Ash-Shu'araa 26:182

Ash-Shu'araa · from ayah 182

26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ۟ۚوَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ‌ۚ

اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And weigh with an even balance.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:182

اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور سیدھی ترازو سے تولو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور سیدھی ترازو سے تولا کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور صحیح ترازو سے تو لا کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب تم تولو تو تولو صحیح اور سیدھے ترازو کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

اور صحیح ترازو سے تولا کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وزن کیا کرو سیدھی ترازو کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Weigh with an even balance,

— Muhammad Taqi Usmani

Weigh with an even balance,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And weigh with the true and straight balance."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And weigh with an even balance.

— Saheeh International

Weigh your goods with proper balance

— Muhammad Sarwar

And weigh (things) with a right balance,

— Muhammad Habib Shakir

And weigh with a balance straight.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:182

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 181–184

ڈنڈی مار قوم حضرت شعیب ؑ اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کردو تو پورا پیمانہ بھر کردو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اسکی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کرکے ان سے مال نہ لوٹو۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 177–188

سورة الشُّعَرَآء 116 یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ ، قسطاس کو بعض حضرات نے رومی لفظ قرار دیا جس کے معنے عدل و انصاف کے ہیں، بعض نے عربی لفظ قسط سے ماخوذ قرار دیا ہے قسط کے معنے بھی انصاف کے ہیں مراد یہ ہے کہ ترازو اور اسی طرح دوسرے ناپنے تولنے کے وسائل کو مستقیم اور سیدھے طور پر استعمال کرو جس میں کمی کا خطرہ نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 181–182

آیت 182-181 ناپ تول کی مکی نظام کائنات کے منافی ہے اصحاب مدین تجارت پیشہ تھے اور اس پیشے میں انہوں نے بڑی ترقی کرلی تھی لیکن جب خدا اور آخرت سے غفلت ہو تو شیطان ہر چیز کے اندر گھس کر فساد پیدا کردیتا ہے۔ چناچہ ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گی۔ یہ معاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جو کسی قوم میں پیدا ہوجائے تو ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پھر بےایمانی، ناپ تول میں دغا بازی ملاوٹ، تہ بازاری اور چور بازاری کی ایسی ایسی شکلیں ایجاد ہوجاتی ہیں کہ معاشرے کا ہر شخص چیخ اٹھتا ہے۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک میزان کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میزان پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 181–182

39: کفر و شرک کے علاوہ ان لوگوں کی ایک خرابی یہ تھی کہ یہ تجارت میں ڈنڈی مارنے کے عادی تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 181–183

او فوا الکیل ……منسدین (182) جس طرح سورت اعراف اور ہود میں تفصیلات دی گئی ہیں کہ یہ لوگ ناپ اور تول میں مطلف تھے۔ یہ لوگ لیتے وقت جبراً لوگوں سے زیادہ لیتے تھے اور دیتے وقت یہ جبریا انکل سے کم دیتے تھے۔ لیتے وقت کم قیمت دیتے تھے اور دیتے وقت بہت مہنگے داموں فروخت کرتے تھ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستی کسی ایسے تجارتی شاہراہ پر تھی۔ جہا سے قافلے گزرتے تھے۔ یہ لوگ ان تجارتی قافلوں پر اپنی مرضی نافذ کرتے تھے۔ ان کے رسول ان کو یہ تعیم دیتے تھے کہ عدل اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرو ، کیونکہ صاف اور سھترے عقیدے کا لازمی تقاضا ہے کہ معاملات میں بھی اچھائی اختیار کرو۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اچھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 177–182

3 یعنی معاملات میں خیانت اور بےانصافی مت کرو جس طرح لینے کے وقت پورا ناپ تول کرلیتے ہو دیتے وقت بھی پورا ناپ تول کردو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 177–185

آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ” ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 182–183

107 یہ لوگ صرف ناپ اور تول میں ہی کمی بیشی نہ کرتے تھے۔ بلکہ تجارتی بد دیانتوں کے سارے سر اور رموز سے اور فریب کاریوں سے واقف تھے۔ عیب دار مال کا عیب چھپا کر فروخت کرنا، جھوٹ بول کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر مال بیچنا، ایسا ماحول پیدا کردینا کہ چیز کا مالک کم سے کم قیمت پر اپنی چیز فروخت کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اسی طرح اپنی چیز فروخت کرنے کے لئے ایسا ماحول بنادینا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم دینے پر مجبور ہوجائے۔ غرض ہر طریقہ جس سے دوسروں کے حقوق غصب کئے جاسکتے ہوں وہ جانتے تھے۔ اور یہی وہ فساد فی الارض یا شریفانہ قسم کے ڈاکہ زنی ہے۔ جس سے شعیب (علیہ السلام) نے انھیں منع کیا تھا۔ اور انھیں یہ نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 177–182

