Ash-Shu'araa 26:166

Ash-Shu'araa · from ayah 166

26:166

وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ؕ— بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ ۟وَ تَذَرُوۡنَ مَا خَلَقَ لَـكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ‌ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ عٰدُوۡنَ

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And leave what your Lord has created for you as mates? But you are a people transgressing."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 9 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:166

اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں، ان کو چھوڑے بیٹھے ہو ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جوروئیں بنائیں، بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، بلکہ تم (سرکشی میں) حد سے نکل جانے والے لوگ ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھیں چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں انھیں چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم لوگ تو حد (انسانیت) سے آگے نکل گئے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے رب نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑتے ہوچ بلکہ تم لوگ نہایت ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چھوڑتے ہو تم اپنی ان پاکیزہ اور حلال بیویوں کو جن کو پیدا فرمایا ہے تمہارے لیے تمہارے رب نے اپنی عنایت و رحمت بےنہایت سے، دراصل تم ہی حد سے بڑھنے والے لوگ ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑے رہتے ہو بات یہ ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم چھوڑ دیتے ہو جن کو تمہارے لیے پیدا کیا ہے تمہارے رب نے تمہاری بیویوں میں سے بلکہ تم تو حد سے بڑھنے والے لوگ ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ‘ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

leaving aside those whom Allah has created for you as your mates. Nay, you are a people that has transgressed all limits."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and leave your wives whom your Lord has created for you? Indeed you are a people who cross (all) limits.

— Muhammad Taqi Usmani

and leave your wives whom your Lord has created for you? Indeed you are a people who cross (all) limits.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And leave those whom Allah has created for you to be your wives Nay, you are a trespassing people!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And leave the wives your Lord created for you? Nay, but ye are froward folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And leave what your Lord has created for you as mates? But you are a people transgressing."

— Saheeh International

instead of your wives, whom your Lord has created specially for you? You are a transgressing people."

— Muhammad Sarwar

And leave what your Lord has created for you of your wives? Nay, you are a people exceeding limits.

— Muhammad Habib Shakir

And leave ye your spouses your Lord hath created for you? Aye! ye are a people trespassing.

— Abdul Majid Daryabadi

"And leave those whom Allah has created for you to be your mates? Nay, ye are a people transgressing (all limits)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:166

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 165–175

ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 109 اس کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے جو بیویاں خدا نے پیدا کی تھیں انہیں چھوڑ کر تم غیر فطری ذریعے یعنی مردوں کا اس غرض کے لیے استعمال کرتے ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود ان بیویوں کے اندر خدا نے اس خواہش کی تکمیل کا جو فطری راستہ رکھا تھا اسے چھوڑ کر تم غیر فطری راستہ اختیار کرتے ہو۔ اس دوسرے مطلب میں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ وہ ظالم لوگ اپنی عورتوں سے بھی خلاف وضع فطری فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ بعید نہیں کہ وہ یہ حرکت خاندانی منصوبہ بندی کی خاطر کرتے ہوں۔ سورة الشُّعَرَآء 110 یعنی تمہارا صرف یہی ایک جرم نہیں ہے۔ تمہاری زندگی کا تو سارا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 166–170

معارف و مسائل غیر فطری فعل اپنی بیوی سے بھی حرام ہے وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ، لفظ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ میں صرف من اصطلاحی الفاظ میں بیانیہ بھی ہوسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمہاری خواہش نفسانی کے لئے جو اللہ نے بیویاں پیدا فرمائی ہیں تم ان کو چھوڑ کر اپنے ہم جنس مردوں کو اپنی شہوت نفس کا نشانہ بناتے ہو جو خباثت نفس کی دلیل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام تمہارے لئے بنایا گیا اور جو امر فطری ہے اس کو چھوڑ کر بیویوں سے خلاف فطرت عمل کرتے ہو جو کہ قطعاً حرام ہے۔ غرض اس دوسرے معنے کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 165–166

