Ash-Shu'araa 26:170

Ash-Shu'araa · from ayah 170

26:170

فَنَجَّیْنٰهُ وَاَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَ ۟ۙفَنَجَّيۡنٰهُ وَ اَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ

سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی

— Fateh Muhammad Jalandhari

So We saved him and his family, all,

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 9 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:170

آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرما دی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ ہم نے اسے اور اس کے سب اہل خانہ کو نجات دی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہم نے اس کو اور اس کے سارے اہل کو نجات دی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو عذاب آنے پر ہم نے بچادیا ان کو بھی اور ان کے گھر والوں کو بھی سب کو

— مولانا اسحاق مدنی

سو ہم نے انہیں اور ان کے گھروالوں سب کو نجات دی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو ہم نے نجات دی اس ؑ کو بھی اور اس ؑ کے سب گھر والوں کو بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We delivered him and all his family

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So We saved him and his family, all of them

— Muhammad Taqi Usmani

So We saved him and his family, all of them

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, We saved him and his family, all,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So We saved him and his household, every one,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So We saved him and his family, all,

— Saheeh International

We saved him and all of his family

— Muhammad Sarwar

So We delivered him and his followers all,

— Muhammad Habib Shakir

So We delivered him and his household all.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:170

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 165–175

ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 170–171

سورة الشُّعَرَآء 113 اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے۔ سورة تحریم میں حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط کی بیویوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ کانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰھُمَا (آیت 10)۔ " یہ دونوں عورتیں ہمارے دو صالح بندوں کے گھر میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ خیانت کی "۔ یعنی دونوں ایمان سے خالی تھیں اور اپنے نیک شوہروں کا ساتھ دینے کے بجائے ان دونوں نے اپنی کافر قوم کا ساتھ دیا۔ اسی بنا پر جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط ؑ پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت لوط ؑ کو حکم دیا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر اس علاقے سے نکل جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ہدایت فرما دی کہ اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 166–170

معارف و مسائل غیر فطری فعل اپنی بیوی سے بھی حرام ہے وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ، لفظ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ میں صرف من اصطلاحی الفاظ میں بیانیہ بھی ہوسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ تمہاری خواہش نفسانی کے لئے جو اللہ نے بیویاں پیدا فرمائی ہیں تم ان کو چھوڑ کر اپنے ہم جنس مردوں کو اپنی شہوت نفس کا نشانہ بناتے ہو جو خباثت نفس کی دلیل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دیں تو اشارہ اس طرف ہوگا کہ تمہاری بیبیوں کا جو مقام تمہارے لئے بنایا گیا اور جو امر فطری ہے اس کو چھوڑ کر بیویوں سے خلاف فطرت عمل کرتے ہو جو کہ قطعاً حرام ہے۔ غرض اس دوسرے معنے کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 170–173

آیت 173-170 اس کے بعد قوم لوط پر عذاب آگیا۔ اس عذاب کی نوعیت کی تفصیل ہم سورة حجر کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ عجور سے مرا حضرت لوط کی بیوی ہے جس کی ساری ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں۔ اس وجہ سے حضرت لوط کے اہل میں سے ہونے کے باوجود یہ عذاب کی گرفت میں آگئی۔ لفظ عجوز یہاں اس کے لئے بطور تحقیر استعمال ہوا ہے۔ قریش کو تنبیہ فآء مطر المنذرین میں قریش کے لئے انذار و تنبیہ ہے کہ جن لوگوں کو کسی رسول کے ذریعہ سے انذار کیا جاتا ہے اگر وہ اس انذار کو خاطر میں نہیں لاتے تو ان پر اسی طرح خدا کے غضب کی بارش ہوتی ہے اور یہ بارش نہایت ہی بری بارش ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 169–171

171-1اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بوڑھی بیوی ہے جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، چناچہ وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہلاک کردی گئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 169–170

35: یعنی اس کڑھن سے نجات دیدے جو ان لوگوں کو ایسے گھناؤنے کردار میں ملوث دیکھ کر پیدا ہوتی ہے، اور اس عذاب سے محفوط رکھ جو ان کی حرکتوں کی وجہ سے ان پر نازل ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 170–171

فنجینہ واھلہ اجمعین الا عجوزاً فی الغبرین (171) یہ بوڑھی عورت کون تھی۔ یہ ان کی بیوی تھی۔ دوسری سورتوں میں تصریح آئی ہے۔ یہ بھی بڑی مگر وہ عورت تھی کہ یہ ان لوگوں کی حمایت میں تھی جو یہ مکروہ فعل کرتے تھے اور ان کی مددگار تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 170–171