95۔ (یعنی نہ ڈنڈی مارا کرو، نہ تولنے کے بانٹوں میں گڑبڑ کیا کرو) ہدایات قرآنی کی مخاطب یہ کوئی زراعت پیشہ، تجارت پیشہ قوم تھی۔ کاروباری بداخلاقی، بددیانتی، خیانت میں مبتلا، تعلیم انہیں تجارتی اخلاقی وستائستگی کی دی جارہی ہے۔ حاشیے سورة الاعراف پ 8 وسورۃ الحجرپ 14 وسورۂ ہود پ 12 میں گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 176–191

آیت نمبر 176 تا 191 ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اور (تول کردینے کی چیزوں کو) صحیح ترازو سے تول کردیا کرو۔ قسطاس کو اگر عربی لفظ قرار دیا جائے تو اس کا اشتقاق قسط سے ہوگا اور قسط کا معنی ہے عدل۔ المستقیم ٹھیک ‘ صحیح جس میں کوئی کمی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 182–183

(182۔ 183) اور سیدھی ترازو سے تولا کرو اور ماپ وتول میں لوگوں کے حقوق مت مارا کرو اور سرزمین میں نافرمانی مت کیا کرو اور ماپ وتول میں کمی کرکے اور غیر اللہ کی پرستش کی طرف لوگوں کو بلاکر زمین میں فساد مت پھیلایا کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 181–183

اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا۔۔ : ان کی ماپ تول میں کمی بیشی، زمین میں فساد اور رہزنی کا ذکر سورة اعراف (85، 86) میں گزر چکا ہے۔ شعیب ؑ کے قصے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (85 تا 93) ، ہود (84 تا 95) اور عنکبوت (36، 37) بعض لوگوں نے مدین کے اس بزرگ کو شعیب ؑ قرار دیا ہے جس کے پاس موسیٰ ؑ نے دس سال گزارے تھے، مگر یہ بات بالکل بےاصل ہے، ”مدین“ کے ہر بزرگ کا شعیب ؑ ہونا ضروری نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 176–191

(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ ) کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 176–191

1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “ 2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَ [ اور ] زِنُوْا [ تم لوگ وزن کرو ] بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ [ سیدھی ترازو سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 177–193

قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–191

قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 182–185

65:۔ قوم نے جواب میں کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس سے (عیاذا باللہ) تیرا دماغ متاثر ہوگیا ہے اور تو نبوت کا دعوی کر بیٹھا ہے کیونکہ تو ہماری مانند بشر ہے بھلا بشر بھی نبی ہوسکتا ہے ؟ اس لیے تو تجھے اس دعوے میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ اس پر مزید کلام حاشیہ 57 میں گذر چکا ہے۔ ” فاسقط علینا الخ “ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو آسمان ہم پر گرا کر ہمیں ہلاک کردے ” قال ربی اعلم الخ “ فرمایا عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں، میرا رب تمہاری تمام بد اعمالیوں کو جانتا ہے وہ جب چاہے گا تمہیں پکڑ لے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 176–191

حضرت شعیب (علیہ السلام) اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ۝ 182ۚ وزن الوَزْنُ : معرفة قدر الشیء . يقال : وَزَنْتُهُ وَزْناً وزِنَةً ، والمتّعارف في الوَزْنِ عند العامّة : ما يقدّر بالقسط والقبّان . وقوله : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الشعراء/ 182] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] إشارة إلى مراعاة المعدلة في جمیع ما يتحرّاه الإنسان من الأفعال والأقوال . وقوله تعالی: فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَزْناً [ الكهف/ 105] وقوله : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ [ الحجر/ 19] فقد قيل : هو المعادن کالفضّة والذّهب، وقیل : بل ذلک إشارة إلى كلّ ما أوجده اللہ تعالی، وأنه…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 181–182

اَوْفُوْا الْـکَیْلَ وَلاَ تَـکُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ ۔ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَـقِیْمِ ۔ (الشعرآء : 181، 182) (تم لوگ پورا پورا ناپو، اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔ اور صحیح ترازو سے تولو۔ ) قومِ شعیب کی سب سے نمایاں برائی پر تنقید گزشتہ انبیائے کرام کی امتوں کے احوال میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ ہر امت کی تمام برائیوں اور قباحتوں کا ذکر کرنے کی بجائے ان برائیوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ان کی اجتماعی زندگی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی علامت بن جاتی ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ ان میں اتنی بڑی بڑی برائیوں کے پیدا ہونے کا سبب یہ تھا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 177–185