166-165 قوم لوط دوثیت یہ ان کی سب سے بڑی معصیت کی طرف اشارہ ہے۔ ہم دوسرے مقام میں وضاحت کرچکے ہیں کہ امرد پرستی قوم لوط میں فیشن بن گئی تھی۔ یہ دیوثیت اگر کسی قوم میں فیشن کی حیثیت حاصل کرلے تو وہ قوم خدا کی زمین پر نجاست کا ایک ڈھیر بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی زمین کو پاک کردیتا ہے۔ ذکر ان کے بعد من العلمین کے الفاظ سے قوم کے اندھے پن کی طرف مقصود ہے کہ خلق میں سے تمہیں اس مقصد کے لئے مرد ہی ملے حالانکہ اس ضرورت کے لئے خدا نے جو چیز بنائی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے بلکہ اندھوں کو بھی نظر آسکتی ہے ! ان کے اسی اندھے پن کی طرف سورة نمل میں یوں اشارہ فرمایا ہے۔ اتالون الفاحشۃ وانتم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 161–166

166-1یہ قوم لوط کی سب سے بری عادت تھی، جس کی ابتداء اسی قوم سے ہوئی تھی، اسی لئے اس فعل بد کو لواطت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی بدفعلی جس کا آغاز قوم لوط سے ہوا لیکن اب یہ بدفعلی پوری دنیا میں عام ہے بلکہ یورپ میں تو اسے قانوناً جائز تسلیم کرلیا گیا ہے یعنی ان کے ہاں اب سرے سے گناہ ہی نہیں ہے۔ جس قوم کا مذاج اتنا بگڑ گیا ہو کہ مرد عورت کا ناجائز جنسی ملاپ (بشرطیکہ باہمی رضامندی سے ہو) ان کے نزدیک جرم نہ ہو، تو وہاں دو مردوں کا آپس میں بدفعلی کرنا کیونکر گناہ اور ناجائز ہوسکتا ہے۔ ؟ اعاذنا اللہ منہ 16-6۔-2عادون۔ عاد کی جمع ہے عربی میں عاد کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا یعنی حق کو چھوڑ کر باطل…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 166–168

34: حضرت لوط ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، ان کے مرد فطرت کے خلاف مردوں ہی سے اپنی جنسی ہوس پوری کرتے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف : 80 میں کرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 165–166

اتاتون الذکران ……قوم عدون (160) قوم لوط وادی اردن کی کئی بستیوں میں آباد تھی۔ یہ لوگ جس جرم کے عادی تھے وہ عمل قوم لوط کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی مردوں کی ہم جنس پرستی اور عورتوں سے جنسی تعلق کو ترک کرنا۔ یہ نہایت ہی مکروہ فطری بےراہ روی تھی کیونکہ مرد اور عورتوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور ہر ایک کے اندر ایک دوسرے کے لئے جابیت رکھی ہے۔ یہ اللہ کا ایک تخلیقی راز ہے۔ اس طرح اللہ نے انسانی زندگی کے تسلسل کا انتظام کیا۔ نسل کشی کا یہ انتظام اللہ نے مرد اور عورت کے درمیان ملاپ کے ذریعہ سے جاری کیا۔ یہ نظام بھی اللہ کے اس نظام کا ایک حصہ ہے جو اس نے اس پوری کائنات میں جاری فرمایا ہے۔ جس نے اس کائنات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 166 وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ ط ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑوں کے لیے عورتیں پیدا کی ہیں۔ انہیں چھوڑ کر تم اپنی شہوت کا تقاضا مردوں سے پورا کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 161–167

100 لوط (علیہ السلام) نے انھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا اور ان کی بدفعلیوں کے برے انجام سے ڈرایا تو انہوں نے حضرت لوط کی بات ماننے کے بجائے الٹا ان پر کئی طرح کی پابندیاں لگا دیں۔ مثلاً اگر تم اس بستی میں رہنا چاہتے ہو تو ہمارے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دو ۔ دوسرے یہ کہ اپنے ہاں مہمانوں کو یا مسافروں کو پناہ نہ دیا کرو۔ ورنہ ہم تمہارا کچھ لحاظ نہیں کریں گے اور تمہارے مہمانوں یا مسافروں سے وہی سلوک کریں گے جو ہم کرنا چاہتے ہیں) یہ بدبخت قوم مسافروں یا مہمانوں تک کو بھی نہیں چھوڑتی تھی، پہلے ان سے لواطت کرتی۔ پھر ان سے مال اسباب اور نقدی وغیرہ چھین کر انھیں دھکے دے کر اپنی بستی سے باہر نکال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 162–166

