Ash-Shu'araa 26:157

Ash-Shu'araa · from ayah 157

26:157

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ ۟ۙفَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ‏

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they hamstrung her and so became regretful.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:157

مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں، بس وه پشیمان ہوگئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہوا یہ کہ انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، اور آخر کار پشیمان ہوئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (سو اسے ہلاک کر دیا) پھر وہ (اپنے کئے پر) پشیمان ہو گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر پشیمان ہوگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر ان لوگوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر (عذاب کے ڈر سے) لگے پچھتانے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو انہیں پچھتانا پڑا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر ان لوگوں نے اس سب کے باوجود کاٹ ڈالیں اس کی کونچیں جس سے ہو ہوگئے ہمیشہ کی ندامت اٹھانے والے

— مولانا اسحاق مدنی

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر (اس پر) پچھتائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر وہ ہو کر رہ گئے پچھتانے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But they hamstrung her and then regretted it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But they killed her, then they became remorseful,

— Muhammad Taqi Usmani

But they killed her, then they became remorseful,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But they killed her, and then they became regretful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But they hamstrung her, and then were penitent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they hamstrung her and so became regretful.

— Saheeh International

They slew the she-camel, but later became regretful

— Muhammad Sarwar

But they hamstrung her, then regretted;

— Muhammad Habib Shakir

Then they hamstrung her; and then they became regretful.

— Abdul Majid Daryabadi

But they ham-strung her: then did they become full of regrets.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:157

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 153–159

نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 156–157

سورة الشُّعَرَآء 105 یہ مطلب نہیں ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت صالح سے یہ چیلنج سنا اسی وقت وہ اونٹنی پر پل پڑے اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں، بلکہ کافی مدت تک یہ اونٹنی ساری قوم کے لیے ایک مسئلہ بنی رہی، لوگ اس پر دلوں میں اونٹتے رہے، مشورے ہوتے رہے، اور آخر کار ایک من چلے سردار نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ وہ قوم کو اس سے نجات دلائے گا۔ سورة شمس میں اس شخص کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے اِذِا نْبَعَثَ اَشْقَاھَا، " جبکہ اٹھا اس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی "۔ اور سورة قمر میں فرمایا گیا ہے فَنَادَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَاطیٰ فَعَقَرَ " انہوں نے اپنے رفیق سے اپیل کی، آخر کار وہ یہ کام اپنے ذمہ لے کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–159

معارف و مسائل وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔ مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نہ مروھا فاصبحوا ندمین 157 ایک کی بےدانشی سب کے لئے موجب عذاب بھلا یہ اشرار اس پابندی کو کب گوارا کرنے والی تھے کہ ا کی دن گھاٹ پر حضرت صالح کی اونٹنی بلا شرکت غیرے، پانی پیے اور دوسرے دن وہ پلائیں۔ چناچہ انہوں نے جسارت کر کے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ اس فعل کا ارتکاب اگرچہ کیا ایک ہی شخص نے لیکن قرآن نے اس کو منسوب پوری قوم کی طرف کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی شرارت پر دوسرے راضی ہوں، اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جرم کے ارتکاب میں سب شریک ہیں چناچہ اس کے نتیجہ میں جو عذاب آیا وہ سب پر آیا۔ فاصبحوا ندمین عذاب کی تعبیر ہے۔ یعنی بالآخر انہیں اپنے کیے پر پچھتانا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

157-1یعنی باوجود اس بات کے کہ وہ اونٹنی، اللہ کی قدرت کی ایک نشانی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی، قوم ثمود ایمان نہیں لائی اور کفر و شرک کے راستے پر گامزن رہی اور اس کی سرکشی یہاں تک بڑھی کہ بالآخر قدرت کی زندہ نشانی ' اونٹنی ' کی کوچیں کاٹ ڈالیں یعنی اس کے ہاتھوں پیروں کو زخمی کردیا، جس سے وہ بیٹھ گئی اور پھر اسے قتل کردیا۔ 157-2یہ اس وقت ہوا جب اونٹنی کے قتل کے بعد حضرت صالح ؑ نے کہا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت ہے، چوتھے دن تمہیں ہلاک کردیا جائے گا اس کے بعد جب واقع عذاب کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہوگئیں تو پھر ان کی طرف سے بھی اظہار ندامت ہونے لگا۔ لیکن علامات عذاب دیکھ لینے کے بعد…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 155–157

