Explained with ayahs 181–184
ڈنڈی مار قوم
حضرت شعیب ؑ اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کردو تو پورا پیمانہ بھر کردو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اسکی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کرکے ان سے مال نہ لوٹو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
سورة الشُّعَرَآء 116
یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ یعنی نہ کمی کرو لوگوں کی اپنی چیزوں میں۔ مراد یہ ہے کہ معاہدہ کے مطابق جتنا کسی کا حق ہے اس سے کمی کرنا حرام ہے خواہ وہ ناپنے تولنے کی چیز ہو یا کوئی دوسری۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ملازم مزدور اگر اپنے مقررہ وقت میں چوری کرتا ہے وقت کم لگاتا ہے وہ بھی اس وعید میں داخل ہے۔ امام مالک نے مؤ طا میں روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز عصر میں شریک نہیں ہوا۔ وجہ پوچھی تو اس نے کچھ عذر کیا تو حضرت فاروق اعظم نے فرمایا طففت یعنی تو نے تولنے میں کمی کردی، چونکہ نماز کوئی تولنے کی چیز نہیں اس لئے یہ حدیث نقل فرما کر امام مالک…
Read the full tafseer →اشیاء میں ملاوٹ
یعنی ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی ماری کر کے لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔ اسی کی ایک نہایت ہی مجرمانہ صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص میں جو گھی میں چربی، شکر میں ریت، گوشت میں چھیچھڑے اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔ اس طرح وہ بظاہر خریدار کو وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے تو چیز پوری کردیتا ہے لیکن اس کے اندر اصل شے ایک ثلث کے بقدر بھی مشکل سے ہوتی ہے اور اس میں مضر صحت اشیاء کی جو ملاوٹ ہوتی ہے وہ مزید برآں یہاں تک کہ آدمی بازار کی کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کا دل دھڑکتا رہتا ہے کہ وہ کوئی کھانے کی چیز کھا رہا ہے یا زہر نگل رہا ہے۔
حرام خوری کا موٹا پارس آنے والی چیز نہیں…
Read the full tafseer →183-1یعنی لوگوں کو دیتے وقت ناپ یا تول میں کمی مت کرو۔
83-2یعنی اللہ کی نافرمانی مت کرو اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے بعض نے اس سے مراد وہ رہزنی لی ہے جس کا ارتکاب بھی یہ قوم کرتی تھی جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ (وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ) 7۔ الاعراف :86)۔ راستوں میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے مت بیٹھو۔ ابن کثیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
40: یہ لوگ مسافروں کو لوٹنے کے لیے ڈاکے بھی ڈالتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
او فوا الکیل ……منسدین (182)
جس طرح سورت اعراف اور ہود میں تفصیلات دی گئی ہیں کہ یہ لوگ ناپ اور تول میں مطلف تھے۔ یہ لوگ لیتے وقت جبراً لوگوں سے زیادہ لیتے تھے اور دیتے وقت یہ جبریا انکل سے کم دیتے تھے۔ لیتے وقت کم قیمت دیتے تھے اور دیتے وقت بہت مہنگے داموں فروخت کرتے تھ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستی کسی ایسے تجارتی شاہراہ پر تھی۔ جہا سے قافلے گزرتے تھے۔ یہ لوگ ان تجارتی قافلوں پر اپنی مرضی نافذ کرتے تھے۔ ان کے رسول ان کو یہ تعیم دیتے تھے کہ عدل اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرو ، کیونکہ صاف اور سھترے عقیدے کا لازمی تقاضا ہے کہ معاملات میں بھی اچھائی اختیار کرو۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اچھا…
Read the full tafseer →4 یعنی ملک میں ڈاکے مت ڈالو اور لوگوں کے حقوق نہ مارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”
ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
107 یہ لوگ صرف ناپ اور تول میں ہی کمی بیشی نہ کرتے تھے۔ بلکہ تجارتی بد دیانتوں کے سارے سر اور رموز سے اور فریب کاریوں سے واقف تھے۔ عیب دار مال کا عیب چھپا کر فروخت کرنا، جھوٹ بول کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر مال بیچنا، ایسا ماحول پیدا کردینا کہ چیز کا مالک کم سے کم قیمت پر اپنی چیز فروخت کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اسی طرح اپنی چیز فروخت کرنے کے لئے ایسا ماحول بنادینا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم دینے پر مجبور ہوجائے۔ غرض ہر طریقہ جس سے دوسروں کے حقوق غصب کئے جاسکتے ہوں وہ جانتے تھے۔ اور یہی وہ فساد فی الارض یا شریفانہ قسم کے ڈاکہ زنی ہے۔ جس سے شعیب (علیہ السلام) نے انھیں منع کیا تھا۔ اور انھیں یہ نصیحت…
