Ash-Shu'araa 26:169

Ash-Shu'araa · from ayah 169

26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ ۟رَبِّ نَجِّنِىۡ وَاَهۡلِىۡ مِمَّا يَعۡمَلُوۡنَ

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے

— Fateh Muhammad Jalandhari

My Lord, save me and my family from [the consequence of] what they do."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 9 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:169

اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرے پروردگار ! جو حرکتیں یہ لوگ کر رہے ہیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو ان سے نجات دیدے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کام سے بچا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے رب! تو مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کام کے وبال) سے نجات عطا فرما جو یہ کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو اس سے نجات دے جو یہ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر (دعا کی) پروردگار ! جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں اس سے مجھے اور میرے گھر والوں کو نجات دے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے رب ! تو مجھے اور میرے اہل کو ان کے عمل کے انجام سے نجات دے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر لوط نے اپنے رب کے حضور عرض کیا اے میرے رب بچادے مجھے بھی اور میرے گھر والوں کو بھی ان کاموں کے وبال سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔

— مولانا اسحاق مدنی

اے میرے پروردگار مجھے اور میرے گھروالوں کو نجات دے اس کام (کے وبال سے) جو یہ کرتے رہتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پروردگار ! تو نجات دے مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے عمل سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے میرے رب مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں کے وبال سے نجات دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

My Lord, deliver me and my family from their wicked deeds."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My Lord, save me and my family from what they do.

— Muhammad Taqi Usmani

My Lord, save me and my family from what they do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"My Lord! Save me and my family from what they do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

My Lord! Save me and my household from what they do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

My Lord, save me and my family from [the consequence of] what they do."

— Saheeh International

Lord, save me and my family from their deeds."

— Muhammad Sarwar

My Lord! deliver me and my followers from what they do.

— Muhammad Habib Shakir

My Lord! deliver me and my household from that which they work.

— Abdul Majid Daryabadi

"O my Lord! deliver me and my family from such things as they do!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:169

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 165–175

ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 168–169

سورة الشُّعَرَآء 112 اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں ان کے اعمال بد کے برے انجام سے بچا۔ اور یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ اس بد کردار بستی میں جو اخلاقی گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کی چھوت کہیں ہماری آل اولاد کو نہ لگ جائے، اہل ایمان کی اپنی نسلیں کہیں اس بگڑے ہوئے ماحول سے متاثر نہ ہوجائیں، اس لیے اے پروردگار، ہمیں اس ہر وقت کے عذاب سے نجات دے جو اس ناپاک معاشرے میں زندگی بسر کرنے سے ہم پر گزر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 166–170

معارف و مسائل غیر فطری فعل اپنی بیوی سے بھی حرام ہے وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ، لفظ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ میں صرف من اصطلاحی الفاظ میں بیانیہ بھی ہوسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمہاری خواہش نفسانی کے لئے جو اللہ نے بیویاں پیدا فرمائی ہیں تم ان کو چھوڑ کر اپنے ہم جنس مردوں کو اپنی شہوت نفس کا نشانہ بناتے ہو جو خباثت نفس کی دلیل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام تمہارے لئے بنایا گیا اور جو امر فطری ہے اس کو چھوڑ کر بیویوں سے خلاف فطرت عمل کرتے ہو جو کہ قطعاً حرام ہے۔ غرض اس دوسرے معنے کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت لوط کی دعا مما یعملون میں عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق مضاف محذوف ہے۔ یعنی من عقوبۃ مایعملون یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ حضرت لوط نے قوم کی اس دھمکی کے بعد اندازہ فرما لیا کہ اب فیصلہ کی آخری گھڑی قریب آگئی ہے۔ ان لوگوں نے جب میرے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو سنت الٰہی کے مطابق ان پر عذاب بھی لازماً آئے گا۔ چناچہ انہوں نے اپنے متعلقین اور اپنے ساتھیوں کے لئے دعا ماگنی کہ اے رب اس نابکار قوم کے اعمال کے نتیجے میں جو عذاب اس پر آنے والا ہے اس سے مجھ کو اور میرے اہل کو محفوظ رکھیو ! لفظ اھل پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں کہ اس کے اندر اتباع بھی شامل ہوتے ہیں اس وجہ سے اگر کچھ لوگ حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 169–171

171-1اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بوڑھی بیوی ہے جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، چناچہ وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہلاک کردی گئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 169–170

