Explained with ayahs 165–175
ہم جنسی پرستی کا شکار
لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–165
سورة الشُّعَرَآء 108
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ ساری مخلوق میں سے صرف مردوں کو تم نے اس غرض کے لیے چھانٹ لیا ہے کہ ان سے خواہش نفس پوری کرو حالانکہ دنیا میں بکثرت عورتیں موجود ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم ایسی نہیں ہے، بلکہ حیوانات میں سے بھی کوئی جانور یہ کام نہیں کرتا۔ اس دوسرے مفہوم کی صراحت سورة اعراف اور سورة عنکبوت میں یوں کی گئی ہے اَتَاْتَوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۔ " کیا تم وہ بےحیائی کا کام کرتے ہو جو دنیا کی مخلوق میں سے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–165
خلاصہ تفسیر
قوط لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی لوط ؑ نے فرمایا کہ کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے، کیا تمام دنیا جہان والوں میں سے تم (یہ حرکت کرتے ہو کہ) مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور تمہارے رب نے جو تمہارے لئے بیبیاں پیدا کی ہیں ان کو نظر انداز کئے رہتے ہو (یعنی اور کوئی آدمی تمہارے سوا یہ حرکت نہیں کرتا اور یہ نہیں کہ اس کے قبیح ہونے میں کچھ شبہ ہے) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم حد (انسانیت) سے گزر جانے والے لوگ ہو، وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
166-165
قوم لوط دوثیت
یہ ان کی سب سے بڑی معصیت کی طرف اشارہ ہے۔ ہم دوسرے مقام میں وضاحت کرچکے ہیں کہ امرد پرستی قوم لوط میں فیشن بن گئی تھی۔ یہ دیوثیت اگر کسی قوم میں فیشن کی حیثیت حاصل کرلے تو وہ قوم خدا کی زمین پر نجاست کا ایک ڈھیر بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی زمین کو پاک کردیتا ہے۔
ذکر ان کے بعد من العلمین کے الفاظ سے قوم کے اندھے پن کی طرف مقصود ہے کہ خلق میں سے تمہیں اس مقصد کے لئے مرد ہی ملے حالانکہ اس ضرورت کے لئے خدا نے جو چیز بنائی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے بلکہ اندھوں کو بھی نظر آسکتی ہے ! ان کے اسی اندھے پن کی طرف سورة نمل میں یوں اشارہ فرمایا ہے۔ اتالون الفاحشۃ وانتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–166
166-1یہ قوم لوط کی سب سے بری عادت تھی، جس کی ابتداء اسی قوم سے ہوئی تھی، اسی لئے اس فعل بد کو لواطت سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی بدفعلی جس کا آغاز قوم لوط سے ہوا لیکن اب یہ بدفعلی پوری دنیا میں عام ہے بلکہ یورپ میں تو اسے قانوناً جائز تسلیم کرلیا گیا ہے یعنی ان کے ہاں اب سرے سے گناہ ہی نہیں ہے۔ جس قوم کا مذاج اتنا بگڑ گیا ہو کہ مرد عورت کا ناجائز جنسی ملاپ (بشرطیکہ باہمی رضامندی سے ہو) ان کے نزدیک جرم نہ ہو، تو وہاں دو مردوں کا آپس میں بدفعلی کرنا کیونکر گناہ اور ناجائز ہوسکتا ہے۔ ؟ اعاذنا اللہ منہ
16-6۔-2عادون۔ عاد کی جمع ہے عربی میں عاد کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنے والا یعنی حق کو چھوڑ کر باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–165
33: سورة ہود : 68 میں قرآن کریم ہی نے بتایا ہے کہ یہ عذاب ایک خوفناک چنگھاڑ کی شکل میں آیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر رہ گئے، مزید تفصیل وہیں پر گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
اتاتون الذکران ……قوم عدون (160)
قوم لوط وادی اردن کی کئی بستیوں میں آباد تھی۔ یہ لوگ جس جرم کے عادی تھے وہ عمل قوم لوط کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی مردوں کی ہم جنس پرستی اور عورتوں سے جنسی تعلق کو ترک کرنا۔ یہ نہایت ہی مکروہ فطری بےراہ روی تھی کیونکہ مرد اور عورتوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور ہر ایک کے اندر ایک دوسرے کے لئے جابیت رکھی ہے۔ یہ اللہ کا ایک تخلیقی راز ہے۔ اس طرح اللہ نے انسانی زندگی کے تسلسل کا انتظام کیا۔ نسل کشی کا یہ انتظام اللہ نے مرد اور عورت کے درمیان ملاپ کے ذریعہ سے جاری کیا۔ یہ نظام بھی اللہ کے اس نظام کا ایک حصہ ہے جو اس نے اس پوری کائنات میں جاری فرمایا ہے۔ جس نے اس کائنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–165
