Ash-Shu'araa 26:158

Ash-Shu'araa · from ayah 158

26:158

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ— وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟فَاَخَذَهُمُ الۡعَذَابُ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌  ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the punishment seized them. Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:158

عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور عذاب نے انہیں آ دبوچا۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ عذاب نے انہیں آپکڑا، یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں عذاب نے آلیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو انہیں عذاب نے آپکڑا، بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھیں عذاب نے پکڑ لیا۔ بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آخر عذاب نے انھیں آلیا۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بالآخر ان کو عذاب نے آدبوچا بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ آپکڑا ان کو اس عذاب نے جس سے ان کو خبردار کیا گیا تھا۔ بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے مگر اکثر لوگ پھر بھی ماننے والے نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ان کو عذاب نے آلیا بیشک اس ماجرے میں ایک (بڑا) نشان ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس ان کو آپکڑا عذاب نے یقیناً اس میں نشانی ہے لیکن ان کی اکثریت ماننے والی نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو ان کو عذاب نے آپکڑا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانیوالے نہیں تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

So the chastisement seized them. Surely there is a Sign in this, but most of them would not believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the punishment seized them. Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers,

— Muhammad Taqi Usmani

and the punishment seized them. Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, the torment overtook them. Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So the retribution came on them. Lo! herein is indeed a portent, yet most of them are not believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the punishment seized them. Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

and torment struck them. In this there is evidence of the Truth, yet many people do not have any faith.

— Muhammad Sarwar

So the punishment overtook them. Most surely there is a sign in this, but most of them do not believe.

— Muhammad Habib Shakir

So the torment took hold of them: verily herein is a sign, but most of them are not believers.

— Abdul Majid Daryabadi

But the Penalty seized them. Verily in this is a Sign: but most of them do not believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:158

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 153–159

نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 106 قرآن میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جب اونٹنی مار ڈالی گئی تو حضرت صالح ؑ نے اعلان کیا تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ ، " تین دن اپنے گھروں میں مزے کرلو " (ہود، آیت 65)۔ اس نوٹس کی مدت ختم ہونے پر رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب ایک زبردست دھماکا ہوا اور اس کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا جس نے آن کی آن میں پوری قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو ہر طرف اس طرح کچلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں جیسے باڑے کی باڑھ میں لگی ہوئی سوکھی جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر رہ گئی ہوں۔ نہ ان کے سنگین قصر انہیں اس آفت سے بچا سکے نہ پہاڑوں میں کھو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–159

معارف و مسائل وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔ مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 158–159

آیت 158۔ 159 یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہے اور اس کا موقع پو محل بالکل واضح ہے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

158-2یہ عذاب زمین سے زلزلے اور اوپر سے سخت چنگھاڑ کی صورت میں آیا، جس سے سب کی موت واقع ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 158–165

33: سورة ہود : 68 میں قرآن کریم ہی نے بتایا ہے کہ یہ عذاب ایک خوفناک چنگھاڑ کی شکل میں آیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر رہ گئے، مزید تفصیل وہیں پر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 158–159

فاخذھم العذاب ط یہاں اس عذاب کی تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اس سورت میں تمام قصص کو اختصار کے ساتھ لانا مقصود تھا۔ اور اب آخری سبق :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 158–165

3 یعنی سارے جہان میں سے مرد ہی تمہاری شہوت رانی کے لیے رہ گئے، یا یہ کہ سارے جہان میں سے تم ہی ہو جو اس فعل شنیع کے مرتکب ہوتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 156–165

آیت 165 اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ” دنیا جہان میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کی غرض سے َ مردوں کے پاس جاتے ہو۔ ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم یہ حرکت نہیں کرتی ‘ بلکہ یہ کام تو جانور بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

97 اس بدبخت نے اونٹنی کی کونچیں) پاؤں کی رگیں ( تلوار وغیرہ کے حملہ کرکے کاٹ ڈالیں۔ اونٹنی نے ایک زور کی چیخ ماری اور اسی پہاڑ میں جاکر غائب ہوگئی۔ اسی طرح اس کا بچہ بھی اسی پہاڑ میں جاکر غائب ہوگیا۔ اب ان لوگوں کو عذاب کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ جب حالات تشویشناک ہوجائیں تو عموماً انسان کی عقل ماری جاتی ہے۔ اور وہ الٹا سوچنے لگتی ہے۔ چناچہ ان بدبختوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھی ٹھکانے لگانے کے لئے خفیہ مشورے شروع کردیئے۔ ان کی عقل نے یہی کام کیا کہ اگر صالح بھی نہ رہے تو شائد عذاب نہیں آئے گا ان حالات کا صالح (علیہ السلام) کو علم ہوگیا تو آپ نے انھیں بحکم الٰہی تین دن کا الٹی میٹم دے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 158–161