35: یعنی اس کڑھن سے نجات دیدے جو ان لوگوں کو ایسے گھناؤنے کردار میں ملوث دیکھ کر پیدا ہوتی ہے، اور اس عذاب سے محفوط رکھ جو ان کی حرکتوں کی وجہ سے ان پر نازل ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رب نجی و اھلی مما یعملون (169) حضرت جس قسم کے معاشرے میں فرائض سر انجام دے رہے تھے وہ ان کے لئے عذاب تھا ، وہ ان لوگوں کے ساتھ نہ چل سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں کا عمل فطرتاً بھی مردود ہے۔ لیکن ادائیگی فرض کے لئے ان میں رہ رہے تھے۔ چناچہ انہوں نے دعا کی کہ انہیں اس معاشرے سے نجات مل جائے ۔ رب تعالیٰ نے دعا قبول کرلی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 168–171

آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ” یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 168–169

101 حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ۔۔ اس اوباش اور گندے قسم کے معاشرے سے سخت بیزار تھے۔ جب لوط ان لوگوں کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے اور ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی تو اس وقت آپ نے سخت اضطراب کے عالم میں اللہ سے دعا کی کہ ہم اب زیادہ دیر اس اوباش سوسائٹی میں نہیں رہ سکتے لہذا ان لوگوں سے ہماری نجات کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 169–171

92۔ مراد زوجہ لوط ہے تفصیلی قصہ سورة ہودپ 12 میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ممایعملون “ میں مضاف مقدر ہے۔ اے من عقوبۃ عملھم (کشاف) اے من شوم عملھم (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 160–175

آیت نمبر 160 تا 175 ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رب نجنی واہلی مما یعملون۔ اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے عمل ( کے برے نتیجے اور عذاب) سے بچا لے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 169–172

(169 تا 172) چناچہ لوط ؑ نے بددعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے متعلقین کو نجات دی سوائے ان کی منافقہ بیوی کے کہ وہ عذاب کے اندر رہ جانے والوں میں رہ گئی اور پھر ہم نے بقیہ ان کی قوم کے تمام لوگوں کو ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبِّ نَجِّنِيْ وَاَهْلِيْ مِمَّا يَعْمَلُوْنَ : یعنی کفار پر ان اعمال کا وبال اور عذاب نازل فرما اور ہمیں ان کے اعمال بد کی نحوست اور وبال سے محفوظ رکھ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 160–175

( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ ) کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔ اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 160–175

قوم لوط کا تذکرہ۔ 1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

رَبِّ [ اے میرے رب ] نَجِّنِيْ [ تو نجات دے مجھ کو ] وَاَهْلِيْ [ اور میرے گھر والوں کو ] مِمَّا [ اس سے جو ] يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 161–176

اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–191

قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 168–169

62:۔ اب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے مناجات کی کہ پروردگار ! مجھے اور میرے اہل کو ان کے عمل بد کے وبال و عذاب سے محفوظ رکھیو۔ ” فنجینہ واھلہ الخ “ ہم نے لوط اور ان کے اہل بیت کو عذاب سے بچا لیا البتہ ایک بڑھیا جو مشرکہ تھی اسے اور باقی قوم کو ہلاک کردیا۔ یہ بڑھیا حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی تھی۔ ” وامطرنا علیھم الخ ” ان کی بستی کو تہ وبالا اور اوپر سے سخت پتھروں کی بارش برسا دی۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ قد مر تفسیرہ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 160–175

ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبِّ نَجِّنِيْ وَاَہْلِيْ مِمَّا يَعْمَلُوْنَ۝ 169 نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 161–176

1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔ کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَبِّ نَجِنِّیْ وَاَھْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 169) (اے میرے رب ! تو مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بدکرداریوں (ان کے عمل کے انجام) سے نجات دے۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکیوں سے اندازہ کرلیا کہ اب میری قوم آخری اقدام کر گزرنا چاہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب فیصلے کی آخری گھڑی قریب آگئی ہے۔ ایسے موقع پر ہمیشہ سنت الٰہی حرکت میں آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے متعلقین اور اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے آپ کو نجات دینے کی استدعا کی، کیونکہ ” اَھَلْ “ اہل بیت کے ساتھ ساتھ ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 168–176

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر، قوم شعیب کفرو شرک میں ملّوث ہونے کے ساتھ لین دین میں بدترین خیانت کرتی تھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں جس بنا پر ان کی قوم کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

169: رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَھْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ (اے میرے رب مجھے اور میرے اہل کو ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں۔ نجات عنایت فرما) ۔ ان کے اعمال کی سزا سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 160–175