3 یعنی سارے جہان میں سے مرد ہی تمہاری شہوت رانی کے لیے رہ گئے، یا یہ کہ سارے جہان میں سے تم ہی ہو جو اس فعل شنیع کے مرتکب ہوتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–165
آیت 165 اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ”
دنیا جہان میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کی غرض سے َ مردوں کے پاس جاتے ہو۔ ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم یہ حرکت نہیں کرتی ‘ بلکہ یہ کام تو جانور بھی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–167
100 لوط (علیہ السلام) نے انھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا اور ان کی بدفعلیوں کے برے انجام سے ڈرایا تو انہوں نے حضرت لوط کی بات ماننے کے بجائے الٹا ان پر کئی طرح کی پابندیاں لگا دیں۔ مثلاً اگر تم اس بستی میں رہنا چاہتے ہو تو ہمارے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دو ۔ دوسرے یہ کہ اپنے ہاں مہمانوں کو یا مسافروں کو پناہ نہ دیا کرو۔ ورنہ ہم تمہارا کچھ لحاظ نہیں کریں گے اور تمہارے مہمانوں یا مسافروں سے وہی سلوک کریں گے جو ہم کرنا چاہتے ہیں) یہ بدبخت قوم مسافروں یا مہمانوں تک کو بھی نہیں چھوڑتی تھی، پہلے ان سے لواطت کرتی۔ پھر ان سے مال اسباب اور نقدی وغیرہ چھین کر انھیں دھکے دے کر اپنی بستی سے باہر نکال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–166
90۔ ذکر دقوم لوط کی اس غیر طبعی شہوت پرستی کا ہے جس میں وہ لوگ آج کل کی بھی ” مہذب ومتمدن “ قوموں کی طرح شدت سے مبتلا تھے۔ (آیت) ” بل انتم قوم عدون “۔ یعنی ان بدفعلیوں کی محرک کوئی طبعی جنس خواہش کسی درجہ میں بھی نہ تھی۔ یہ محض نفس کا خبث اور طبیعت کا شیطانی میلان تھا جو انہیں اغلام ولواطت کی طرف لے آیا تھا۔ ” حد سے گزر جانے والے “ یعنی حدود انسانیت سے گزر جانے والے یا جرائم پیشہ یا مجرمانہ فطرت کے لوگ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت نمبر 160 تا 175
ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…
Read the full tafseer →اتاتون الذکران من العلمین۔ کیا تمام دنیا جہان والوں میں سے تم (یہ حرکت کرتے ہو کہ) مردوں سے فعل بد کرتے ہو یعنی سارے جہان سے ہٹ کر سب کے خلاف تم مردوں سے لواطت کرتے ہو دنیا میں کوئی مخلوق بھی اس عمل میں تمہاری شریک نہیں ہے کوئی بھی یہ حرکت نہیں کرتا اس مطلب پر عالمین سے مراد ہوگا ہر جماع کرنے والا (خواہ آدمی ہو یا کوئی اور) یا یہ مطلب ہے کہ آدمیوں میں سے تم ہی مردوں سے لواطت کرتے ہو اور کوئی آدمی ایسا نہیں کرتا اس مطلب پر العالمین سے مراد آدمی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
(165۔ 166) کیا تمام دنیا جہاں والوں میں تم یہ حرکت کرتے ہو کہ مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو اور تمہارے لیے جو تمہارے پروردگار نے تمہاری بیویوں کی شرم گا ہیں حلال کر رکھی ہیں ان کو نظر انداز کیے رکھتے ہو بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم حلال کو چھوڑ کر حرام کاموں کی طرف بڑھنے والے لوگ ہو۔
Read the full tafseer →اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ سارے جہانوں میں سے تم نے مردوں کو اس کام کے لیے چن لیا ہے کہ ان سے خواہش نفس پوری کرو، حالانکہ دنیا میں عورتیں بہت ہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا بھر میں تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت پوری کرنے کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، تم سے پہلے کسی نے یہ خسیس حرکت نہیں کی۔ اس مفہوم کی صراحت سورة عنکبوت میں اس طرح آئی ہیں : (اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ ۡ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) [ العنکبوت : 28 ] ”بیشک تم یقیناً اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ )
کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔
اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
قوم لوط کا تذکرہ۔
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…