32: چونکہ اونٹنی کا معجزہ انہوں نے خود مانگا تھا، اس لیے ان سے کہا گیا کہ اس اونٹنی کے کچھ حقوق ہوں گے، اور ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ ایک دن تمہارے کنویں سے صرف یہ اونٹنی پانی پیے گی، اور ایک دن تم کنویں سے جتنا پانی بھر سکو، بھر کر رکھ لو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فعقروھا فاصبحوا ندمین (157) ’ عقر کے عنی ذبح کرنے کے ہوتے ہیں اور جن لوگوں نے یہ کام کیا ، یہ وہی تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے۔ ان کو حضرت صالح نے خوب ڈرایا تھا مگر وہ حضرت صالح کی نسیبات کو خاطر میں نہ لائے۔ اس جرم کا عذاب پوری قوم کو ملا اور سب پکڑے گئے۔ یہ لوگ آخر کار عذاب دیکھ کر نادم ہوگئے تھے لیکن وقت کے بعد ندامت کا فائدہ ہی کیا ہوتا ہے۔ وقت کے بعد ایمان اور تصدیق کا کیا فائدہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 ایک بدکار عورت کے گھر مواشی بہت تھے، چارے اور پانی کی تکلیف سے اپنے ایک آشنا کو اکسایا، اس نے اونٹی کے پاؤں کاٹ کر ڈال دیے، اس کے تین دن بعد عذاب آیا (موضح القرآن) یہ قصہ بھی پہلے مفصل گزرچکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 156–165

آیت 165 اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ” دنیا جہان میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کی غرض سے َ مردوں کے پاس جاتے ہو۔ ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم یہ حرکت نہیں کرتی ‘ بلکہ یہ کام تو جانور بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

96 لیکن یہ لوگ زیادہ مدت تک اس پابندی کو برداشت نہ کرسکے۔ چوری چھپے باتیں کرتے اور دل ہی دل میں اس پابندی سے کڑھتے رہتے تھے۔ پھر جب ان کے ایمان نہ لانے پر بھی اللہ کا عذاب نہ آیا تو وہ کچھ دلیر ہوگئے۔ ان میں ایک بدکار عورتھی جس کے بہت سے مویشی تھے اور کا صی مالدار تھی۔ اس نے اپنے آشنا کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اس اونٹنی کا قصہ پاک کردے۔ چناچہ اب اونٹنی کو مار ڈالنے کے سلسلہ میں خفیہ مشورہ ہونے لگے۔ مویشیوں کے لئے پانی اور چارے کے آدھا رہ جانے کی وجہ سے سب لوگ ہی اس اونٹنی سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ لہذا سب نے ہاں میں ہاں ملا دی۔ چناچہ وہی بدبخت زانی اس کام کے لئے تیار ہوگیا۔ چناچہ عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 156–157

88۔ (جب عذاب کی آمد دیکھ لی) یہ پچھتاوا ایک تو یوں بھی بیکار تھا اس لیے کہ ایک محض طبعی کیفیت تھی، تلافی وتدارک اور تجدید ایمان کا کوئی جزو اس کے ساتھ نہ تھا، اور پھر یہ بھی اس وقت جب آثار عذاب نمایاں ہوچکے تھے، صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ یہ ندامت اس لیے لاحاصل رہی کہ انہوں نے اپنے فعل کی تلافی ایمان سے نہ کی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ توبہ کے لیے ندامت طبعی کافی نہیں ندامت عقلی ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–159

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فعقروہا پھر انہوں نے اونٹنی کو قتل کردیا۔ چونکہ سب اونٹنی کو قتل کرنے پر راضی تھے اس لئے قتل کی نسبت سب کی طرف کردی گئی اور اسی وجہ سے سب عذاب میں پکڑے گئے۔ فاصبحوا ندمین۔ قتل کے بعد پشیمان ہوئے۔ یہ پشیمانی توبہ نہ تھی بلکہ نزول عذاب کے ڈر سے تھی یا اس وقت ہوئی تھی جب عذاب آتا دیکھ لیا تھا لیکن اس وقت پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے یہاں ان سب کے متعلق فرمایا کہ انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، حالانکہ کونچیں کاٹنے والا صرف ایک شخص ”قدار“ تھا، جیسا کہ سورة شمس میں ہے : (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا) [ الشمس : 12 ] ”جب اس (قوم) کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے یہ کام پوری قوم کے مشورے اور ان کی فرمائش پر کیا تھا، جیسا کہ سورة قمر میں ہے : (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ) [ القمر : 29 ] ”تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔“ اس لیے سبھی مجرم قرار دیے گئے۔ فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَ : سورة ہود میں ہے کہ اونٹنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 153–159

قالوا انما انت من المسخرین یہ سحر سے مشتق ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے جس طرح مہدوی نے بیان کیا ہے۔ یعنی تجھ پر جادو کا اثر ہے تو تیری عقل باطل ہوگئی ہے کیونکہ تو ہماری مثل بشر ہے تو تو ہمارے سوا کس طرح رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں بار بار کھلایا پلایا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، قتادہ اور مجاہد کا قول ہے جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس تعبیر کی بناء پر وہ سخر سے مشتق ہے جو رئہ ہے یعنی تجھے سحر لا حق ہوگیا ہے جو ہماری مثل کھاتا پیتا ہے جس طرح لبید نے کہا : فان تسالینا فیم نحن فاتنا عصا فیر من ھذا الانام المسحر اگر تو ہمارے بارے میں سوال کرتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–159

