Explained with ayahs 165–175
ہم جنسی پرستی کا شکار
لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
سورة الشُّعَرَآء 112
اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں ان کے اعمال بد کے برے انجام سے بچا۔ اور یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ اس بد کردار بستی میں جو اخلاقی گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کی چھوت کہیں ہماری آل اولاد کو نہ لگ جائے، اہل ایمان کی اپنی نسلیں کہیں اس بگڑے ہوئے ماحول سے متاثر نہ ہوجائیں، اس لیے اے پروردگار، ہمیں اس ہر وقت کے عذاب سے نجات دے جو اس ناپاک معاشرے میں زندگی بسر کرنے سے ہم پر گزر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
معارف و مسائل
غیر فطری فعل اپنی بیوی سے بھی حرام ہے
وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ، لفظ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ میں صرف من اصطلاحی الفاظ میں بیانیہ بھی ہوسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمہاری خواہش نفسانی کے لئے جو اللہ نے بیویاں پیدا فرمائی ہیں تم ان کو چھوڑ کر اپنے ہم جنس مردوں کو اپنی شہوت نفس کا نشانہ بناتے ہو جو خباثت نفس کی دلیل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام تمہارے لئے بنایا گیا اور جو امر فطری ہے اس کو چھوڑ کر بیویوں سے خلاف فطرت عمل کرتے ہو جو کہ قطعاً حرام ہے۔ غرض اس دوسرے معنے کے…
Read the full tafseer →قال انی عملکم من القالین 168
قلی کے معنی شدید بغض و نفرت کے ہیں۔ حضرت لوط نے قوم کی فیصلہ کن دھمکی کا جواب بھی بھرپور دیا۔ فرمایا کہ میں تو تمہارے اس عمل سے شدید بغض و نفرت رکھنے والوں میں سے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے بیزاری وعناد کا سبب یہ ہے کہ میں تمہارے اس عمل پر تمہیں ملامت کرتا ہوں تو تمہاری یہ دھمکی مجھے اس سے نہ روک سکتی اور نہ ذرا اس میں مجھے نرم کرسکتی۔ خوب کان کھول کر سن لو کہ میں اس سے شدید بغض و نفرت رکھنے والوں میں سے ہوں تو تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو، کر گزرو۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
دھمکی کا بھرپور جواب
من القالین میں لفظ جمع لانے سے کلام میں زیادہ زور پیدا ہوگیا ہے۔…
Read the full tafseer →168-1یعنی میں اسے پسند نہیں کرتا اور اس سے سخت بیزار ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
34: حضرت لوط ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، ان کے مرد فطرت کے خلاف مردوں ہی سے اپنی جنسی ہوس پوری کرتے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف : 80 میں کرایا ہے۔
Read the full tafseer →قال انی لعملکم من القالین (168)
۔ “ الفلی کے معنی ہوتے ہیں شدید نفرت ، حضرت لوط (علیہ السلام) یوں اظہار نفرت کر کے ان کے منہ پر تھوکتے ہیں اور اس کے بعد رب تعالیٰ کی طرف دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ مجھے ان لوگوں سے نجات دے۔
Read the full tafseer →6 اس لیے ضرور اس پر اظہار نفرت کروں گا اور نصیحت سے باز نہیں آسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–171
آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ”
یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
101 حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ۔۔ اس اوباش اور گندے قسم کے معاشرے سے سخت بیزار تھے۔ جب لوط ان لوگوں کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے اور ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی تو اس وقت آپ نے سخت اضطراب کے عالم میں اللہ سے دعا کی کہ ہم اب زیادہ دیر اس اوباش سوسائٹی میں نہیں رہ سکتے لہذا ان لوگوں سے ہماری نجات کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
91۔ (اور میں تمہاری ان دھمکیوں میں آکر اپنے وعظ وپند وتبلیغ سے رک نہ جاؤں گا) (آیت) ” القالین “۔ قلی بغض شدید کو کہتے ہیں۔ القلی البغض الشدید (کشاف) القلی شدۃ البغض (راغب) پیغمبر جیسے صالح الفطرت کی تو خود فطرت ایسے گندے جرم سے اباء کرنے لگتی ہے۔ انہیں تو جتنی بھی بیزاری ایسے جرم سے ہو کم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت نمبر 160 تا 175
ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…
Read the full tafseer →قال انی لعملکم من القالین۔ لوط نے کہا میں تمہارے (عمل سے سخت نفرت کرنے والا ہوں یا) عمل کا سخت دشمن ہوں قالی بغض رکھنے والا یعنی تمہارے عمل سے مجھے سخت نفرت ہے اسی لئے مجھے بستی سے نکالے جانے کی دھمکی کی پروا نہیں ہے۔ من القالین کہنے میں قالی کہنے سے زیادہ زور ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے عمل سے نفرت کرنے والی جماعت میں میں شامل ہوں اور اس گروہ میں مشہور ہوں۔
