Ash-Shu'araa 26:159

Ash-Shu'araa · from ayah 159

26:159

وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۟۠وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, your Lord - He is the Exalted in Might, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:159

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار صاحب اقتدار بھی ہے، بڑا مہربان بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ آپ کا پروردگار ہی سب پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک تیرا رب عزیز و رحیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بیشک تمہارا رب بڑا ہی زبردست نہایت ہی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک آپ کا پروردگار بڑا قوت والا ہے بڑا رحمت والا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً آپ ﷺ کا پروردگار بہت زبردست نہایت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک تمہارا پروردگار غالب اور مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily Your Lord is Immensely Mighty, Most Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and indeed your Lord is the Mighty, the Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

and indeed your Lord is the Mighty, the Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, your Lord He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! thy Lord! He is indeed the Mighty, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, your Lord - He is the Exalted in Might, the Merciful.

— Saheeh International

Your Lord is Majestic and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And most surely your Lord is the Mighty, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And verily thy Lord! He is the Mighty, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

And verily thy Lord is He, the Exalted in Might, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:159

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 153–159

نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 159–160

سورة الشُّعَرَآء 107 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 80 تا 84۔ ہود، 74 تا 83۔ الحجر 57 تا 77۔ الانبیاء 71 تا 75 النمل 54 تا 58۔ العنکبوت 28۔ 35۔ الصافات 133 تا 138۔ القمر 33 تا 39۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–159

معارف و مسائل وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔ مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 158–159

آیت 158۔ 159 یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہے اور اس کا موقع پو محل بالکل واضح ہے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 159–160

160-1حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے بھائی ہارون بن آزر کے بیٹے تھے۔ اور ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی کی زندگی میں نبی بناکر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم ' سدوم ' اور ' عموریہ ' میں رہتی تھی۔ یہ بستیاں شام کے علاقے میں تھیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 158–165

33: سورة ہود : 68 میں قرآن کریم ہی نے بتایا ہے کہ یہ عذاب ایک خوفناک چنگھاڑ کی شکل میں آیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر رہ گئے، مزید تفصیل وہیں پر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 158–159

فاخذھم العذاب ط یہاں اس عذاب کی تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اس سورت میں تمام قصص کو اختصار کے ساتھ لانا مقصود تھا۔ اور اب آخری سبق :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 158–165

3 یعنی سارے جہان میں سے مرد ہی تمہاری شہوت رانی کے لیے رہ گئے، یا یہ کہ سارے جہان میں سے تم ہی ہو جو اس فعل شنیع کے مرتکب ہوتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 156–165

آیت 165 اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ” دنیا جہان میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کی غرض سے َ مردوں کے پاس جاتے ہو۔ ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم یہ حرکت نہیں کرتی ‘ بلکہ یہ کام تو جانور بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 159–160

99 لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے چچا زاد بھائی تھے۔ جب حضرت ابراہیم نے اپنے وطن کو خیرباد کہا تو اس وقت صرف یہی ایک فرد آپ پر ایمان لایا تھا اور آپ کے ہمراہ فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہیں آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ اور حضرت ابراہیم نے آپ کو شرق اردن کی طرف روانہ کردیا۔ آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم اور اس کے ارد گرد کا علاقہ اور ھمورہ کی بستیں تھیں۔ آپ کی قوم مشرک اور دوسری بداخلاقیوں کے علاوہ لواطت میں گرفتار بلکہ اس بدفعلی کی موجد تھی۔ ان لوگوں پر بھی خاندانی منصوبہ بندی کا بھوت سوار تھا۔ اسی لئے شہوت رانی کے فطری طریق کو چھوڑ کر لونڈے بازی کا فعل شروع کیا پھر یہ لوگ اپنی غیر فطری روش پر نادم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 158–161

89۔ حضرت لوط اور قوم لوط پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” المرسلین “۔ کے صیغہ جمع پر حاشیہ اوپر گزر چکا، (آیت) ” اخوھم “۔ اخ انہیں یہاں اس لحاظ سے کہا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) عراق سے آکر انہیں کے ملک شرق یردن میں بس گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–159

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 158–159

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۭ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (78) اور ہود (67)۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر سورت کے شروع میں آیت (8، 9) کے تحت گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 153–159

قالوا انما انت من المسخرین یہ سحر سے مشتق ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے جس طرح مہدوی نے بیان کیا ہے۔ یعنی تجھ پر جادو کا اثر ہے تو تیری عقل باطل ہوگئی ہے کیونکہ تو ہماری مثل بشر ہے تو تو ہمارے سوا کس طرح رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں بار بار کھلایا پلایا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، قتادہ اور مجاہد کا قول ہے جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس تعبیر کی بناء پر وہ سخر سے مشتق ہے جو رئہ ہے یعنی تجھے سحر لا حق ہوگیا ہے جو ہماری مثل کھاتا پیتا ہے جس طرح لبید نے کہا : فان تسالینا فیم نحن فاتنا عصا فیر من ھذا الانام المسحر اگر تو ہمارے بارے میں سوال کرتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–159

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِنَّ رَبَّكَ : اور بیشک آپ کا رب ][ لَهُوَ الْعَزِيْزُ : یقینا وہی بالادست ][ الرَّحِيْمُ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–159

قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 158–160

60:۔ یہ چھٹی نقلی دلیل اور تخویف دنیوی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم لوط “ تا ” علی رب العلمین اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ ” اتاتون الذکران الخ “ قوم لوط خلاف فطرت فعل کی عادی تھی حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں اس فعل بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا کس قدر کم عقلی ہے کہ تم مردوں سے خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے ہو اور جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے اللہ نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ” بل انتم قوم عٰدون الخ “ پھر اس فعل شنیع کے ارتکاب میں تم اس قدرت حد سے گذر چکے ہو کہ تمہاری فطرت ہی مسخ ہوچکی ہے اور تم بھری مجلس میں بھی یہ فعل کرتے ہوئے نہیں شرماتے ہو۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 153–159

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا آپ نے حلق تبلیغ ادا کرتے ہوئے قوم کو خدا تعالیٰ کا پیغام سنا ۔ ان کی خامیاں بیان کیں اور ان سے بچنے کی تلقین کی ۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس فانی دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا ۔ آپ نے قوم کو ان کی خوشحالی پر تنبیہ فرمایا اور اسراف سے منع فرمایا ۔ اللہ کا خوف دلایا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں تمہیں نصیحت کی بات بتلاتا ہوں جس میں خود تمہارا ہی فائدہ ہے۔ قوم ثمود کا جواب آپ کی قوم نے پیغام حق سن کر اس کو تسلیم کرنے کی بجائے نہایت متکبرانہ طریقے سے یوں جواب دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ رَبَّكَ لَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ۝ 159ۧ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 158–159

فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 158، 159) (بالآخر ان کو عذاب نے آپکڑا، بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ اور بیشک تیرا رب عزیز اور رحیم ہے۔ ) جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نشانی کو بھی ظلم اور تعدی کا نشانہ بنایا اور اس کی حرمت کو پامال کر ڈالا تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آگیا۔ اور قرآن کریم کے بیان کے مطابق حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ اب تمہارے لیے صرف تین دن کی مہلت ہے۔ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰـثَـۃَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 156–160

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کا اپنی قوم کو سمجھنا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نسل انسانی کے ناطے سے تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ انھوں نے انہی الفاظ اور انداز سے اپنی دعوت کا آغاز کیا جس طرح ان کے پیش رو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انھوں نے بار بار قوم کو اپنے رب سے ڈرایا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ میں رب کے پیغام تم تک پوری دیانت و امانت کے ساتھ پہنچانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

159: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ (بیشک آپ کا رب ہی غالب اور بڑا مہربان ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 157–164

157۔ فعقروھا فاصبحوا نادمین، جب اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اللہ کا عذاب نظر آگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 141–159

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–159

آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 158–165

81 قوم لوط کے اوندھے پن کا نمونہ و مظہر : سو حضرت لوط نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ یعنی یہ کام تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا۔ یعنی اس سے پہلے کوئی قوم من حیث القوم اس فعل قبیح اور جرم شنیع کی مرتکب نہیں ہوئی۔ سو تم لوگ حدود انسانیت سے نکل کر حضیض حیوانیت میں گرگئے ہو۔ بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے پہنچ گئے ہو۔ کیونکہ تم اس فعل خبیث کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب کوئی حیوان بھی نہیں کرتا کہ تم لوگ ایسے بگڑ گئے ہو کہ تم اس مخلوق کو جو کہ اس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ یعنی عورت ۔ اس کو چھوڑ کر تم مردوں کو اختیار کرتے ہو جو کہ تمہارے ممسوخ الفطرت ہونے کی دلیل ہے ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 141–159

آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 159–161

10 ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) جس بستی میں جا کر رہے تھے اس کا نا م ” سدوم “ تھا۔ اس کے رہنے والوں کو حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اس کے ہم وطن یا ہم شہر تھے۔ اگرچہ وہ اصلاً بابل کے رہنے والے تھے اور اپنے چچا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھیجنے پر وہاں گئے تھے۔ قصہ کی تفصیل سورة اعراف اور ہود میں گزر چکی ہے۔ (دیکھئے اعراف آیت 80 تا 84 و ہود آیت 69 تا 83 ضمن قصہ ابراہیم) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 157–164

(26:157) عقروھا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (اونٹنی کے لئے) انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عقر یعقر (ضرب) عقر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں۔ فاصبحوا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب) انہوں نے صبح کی۔ وہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–159

لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 141–159

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 153–160

ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔ ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 158–165

ف 1۔ یعنی اور کوئی آدمی تمہارے سوا یہ حرکت نہیں کرتا، اور یہ نہیں کہ اس کے قبیح ہونے میں کچھ خفا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ آپ کا رب بڑے غلبہ والا اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے : 159۔ زیر نظر آیت چوتھی بار اس سورت میں بیان کی جا رہی ہے اور ایک ہی سبق ہے جو بار بار ہر قوم کے ناطے اور ورطے سے یاد کرایا جا رہا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس طرح کے ڈھیٹ لوگوں کو ایک ہی بار دھٹائی کرتے دیکھ کر پکڑلیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ یہ اس کے قانون کے خلاف ہے اور اپنے قانون کے خلاف وہ نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا اور اسی قانون کے تحت آج وہ تم کو مہلت پر مہلت دئیے جا رہا ہے ورنہ اس سے تمہارے کارہائے نمایاں بھی پوشیدہ نہیں ‘ بہتر ہے کہ اس کی عطا کردہ اس ڈھیل سے فائدہ حاصل کرلو اور اپنی ان بداعتدالیوں سے باز آجاؤ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–165

Commentary وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِ‌هِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149] According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِ‌هِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth. Useful vocations are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 159–160

107 For comparison, see Al-A'raf: 80-84, Hud: 7483. AI-Hijr: 57-77, AI-Anbiya': 71-75, An-Naml; 54-58, Al-'Ankabut: 28-35, As-Saffat: 133-138 and A I-Qamar: 33-39.

Read the full tafseer →