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَعَقَرُوْهَا : پھر انہوں نے ٹانگیں کاٹ دی اس کی ][ فَاَصْبَحُوْا : نتیجہ وہ ہوگئے ][ نٰدِمِيْنَ : پچھتانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–159

قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 156–157

59:۔ پانی کے ایک دن کے ناغہ سے انہیں تکلیف ہونے لگی اس لیے انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور سب نے خوشی سے ایک آدمی کو اس کام پر مقرر کردیا جس نے اس کی ٹانگیں کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے بعد جب اللہ کا عذاب آگیا تو اب اپنے کیے پر بہت پشیمان ہوئے مگر اب کیا فائدہ چناچہ عذاب صیحہ سے اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 153–159

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا آپ نے حلق تبلیغ ادا کرتے ہوئے قوم کو خدا تعالیٰ کا پیغام سنا ۔ ان کی خامیاں بیان کیں اور ان سے بچنے کی تلقین کی ۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس فانی دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا ۔ آپ نے قوم کو ان کی خوشحالی پر تنبیہ فرمایا اور اسراف سے منع فرمایا ۔ اللہ کا خوف دلایا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں تمہیں نصیحت کی بات بتلاتا ہوں جس میں خود تمہارا ہی فائدہ ہے۔ قوم ثمود کا جواب آپ کی قوم نے پیغام حق سن کر اس کو تسلیم کرنے کی بجائے نہایت متکبرانہ طریقے سے یوں جواب دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَعَقَرُوْہَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِيْنَ۝ 157ۙ عقر عُقْرُ الحوض والدّار وغیرهما : أصلها ويقال : له : عَقْرٌ ، وقیل : ( ما غزي قوم في عقر دارهم قطّ إلّا ذلّوا) «4» ، وقیل للقصر : عُقْرَة . وعَقَرْتُهُ أصبت : عُقْرَهُ ، أي : أصله، نحو، رأسته، ومنه : عَقَرْتُ النّخل : قطعته من أصله، وعَقَرْتُ البعیر : نحرته، وعقرت ظهر البعیر فانعقر، قال : فَعَقَرُوها فَقالَ تَمَتَّعُوا فِي دارِكُمْ [هود/ 65] ، وقال تعالی: فَتَعاطی فَعَقَرَ [ القمر/ 29] ، ومنه استعیر : سرج مُعْقَر، وکلب عَقُور، ورجل عاقِرٌ ، وامرأة عاقر : لا تلد، كأنّها تعقر ماء الفحل . قال : وَكانَتِ امْرَأَتِي عاقِراً [ مریم/ 5] ، وَامْرَأَتِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَعَقَرُوْھَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 157) (پس انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، پھر ہوگئے پچھتانے والے۔ ) اگر یہ لوگ اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر ایمان لے آتے تو یہ آزمائش ان سے ٹل جاتی۔ ایک عرصے تک انھوں نے اس صورتحال کو برداشت کیا، لیکن ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ بغیر ایمان کے وہ کب تک اس پابندی کو نبھا سکتے تھے۔ آخر ان میں سے سب سے بڑے بدبخت نے جسارت کرکے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ پھر ہوش آیا تو اپنے کیے پر پچھتانے لگے۔ لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا کیونکہ انھیں یہ بتایا جا چکا تھا کہ اگر تم نے اس اونٹنی کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے، کوئی نقصان پہنچایا تو تمہیں عذاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 156–160

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کا اپنی قوم کو سمجھنا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نسل انسانی کے ناطے سے تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ انھوں نے انہی الفاظ اور انداز سے اپنی دعوت کا آغاز کیا جس طرح ان کے پیش رو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انھوں نے بار بار قوم کو اپنے رب سے ڈرایا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ میں رب کے پیغام تم تک پوری دیانت و امانت کے ساتھ پہنچانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حکم کی خلاف ورزی : 157: فَعَقَرُوْھَا (پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں) قدار کو نچیں کاٹنے والا تھا لیکن وہ تمام اس پر راضی تھے اس لئے ان کی طرف نسبت کردی گئی۔ روایت میں ہے کہ اس کی کونچیں کاٹنے والے نے کہا میں اس کی کونچیں اس وقت کاٹوں کا جب تم اس پر راضی ہوگے چناچہ وہ پردہ نشین عورتوں کے پاس جا کر پوچھتے کیا تم اس پر راضی ہو ؟ وہ کہتی جی ہاں اسی طرح بچوں سے بھی رضا مندی لی گئی۔ فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ (وہ پشیمان ہوئے) اس کی کونچیں کاٹنے پر۔ کیونکہ ان کو نزول عذاب کا خطرہ محسوس ہوا یہ شرمندگی توبہ کی بناء پر نہ تھی۔ نمبر 2۔ یہ اس وقت شرمندہ ہوئے جب شرمندگی کوئی کام نہ دے سکتی تھی اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 157–164