89۔ حضرت لوط اور قوم لوط پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” المرسلین “۔ کے صیغہ جمع پر حاشیہ اوپر گزر چکا، (آیت) ” اخوھم “۔ اخ انہیں یہاں اس لحاظ سے کہا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) عراق سے آکر انہیں کے ملک شرق یردن میں بس گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–159

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاخذہم العذاب آخر عذاب نے ان کو آپکڑا یعنی اس عذاب نے جس کی ان کو دھمکی دی گئی تھی۔ ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ بیشک اس میں بڑی نشانی (واضح دلیل) ہے اور ان میں سے اکثر لوگ مؤمن نہیں تھے (اس لئے ان پر عذاب آیا)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(158) بالآخر تین دن کے بعد ان کو عذاب نے آپکڑا، اے نبی کریم ﷺ اس واقعہ میں بھی جو ہم نے ان کے ساتھ کیا بعد والوں کے لیے بڑی عبرت ہے اور ان میں اکثر ایمان نہیں لائے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 158–159

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۭ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (78) اور ہود (67)۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر سورت کے شروع میں آیت (8، 9) کے تحت گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 153–159

قالوا انما انت من المسخرین یہ سحر سے مشتق ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے جس طرح مہدوی نے بیان کیا ہے۔ یعنی تجھ پر جادو کا اثر ہے تو تیری عقل باطل ہوگئی ہے کیونکہ تو ہماری مثل بشر ہے تو تو ہمارے سوا کس طرح رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں بار بار کھلایا پلایا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، قتادہ اور مجاہد کا قول ہے جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس تعبیر کی بناء پر وہ سخر سے مشتق ہے جو رئہ ہے یعنی تجھے سحر لا حق ہوگیا ہے جو ہماری مثل کھاتا پیتا ہے جس طرح لبید نے کہا : فان تسالینا فیم نحن فاتنا عصا فیر من ھذا الانام المسحر اگر تو ہمارے بارے میں سوال کرتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–159

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۭ: تو پکڑا ان کو عذاب نے ][ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ: بیشک اس میں نشانی ہے ][ وَمَا كَانَ : اور نہیں تھے ][ اَكْثَرُهُمْ : ان کے اکثر ][ مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–159

قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 158–160

60:۔ یہ چھٹی نقلی دلیل اور تخویف دنیوی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم لوط “ تا ” علی رب العلمین اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ ” اتاتون الذکران الخ “ قوم لوط خلاف فطرت فعل کی عادی تھی حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں اس فعل بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا کس قدر کم عقلی ہے کہ تم مردوں سے خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے ہو اور جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے اللہ نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ” بل انتم قوم عٰدون الخ “ پھر اس فعل شنیع کے ارتکاب میں تم اس قدرت حد سے گذر چکے ہو کہ تمہاری فطرت ہی مسخ ہوچکی ہے اور تم بھری مجلس میں بھی یہ فعل کرتے ہوئے نہیں شرماتے ہو۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 153–159

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا آپ نے حلق تبلیغ ادا کرتے ہوئے قوم کو خدا تعالیٰ کا پیغام سنا ۔ ان کی خامیاں بیان کیں اور ان سے بچنے کی تلقین کی ۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس فانی دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا ۔ آپ نے قوم کو ان کی خوشحالی پر تنبیہ فرمایا اور اسراف سے منع فرمایا ۔ اللہ کا خوف دلایا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں تمہیں نصیحت کی بات بتلاتا ہوں جس میں خود تمہارا ہی فائدہ ہے۔ قوم ثمود کا جواب آپ کی قوم نے پیغام حق سن کر اس کو تسلیم کرنے کی بجائے نہایت متکبرانہ طریقے سے یوں جواب دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَخَذَہُمُ الْعَذَابُ۝ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً۝ 0ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 158 أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 158–159

فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 158، 159) (بالآخر ان کو عذاب نے آپکڑا، بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ اور بیشک تیرا رب عزیز اور رحیم ہے۔ ) جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نشانی کو بھی ظلم اور تعدی کا نشانہ بنایا اور اس کی حرمت کو پامال کر ڈالا تو تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آگیا۔ اور قرآن کریم کے بیان کے مطابق حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ اب تمہارے لیے صرف تین دن کی مہلت ہے۔ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰـثَـۃَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 156–160