Read the full tafseer →اَتَاْتُوْنَ [ کیا تم لوگ آتے ہو ] الذُّكْرَانَ [ مردوں کے پاس ] مِنَ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا
حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–167
61:۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی مشفقانہ پندو نصیحت کے جواب میں سرکش قوم نے نہایت تند اور طاغیانہ جواب دیا۔ اے لوط ! اگر تو اپنے دعوی نبوت سے اور اس وعظ و تبلیغ سے باز نہ آیا تو ہم تمہیں شہر بدر کردیں گے اور یہاں نہیں رہنے دیں گے۔ ” قال انی لعملکم من القالین “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم کی دھمکی کی ذرا پروا نہ کی اور صاف فرمادیا مجھے تمہارے اس فعل سے سخت نفرت ہے اور میں خود تم سے بیزار ہوں اور تم سے دوری چاہتا ہوں۔ قابل (علیہ السلام) تہدید ھم ذلک بما ذکر تنبیھا علی عدم الاکثرات بہ وانہ راغب فی الخلاص من سوء جو ارھم لشدۃ بغضہ لعملہم (روح ج 19 ص 116) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
ربط آیات
حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔
لوط (علیہ السلام) کی بعثت
ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…
Read the full tafseer →اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ 165ۙ
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
ذَّكَرُ ( مذکر)
والذَّكَرُ : ضدّ الأنثی، قال تعالی: وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثى [ آل عمران/ 36] ، وقال : آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] ، وجمعه : ذُكُور وذُكْرَان، قال تعالی: ذُكْراناً وَإِناثاً [ الشوری/ 50] ، وجعل الذَّكَر كناية عن العضو المخصوص . والمُذْكِرُ : المرأة التي ولدت ذکرا، والمِذْكَار : التي عادتها أن تذكر، وناقة مُذَكَّرَة : تشبه الذّكر في عظم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔
کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْن۔ َ وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَـکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ ۔ (الشعرآء : 165، 166)
(کیا تم ساری مخلوق میں سے مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ اور تمہارے رب نے جو تمہارے لیے بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ )
سرکشی اور نافرمانی نئی نئی گمراہیوں کو جنم دیتی ہے
نفسیات کے ماہرین جانتے ہیں کہ جس طرح نیکیوں اور اچھائیوں کا ایک سلسلہ نسب ہے کہ ایک نیکی دوسری سے پھوٹتی ہے اور اس طرح سے ایک سلسلۃ الذہب کو وجود دیتی ہے۔ اسی طرح برائی کبھی منفرد نہیں ہوتی۔ جب دلوں سے اللہ تعالیٰ کا خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–167
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوشہ۔
قوم کا جواب : کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت : 29)
قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب فرشتے (لڑکوں) کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے۔ تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ…
Read the full tafseer →165: اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ (کیا تم تمام جہاں والوں میں سے مردوں سے بدفعلی کرتے ہو) ۔ العالمینؔ سے یہاں مراد لوگ ہیں یعنی کیا تم مردوں سے فعل بد کرتے ہو حالانکہ عورتیں کثرت سے موجود ہیں۔ نمبر 2۔ کیا تم ہی صرف لوگوں میں سے ایسے ہو جو مردوں سے بدفعلی کرتے ہو۔ یہ بےحیائی تمہاری خصوصیت ہے۔ اس صورت میں العالمینؔ سے مراد ہر وہ حیوان جو نکاح کرتا ہے وہ مر اد ہے۔
Read the full tafseer →165۔ اتاتون الذکران ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد جماع الرجل ہے ، من العالمین بنی آدم میں سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت 160 سے 175
حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–165
