Explained with ayahs 181–184
ڈنڈی مار قوم
حضرت شعیب ؑ اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کردو تو پورا پیمانہ بھر کردو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اسکی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کرکے ان سے مال نہ لوٹو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
سورة الشُّعَرَآء 116
یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ یعنی نہ کمی کرو لوگوں کی اپنی چیزوں میں۔ مراد یہ ہے کہ معاہدہ کے مطابق جتنا کسی کا حق ہے اس سے کمی کرنا حرام ہے خواہ وہ ناپنے تولنے کی چیز ہو یا کوئی دوسری۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ملازم مزدور اگر اپنے مقررہ وقت میں چوری کرتا ہے وقت کم لگاتا ہے وہ بھی اس وعید میں داخل ہے۔ امام مالک نے مؤ طا میں روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز عصر میں شریک نہیں ہوا۔ وجہ پوچھی تو اس نے کچھ عذر کیا تو حضرت فاروق اعظم نے فرمایا طففت یعنی تو نے تولنے میں کمی کردی، چونکہ نماز کوئی تولنے کی چیز نہیں اس لئے یہ حدیث نقل فرما کر امام مالک…
Read the full tafseer →خدا کے ہاں سب کے لئے ایک ہی باٹ اور ترازو ہے
جبلۃ کے معنی خلق و خلقت کے ہیں۔ یہ حضرت شعیب نے تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی کہ جس خالق نے اگلوں کو پیدا کیا اسی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے۔ اگر اس نے اگلوں کو تمدن و معاشرت میں فساد پیدا کرنے کے سبب سے نیست و نابود کردیا تو کوئی وجہ نہیں کہ تمہارے معاملے میں اس کی سنت بدل جائے اور وہ تمہیں تمہارے اس معاشی فساد پر سزا نہ دے۔ اگر تمہارا خدا ان کے خدا سے کوئی الگ ہوتا تب تو تم یہ توقع کرسکتے تھے کہ تمہارے لئے اس نے کوئی الگ قانون بنایا ہوگا لنکد خدا وہی ہے اور لاریب وہی ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے پاس اگلوں کے لئے کوئی اور باٹ اور ترازو…
Read the full tafseer →184-1جبلۃ اور جبل مخلوق کے معنی میں ہے جس طرح دوسرے مقام پر شیطان کے بارے میں فرمایا۔ (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ) 36۔ یس :62) اس نے تم میں سے بہت ساری مخلوق کو گمراہ کیا اس کا استعمال بڑی جماعت کے لیے ہوتا ہے۔ وھو الجمع ذو العدد الکثیر من الناس۔ فتح القدیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
40: یہ لوگ مسافروں کو لوٹنے کے لیے ڈاکے بھی ڈالتے تھے۔
Read the full tafseer →واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین (184)
’ اس بات کا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا بس انہوں نے آسان الزام لگا دیا کہ آپ پر جادو چل گیا ہے۔ اس لئے آپ غلط ملط باتیں کرتے ہیں اور واہیات کہہ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–186
5 یعنی دعویٰ نبوت میں اور عذاب وغیرہ کی دھمکیوں میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”
ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–185
108 اس کے جواب میں قوم نے کہا۔ تمہاری عقل ٹھیک کام نہیں کرتی۔ تم تجارت کے گر اور راز کیا جانو۔ اگر ہم تمہاری باتوں پر لگ جائیں تو چند ہی دنوں میں اس میدان میں مات کھا جائیں اور سرمایہ بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھیں کیونکہ مقابلہ بڑا سخت ہے۔ اور ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارا یہ نبوت کا دعویٰ بھی بس ایک فریب ہی ہے۔ تم ہی ہمارے جیسے ایک محتاج انسان ہی ہو۔ تم میں ہم سے زائد کونسی خصوصیت ہے کہ ہم تمہیں ہی سمجھ لیں۔ اور تم اپنے آپ کو اپنے اس دعویٰ نبوت میں سچا سمجھتے ہو کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہتے ہو وہ عذاب ہم پر لے آؤ۔ اور آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو ۔
واضح رہے کہ قریش مکہ نے بھی رسول…
Read the full tafseer →97۔ خطاب، ہوسکتا ہے کہ یہاں عام نوع انسانی سے ہو، اور (آیت) ” الاولین “۔ سے مراد اس صورت میں ان مخلوقات سے ہوگی جو انسان سے قبل خلعت وجود سے مشرف ہوچکی تھی، فرشتہ وجنات وغیرہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت نمبر 176 تا 191
ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…
Read the full tafseer →واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین۔ اور ڈرو اس (خدا) سے جس نے تم کو پیدا کیا اور پہلی مخلوق کو بھی یعنی تم سے پہلے دوسرے لوگوں کو بھی۔
Read the full tafseer →(184) اور اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے تمام مخلوقات کو پیدا کیا۔