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کا اپنی قوم کو سمجھنا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نسل انسانی کے ناطے سے تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ انھوں نے انہی الفاظ اور انداز سے اپنی دعوت کا آغاز کیا جس طرح ان کے پیش رو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انھوں نے بار بار قوم کو اپنے رب سے ڈرایا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ میں رب کے پیغام تم تک پوری دیانت و امانت کے ساتھ پہنچانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سزا کا تسلط : 158: فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابُ (پس ان کو عذاب نے آپکڑا) جس کا پہلے تذکرہ ہوچکا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَ مَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 157–164

157۔ فعقروھا فاصبحوا نادمین، جب اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اللہ کا عذاب نظر آگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 141–159

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–159

آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 158–165

81 قوم لوط کے اوندھے پن کا نمونہ و مظہر : سو حضرت لوط نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ یعنی یہ کام تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا۔ یعنی اس سے پہلے کوئی قوم من حیث القوم اس فعل قبیح اور جرم شنیع کی مرتکب نہیں ہوئی۔ سو تم لوگ حدود انسانیت سے نکل کر حضیض حیوانیت میں گرگئے ہو۔ بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے پہنچ گئے ہو۔ کیونکہ تم اس فعل خبیث کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب کوئی حیوان بھی نہیں کرتا کہ تم لوگ ایسے بگڑ گئے ہو کہ تم اس مخلوق کو جو کہ اس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ یعنی عورت ۔ اس کو چھوڑ کر تم مردوں کو اختیار کرتے ہو جو کہ تمہارے ممسوخ الفطرت ہونے کی دلیل ہے ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 141–159

آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ اس کی تفصیل دوسری آیات میں بیان کی گئی ہے۔ سورة اعراف میں ہے : فاخذتھم الرجفتفا صبحا فی دارھم جاثمین (آیت 78) اور سورة قمر میں ہے : انا ارسلنا علیھم صیحۃ واخدتھم ہم نے ان پر ایک چیخ کا عذاب بھیجا۔ (آیت 31) مفسرین نے لکھا ہے کہ اول نازلہ آیا اور اس کے بعد چنگھاڑ سے تباہ کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 157–164

(26:157) عقروھا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (اونٹنی کے لئے) انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عقر یعقر (ضرب) عقر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں۔ فاصبحوا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب) انہوں نے صبح کی۔ وہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–159

لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 141–159

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 153–160

ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔ ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

158۔ پھر ان کو عذاب نے آلیا بیشک ثمود کے اس واقعہ میں بڑی سبق آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان کافروں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 158–165

ف 1۔ یعنی اور کوئی آدمی تمہارے سوا یہ حرکت نہیں کرتا، اور یہ نہیں کہ اس کے قبیح ہونے میں کچھ خفا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عذاب نے ان کو آلیا بلاشبہ اس میں ایک نشانی ہے لیکن اکثر ماننے والے کب ہیں ؟ : 158۔ اس طرح جو عذاب کا نشان انہوں نے طلب کیا تھا وہ ان کے سروں پر کھڑا کردیا گیا اور صالح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے لوگوں کو لے کر یہاں سے ہجرت کر جاؤ چناچہ صالح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے وہاں سے ہجرت کر گئے اور اس اعلان کی مدت جب ختم ہونے پر آئی تو رات کے پچھلے حصہ میں ایک زبردست دھماکہ ہوا یعنی آتش فشاں پھٹا اور اس کے ساتھ ہی ایک سخت زلزلہ آیا جس نے آن کی آن میں پوری قوم کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا اور صبح ہوئی تو ہر طرف کچلی اور مسلی ہوئی لاشیں ہی لاشیں پڑی تھیں اور ان کے نقش ونگار بھی بدلے پڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–165

Commentary وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِ‌هِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149] According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِ‌هِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth. Useful vocations are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

106 As stated at other places in the Qur'an, when the she-camel was killed, Prophet Salih declared: "You have only three more days to enjoy yourselves in your houses." (Hud: 65) When this time limit came to an end, a shocking explosion took place in the night at about dawn, followed by a violent earthquake, which destroyed the whole nation completely. In the morning their dead bodies lay scattered here and there like dry pieces of bush trampled down by animals around an enclosure. Neither their stony castles nor their rock-hewn caves could protect them against the calamity. "We sent against…

Read the full tafseer →