حضرت لوط کو جب معلوم ہوگیا کہ میری نصیحت و دعوت کا ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا (آئندہ ان کے ساتھ رہنا بیکار ہے) تو آپ نے دعا کی کہ مجھے ان سے الگ کردیا جائے تاکہ ان پر آنے والے عذاب سے میں محفوظ رہوں۔
Read the full tafseer →(168) حضرت لوط ؑ نے فرمایا میں تمہارے اس ناپاک کام سے سخت نفرت رکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →قَالَ اِنِّىْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِيْنَ : ”الْقَالِيْنَ“ ”اَلْقَالِيْ“ کی جمع ہے جو ”قَلٰی یَقْلِيْ“ سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی شدید نفرت اور دشمنی بھی ہے اور گوشت بھوننا بھی۔ لوط ؑ نے فرمایا کہ میں تمہیں منع کرنے سے کیسے باز آسکتا ہوں، جب کہ میں تمہارے اس کام سے شدید دشمنی رکھنے والوں میں سے ہوں، اتنی شدید کہ اس سے میرا دل جلتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ )
کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔
اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
قوم لوط کا تذکرہ۔
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…
Read the full tafseer →قَالَ [ (لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لِعَمَلِكُمْ [ تمہارے عمل کے لئے ] مِّنَ الْقَالِيْنَ [ بغض رکھنے والوں میں سے ہوں ]
ق ل و
(ن) قلوا کسی سے بغض رکھنا۔ بیزار ہونا۔ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى (نہیں چھوڑا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے رب نے اور نہ وہ بیزار ہوا) 93/3 ۔
قال اسم الفاعل ہے۔ بغض رکھنے والا۔ بیزار ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 168 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا
حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
62:۔ اب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے مناجات کی کہ پروردگار ! مجھے اور میرے اہل کو ان کے عمل بد کے وبال و عذاب سے محفوظ رکھیو۔ ” فنجینہ واھلہ الخ “ ہم نے لوط اور ان کے اہل بیت کو عذاب سے بچا لیا البتہ ایک بڑھیا جو مشرکہ تھی اسے اور باقی قوم کو ہلاک کردیا۔ یہ بڑھیا حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی تھی۔ ” وامطرنا علیھم الخ ” ان کی بستی کو تہ وبالا اور اوپر سے سخت پتھروں کی بارش برسا دی۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ قد مر تفسیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
ربط آیات
حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔
لوط (علیہ السلام) کی بعثت
ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…
Read the full tafseer →قَالَ اِنِّىْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِيْنَ 168ۭ
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔
کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…
Read the full tafseer →قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ۔ (الشعرآء : 168)
(حضرت لوط نے کہا میں تمہارے اس عمل سے سخت بیزار ہوں۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) کی استقامت
حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکی کے جواب میں نہایت استقامت اور اعتمادعلی اللہ کا ثبوت دیتے ہوئے نہایت جرأت سے کہا کہ تم اگر مجھے اس بستی سے نکالنے کا فیصلہ کرچکے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں حق بات کہنے سے باز آجاؤں۔ میں تم پر یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ تم جس قابل نفرت عمل بد کا شکار ہو، میں اس سے شدید بغض اور نفرت رکھتا ہوں۔ یوں تو ” قلی “ کا معنی ہی شدید بغض و نفرت ہوتا ہے لیکن مِّنَ الْقَالِیْنَ میں جمع لانے سے کلام میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر، قوم شعیب کفرو شرک میں ملّوث ہونے کے ساتھ لین دین میں بدترین خیانت کرتی تھی۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) :
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں جس بنا پر ان کی قوم کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ…
Read the full tafseer →ان کی حرکت پر شدید نفرت :
168: قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ (اس نے کہا بیشک میں تمہارے عمل کا سخت دشمن ہوں) ۔ القالینؔ کہناقالٍ کہنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ جیسا کہتے ہیں فلان من العلماء یہ فلانٌ عالم ٌ سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اس میں تم گواہی دے رہے ہو کہ وہ تمام علم میں حصہ دار ہیں۔ القِلی شدید بغض کو کہا جاتا ہے۔ جو دل و جگر بھون ڈالے۔
فائدہ : اس میں لواطت کا عظیم گناہ ہوناثابت ہوا۔ کیونکہ آپ کا بغض دین ہی کی وجہ سے تھا۔
