Explained with ayahs 165–175
ہم جنسی پرستی کا شکار
لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 111
یعنی تجھے معلوم ہے کہ اس سے پہلے جس نے بھی ہمارے خلاف زبان کھولی ہے یا ہماری حرکتوں پر احتجاج کیا ہے، یا ہماری مرضی کے خلاف کام کیا ہے، وہ ہماری بستیوں سے نکالا گیا ہے۔ اب اگر تو یہ باتیں کرے گا تو تیرا حشر بھی ایسا ہی ہوگا۔ سورة اعراف اور سورة نمل میں بیان ہوا ہے کہ حضرت لوط ؑ کو یہ نوٹس دینے سے پہلے اس شریر قوم کے لوگ آپس میں یہ طے کرچکے تھے کہ اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ۔ " لوط ؑ اور اس کے خاندان والوں اور ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ ان " صالحین " کو باہر کا راستہ دکھاؤ "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
معارف و مسائل
غیر فطری فعل اپنی بیوی سے بھی حرام ہے
وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ، لفظ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ میں صرف من اصطلاحی الفاظ میں بیانیہ بھی ہوسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمہاری خواہش نفسانی کے لئے جو اللہ نے بیویاں پیدا فرمائی ہیں تم ان کو چھوڑ کر اپنے ہم جنس مردوں کو اپنی شہوت نفس کا نشانہ بناتے ہو جو خباثت نفس کی دلیل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام تمہارے لئے بنایا گیا اور جو امر فطری ہے اس کو چھوڑ کر بیویوں سے خلاف فطرت عمل کرتے ہو جو کہ قطعاً حرام ہے۔ غرض اس دوسرے معنے کے…
Read the full tafseer →قوم کی فیصلہ کن دھمکی
قوم نے اس تمام دلسوزی و درد مندی کا جواب یہ دیا کہ اے لوط ! اگر تم اپنی اس نصیحت و ملامت سے باز نہ آئے تو یاد رکھو کہ تم یہاں سے نکال کر چھوڑے جائو گے ! فقرے کا تیور صاف بتا رہا ہے کہ خراج کی یہ دھمکی پہلی دھمکی نہیں بلکہ آخری فیصلہ کن دھمکی ہے۔ یہ دھمکی وہ پہلے بھی دیتے رہے تھے۔ اس کی طرف قرآن میں اشارات موجود ہیں لیکن اس دھمکی کا انداز سابق دھمکیوں سے مختلف ہے۔ اب انہوں نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا کہ اپنی زبان بند کر دو ورنہ یاد رکھو کو ہم تم کو نکالنے کی جو دھمکی دیتے رہے ہیں وہ پوری کر کے رہیں گے۔
Read the full tafseer →167-1یعنی حضرت لوط ؑ کے وعظ نصیحت کے جواب میں انہوں نے کہا تو بڑا پاک باز بنا پھرتا ہے۔ یاد رکھنا اگر تو باز نہ آیا تو ہم اپنی بستی میں تجھے رہنے ہی نہیں دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
34: حضرت لوط ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، ان کے مرد فطرت کے خلاف مردوں ہی سے اپنی جنسی ہوس پوری کرتے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف : 80 میں کرایا ہے۔
Read the full tafseer →قالوا لئن ……المخرجین (167)
حضرت لوط ان لوگوں میں باہر سے آ کر بس گئے تھے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے آئے تھے۔ جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور اپنے ملک کو بھی چھوڑ دیا اور دریائے اردن عبور کر کے اس کے اس پار آباد ہوگئے تھے۔ حضرت لوط ان لوگوں میں آ کر آباد ہوگئے تھے اور بعد میں اللہ نے حضرت لوط کو انہی کی طرف نبی بنا کر بھیج دیا تھا تاکہ قوم لوط کے اندر جو برے کام راہ پا گئے تھے ، اس کی اصلاح فرما میں اب جبکہ وہ حضرت کی بات نہیں مانتے تو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اسے ملک سے نکال دیں گے یعنی وہ تو اس فعل سے باز نہیں آسکتے۔ لوط ہی دعوت…
Read the full tafseer →5 یعنی یہ وعظ و نصیحت رہنے دو ۔ اگر آئندہ ہمیں تنگ کرو گے تو تم کو بستی سے نکال باہر کریں گے۔
Read the full tafseer →آیت 167 قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ”
اگر آپ علیہ السلام اپنی اس وعظ و نصیحت سے اور ہم پر تنقید کرنے سے باز نہ آئے تو ہم آپ علیہ السلام کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–167
100 لوط (علیہ السلام) نے انھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا اور ان کی بدفعلیوں کے برے انجام سے ڈرایا تو انہوں نے حضرت لوط کی بات ماننے کے بجائے الٹا ان پر کئی طرح کی پابندیاں لگا دیں۔ مثلاً اگر تم اس بستی میں رہنا چاہتے ہو تو ہمارے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دو ۔ دوسرے یہ کہ اپنے ہاں مہمانوں کو یا مسافروں کو پناہ نہ دیا کرو۔ ورنہ ہم تمہارا کچھ لحاظ نہیں کریں گے اور تمہارے مہمانوں یا مسافروں سے وہی سلوک کریں گے جو ہم کرنا چاہتے ہیں) یہ بدبخت قوم مسافروں یا مہمانوں تک کو بھی نہیں چھوڑتی تھی، پہلے ان سے لواطت کرتی۔ پھر ان سے مال اسباب اور نقدی وغیرہ چھین کر انھیں دھکے دے کر اپنی بستی سے باہر نکال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
91۔ (اور میں تمہاری ان دھمکیوں میں آکر اپنے وعظ وپند وتبلیغ سے رک نہ جاؤں گا) (آیت) ” القالین “۔ قلی بغض شدید کو کہتے ہیں۔ القلی البغض الشدید (کشاف) القلی شدۃ البغض (راغب) پیغمبر جیسے صالح الفطرت کی تو خود فطرت ایسے گندے جرم سے اباء کرنے لگتی ہے۔ انہیں تو جتنی بھی بیزاری ایسے جرم سے ہو کم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت نمبر 160 تا 175
ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…
Read the full tafseer →قالوا لئن تم تنتہ یلوط لتکونن من المخرجین۔ کہنے لگے لوط اگر تو (اپنے دعوے سے اور ہم کو
بازداشت کرنے سے) باز نہ آیا تو خارج کردہ لوگوں میں سے ہوجائے گا (یعنی اپنی بستی سے ہم تجھے نکال دیں گے) ۔
Read the full tafseer →(167) وہ کہنے لگے اے لوط ؑ اگر تم ہمارے کہنے سننے سے باز نہیں آؤ گے تو ضرور اس سدوم سے نکال دیے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰلُوْطُ۔۔ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا شیوہ تھا کہ جو ان کی مرضی کے خلاف بات کرے اسے عبرت ناک طریقے سے ذلیل و خوار کرکے نکال دیتے تھے۔ اس لیے انھوں نے پہلے نکالے جانے والوں کے انجام کا حوالہ دے کر کہا کہ ہم تمہیں بھی ان میں شامل کردیں گے۔
3 بقاعی نے فرمایا، وہ لوگ لوط ؑ کو اپنی بستی سے ذلیل کر کے نکالنا چاہتے تھے، جبکہ اللہ تعالیٰ انھیں اس بستی سے باعزت طریقے سے نکالنے والا تھا، پھر وہی ہوا جو اللہ چاہتا تھا کیونکہ : (وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ) [ یوسف : 21 ]”اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ )
کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔
اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
قوم لوط کا تذکرہ۔
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…
Read the full tafseer →قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] لَىِٕنْ [ بیشک اگر ] لَّمْ تَنْتَهِ [ تو باز نہ آیا ] يٰلُوْطُ [ اے لوط (علیہ السلام) ] لَتَكُوْنَنَّ [ تو لازما تو ہوجائے گا ] مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ [ نکالے جانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا
حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–167
61:۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی مشفقانہ پندو نصیحت کے جواب میں سرکش قوم نے نہایت تند اور طاغیانہ جواب دیا۔ اے لوط ! اگر تو اپنے دعوی نبوت سے اور اس وعظ و تبلیغ سے باز نہ آیا تو ہم تمہیں شہر بدر کردیں گے اور یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ ” قال انی لعملکم من القالین “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکی کی ذرا پروا نہ کی اور صاف فرمادیا مجھے تمہارے اس فعل سے سخت نفرت ہے اور میں خود تم سے بیزار ہوں اور تم سے دوری چاہتا ہوں۔ قابل (علیہ السلام) تہدید ھم ذلک بما ذکر تنبیھا علی عدم الاکثرات بہ وانہ راغب فی الخلاص من سوء جو ارھم لشدۃ بغضہ لعملہم (روح ج 19 ص 116) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
ربط آیات
حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔
لوط (علیہ السلام) کی بعثت
ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَہِ يٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ 167
نهى
النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10]
( ن ھ ی ) النهي
کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔
کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰـلُوْطُ لَتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ۔ (الشعرآء : 167)
(انھوں نے کہا، (خاموش) اے لوط، اگر تم اس سے باز نہ آئے تو تمہیں ضرور ملک بدر کردیا جائے گا۔ )
قوم کی فیصلہ کن دھمکی
بعض اہل علم نے اس آیت کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ ” اے لوط ! اگر تم ان باتوں سے باز نہ آئے تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں ان میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) سے پہلے بھی مختلف وقتوں میں مختلف لوگوں نے ان کے خلاف زبان کھولنے کی کوشش کی، یا جو کچھ وہ چاہتے تھے اس کے خلاف چلنے کی کوشش کی تو انھوں نے اسے بستی سے نکال دیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–167
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوشہ۔
قوم کا جواب : کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت : 29)
قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب فرشتے (لڑکوں) کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے۔ تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ…
Read the full tafseer →قوم کا جواب :
167: قَالُوْا لَپنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ (کہنے لگے اگر تو اے لوط بازنہ آیا) ہمارے اوپر تنقید کرنے اور ہمارے فعل کی مذمت کرنے سے۔ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ (تو تمہیں نکال باہر کیا جائے گا) تمہیں ان لوگوں میں سے کردیں گے جن کو ہم نے جلا وطن کردیا اور اپنے درمیان سے نکال دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس کو نکالتے تو وہ انتہائی بدحالی کی حالت میں نکالتے تھے۔
Read the full tafseer →167۔ قالوالئن لم تنتنہ یالوط لتکونن من المخرجین، ہماری بستی سے نکل جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت 160 سے 175
حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–167
