Ash-Shu'araa 26:156

Ash-Shu'araa · from ayah 156

26:156

وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۟وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ‏

اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not touch her with harm, lest you be seized by the punishment of a terrible day."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:156

اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کو بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا، ورنہ ایک زبردست دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اِسے برائی (کے ارادہ) سے ہاتھ مت لگانا ورنہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسے کسی برائی سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمہیں ایک بڑے دن کا عذاب پکڑلے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اسے کوئی دکھ نہ پہنچانا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تمہیں آلے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ورنہ تم کو ایک ہولناک دن کا عذاب آپکڑے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ بھی نہ لگانا کہ اس کے نتیجے میں آپکڑے تم کو عذاب ایک بڑے ہولناک دن کا

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تمہیں ایک بڑے سخت دن کا عذاب آپکڑے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مت ہاتھ لگانا اسے برے ارادے سے ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کو کوئی تکلیف نہ دینا نہیں تو تم کو سخت عذاب آپکڑے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do not molest her lest the chastisement of an Awesome Day should seize you."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So do not touch her with evil (intent), lest you should be seized by a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

So do not touch her with evil (intent), lest you should be seized by a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And touch her not with ill lest there come on you the retribution of an awful day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not touch her with harm, lest you be seized by the punishment of a terrible day."

— Saheeh International

Do not cause her to suffer lest you become subject to the torment of the great day (of Judgment)."

— Muhammad Sarwar

And do not touch her with evil, lest the punishment of a grievous day should overtake you.

— Muhammad Habib Shakir

And touch her not with ill, lest there take hold of you the torment of a Mighty Day.

— Abdul Majid Daryabadi

"Touch her not with harm, lest the Penalty of a Great Day seize you."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:156

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 153–159

نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 156–157

سورة الشُّعَرَآء 105 یہ مطلب نہیں ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت صالح سے یہ چیلنج سنا اسی وقت وہ اونٹنی پر پل پڑے اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں، بلکہ کافی مدت تک یہ اونٹنی ساری قوم کے لیے ایک مسئلہ بنی رہی، لوگ اس پر دلوں میں اونٹتے رہے، مشورے ہوتے رہے، اور آخر کار ایک من چلے سردار نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ وہ قوم کو اس سے نجات دلائے گا۔ سورة شمس میں اس شخص کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے اِذِا نْبَعَثَ اَشْقَاھَا، " جبکہ اٹھا اس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی "۔ اور سورة قمر میں فرمایا گیا ہے فَنَادَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَاطیٰ فَعَقَرَ " انہوں نے اپنے رفیق سے اپیل کی، آخر کار وہ یہ کام اپنے ذمہ لے کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 149–159

معارف و مسائل وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔ مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 155–156

آیت 156-155 قوم کے لئے عذاب کی نشانی کا تعین حضرت صالح ؑ نے قوم کے اس فیصلہ کن جواب کے بعد ایک اونٹنی کو، جو ہوسکتا ہے کہ انہی کی رہی ہو نامزد کردیا کہ یہ عذاب کی نشانی ہے۔ یہ عذاب کے مقابل میں ایک بند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر تم نے اس بند کو توڑا تو تم پر عذاب الٰہی آدھمکے گا۔ خبردار اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ! ساتھ ہی بطور امتحان یہ ہدایت بھی دے دی کہ مویشیوں کے پانی پلانے کے گھاٹ پر ایک دن پانی پینے کی باری اس کی ہوگی اور ایک دن تمہارے مویشیوں کے لئے خاص ہوگا۔ جو دن اونٹنی کی باری کا ہو اس میں کوئی اس سے مزاحم نہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے جانوروں کے پانی پلانے کا گھاٹ ایک ہی تھا۔ حضرت صالح نے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

156-1دوسری بات انھیں یہ کہی گئی کہ اس اونٹنی کو کوئی بری نیت سے ہاتھ نہ لگائے، نہ اسے نقصان پہنچایا جائے۔ چناچہ یہ اونٹنی اسی طرح ان کے درمیان رہی۔ گھاٹ سے پانی پیتی اور گھاس چارہ کھا کر گزارہ کرتی۔ کہا جاتا ہے کہ قوم ثمود اس کا دودھ دوہتی اور اس سے فائدہ اٹھاتی۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 155–157

32: چونکہ اونٹنی کا معجزہ انہوں نے خود مانگا تھا، اس لیے ان سے کہا گیا کہ اس اونٹنی کے کچھ حقوق ہوں گے، اور ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ ایک دن تمہارے کنویں سے صرف یہ اونٹنی پانی پیے گی، اور ایک دن تم کنویں سے جتنا پانی بھر سکو، بھر کر رکھ لو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 155–156