Read the full tafseer →168۔ قال انی لعلکم من القالین، بغض رکھنے والا اور پھر ان کو پکارا اور کہا،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت 160 سے 175
حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →83 قوم کی فیصلہ کن دھمکی پر حضرت لوط کا بھرپور جواب : سو قوم کی طرف سے اس فیصلہ کن دھمکی کے جواب میں حضرت لوط نے اپنے جواب میں بھرپور انداز بیان میں بدبختوں سے فرمایا کہ " میں تمہارے اس عمل سے شدید بغض اور نفرت رکھتا ہوں "۔ یعنی تمہاری ان دھمکیوں سے۔ نہ میں راہ حق سے ہٹنے والا ہوں اور نہ حق کو چھوڑ سکتا ہوں۔ اور تمہارے کرتوتوت ایسے بد اور برے ہیں کہ مجھے ان کی بنا پر بہرحال سخت کڑھن اور گھٹن ہے۔ اور یہ ایسے برے ہیں کہ ہر اس شخص کو ان سے نفرت ہوگی جسکی فطرت سلیم اور اس کی عقل مستقیم ہوگی۔ اور میں ایسے ہی بغض رکھنے والوں میں سے ہوں۔ " قلی " کے معنیٰ شدید نفرت اور بغض کے ہیں۔ سو حضرت لوط نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیات 160 تا 175
اسرار و معارف
قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔
بد فعلی حرام ہے :
یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
1 ۔ اس لئے تمہیں نصیحت کرتے رہنے سے باز نہیں آسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
(26:167) لم تنتہ تو باز نہیں آئے گا۔ ملاحظہ ہو 26:116 ۔
المخرجین اسم مفعول جمع مذکر مجرور معرف باللام اخراج مصدر نکالے گئے۔ نکالے ہوئے ۔ ملک بدر کئے جانے والے۔
القالین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر القالی واحد بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔
اصل میں اس کا مادہ واوی ہے قلو جس کا معنی ہے پھینکنا۔ محاورہ ہے قالت الناقۃ براکبھا۔ اونٹنی نے اپنے سوار کو پھینک دیا۔ جس چیز سے دل بوجہ بغض یا بوجہ ناپسندیدہ ہونے کے اس طرح گھن گھائے گویا اسے پھینک رہا ہے تو اسے مقلو کہا جائے گا۔ پھینک دینے میں نفرت اور بیزاری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا القالین کے معنی ہوئے بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ پھینکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 :
اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–171
[25] مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بیوی جو کافروں سے ملی ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
حل لغات :۔ عدون ۔ تجاوز کرنے والے ۔ حداعتدال سے بڑھنے والے ۔
Read the full tafseer →168۔ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ میں تمہارے اس ناشائستہ فعل سے سخت نفرت رکھتا ہوں یعنی میں تمہارے اس کام سے سخت متنفر ہوں تو میں تم کو منع کرنے سے کیسے باز آسکتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–171
ف 2۔ مرد اس سے زوجہ ہے لوط (علیہ السلام) کی۔ عذاب میں رہ جانا اس لئے تھا کہ وہ کافرہ تھی اور اس لئے رات کو لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بستی سے نہ نکلی۔
Read the full tafseer →سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بھی جواب دیا کہ میں بھی اب تمہارے کاموں سے سخت بیزار ہوں :
168۔ قوم کی دھمکی بلاشبہ بہت سخت تھی لیکن لوطعلیہ السلام بھی ان کی نس نس سے واقف تھے اور ایک عرصہ سے ان کی الٹی سیدھی برداشت بھی کر رہے تھے ‘ انہوں نے بھی انکی دھمکی کی ذرا پروا نہ کی اور ان کی بات سنتے ہی فرمایا کہ اب میں بھی تم سے اور تمہارے اعمال سے سخت بیزار ہوں اس لئے جو دھمکی تم مجھے دیتے ہو اس کی کوئی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی تبلیغ کو جاری رکھوں گا اگر تم اپنے برے اعمال وافعال سے باز آنے والے نہیں تو آخر میں اپنے اچھے عمل سے کیوں زبان روک لوں اب جو نتائج بھی اس کے نکلیں ایک بار نہیں سو بار نکلیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
Commentary
Unnatural act is unlawful even with one's own wife
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم
And leave what your Lord has created for you, that is, your wives? - 26:166
In the phrase مِّنْ أَزْوَاجِكُم the word مِّنْ (min) Min could be descriptive (which is translated above as 'that is1) if taken in the technical sense, which would mean that in order to satisfy your lust you go after the homosexual men instead of your wives, whom Allah has given you to meet your natural urge. This is indeed a proof of malignity. The other possibility is that the letter 'Min' is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–169
112 This may also mean: "My Lord, deliver us from the evil consequences of their misdeeds," and also this: "Protect the children of the believers from the evil effects of the immoral acts of the wicked people."
Read the full tafseer →