Read the full tafseer →وَاتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَ : شعیب ؑ نے گفتگو کا آغاز ”اَلَا تَتَّقُوْنَ“ سے کیا تھا، اب اسی تقویٰ کی تاکید کے لیے فرمایا کہ اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلی نسلوں کو پیدا فرمایا۔ اس نے اگر تمہیں پیدا کیا ہے تو ملیا میٹ بھی کرسکتا ہے۔ اس میں توحید کی بھی تلقین ہے کہ جب پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں تو عبادت میں اس کے لیے شریک کیوں بناتے ہو۔ امت مسلمہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی دلیل کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیا، فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) [ البقرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “
2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…
Read the full tafseer →وَاتَّقُوا [ اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] الَّذِيْ [ اس کا جس نے ] خَلَقَكُمْ [ پیدا کیا تم لوگوں کو ] وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَ [ اور پہلی خلقت کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–193
قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے
ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 182–185
65:۔ قوم نے جواب میں کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس سے (عیاذا باللہ) تیرا دماغ متاثر ہوگیا ہے اور تو نبوت کا دعوی کر بیٹھا ہے کیونکہ تو ہماری مانند بشر ہے بھلا بشر بھی نبی ہوسکتا ہے ؟ اس لیے تو تجھے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ اس پر مزید کلام حاشیہ 57 میں گذر چکا ہے۔ ” فاسقط علینا الخ “ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو آسمان ہم پر گرا کر ہمیں ہلاک کردے ” قال ربی اعلم الخ “ فرمایا عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں، میرا رب تمہاری تمام بد اعمالیوں کو جانتا ہے وہ جب چاہے گا تمہیں پکڑ لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
حضرت شعیب (علیہ السلام)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…
Read the full tafseer →وَاتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِيْنَ 184ۭ
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
( و ق ی ) وقی ( ض )
وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔
التقویٰ
اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
2 ؎ یوم الظلۃ ابر کے نمودار ہونے کے دن کو کہتے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →وَاتَّـقُوالَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الشعرآء : 184)
(اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا اور تم سے پہلی نسلوں کو بھی۔ )
جِبِلَّـۃٌ کے معنی ہیں خلق و خلقت۔
تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تاریخ سے سبق لینے کی طرف توجہ دلائی کہ تمہیں اگر کوئی اور حقیقت اپیل نہیں کرتی تو گزشتہ تاریخ پڑھ کے دیکھ لو۔ جن قوموں نے بھی تمدن و معاشرت میں فساد پیدا کیا وہ نیست و نابود کردی گئیں۔ تم ان سے بڑھ کر زمین کو فساد سے بھر چکے ہو۔ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق تمہیں مہلت دیتا چلا جائے۔ اگر تم نے اپنے رویئے کو درست نہ کیا تو چونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب اور عذاب کا مطالبہ۔
شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے وہی زبان اور انداز اختیار کیا جو قوم نوح، قوم ثمود نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنے انبیاء کو سحر زدہ قرار دیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا یہی انداز قوم شعیب نے اختیار کیا اور کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تجھ پر جادو ہوگیا ہے اس وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جہاں تک تیرے نبی ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں دکھائی دیتی جس بنیاد پر تجھے نبی تسلیم کرلیا جائے ہم تجھے کذّاب انسان سمجھتے ہیں۔
قوم شعیب سمجھتی تھی کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا نبی تو کوئی…
Read the full tafseer →184: وَاتَّقُوا الَّذِیْ خََلَقَکُمْ وَالْجِبِلَّۃَ (اور اس ذات سے ڈرو۔ جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلی مخلوق کو) الجبلہؔ کا عطف کم ؔ پر ہے۔ ای اتقوا الذی خلقکم وخلق الجبلۃ تم اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلی مخلوق کو پیدا کیا۔ الْاَوَّ لِیْنَ پہلی یعنی گزشتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–187
184۔ واتقوی الذی خلقکم والجبلۃ ، خلقت کو کہتے ہیں۔ الاولین، اس سے مراد گزشتہ امتیں، جبلہ، خلقت کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–184