90۔ ذکر دقوم لوط کی اس غیر طبعی شہوت پرستی کا ہے جس میں وہ لوگ آج کل کی بھی ” مہذب ومتمدن “ قوموں کی طرح شدت سے مبتلا تھے۔ (آیت) ” بل انتم قوم عدون “۔ یعنی ان بدفعلیوں کی محرک کوئی طبعی جنس خواہش کسی درجہ میں بھی نہ تھی۔ یہ محض نفس کا خبث اور طبیعت کا شیطانی میلان تھا جو انہیں اغلام ولواطت کی طرف لے آیا تھا۔ ” حد سے گزر جانے والے “ یعنی حدود انسانیت سے گزر جانے والے یا جرائم پیشہ یا مجرمانہ فطرت کے لوگ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 160–175

آیت نمبر 160 تا 175 ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم اور جو بیبیاں اللہ نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں ان کو چھوڑے رہتے ہو اس ترجمہ میں من ازواجکم میں من بیانیہ ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام اللہ نے تمہارے لئے بنایا ہے تم اس کو چھوڑے رکھتے ہو (یعنی عورتوں سے صنفی مجامعت نہیں کرتے بلکہ ان سے بھی لواطت کرتے ہو) وہ لوگ عورتوں سے بھی لواطت کرتے تھے جیسے رافضی کہتے ہیں۔ اس وقت مِنْ تبعیضیہ ہوگا یعنی تمہاری بیبیوں کا جو حصہ جسم اللہ نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے اس کو چھوڑے رکھتے ہو۔ اس مطلب پر آیت سے عورتوں کے ساتھ لواطت کرنے کی حرکت پر استدلال کیا جاسکتا ہے بیویاں ہوں یا باندیاں۔ بل انتم قوم عدون۔ بلکہ تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 165–166

(165۔ 166) کیا تمام دنیا جہاں والوں میں تم یہ حرکت کرتے ہو کہ مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو اور تمہارے لیے جو تمہارے پروردگار نے تمہاری بیویوں کی شرم گا ہیں حلال کر رکھی ہیں ان کو نظر انداز کیے رکھتے ہو بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم حلال کو چھوڑ کر حرام کاموں کی طرف بڑھنے والے لوگ ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ۔۔ : اس آیت کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے جو بیویاں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں انھیں چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔ اس صورت میں ”مَا“ بیانیہ ہے، ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بیویوں میں سے جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو ؟ یعنی قبل کے بجائے غیر فطری وضع سے شہوت پوری کرتے ہو۔ اس صورت میں ”مَا“ تبعیض کے لیے ہے۔ بعید نہیں کہ وہ لوگ یہ حرکت اولاد سے بچنے کے لیے کرتے ہوں۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ : یعنی صرف اسی کام میں نہیں بلکہ ہر کام میں حد سے گزرنا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 160–175

( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ ) کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔ اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 160–175

قوم لوط کا تذکرہ۔ 1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَتَذَرُوْنَ [ اور چھوڑتے ہو ] مَا [ اس کو جو ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] رَبُّكُمْ [ تمہارے رب نے ] مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ۭ[ تمہاری بیویں میں سے ] بَلْ اَنْتُمْ [ بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ عٰدُوْنَ [ حد سے بڑھنے والی قوم ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 161–176

اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–191

قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 161–167

61:۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی مشفقانہ پندو نصیحت کے جواب میں سرکش قوم نے نہایت تند اور طاغیانہ جواب دیا۔ اے لوط ! اگر تو اپنے دعوی نبوت سے اور اس وعظ و تبلیغ سے باز نہ آیا تو ہم تمہیں شہر بدر کردیں گے اور یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ ” قال انی لعملکم من القالین “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکی کی ذرا پروا نہ کی اور صاف فرمادیا مجھے تمہارے اس فعل سے سخت نفرت ہے اور میں خود تم سے بیزار ہوں اور تم سے دوری چاہتا ہوں۔ قابل (علیہ السلام) تہدید ھم ذلک بما ذکر تنبیھا علی عدم الاکثرات بہ وانہ راغب فی الخلاص من سوء جو ارھم لشدۃ بغضہ لعملہم (روح ج 19 ص 116) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 160–175

ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ۝ 0ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ۝ 166 وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا [ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 161–176

1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔ کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 165–166

اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْن۔ َ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَـکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ ۔ (الشعرآء : 165، 166) (کیا تم ساری مخلوق میں سے مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ اور تمہارے رب نے جو تمہارے لیے بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ ) سرکشی اور نافرمانی نئی نئی گمراہیوں کو جنم دیتی ہے نفسیات کے ماہرین جانتے ہیں کہ جس طرح نیکیوں اور اچھائیوں کا ایک سلسلہ نسب ہے کہ ایک نیکی دوسری سے پھوٹتی ہے اور اس طرح سے ایک سلسلۃ الذہب کو وجود دیتی ہے۔ اسی طرح برائی کبھی منفرد نہیں ہوتی۔ جب دلوں سے اللہ تعالیٰ کا خوف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 161–167

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوشہ۔ قوم کا جواب : کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت : 29) قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب فرشتے (لڑکوں) کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے۔ تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

166: وَتَذَرُوْنَ مَاخَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ (اور ان کو چھوڑتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے بیویاں بنائی ہیں) ۔ نحو : منؔ ماخلقؔ کی وضاحت کر رہا ہے۔ نمبر 2۔ مِنْ تبعیضیہ ہے مراد عورتوں کا عضو مباح ہے اور اپنی عورتوں سے بھی لواطت کرتے تھے۔ نحو : اس میں دلیل ہے کہ لواطت بیوی سے بھی حرام ہے۔ اور اسی طرح مملوکہ لونڈیوں سے بھی۔ جنہوں نے اس سلسلہ میں اجازت دی ہے انہوں نے بہت بڑے گناہ وغلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ (بلکہ تم تو حد سے نکل جانے والے لوگ ہو) ۔ العادیؔ جو اپنے ظلم میں تعدی کرنے والے ہو اور اس میں حد سے تجاوز کرنیوالاہو یعنی بلکہ تم لوگ تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

166۔ وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم، مجاہد کا قول ہے کہ تم عورتوں کے پاس آنے کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔ بلم انتم قوم عادون، وہ سرکشی میں آخری حد تک پڑے ہوئے تھے اور حلال و حرام میں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 160–175

(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 160–175

آیت 160 سے 175 حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 166–167

82 قوم لوط کی طرف سے اپنے پیغمبر کو دھمکی : سو ان لوگوں نے اس طرح اپنے آخری انجام کو دعوت دے دی۔ سو پیغمبر کی آواز پر کان دھرنے اور اس سے سبق لینے کی بجائے الٹا اس بدبخت قوم نے اپنے پیغمبر کو دیس نکالا دینے کی دھمکی دے دی۔ اور ان سے صاف اور صریح طور پر کہہ دیا کہ اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو تم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو کر رہو گے جن کو نکال باہر کیا گیا۔ سو اس تنبیہ و تذکیر پر قوم لوط کی طرف سے حضرت لوط کو اپنی بستی سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی گئی۔ کہ ایسے پاکباز بننے والوں کو ہمارے شہر میں رہنے کا حق نہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ } ۔ "…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 160–175

