherwise. Therefore, if a servant or a laborer does not work his full time at his workplace, he too is included in this warning. Imam Malik (رح) has reported a narration in his Muwatta' that Sayyidna ` Umar ؓ noticed that someone did not join in the ` Asr prayer. So, he enquired about the reason for that, to which he offered some excuse. Then…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
116 That is, "It is not in my power to bring down the torment; it is in Allah's power, and He is fully aware of your misdeeds. He will send down the torment as and when He wills." In this demand of the people of Aiykah and the answer of Prophet Shu'aib to them there was an admonition for the Quraish as well. They also demanded from the Holy Prophet to bring down the torment on them: "Or.... you cause the sky to fall down on us in fragments, as you threaten us." (Bani Isra'il: 92). As such the Quraish are being told that the people of Aiykah had also demanded a similar thing from their…
Read the full tafseer →