(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 160–175

آیت 160 سے 175 حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 169–171

85 حضرات انبیاء و رسل کے نجات دہندہ بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم نے بچا لیا لوط کو بھی اور ان کے تمام متعلقین کو بھی سوائے ایک بڑھیا کے "۔ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے کہ وہ کافرہ تھی۔ اور وہ کافروں ہی کے ساتھ ہلاک ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے نہ کہ پیغمبر کے اختیار میں۔ ورنہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا یہ حشر اور انجام کیوں ہوتا ؟۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اپنا ایمان و عقیدہ اگر صحیح نہ ہو تو کسی کی قرابت و رشتہ داری کوئی کام نہیں دے سکتی۔ خواہ وہ کسی پیغمبر کی قرابت ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری طرف اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 160–175

آیات 160 تا 175 اسرار و معارف قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔ بد فعلی حرام ہے : یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 167–170

(26:167) لم تنتہ تو باز نہیں آئے گا۔ ملاحظہ ہو 26:116 ۔ المخرجین اسم مفعول جمع مذکر مجرور معرف باللام اخراج مصدر نکالے گئے۔ نکالے ہوئے ۔ ملک بدر کئے جانے والے۔ القالین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر القالی واحد بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ اصل میں اس کا مادہ واوی ہے قلو جس کا معنی ہے پھینکنا۔ محاورہ ہے قالت الناقۃ براکبھا۔ اونٹنی نے اپنے سوار کو پھینک دیا۔ جس چیز سے دل بوجہ بغض یا بوجہ ناپسندیدہ ہونے کے اس طرح گھن گھائے گویا اسے پھینک رہا ہے تو اسے مقلو کہا جائے گا۔ پھینک دینے میں نفرت اور بیزاری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا القالین کے معنی ہوئے بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ پھینکنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 160–175

لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 : اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 160–175

حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 169–178

ف 1: حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ سے پناہ مانگی ۔ اور دعا کی کہ اللہ مجھے اور میرے گھر والوں کو ان ظالموں سے مخلصی عطا فرما ۔ اور ان کی بداعمالیوں کے وبال سے نجات دے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ ان لوگوں پر پتھروں کی سخت بارش ہوئی ۔ اور یہ ہمیشہ کے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ بداخلاقی بھی قوم کی تباہی اور ہلاکت کا باعث ہوسکتی ہے ۔ بلکہ اخلاق دشمنی کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ۔ اس وجہ اہم ہے کہ اس کے لئے ایک خاص پیغمبر مبعوث اور مامور کیا گیا ۔ کیا مسلمانوں نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان واقعات کو کیوں بیان فرماتے ہیں ؟ آخر لوط (علیہ السلام) کی قوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

169۔ اے میرے پروردگار ! مجھ کو اور میرے متعلقین کو ان کاموں کے وبال اور نکال سے نجات دیجئے جو یہ کر رہے ہیں متعلقین سے مراد وہ ہیں جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی تبلیغ سے متفق ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 166–171

ف 2۔ مرد اس سے زوجہ ہے لوط (علیہ السلام) کی۔ عذاب میں رہ جانا اس لئے تھا کہ وہ کافرہ تھی اور اس لئے رات کو لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بستی سے نہ نکلی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بدرگاہ خداوندی مناجات کے لئے ہاتھ اٹھائے : 169۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی وزاری کے ساتھ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں اپنی اپیل دائر کردی کہ اے میرے رب مجھے اور میرے اہل کو ان لوگوں کے اس عمل سے نجات دے اور ان کے اعمال کی ان کو پوری پوری سزا دے کہ یہ لوگ اب کسی طرح اپنے برے اعمال سے باز آنے والے نہیں ۔ اے اللہ ! اے میرے رب ! جو عذاب ان بدبختوں پر آنے والا ہے اس سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو محفوظ فرما جو سچے دل سے تیرے دین کو ماننے والے اور تیری ہدایت کے مطابق عمل کرنے والے ہیں ان واقعات کی مزید تفصیل آپ کو سرگزشت لوط (علیہ السلام) میں ملے گی جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 166–170

Commentary Unnatural act is unlawful even with one's own wife وَتَذَرُ‌ونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَ‌بُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم And leave what your Lord has created for you, that is, your wives? - 26:166 In the phrase مِّنْ أَزْوَاجِكُم the word مِّنْ (min) Min could be descriptive (which is translated above as 'that is1) if taken in the technical sense, which would mean that in order to satisfy your lust you go after the homosexual men instead of your wives, whom Allah has given you to meet your natural urge. This is indeed a proof of malignity. The other possibility is that the letter 'Min' is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 168–169

112 This may also mean: "My Lord, deliver us from the evil consequences of their misdeeds," and also this: "Protect the children of the believers from the evil effects of the immoral acts of the wicked people."

Read the full tafseer →