آیات 160 تا 175 اسرار و معارف قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔ بد فعلی حرام ہے : یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:166) تذرون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم چھوڑتے ہو۔ وذر مصدر بمعنی چھوڑنا اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا۔ عادون : عدو سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے عاد کی جمع ہے۔ عادون اصل میں عادودن تھا واؤ کلمہ میں چوتھی جگہ آیا ہے اور ماقبل اس کا مضموم نہ تھا لہٰذا اس کو ی سے تبدیل کیا عادیون ہوا۔ ضمہ ی پر دشوار تھا نقل کرکے ما قبل کو دیا۔ اب دو ساکن جمع ہوگئے ی اور واؤ۔ ی کو حذف کردیا عادون ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 160–175

لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 : اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 160–175

حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 166–168

حل لغات :۔ عدون ۔ تجاوز کرنے والے ۔ حداعتدال سے بڑھنے والے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

166۔ اور تمہارے پروردگار نے جو بیویاں تمہارے لئے پیدا کی ہیں تم تم ان کو چھوڑے رکھتے اور نظر انداز کردیتے ہو اصل بات یہ ہے کہ تم انسانیت اور فطرت کی حد سے آگے بڑھ جانے والے لوگ ہو یعنی عورتوں کو نظرانداز کرنا اور اپنی بیویوں کی جانب توجہ نہ کرنا اور لڑکوں سے شہوت رانی کرنا تمام دنیا والوں میں سے تمہارا یہ فعل انوکھا فعل ہے۔ یعنی دنیا کا ہر نر اپنی مادہ کو اپنی خواہش کے لئے تلاش کرتا ہے مگر تم مرد ہوکر مرد ہی کو اپنی شہوت رانی اور اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کا ذریعہ بناتے ہو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا تم تو فطرت اور انسانیت کی حدود سے آگے نکل جانے والے لوگ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 166–171

ف 2۔ مرد اس سے زوجہ ہے لوط (علیہ السلام) کی۔ عذاب میں رہ جانا اس لئے تھا کہ وہ کافرہ تھی اور اس لئے رات کو لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بستی سے نہ نکلی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ تمہاری بیویوں میں اللہ نے تمہارے لئے پیدا کیا اس کی تلاش نہیں کرتے ؟ 166۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے قوم کے اندھے پن پر اس کی سرزنش شروع کردی اور فرمایا کہ تم عجیب قوم ہو کہ دنیا کی کوئی برائی ایسی نہیں جو تم میں موجود نہیں اور دنیا کی کوئی خوبی ایسی نہیں جو تم میں پائی جاتی ہو ۔ تم کیسے لوگ کہ دنیا کی سرکش ‘ متمرد اور بداخلاق وبداطوار قوم کے دوسرے عیوب و فواحش کے علاوہ تم ایک ایسے خبیث عمل میں مبتلا ہو یعنی یہ کہ تم اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کی بجائے مرد لڑکوں سے اختلاط رکھتے ہو دنیا کی قوموں میں اس عمل کا اس وقت تک کہیں رواج نہیں تم ہی ایسی بدبخت اور بدتمیز قوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 166–170

Commentary Unnatural act is unlawful even with one's own wife وَتَذَرُ‌ونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَ‌بُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم And leave what your Lord has created for you, that is, your wives? - 26:166 In the phrase مِّنْ أَزْوَاجِكُم the word مِّنْ (min) Min could be descriptive (which is translated above as 'that is1) if taken in the technical sense, which would mean that in order to satisfy your lust you go after the homosexual men instead of your wives, whom Allah has given you to meet your natural urge. This is indeed a proof of malignity. The other possibility is that the letter 'Min' is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

109 This can also have two meanings: (1) "You leave your wives whom God has created for you to satisfy your sex desire and adopt unnatural ways with the males for the purpose." (2) "Even with respect to your wives you do not follow the natural way but adopt unnatural ways for the gratification of your lust?" This they might have been doing with the intention of family planning. 110 That is, "This is not the only vice in-you; your whole lives have become corrupted and perverted, as stated in An-Naml: 54 thus : "Do you commit indecent acts openly and publicly?" And 'in AI-'Ankabut: 29 thus:…

Read the full tafseer →