قال ھذہ ……یوم عظیم (161) یہ معجزانی اونٹنی اس شرط پر آئی کہ جو محدود آغوشی کی سہولتیں انہیں حاصل تھیں وہ ایک دن کے لئے ناقہ کے لئے وقف ہوں گی اور دوسرا دن ان کے لئے اور انکے مویشیوں کے لئے ہوگا۔ نافقہ کے دن میں یہ دخل اندازی نہ کریں گے اور نہ ناقہ ان کے دن پانی پینے گی۔ دونوں دنوں کا پانی اکٹھا نہ ہوگا۔ نہ ان کا ان ناقہ کے دن سے ملے گا اور نہ ناقہ کا ان کے دن سے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرو گے۔ ورنہ ایک عظیم عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔ ان سرکشوں کے لئے یہ معجزہ کوئی مفید ثابت نہ ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر ایمان بھی نہ داخل ہوا ، ان کی روحانی دنیا پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 156–165

آیت 165 اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ” دنیا جہان میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کی غرض سے َ مردوں کے پاس جاتے ہو۔ ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم یہ حرکت نہیں کرتی ‘ بلکہ یہ کام تو جانور بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

95 عرب جیسے بےآب و گیا ملک میں پانی کی ہمیشہ کم ہی رہی ہے اور پانی کا مسئلہ نہایت اہم مسئلہ تھا۔ لہذا صالح (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک دن صرف یہ اللہ کی اونٹنی فلاں کنوئیں سے پانی پیا کرے گی۔ اس دن قوم کے جانور پانی پینے کے لئے ادھر نہ جائیں اور دوسرے دن قوم کے جانور پانی پیا کریں گے اور اونٹنی ادھر نہیں جائے گی۔ صالح (علیہ السلام) کا یہ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق تھا۔ جسے قوم نے تسلیم کرلیا۔ مگر اس تسلیم کے پیچھے ان کی اپنی رضا کو کچھ دخل نہ تھا۔ بلکہ وہ یہ فیصلہ تسلیم کرنے پر مجبور تھے۔ اور اس کی دو وجوہ تھیں ایک یہ کہ فیصلہ کے ساتھ ہی صالح (علیہ السلام) نے یہ وارننگ بھی دے دی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 156–157

88۔ (جب عذاب کی آمد دیکھ لی) یہ پچھتاوا ایک تو یوں بھی بیکار تھا اس لیے کہ ایک محض طبعی کیفیت تھی، تلافی وتدارک اور تجدید ایمان کا کوئی جزو اس کے ساتھ نہ تھا، اور پھر یہ بھی اس وقت جب آثار عذاب نمایاں ہوچکے تھے، صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ یہ ندامت اس لیے لاحاصل رہی کہ انہوں نے اپنے فعل کی تلافی ایمان سے نہ کی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ توبہ کے لیے ندامت طبعی کافی نہیں ندامت عقلی ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–159

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تمسوہا بسوء اور برائی (اذیت رسانی) کے ساتھ اس کو ہاتھ نہ لگانا۔ فیاخذکم عذاب یوم عظیم۔ ورنہ تم کو یوم عظیم کا عذاب آپکڑے گا۔ یعنی ایک دن عذاب عظیم میں گرفتار ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(156) اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کہیں تمہیں ایک بھاری دن کا عذاب آپکڑے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 155–156

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو ”آیَۃٌ بَیِّنَۃٌ“ اور ”آیَۃٌ مُبْصِرَۃٌ“ (واضح نشانی و معجزہ) قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (73) ، ہود (64) اور بنی اسرائیل (59) اس سے معلوم ہوا کہ وہ عام قسم کی اونٹنی نہ تھی بلکہ اس کی پیدائش اور ظاہر ہونے میں ضرور کوئی ایسی بات تھی جس کی بنا پر اسے معجزہ قرار دیا گیا۔ ”الصحیح المسبور“ میں ہے کہ ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ ابوطفیل عامر بن واثلہ ؓ سے روایت کی ہے : ”صالح ؑ نے انھیں فرمایا، نکلو ! تو وہ ایک چٹان کی طرف نکلے، وہ چٹان اس طرح لرزی جس طرح حاملہ اونٹنی کو درد زہ ہوتا ہے، پھر وہ پھٹی اور اس کے درمیان سے اونٹنی نکلی تو صالح ؑ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 153–159

قالوا انما انت من المسخرین یہ سحر سے مشتق ہے، یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے جس طرح مہدوی نے بیان کیا ہے۔ یعنی تجھ پر جادو کا اثر ہے تو تیری عقل باطل ہوگئی ہے کیونکہ تو ہماری مثل بشر ہے تو تو ہمارے سوا کس طرح رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو ان لوگوں میں سے ہے جنہیں بار بار کھلایا پلایا جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کلبی، قتادہ اور مجاہد کا قول ہے جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس تعبیر کی بناء پر وہ سخر سے مشتق ہے جو رئہ ہے یعنی تجھے سحر لا حق ہوگیا ہے جو ہماری مثل کھاتا پیتا ہے جس طرح لبید نے کہا : فان تسالینا فیم نحن فاتنا عصا فیر من ھذا الانام المسحر اگر تو ہمارے بارے میں سوال کرتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–159