8 یہ ان کی بیوی تھی جو ان بدمعاشوں سے مل رہی تھی۔ جب عذاب آیا تو یہ بھی ہلاک ہوئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 168–171

آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ” یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 170–171

102 حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی درپردہ ان اوباشوں سے ملی ہوئی تھی۔ جب کوئی مہمان آپ کے گھر آتا تو یہ ان اوباشوں کو اشاروں کنایوں سے خفیہ طور پر رپورٹیں دیا کرتی تھی۔ چناچہ جب اس قوم پر عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تشریف لائے تو اسی بڑھیا کی رپورٹ پر آس پاس کے اوباش ہمسائے بڑی نیت سے آپ کے گھر میں گھس آئے تھے۔ لہذا یہ عورت کسی لحاظ سے بھی نجات کی مستحق نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 169–171

92۔ مراد زوجہ لوط ہے تفصیلی قصہ سورة ہودپ 12 میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ممایعملون “ میں مضاف مقدر ہے۔ اے من عقوبۃ عملھم (کشاف) اے من شوم عملھم (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 160–175

آیت نمبر 160 تا 175 ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فنجینہ واہلہ اجمعین۔ سو ہم نے لوط کو اور اس کے گھر والوں کو یعنی دین میں جو ان کے ساتھی تھے۔ سب کو بچا لیا۔ پہلے سے ہی ان کو بستی سے باہر نکال دیا اور عذاب سے محفوظ رکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 169–172

(169 تا 172) چناچہ لوط ؑ نے بددعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے متعلقین کو نجات دی سوائے ان کی منافقہ بیوی کے کہ وہ عذاب کے اندر رہ جانے والوں میں رہ گئی اور پھر ہم نے بقیہ ان کی قوم کے تمام لوگوں کو ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 170–173

3 ان آیات کی تفسیر اس مقام پر لوط ؑ کے قصے کے شروع میں دیے ہوئے حوالہ جات میں ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 160–175

( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ ) کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔ اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 160–175

قوم لوط کا تذکرہ۔ 1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَنَجَّيْنٰهُ [ تو ہم نے نجات دی ان کو ] وَاَهْلَهٗٓ [ اور ان (علیہ السلام) کے گھر والوں کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 161–176

اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–191

قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 170–176

63:۔ یہ ساتویں نقلی دلیل اور تخویف اخروی ہے۔ ” اذ قال لھم شعیب “ تا ” علی رب العلمین “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا نسبی تعلق چونکہ اہل مدین سے تھا اصحاب الایکہ سے نہیں تھا اس لیے یہاں ” اخوھم شعیب “ نہیں فرمایا اور جہاں اہل مدین کی طرف ان کی بعثت کا ذکر کیا وہاں فرمایا۔ ” والی مدین اخاھم شعیبا “ (ھود رکوع 8) لم یقل ھنا اخوھم شعیب لانہ لم یکن من نسبھم بل کان من نسب اھل مدین ففی الحدیث ان شعیبا اخا مدین ارسل الیھم والی اصحاب الایکۃ (مدارک ج 3 ص 148) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 160–175

ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَنَجَّيْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اَجْمَعِيْنَ۝ 170ۙ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 161–176

1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔ کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 170–173

فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلاَّ عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا فَسَآئَ مَطَرُالْمُنْذَرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 170 تا 173) (آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو نجات دی۔ بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔ پھر ان پر برسائی ایک بارش، تو کیا ہی بری تھی وہ بارش جو ان پر برسی جن کو انجام سے آگاہ کیا جا چکا تھا۔ ) قبولیتِ دعا اور قوم کا انجام قرآن کریم نے بعض دوسری سورتوں میں کسی حد تک تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کس طرح نوجوان مہمانوں کی شکل میں دو فرشتے عذاب کی اطلاع دینے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 168–176

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر، قوم شعیب کفرو شرک میں ملّوث ہونے کے ساتھ لین دین میں بدترین خیانت کرتی تھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں جس بنا پر ان کی قوم کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

170: فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَہٗ اَجْمَعِیْنَ (پس ہم نے اس کو اور ان کے تمام اہل کو نجات دی) اھل سے مراد یہاں ان کی اولاد بیٹیاں اور ان کے پیرو کار مومن مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 160–175