Read the full tafseer →96۔ کاروباری بداخلاقی، بددیانتی کا انجام آخرکار اجتماعی فساد پر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت نمبر 176 تا 191
ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…
Read the full tafseer →ولا تبخسوا الناس اشیآء ہم اور لوگوں کو ان کی چیزیں (ناپ تول میں) کم نہ کیا کرو۔
ولا تعثوا فی الارض اور زمین پر فساد نہ مچاؤ یعنی لوٹ مار قتل و غارت اور رہزنی وغیرہ نہ کرو۔
مفسدین۔ دانستہ تباہی لاتے ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ قصداً بگاڑ نہ پیدا کرو۔ تباہی نہ پھیلاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر نیت اصلاح کی ہو اور خرابی پیدا ہوجائے تو اس کو فساد فی الارض نہیں کہا جائے گا اور اس کا کوئی مواخذہ نہیں۔ کسی نے کافر کے تیر مارا کافر نے مسلمان قیدی کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح کردیا اور مسلمان مارا گیا یا زخمی ہوگیا تو نہ دیت ہوگی ‘ نہ قصاص ‘ نہ کوئی تاوان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–183
(182۔ 183) اور سیدھی ترازو سے تولا کرو اور ماپ وتول میں لوگوں کے حقوق مت مارا کرو اور سرزمین میں نافرمانی مت کیا کرو اور ماپ وتول میں کمی کرکے اور غیر اللہ کی پرستش کی طرف لوگوں کو بلاکر زمین میں فساد مت پھیلایا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا۔۔ : ان کی ماپ تول میں کمی بیشی، زمین میں فساد اور رہزنی کا ذکر سورة اعراف (85، 86) میں گزر چکا ہے۔ شعیب ؑ کے قصے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (85 تا 93) ، ہود (84 تا 95) اور عنکبوت (36، 37) بعض لوگوں نے مدین کے اس بزرگ کو شعیب ؑ قرار دیا ہے جس کے پاس موسیٰ ؑ نے دس سال گزارے تھے، مگر یہ بات بالکل بےاصل ہے، ”مدین“ کے ہر بزرگ کا شعیب ؑ ہونا ضروری نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “
2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…
Read the full tafseer →وَلَا تَبْخَسُوا [ اور حق سے کم مت دو ] النَّاسَ [ لوگوں کو ] اَشْيَاۗءَهُمْ [ ان کی چیزیں ] وَلَا تَعْثَوْا [ اور انتشار مت پھیلاؤ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ]
نوٹ۔ 1: وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ کی ایک صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص گندم میں جو ، گھی میں چربی اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔ اس طرح وہ بظاہر خریدار کو وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے تو چیز پوری کردیتا ہے لیکن اس کے اندر اصل شے کم ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–193
قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے
ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–185
65:۔ قوم نے جواب میں کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس سے (عیاذا باللہ) تیرا دماغ متاثر ہوگیا ہے اور تو نبوت کا دعوی کر بیٹھا ہے کیونکہ تو ہماری مانند بشر ہے بھلا بشر بھی نبی ہوسکتا ہے ؟ اس لیے تو تجھے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ اس پر مزید کلام حاشیہ 57 میں گذر چکا ہے۔ ” فاسقط علینا الخ “ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو آسمان ہم پر گرا کر ہمیں ہلاک کردے ” قال ربی اعلم الخ “ فرمایا عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں، میرا رب تمہاری تمام بد اعمالیوں کو جانتا ہے وہ جب چاہے گا تمہیں پکڑ لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
حضرت شعیب (علیہ السلام)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…
Read the full tafseer →وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ 183ۚ
بخس
البَخْسُ : نقص الشیء علی سبیل الظلم، قال تعالی: وَهُمْ فِيها لا يُبْخَسُونَ
[هود/ 15] ، وقال تعالی: وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْياءَهُمْ [ الأعراف/ 85] ، والبَخْسُ والبَاخِسُ : الشیء الطفیف الناقص، وقوله تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] قيل : معناه : بَاخِس، أي : ناقص، وقیل : مَبْخُوس أي : منقوص، ويقال : تَبَاخَسُوا أي : تناقصوا وتغابنوا فبخس بعضهم بعضا .