81 قوم لوط کے اوندھے پن کا نمونہ و مظہر : سو حضرت لوط نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ یعنی یہ کام تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا۔ یعنی اس سے پہلے کوئی قوم من حیث القوم اس فعل قبیح اور جرم شنیع کی مرتکب نہیں ہوئی۔ سو تم لوگ حدود انسانیت سے نکل کر حضیض حیوانیت میں گرگئے ہو۔ بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے پہنچ گئے ہو۔ کیونکہ تم اس فعل خبیث کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب کوئی حیوان بھی نہیں کرتا کہ تم لوگ ایسے بگڑ گئے ہو کہ تم اس مخلوق کو جو کہ اس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ یعنی عورت ۔ اس کو چھوڑ کر تم مردوں کو اختیار کرتے ہو جو کہ تمہارے ممسوخ الفطرت ہونے کی دلیل ہے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیات 160 تا 175
اسرار و معارف
قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔
بد فعلی حرام ہے :
یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–165
11 ۔ یا سارے جہاں میں تم ہی ایسے لوگ ہو جو اس برے کام کا ارتکاب کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(26:165) اتاتون الذکران۔ الف استفہام کے لئے ہے۔ تاتون مضارع جمع مذکر حاضر تم آتے ہو۔ الذکران۔ ذکر کی جمع۔ مرد اتاتون الذکران کیا تم (بدفعلی کے لئے) مردوں کے پاس جاتے ہو۔
من العلمین۔ ساری مخلوق میں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 :
اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–165
حضرت لوط (علیہ السلام) کا اخلاقی مشن
1: حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور ایک خاص اخلاقی مشن کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوئے تھے ۔ ان کا اخلاقی نصب العین یہ تھا ۔ کہ سدوسیوں کے جذبہ ناپاک کی اصلاح کی جائے ۔ اور ان کے غیر فطری رجحانات کو فطرت کے صحیح اور پاکیزہ راسلے کی جانب منتقل کردیا جائے ۔ بات یہ تھی کہ سدومی ہوس اور شہوت کے مجسم پیکر تھے ان کے دلوں سے مذہب کا احترام اٹھ چکا تھا ۔ روحانیت بالکل مفقود تھی ۔ اور گو وہ بظاہر انسان تھے ۔ مگر جذتاب وخیالات کے اعتبار سے بالکل حیوان تھے ۔ وہ زندگی کو محض وسیلہ عیش و عشرت سمجھتے ۔ اور ہر وقت معصیت میں مبتلا رہتے ۔ حضرت لوط…
Read the full tafseer →165۔ کیا تم سب جہان والوں میں سے مردوں پر دوڑتے اور مائل ہوتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–165
ف 1۔ یعنی اور کوئی آدمی تمہارے سوا یہ حرکت نہیں کرتا، اور یہ نہیں کہ اس کے قبیح ہونے میں کچھ خفا ہے۔
Read the full tafseer →کیا تم تمام جہانوں میں لڑکوں پر مائل ہوتے ہو :
165۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بھری محفل میں ان کو نصیحت کی اور فرمایا کہ تم کو اتنا بھی احساس نہیں رہا کہ یہ سمجھ سکو کہ مردوں کے ساتھ بےحیائی لوٹ مار اور اسی قسم کی بداخلاقیاں بہت ہی برے اعمال ہیں تم یہ سب کچھ کرتے ہو اور بھری محفلوں اور مجلسوں میں کرتے ہو اور پھر شرمندہ ہونے کی بجائے بعد میں ان کا ذکر اس طرح فخریہ طور پر سناتے ہو کہ گویا یہ کارہائے نمایاں ہیں جو تم نے انجام دیئے ہیں ۔ قوم نے اس نصیحت کو سنا تو غم وغصہ سے تلملا اٹھی اور کہنے لگی ‘ لوط بس یہ نصیحتیں اور عبرتیں ختم کرو اور اگر ہمارے ان اعمال سے تیرا رب ناراض ہے تو وہ عذاب لا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–165
Commentary
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149]
According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِهِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth.
Useful vocations are…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–165
108 This can have two meanings: (1) Of all the creatures you have chosen males only for the purpose of gratifying your sex desires, whereas there are plenty of women in the world; and (2) You alone are the people in the whole world, who go to men to satisfy the sex desires; even the animals do not resort to this. This second meaning has been explained in Surahs Al-A'raf and Al- 'Ankabut thus: "Have you become so shameless that you commit such indecent acts as no one committed before you in the world?" (Al-A'raf: 80).
Read the full tafseer →