(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 160–175

آیت 160 سے 175 حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 169–171

85 حضرات انبیاء و رسل کے نجات دہندہ بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم نے بچا لیا لوط کو بھی اور ان کے تمام متعلقین کو بھی سوائے ایک بڑھیا کے "۔ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے کہ وہ کافرہ تھی۔ اور وہ کافروں ہی کے ساتھ ہلاک ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے نہ کہ پیغمبر کے اختیار میں۔ ورنہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا یہ حشر اور انجام کیوں ہوتا ؟۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اپنا ایمان و عقیدہ اگر صحیح نہ ہو تو کسی کی قرابت و رشتہ داری کوئی کام نہیں دے سکتی۔ خواہ وہ کسی پیغمبر کی قرابت ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری طرف اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 160–175

آیات 160 تا 175 اسرار و معارف قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔ بد فعلی حرام ہے : یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 167–170

(26:167) لم تنتہ تو باز نہیں آئے گا۔ ملاحظہ ہو 26:116 ۔ المخرجین اسم مفعول جمع مذکر مجرور معرف باللام اخراج مصدر نکالے گئے۔ نکالے ہوئے ۔ ملک بدر کئے جانے والے۔ القالین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت جر القالی واحد بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ اصل میں اس کا مادہ واوی ہے قلو جس کا معنی ہے پھینکنا۔ محاورہ ہے قالت الناقۃ براکبھا۔ اونٹنی نے اپنے سوار کو پھینک دیا۔ جس چیز سے دل بوجہ بغض یا بوجہ ناپسندیدہ ہونے کے اس طرح گھن گھائے گویا اسے پھینک رہا ہے تو اسے مقلو کہا جائے گا۔ پھینک دینے میں نفرت اور بیزاری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا القالین کے معنی ہوئے بیزار ہونے والے۔ چھوڑنے والے۔ پھینکنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 160–175

لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 : اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 160–175

حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 169–178

ف 1: حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ سے پناہ مانگی ۔ اور دعا کی کہ اللہ مجھے اور میرے گھر والوں کو ان ظالموں سے مخلصی عطا فرما ۔ اور ان کی بداعمالیوں کے وبال سے نجات دے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ ان لوگوں پر پتھروں کی سخت بارش ہوئی ۔ اور یہ ہمیشہ کے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ بداخلاقی بھی قوم کی تباہی اور ہلاکت کا باعث ہوسکتی ہے ۔ بلکہ اخلاق دشمنی کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ۔ اس وجہ اہم ہے کہ اس کے لئے ایک خاص پیغمبر مبعوث اور مامور کیا گیا ۔ کیا مسلمانوں نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان واقعات کو کیوں بیان فرماتے ہیں ؟ آخر لوط (علیہ السلام) کی قوم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 166–171

ف 2۔ مرد اس سے زوجہ ہے لوط (علیہ السلام) کی۔ عذاب میں رہ جانا اس لئے تھا کہ وہ کافرہ تھی اور اس لئے رات کو لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بستی سے نہ نکلی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرمان الہی کہ ہم نے لوط (علیہ السلام) اور اس کے لوگوں کو نجات دے دی : 170۔ لوط (علیہ السلام) کی ان بستیوں کے عذاب کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی مختصر یہ کہ جب عذاب الہی کا وقت آپہنچا تو ملائکہ کے اشارہ پر آخر شب میں حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے خاندان سمیت دوسری جانب سے نکل کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے ان کی رفاقت سے انکار کردیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آگئی آخر شب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کردیا اور پھر آبادی پر سخت آندھی نے تا بڑ توڑ کنکر پھینکنے شروع کردیئے اور ساتھ ہی سخت بارش کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور اس طرح ان کا نام ونشان مٹا دیا اور وہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 166–170

Commentary Unnatural act is unlawful even with one's own wife وَتَذَرُ‌ونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَ‌بُّكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم And leave what your Lord has created for you, that is, your wives? - 26:166 In the phrase مِّنْ أَزْوَاجِكُم the word مِّنْ (min) Min could be descriptive (which is translated above as 'that is1) if taken in the technical sense, which would mean that in order to satisfy your lust you go after the homosexual men instead of your wives, whom Allah has given you to meet your natural urge. This is indeed a proof of malignity. The other possibility is that the letter 'Min' is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 170–171

113 This refers to the Prophet Lot`s wife as stated in verse 10 of Surah Tahrim about the wives of Prophets Noah and Lot: "These' two women were in the houses of Our two pious servants but they acted treacherously towards them. " That is, they did not believe, and sided with the unbelievers instead of their righteous husbands. Therefore, when Allah decreed to send a torment on the people of Lot, He commanded Lot to leave the place along with his people but to leave his wife behind: "So depart from here with the people of your household in the last hours of the night. And look here: none of…

Read the full tafseer →