88 تاریخ سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت شعیب نے ان سے فرمایا " اور ڈرو تم لوگ اس سے جس نے پیدا فرمایا تم کو بھی اور پہلوں کو بھی "۔ یہ چیز بیک وقت اس کی عظیم الشان نعمت کی دلیل بھی ہے اور بےمثال قدرت کی نشانی بھی۔ اس لئے اس سے تم لوگ اس کی وحدانیت کی دلیل بھی پکڑو اور دل و جان سے اس کا شکر بھی ادا کرو کہ حقِّ شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ جبکہ کفران نعمت عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لِشَدِیْد } ۔ (ابراہیم :7) ۔ نیز اس سے حضرت شعیب نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیات 176 تا 191
اسرار و معارف
بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
6 ۔ اس لئے تیری عقل ماری گئی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →(26:184) الجبلۃ۔ خلقت، خلائق۔ یہ خلق کا مفعول ثانی ہے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر مفعول اول ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور (تم سے) پہلی مخلوق کو۔
الجبل پہاڑ کو کہتے ہیں جس کی جمع اجبال وجبال ہے پہاڑ کی مختلف صفات کے اعتبار سے استعارۃ ہر صفت کے مطابق اشتقاق کرلیتے ہیں۔ مثلاً معنی ثبات کے اعتبار سے کہا جاتا ہے جبلہ علی کذا۔ اللہ نے اس کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے (یعنی وہ تبدیل نہیں ہوسکتی) ۔
بڑائی اور عظمت کے معنی کے اعتبار سے بڑی جماعت کو جبل کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے ولقد اضل منکم جبلا کثیرا (36:62) اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ جبلا جبلۃ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 :
اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 :
جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–191
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–188
الجبلۃ ۔ مخلوق ، خلقت ۔
Read the full tafseer →(184) اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور اگلی تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو سب کا خالق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
ف 1۔ تاکہ ہم کو معلوم ہوجائے کہ کہ واقعی تم بنی تھے، تمہاری تکذیب سے ہم کو یہ سزا ہوئی۔
Read the full tafseer →حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا اس ذات سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا :
184۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کا ڈر پیدا کرنے کی ہدایت دی اور فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اس ذات کبریا سے ڈرو جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی اور اسی طرح آپ نے اپنی قوم کو توجہ دلائی کہ پہلی قوموں کے حالات پر نظر ڈالو ان کا پیدا کرنے والا بھی اللہ ہی تھا لیکن انہوں نے جب بداعتدالیاں کیں اور اصلاح کا نام فساد اور فساد کا نام اصلاح رکھا تو ان کو اس گناہ عظیم کی سزا بھی ملی اور اس پیدا کرنے والی ذات گرامی قدر نے ان کو خس و خاشاک کی طرح مٹا دیا تو تو تم کو آخر انہیں بداعتدالیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
And do not make people short of their things - 26:183
What it means is that it is unlawful to reduce any quantity or amount from that which has been contracted with anyone, whether it is a measurable thing or otherwise. Therefore, if a servant or a laborer does not work his full time at his workplace, he too is included in this warning. Imam Malik (رح) has reported a narration in his Muwatta' that Sayyidna ` Umar ؓ noticed that someone did not join in the ` Asr prayer. So, he enquired about the reason for that, to which he offered some excuse. Then…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
116 That is, "It is not in my power to bring down the torment; it is in Allah's power, and He is fully aware of your misdeeds. He will send down the torment as and when He wills." In this demand of the people of Aiykah and the answer of Prophet Shu'aib to them there was an admonition for the Quraish as well. They also demanded from the Holy Prophet to bring down the torment on them: "Or.... you cause the sky to fall down on us in fragments, as you threaten us." (Bani Isra'il: 92). As such the Quraish are being told that the people of Aiykah had also demanded a similar thing from their…
Read the full tafseer →