( ب خ س ) البخس
( س ) کے معنی کوئی چیز ظلم سے کم کرنا کے ہیں قرآن میں ہے وَهُمْ فِيها لا يُبْخَسُونَ [هود/ 15] اور اس میں ان کی حتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
2 ؎ یوم الظلۃ ابر کے نمودار ہونے کے دن کو کہتے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →وَلاَ تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَـآئَ ھُمْ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (الشعرآء : 183)
(اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو۔ )
ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ فساد کا پیش خیمہ ہے
ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی مارنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کی چیز میں کمی کی جائے۔ معاوضہ زیادہ لیا جائے اور چیز کم دی جائے۔ اس سے جو ذہنیت پیدا ہوتی ہے اسی کے نتیجے میں ملاوٹ کی برائی جنم لیتی ہے۔ اس طرح بظاہر دکاندار گاہک کو چیز تو پوری دیتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ چیز پوری نہیں ہوتی بلکہ دوسری چیز ملا کر اسے پورا کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک طرف ناپ تول میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب اور عذاب کا مطالبہ۔
شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے وہی زبان اور انداز اختیار کیا جو قوم نوح، قوم ثمود نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنے انبیاء کو سحر زدہ قرار دیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا یہی انداز قوم شعیب نے اختیار کیا اور کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تجھ پر جادو ہوگیا ہے اس وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جہاں تک تیرے نبی ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں دکھائی دیتی جس بنیاد پر تجھے نبی تسلیم کرلیا جائے ہم تجھے کذّاب انسان سمجھتے ہیں۔
قوم شعیب سمجھتی تھی کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا نبی تو کوئی…
Read the full tafseer →183: وَلَا تَبْخَسُوْا النَّاسَ (اور لوگوں کو ان کی چیز کم نہ کیا کرو) ۔ کہا جاتا ہے بخستہ حقہ جب وہ اس کا حق کم کر دے۔
اَشْیَآ ئَ ھُمْ (ان کی اشیاء) دراہم دنانیر کی اطراف کاٹ لینا۔ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو) ان اشیاء کے بگاڑ میں مبالغہ مت کرو اور اس کی مثال ڈاکہ زنی، لوٹ مار، کھیتوں کو نقصان پہنچانے، ان کا یہ معمول تھا۔ اسی لئے ان کو اس سے روکا گیا کہا جاتا ہے عثا فی الارضؔ جب کہ وہ اس میں بگاڑ پید اکرے عَثِیَ میں ایک لغت یہ بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–183
181۔ اوفوالکیل ولاتکونوا من المخسرین، لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کمی نہ کرو، ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–184
88 تاریخ سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت شعیب نے ان سے فرمایا " اور ڈرو تم لوگ اس سے جس نے پیدا فرمایا تم کو بھی اور پہلوں کو بھی "۔ یہ چیز بیک وقت اس کی عظیم الشان نعمت کی دلیل بھی ہے اور بےمثال قدرت کی نشانی بھی۔ اس لئے اس سے تم لوگ اس کی وحدانیت کی دلیل بھی پکڑو اور دل و جان سے اس کا شکر بھی ادا کرو کہ حقِّ شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ جبکہ کفران نعمت عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لِشَدِیْد } ۔ (ابراہیم :7) ۔ نیز اس سے حضرت شعیب نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیات 176 تا 191
اسرار و معارف
بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
6 ۔ اس لئے تیری عقل ماری گئی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →(26:183) لا تبخسوا : بخس یبخس (فتح) سے فعل نہی جمع مذکر حاضر تم کم نہ دو ۔ تم گھٹاؤ نہیں۔