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَا تَمَسُّوْهَا : اور تم لوگ مت چھونا اس کو ][ بِسُوْۗءٍ : کسی برائی سے ][ فَيَاْخُذَكُمْ : ورنہ پکڑے گا تم کو ][ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيْمٍ : ایک عظیم دن کا عذاب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–159

قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 156–157

59:۔ پانی کے ایک دن کے ناغہ سے انہیں تکلیف ہونے لگی اس لیے انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا اور سب نے خوشی سے ایک آدمی کو اس کام پر مقرر کردیا جس نے اس کی ٹانگیں کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے بعد جب اللہ کا عذاب آگیا تو اب اپنے کیے پر بہت پشیمان ہوئے مگر اب کیا فائدہ چناچہ عذاب صیحہ سے اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 153–159

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا آپ نے حلق تبلیغ ادا کرتے ہوئے قوم کو خدا تعالیٰ کا پیغام سنا ۔ ان کی خامیاں بیان کیں اور ان سے بچنے کی تلقین کی ۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس فانی دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا ۔ آپ نے قوم کو ان کی خوشحالی پر تنبیہ فرمایا اور اسراف سے منع فرمایا ۔ اللہ کا خوف دلایا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں تمہیں نصیحت کی بات بتلاتا ہوں جس میں خود تمہارا ہی فائدہ ہے۔ قوم ثمود کا جواب آپ کی قوم نے پیغام حق سن کر اس کو تسلیم کرنے کی بجائے نہایت متکبرانہ طریقے سے یوں جواب دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَمَسُّوْہَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝ 156 مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 155–156

قَالَ ھٰذِہٖ نَاقَـۃٌ لَّھَا شِرْبٌ وَّلَـکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ وَلاَ تَمَسُّوْھَا بِسْوْٓئٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 155، 156) (حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک اونٹنی ہے، ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقرر دن تمہاری باری ہے۔ اسے کوئی گزند نہ پہنچانا ورنہ تمہیں ایک برے دن کا عذاب آپکڑے گا۔ ) حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے مروی ہے کہ قوم ثمود نے آپ ( علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کیا کہ اس چٹان سے سرخ رنگ کی اونٹنی نکلے، جو دس ماہ کی حاملہ ہو اور ہماری آنکھوں کے سامنے بچہ جنے، تو ہم تمہیں رسول مان لیں گے۔ آپ ( علیہ السلام) نے بارگاہِ الٰہی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 156–160

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کا اپنی قوم کو سمجھنا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نسل انسانی کے ناطے سے تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ انھوں نے انہی الفاظ اور انداز سے اپنی دعوت کا آغاز کیا جس طرح ان کے پیش رو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انھوں نے بار بار قوم کو اپنے رب سے ڈرایا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ میں رب کے پیغام تم تک پوری دیانت و امانت کے ساتھ پہنچانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

156: وَلَا تَمَسُّوْھَا بِسُوْئٍ ( اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا) مار پٹائی یا کونچیں کاٹنا یا اور اسی قسم کی ایذاء فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (ورنہ تم کو یوم عظیم کا عذاب آپکڑے گا) عظیمؔ اس لئے کہا کیونکہ اس میں عذاب اترا۔ عذاب کی صفت لانے کی بجائے زیادہ بلیغ یہ ہے کہ یوم کی صفت لائی جائے اس لئے کہ جب وقت اس کی وجہ سے سخت و مشکل ہوجائے گا تو اس کا واقع ہونا عذاب کے بڑے ہونے سے بڑھ کر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 156۔ ولاتمسوھا بسوئ، اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا اس کی پونچیں نہ کاٹنا۔ فیاخذکم عذاب یوم عظیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 141–159

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–159

آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 156–157

80 ناقہ صالح کی ہلاکت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے پھر بھی اس اونٹنی کو ہلاک کردیا۔ یعنی رسول کی تنبیہ وتحذیر کے باوجود انہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا۔ یہ کام کیا تو اگرچہ ان میں سے ایک شخص نے تھا مگر باقیوں کی رضا چونکہ اس میں شامل تھی۔ اس لئے اس کی نسبت سب کی طرف کی گئی ہے کہ کسی فعل پر رضا مندی اس کے ارتکاب کے مترادف ہوتی ہے۔ سو اس کے نتیجے میں وہ لوگ سخت نادم ہوئے کہ برائی بہرحال برائی ہے اور اس کا نتیجہ وانجام بہرحال برا ہوتا ہے۔ مگر پھر ان لوگوں کی یہ ندامت و شرمندگی توبہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے کئے کے وبال و انجام کے خیال سے تھی۔ اس لئے اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 141–159

آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 156–157

7 ۔ زخمی کرنے والا ان میں سے صرف ایک شخص …تھا جیسا کہ سورة شمس میں ہے۔ ” اذا تبعث اشقاھا “ جب اس قوم کا بدبخت ترین شخص اٹھا۔ “ لیکن اس نے چونکہ اونٹنی کو ان سب کے مشورہ اور مطالبہ پر زخمی کیا تھا۔ ( سورة قمر :29) اس لئے سب ہی مجرم قرار دیئے گئے۔ 8 ۔ سورة ہود ( علیہ السلام) میں ہے کہ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ان کو تین کی مہلت دی۔ چناچہ جب حسب وعدہ عذاب کے آثار نمودار ہونے لگے تو وہ ندامت کا اظہار کرنے لگے مگر وہ وقت ندامت اور توبہ کا نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:156) لاتمسوھا بسوئ : لا تمسوا فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ مت چھوؤ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث اونٹنی کی طرف راجع ہے۔ سوء ہر وہ چیز ہے جو انسان کو غم میں ڈال دے۔ برائی۔ آفت۔ گناہ وغیرہ۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال جن معانی میں ہوا ہے امام سیوطی (رح) نے ان کو تفصیل سے قلمبند کیا ہے :۔ (1) شدت کے لئے۔ یسومونکم سوء العذاب (2:49) وہ کرتے تھے تم پر سخت عذاب۔ (2) کونچیں کاٹنے کیلئے۔ ولا تمسوھا بسوئ (26:156) اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگانا۔ یعنی ناقہ کی کونچیں نہ کاٹ ڈالنا (3) زنا کے لئے۔ ما جزاء من اراد باہلک سوء (12:25) کیا سزا ہے اس کی جو تیری بیوی کے ساتھ زنا کا ارادہ کرے۔ (4) برص کے لئے۔ بیضاء…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–159

لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 141–159

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 153–160

ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔ ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(156) اور اس اونٹنی کو برائی اور بدی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگائو ورنہ تم کو ایک بہت بڑے دن کا عذاب آپکڑے گا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے باری مقرر کی جس دن وہ پانی پیتی اس دن دوسرے جانور پیاسے رہتے پانی ختم ہوجاتا پھر بری نیت سے اس کو مارنے پیٹنے کی ممانعت کردی گئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اونٹنی پیدا ہوئی پتھر میں سے اللہ کی قدرت سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعا سے چھٹی پھرتی جس جنگل میں چرنے جاتی سب مواشی بھاگ کر کنارے ہوجاتے اور جس تالاب پر پانی کو جاتی سب مواشی وہاں سے بھاگتے تب یوں ٹھہرا ایک دن پانی پر وہ جاوے ایک دن اور مواشی جاویں 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 156–157

ف 4۔ مگر اول تو معائنہ عذاب کے وقت ندامت بےکار دوسرے خالی طبعی ندامت سے کیا ہوتا ہے، جب تک اختیاری تدارک یعنی توبہ و ایمان نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ اس اونٹنی کو نہ چھیڑو اگر تم نے چھیڑا تو بس عذاب آیا : 156۔ صالح (علیہ السلام) نے اس اونٹنی کو بحکم الہی بطور نشان مقرر کرتے ہوئے قوم کے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ آج سے یہ اونٹنی جس کو تمہاری آنکھوں کے سامنے آج تک میں تبلیغ کے کام میں استعمال کرتا رہا ہوں اور جس کے متعلق تم کو کوئی شک وشبہ بھی نہیں کہ یہ اونٹنی کس کی ہے بلکہ تمہارا ہر ایک فرد جانتا اور پہچانتا ہے ‘ تمہارے لئے وہی نشان ہے جس کے تم طلب گر تھے ‘ تمہارے لئے بہتر ہے کہ اس کو کسی طرح کی کوئی گزند نہ پہنچاؤ اور نہ اس کے ساتھ برا سلوک کرو۔ ہاں ! اگر تم نے اس کے ساتھ کوئی ایسا برا سلوک کیا تو سمجھو کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–165

Commentary وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِ‌هِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149] According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِ‌هِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth. Useful vocations are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 156–157

105 This dces not mean that as soon as they heard the challenge, they attacked the she-camel at once and hamstrung her. Actually, when the she-camel became a problem for the whole nation, the hearts of the people were filled with rage, and they began to hold lengthy consultations as to how to get rid of her. At last, a haughty chief undertook the task of putting an end to her, as mentioned in SurahAsh-Shams thus: "When arose the most villainous of the people.. ." (v. 12) and in Surah Al-Qamarthus: "They appealed to their companion; so he took up the responsibility and hamstrung (her)." (v.…

Read the full tafseer →