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب اور عذاب کا مطالبہ۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے وہی زبان اور انداز اختیار کیا جو قوم نوح، قوم ثمود نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنے انبیاء کو سحر زدہ قرار دیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا یہی انداز قوم شعیب نے اختیار کیا اور کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تجھ پر جادو ہوگیا ہے اس وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جہاں تک تیرے نبی ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں دکھائی دیتی جس بنیاد پر تجھے نبی تسلیم کرلیا جائے ہم تجھے کذّاب انسان سمجھتے ہیں۔ قوم شعیب سمجھتی تھی کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا نبی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

182: وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ (تم صحیح ترازو سے تول کردیا کرو) ۔ قراءت : قسطاس قاؔکے کسرہ سے کوفی قراء سوائے ابوبکر کے پڑھتے ہیں اس کا معنی میزانؔ ہے۔ نمبر 2۔ اور اگر یہ القسط سے لیا جائے تو وہ عدل کو کہتے ہیں۔ عین کلمہ دوبارہ لایا گیا پس اس کا وزن فعلاسؔ بنے گا۔ ورنہ یہ رباعی ہے۔ نمبر 3۔ وزن ‘ کنڈا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 181–183

181۔ اوفوالکیل ولاتکونوا من المخسرین، لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کمی نہ کرو، ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 176–191

(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 176–191

آیت 176 سے 191 (اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 180–184

88 تاریخ سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت شعیب نے ان سے فرمایا " اور ڈرو تم لوگ اس سے جس نے پیدا فرمایا تم کو بھی اور پہلوں کو بھی "۔ یہ چیز بیک وقت اس کی عظیم الشان نعمت کی دلیل بھی ہے اور بےمثال قدرت کی نشانی بھی۔ اس لئے اس سے تم لوگ اس کی وحدانیت کی دلیل بھی پکڑو اور دل و جان سے اس کا شکر بھی ادا کرو کہ حقِّ شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ جبکہ کفران نعمت عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لِشَدِیْد } ۔ (ابراہیم :7) ۔ نیز اس سے حضرت شعیب نے ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 176–191

آیات 176 تا 191 اسرار و معارف بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:182) وزنوا : وزن یزن (ضرب) وزن سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ تم وزن کیا کرو۔ بالقسطاس المستقیم : القسطاس۔ انصاف کی ترازو۔ یا ہر ترازو انصاف بھی مراد لیا جاتا ہے۔ موصوف صفت بمعنی سیدھی۔ صحیح۔ القسطاس المستقیم۔ صحیح ترازو۔ بعض کے نزدیک یہ لفظ رومی ہے۔ القسطاس بھی صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 176–191

لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 : اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 : جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 180–191

حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 177–189

[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(182) اور سیدھی ترازو سے تولا کرو یعنی جو چیزیں وزنی ہیں اس میں سیدھی ڈنڈی رکھ کر تولا کرو نہ بٹے کم ہوں نہ ترازو میں پاسنگ ہو اور نہ تولتے وقت ڈنڈی مارو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ دیکھو ترازو کو سیدھا رکھو اور پورا تولا کرو : 182۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے اس دنیا میں بڑی ترقی کرلی تھی لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے غفلت ہو تو شیطان ہرچیز کے اندر گھس آتا ہے جس سے فساد پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ مجسمہ فساد ہے ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گئی اور بدمعاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جب کسی قوم میں پیدا ہوجائے تو تقریبا ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یہ بیماری اس طبقہ کے لوگوں کے لوگوں کی نس نس میں سرایت کر جاتی ہے اور ہر ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں بےچین رہتا ہے اگر غور کرو گے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ And weigh with an even balance. - 26:182 Some scholars have held the word Quistas as a Roman word, which means justice, while others have taken it as an Arabic word, derived from Qist, which is also used for justice. It means to make use of the scale and other measuring tools in a straight and correct manner, where there is no possibility of weighing less.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 177–188

116 That is, "It is not in my power to bring down the torment; it is in Allah's power, and He is fully aware of your misdeeds. He will send down the torment as and when He wills." In this demand of the people of Aiykah and the answer of Prophet Shu'aib to them there was an admonition for the Quraish as well. They also demanded from the Holy Prophet to bring down the torment on them: "Or.... you cause the sky to fall down on us in fragments, as you threaten us." (Bani Isra'il: 92). As such the Quraish are being told that the people of Aiykah had also demanded a similar thing from their…

Read the full tafseer →