157۔ فعقروھا فاصبحوا نادمین، جب اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اللہ کا عذاب نظر آگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 141–159

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–159

آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 156–157

80 ناقہ صالح کی ہلاکت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے پھر بھی اس اونٹنی کو ہلاک کردیا۔ یعنی رسول کی تنبیہ وتحذیر کے باوجود انہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا۔ یہ کام کیا تو اگرچہ ان میں سے ایک شخص نے تھا مگر باقیوں کی رضا چونکہ اس میں شامل تھی۔ اس لئے اس کی نسبت سب کی طرف کی گئی ہے کہ کسی فعل پر رضا مندی اس کے ارتکاب کے مترادف ہوتی ہے۔ سو اس کے نتیجے میں وہ لوگ سخت نادم ہوئے کہ برائی بہرحال برائی ہے اور اس کا نتیجہ وانجام بہرحال برا ہوتا ہے۔ مگر پھر ان لوگوں کی یہ ندامت و شرمندگی توبہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے کئے کے وبال و انجام کے خیال سے تھی۔ اس لئے اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 141–159

آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 156–157

7 ۔ زخمی کرنے والا ان میں سے صرف ایک شخص …تھا جیسا کہ سورة شمس میں ہے۔ ” اذا تبعث اشقاھا “ جب اس قوم کا بدبخت ترین شخص اٹھا۔ “ لیکن اس نے چونکہ اونٹنی کو ان سب کے مشورہ اور مطالبہ پر زخمی کیا تھا۔ ( سورة قمر :29) اس لئے سب ہی مجرم قرار دیئے گئے۔ 8 ۔ سورة ہود ( علیہ السلام) میں ہے کہ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ان کو تین کی مہلت دی۔ چناچہ جب حسب وعدہ عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے تو وہ ندامت کا اظہار کرنے لگے مگر وہ وقت ندامت اور توبہ کا نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 157–164

(26:157) عقروھا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (اونٹنی کے لئے) انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عقر یعقر (ضرب) عقر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں۔ فاصبحوا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب) انہوں نے صبح کی۔ وہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–159

لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 141–159

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 153–160

ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔ ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(157) آخر کار ان لوگوں نے اونٹنی کو مار ڈالا پھر وہ پشیمان ہوئے یعنی عذاب کو دیکھ کرنا دم ہوئے ہوں گے اس وقت کی ندامت سے کیا فائدہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک عورت بدکار کے گھرمواشی بہت تھے چارے اور پانی کی تکلیف سے اپنے ایک یار کو سکھایا اس نے اونٹنی کے پائوں کاٹ کر ڈال دئیے اس کے تین بعد عذاب آیا 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 156–157

ف 4۔ مگر اول تو معائنہ عذاب کے وقت ندامت بےکار دوسرے خالی طبعی ندامت سے کیا ہوتا ہے، جب تک اختیاری تدارک یعنی توبہ و ایمان نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور پھر پچھتاتے ہی رہ گئے : 157۔ انہوں نے جب صالح (علیہ السلام) کی بات سنی تو شامت اعمال کے باعث ان کا فیصلہ یہی ہوا کہ اگر یہی اونٹنی ہمارے لئے بارود کا گولہ ہے تو ہم اس کو ضرور آگ لگائیں گے اور اس کام کو انہوں نے اپنے لوگوں میں سے ایک بدبخت کے سپرد کردیا گویا صالح (علیہ السلام) کے اس اعلان کے بعد وہ ایک عرصہ تک آپس میں یہ صلاحیں اور مشورے کرتے رہے اور انجام کار ایک شخص پر انہوں نے اتفاق کیا کہ اس آگ کے گولے کو آگ لگانا ہی ہے تو یہ شخص لگائے گا ، جب انہوں نے یہ اپنے ایک بدبخت کے سپرد کیا تو وہ اٹھا اور اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور انجام کار اس کو قتل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–165

Commentary وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِ‌هِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149] According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِ‌هِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth. Useful vocations are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 156–157

105 This dces not mean that as soon as they heard the challenge, they attacked the she-camel at once and hamstrung her. Actually, when the she-camel became a problem for the whole nation, the hearts of the people were filled with rage, and they began to hold lengthy consultations as to how to get rid of her. At last, a haughty chief undertook the task of putting an end to her, as mentioned in SurahAsh-Shams thus: "When arose the most villainous of the people.. ." (v. 12) and in Surah Al-Qamarthus: "They appealed to their companion; so he took up the responsibility and hamstrung (her)." (v.…

Read the full tafseer →