82 قوم لوط کی طرف سے اپنے پیغمبر کو دھمکی : سو ان لوگوں نے اس طرح اپنے آخری انجام کو دعوت دے دی۔ سو پیغمبر کی آواز پر کان دھرنے اور اس سے سبق لینے کی بجائے الٹا اس بدبخت قوم نے اپنے پیغمبر کو دیس نکالا دینے کی دھمکی دے دی۔ اور ان سے صاف اور صریح طور پر کہہ دیا کہ اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو تم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو کر رہو گے جن کو نکال باہر کیا گیا۔ سو اس تنبیہ و تذکیر پر قوم لوط کی طرف سے حضرت لوط کو اپنی بستی سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی گئی۔ کہ ایسے پاکباز بننے والوں کو ہمارے شہر میں رہنے کا حق نہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ } ۔ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیات 160 تا 175
اسرار و معارف
قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔
بد فعلی حرام ہے :
یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
1 ۔ اس لئے تمہیں نصیحت کرتے رہنے سے باز نہیں آسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–170
(26:167) لم تنتہ تو باز نہیں آئے گا۔ ملاحظہ ہو 26:116 ۔
المخرجین اسم مفعول جمع مذکر مجرور معرف باللام اخراج مصدر نکالے گئے۔ نکالے ہوئے ۔ ملک بدر کئے جانے والے۔
القالین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر القالی واحد بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔
اصل میں اس کا مادہ واوی ہے قلو جس کا معنی ہے پھینکنا۔ محاورہ ہے قالت الناقۃ براکبھا۔ اونٹنی نے اپنے سوار کو پھینک دیا۔ جس چیز سے دل بوجہ بغض یا بوجہ ناپسندیدہ ہونے کے اس طرح گھن گھائے گویا اسے پھینک رہا ہے تو اسے مقلو کہا جائے گا۔ پھینک دینے میں نفرت اور بیزاری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا القالین کے معنی ہوئے بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ پھینکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 :
اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–171
[25] مراد ہے لوط (علیہ السلام) کی بیوی جو کافروں سے ملی ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
حل لغات :۔ عدون ۔ تجاوز کرنے والے ۔ حداعتدال سے بڑھنے والے ۔
Read the full tafseer →167۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے جواب دیا اے لوط (علیہ السلام) تو اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے گا تو یقینا تو بستی سے نکال دیاجائے گا یعنی دھمکی دی کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس سے ہم کو نہ روکو ورنہ بستی سے خارج کردئیے جائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–171
ف 2۔ مرد اس سے زوجہ ہے لوط (علیہ السلام) کی۔ عذاب میں رہ جانا اس لئے تھا کہ وہ کافرہ تھی اور اس لئے رات کو لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بستی سے نہ نکلی۔
Read the full tafseer →قوم نے کہا اے اگر تم اس نصیحت سے باز نہ آئے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے :
167۔ قوم کے لوگوں نے سیدنا لوط (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو برداشت نہ کیا اور اپنے آپے سے باہر نکل گئے اور الٹا چور کو توال کو ڈانٹے کے محاورہ کے مطابق سیدنا لوط (علیہ السلام) کو کہنے لگے کہ اے لوط ! اگر تم اپنی نصیحتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے ، یہ کارنامہ تھا اس جمہوریت کا جس پر آج بھی لوگ مفتون ہیں کہ ایک بات اکثریت چاہتی ہے تو ایک آدھ آدمی کون ہوتا ہے جو ان کے راستے کا روڑا بنے ایسے آدمی کو فی الواقعہ باہر ہی کرنا چاہئے اور آج کل بھی لوگ یہی کر رہے ہیں جو اس وقت سدومیوں نے صرف کہا تھا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
Commentary
Unnatural act is unlawful even with one's own wife
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم
And leave what your Lord has created for you, that is, your wives? - 26:166
In the phrase مِّنْ أَزْوَاجِكُم the word مِّنْ (min) Min could be descriptive (which is translated above as 'that is1) if taken in the technical sense, which would mean that in order to satisfy your lust you go after the homosexual men instead of your wives, whom Allah has given you to meet your natural urge. This is indeed a proof of malignity. The other possibility is that the letter 'Min' is…
Read the full tafseer →111 That is, "You know that whosoever has spoken against us, or protested against our doings, or opposed us in any way, he has been turned out of our habitations. If you also behave like that, you too will be treated likewise." It has been stated in Surahs AI-A`raf and An-Naml that before giving this warning to Prophet Lot, the wicked people had decided to "turn out these people of your habitations for they pose to be very pious." (VII: 82)
Read the full tafseer →