الناس، مفعول ثانی۔ اشیاء ھم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول۔ تم لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ بخس سے جس کے معنی ظلم سے کسی چیز کے گھٹانے اور کم کرنے کے ہیں۔
لاتعثوا۔ تم فساد نہ کیا کرو۔ فعل نہی کا صیغہ جمع مذکر حاضر باب سمع سے اس کا مصدر عثی وعثی ہیں جس فساد کا ادراک حکمی ہو وہ اسی باب سے ہے۔ جس فساد کا ادراک حسی ہو وہ باب نصر سے مصدر عیث وعثو سے آتا ہے۔
مفسدین۔ حال ہے درآں حالیکہ تم فساد کرنے والے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 :
اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 :
جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–191
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔
Read the full tafseer →ولا تبخسوا ۔ تجس سے ہے جس کے معنے نقصان پہنچانے کے ہیں
Read the full tafseer →(183) اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہونچایا کرو اور ملک میں فساد برپا کرتے نہ پھرا کرو۔
یعنی لینے دینے کی ترازو اور بٹے یکساں ہوں یہ نہ ہو کہ لو بڑھتی اور دو کمتی اور لوگوں کو لوٹتے نہ پھرو جیسا کہ تم راہ زنی کرتے پھرتے ہو اور مسافروں کو لوٹتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
ف 1۔ تاکہ ہم کو معلوم ہوجائے کہ کہ واقعی تم بنی تھے، تمہاری تکذیب سے ہم کو یہ سزا ہوئی۔
Read the full tafseer →لوگوں کو چیزیں گھٹا کر مت دو اور ملک میں خرابی مت پھیلاؤ :
183۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ مت کرو لیتے وقت زیادہ لینا اور دیتے وقت کم دینا عادت عام تھی اور چیزوں میں ملاوٹ کرنا ان کا فن سمجھا تھا تھا لیکن اگر آج وہ لوگ جو اس وقت ان کاموں میں ماہر تھے کبھی کوئی اٹھ کر پاکستان آجائے تو بلاشبہ وہ کان پکڑ جائے اور اس کو معلوم ہو کہ ان کا شروع کیا ہوا کام آج کس قدر ترقی پذیر ہے کہ کھرا مال بعد میں مارکیٹ پہنچتا ہے اور نمبر 2 پہلے موجود ہوتا ہے ۔ اصل ابھی کارخانہ میں ہے اور نقل دکان پر موجود ہے ، وزن میں کمی اور قیمت میں بیشی اس وقت اہل فن کا کمال ہے ۔ ممکن ہے کہ وہ دودھ میں پانی ملاتے ہوں لیکن ہم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
And do not make people short of their things - 26:183
What it means is that it is unlawful to reduce any quantity or amount from that which has been contracted with anyone, whether it is a measurable thing or otherwise. Therefore, if a servant or a laborer does not work his full time at his workplace, he too is included in this warning. Imam Malik (رح) has reported a narration in his Muwatta' that Sayyidna ` Umar ؓ noticed that someone did not join in the ` Asr prayer. So, he enquired about the reason for that, to which he offered some excuse. Then…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
116 That is, "It is not in my power to bring down the torment; it is in Allah's power, and He is fully aware of your misdeeds. He will send down the torment as and when He wills." In this demand of the people of Aiykah and the answer of Prophet Shu'aib to them there was an admonition for the Quraish as well. They also demanded from the Holy Prophet to bring down the torment on them: "Or.... you cause the sky to fall down on us in fragments, as you threaten us." (Bani Isra'il: 92). As such the Quraish are being told that the people of Aiykah had also demanded a similar thing from their…
Read the full tafseer →