Ash-Shu'araa 26:160

Ash-Shu'araa · from ayah 160

26:160

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ ١لْمُرْسَلِیْنَ ۟ۚۖكَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍ اۨلۡمُرۡسَلِيۡنَ‌

(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The people of Lot denied the messengers

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 9 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:160

لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھٹلایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

قومِ لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوط کی قوم نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

قوم لوط نے بھی رسولوں کی تکذیب کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قوم لوط نے بھی جھٹلایا رسولوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اسی طرح) جھٹلایا لوط ؑ کی قوم نے بھی مرسلین ؑ کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور قوم لوط نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The people of Lot rejected the Messengers, branding them liars.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The people of LuT rejected the messengers

— Muhammad Taqi Usmani

The people of LuT rejected the messengers

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The people of Lut denied the Messengers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The folk of Lot denied the messengers (of Allah),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The people of Lot denied the messengers

— Saheeh International

The people of Lot rejected the Messengers.

— Muhammad Sarwar

The people of Lut gave the lie to the apostles.

— Muhammad Habib Shakir

The people of Lut belied the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:160

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 160–164

لوط ؑ اور انکی قوم اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے ان لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی۔ آپ نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 159–160

سورة الشُّعَرَآء 107 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 80 تا 84۔ ہود، 74 تا 83۔ الحجر 57 تا 77۔ الانبیاء 71 تا 75 النمل 54 تا 58۔ العنکبوت 28۔ 35۔ الصافات 133 تا 138۔ القمر 33 تا 39۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–165

خلاصہ تفسیر قوط لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی لوط ؑ نے فرمایا کہ کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے، کیا تمام دنیا جہان والوں میں سے تم (یہ حرکت کرتے ہو کہ) مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور تمہارے رب نے جو تمہارے لئے بیبیاں پیدا کی ہیں ان کو نظر انداز کئے رہتے ہو (یعنی اور کوئی آدمی تمہارے سوا یہ حرکت نہیں کرتا اور یہ نہیں کہ اس کے قبیح ہونے میں کچھ شبہ ہے) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم حد (انسانیت) سے گزر جانے والے لوگ ہو، وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 160–164

آگے کا مضمون …… آیات 175-160 حضرت لوط اور ان کی قوم کی سرگزشت کا بیان آگے حضرت لوط ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت ہے۔ حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہا السلام) نے اپنی اپنی قوموں کو ان کے تمدنی فساد پر متنبہ فرمایا اور حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کو اس کی ایک نہایت شدید اخلاقی برائی پر متنبہ فرمایا … یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ برائیاں کبھی منفرد نہیں ہوتیں بلکہ یہ خدا اور آخرت سے بےخونی کے نتیجے کے طور پر پیدا ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کا فساد زندگی کے ہر گوشے میں پھیلا ہوا ہوتا ہے البتہ قوموں کے مزاج اور ان کے ماحول کے اعتبار سے ان کا بروز کسی خاص گوشے میں پھیلا ہوا ہوتا ہے البتہ قوموں کے مزاج اور ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 159–160

160-1حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے بھائی ہارون بن آزر کے بیٹے تھے۔ اور ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی کی زندگی میں نبی بناکر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم ' سدوم ' اور ' عموریہ ' میں رہتی تھی۔ یہ بستیاں شام کے علاقے میں تھیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 158–165

33: سورة ہود : 68 میں قرآن کریم ہی نے بتایا ہے کہ یہ عذاب ایک خوفناک چنگھاڑ کی شکل میں آیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر رہ گئے، مزید تفصیل وہیں پر گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 160–164

درس نمبر 167 تشریح آیات 160…………تا ……………175 کذبت قوم ……رب العلمین (140) قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 158–165

3 یعنی سارے جہان میں سے مرد ہی تمہاری شہوت رانی کے لیے رہ گئے، یا یہ کہ سارے جہان میں سے تم ہی ہو جو اس فعل شنیع کے مرتکب ہوتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 156–165

آیت 165 اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ” دنیا جہان میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کی غرض سے َ مردوں کے پاس جاتے ہو۔ ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم یہ حرکت نہیں کرتی ‘ بلکہ یہ کام تو جانور بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 159–160

99 لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے چچا زاد بھائی تھے۔ جب حضرت ابراہیم نے اپنے وطن کو خیرباد کہا تو اس وقت صرف یہی ایک فرد آپ پر ایمان لایا تھا اور آپ کے ہمراہ فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہیں آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ اور حضرت ابراہیم نے آپ کو شرق اردن کی طرف روانہ کردیا۔ آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم اور اس کے ارد گرد کا علاقہ اور ھمورہ کی بستیں تھیں۔ آپ کی قوم مشرک اور دوسری بداخلاقیوں کے علاوہ لواطت میں گرفتار بلکہ اس بدفعلی کی موجد تھی۔ ان لوگوں پر بھی خاندانی منصوبہ بندی کا بھوت سوار تھا۔ اسی لئے شہوت رانی کے فطری طریق کو چھوڑ کر لونڈے بازی کا فعل شروع کیا پھر یہ لوگ اپنی غیر فطری روش پر نادم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 158–161

89۔ حضرت لوط اور قوم لوط پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” المرسلین “۔ کے صیغہ جمع پر حاشیہ اوپر گزر چکا، (آیت) ” اخوھم “۔ اخ انہیں یہاں اس لحاظ سے کہا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) عراق سے آکر انہیں کے ملک شرق یردن میں بس گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 160–175

آیت نمبر 160 تا 175 ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 160–162

(160۔ 162) قوم لوط ؑ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا جب کہ ان کے نبی نے ان سے فرمایا کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ہو کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 160–161

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِۨ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : لوط ؑ کے حالات کے لیے دیکھیے سورة اعراف (80 تا 84) ، ہود (77 تا 83) ، حجر (61 تا 77) ، انبیاء (71 تا 75) ، نمل (54 تا 58) ، صافات (133 تا 138) اور قمر (33 تا 39) لوط ؑ ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ اصلاً یہ عراق کے رہنے والے تھے، انھیں جن بستیوں کی طرف مبعوث کیا گیا ان کا صدر مقام سدوم تھا، اس کے رہنے والوں کو لوط کی قوم اس لیے کہا گیا کہ وہ ان میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ ممکن ہے ان کی بیوی بھی انھی میں سے ہو۔ اگلی آیت میں لوط ؑ کو ان کا بھائی اسی مناسبت سے کہا گیا ہے، ورنہ ان کا ان سے نسبی رشتہ نہیں تھا۔ اسی لیے جب ان کی قوم کے بدمعاش ان کے مہمانوں کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 160–175

( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ ) کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔ اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 160–175

قوم لوط کا تذکرہ۔ 1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذَّبَتْ [ جھٹلایا ] قَوْمُ لُوْطِۨ[ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ] الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 160–191

قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 158–160

60:۔ یہ چھٹی نقلی دلیل اور تخویف دنیوی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم لوط “ تا ” علی رب العلمین اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ ” اتاتون الذکران الخ “ قوم لوط خلاف فطرت فعل کی عادی تھی حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں اس فعل بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا کس قدر کم عقلی ہے کہ تم مردوں سے خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے ہو اور جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے اللہ نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ” بل انتم قوم عٰدون الخ “ پھر اس فعل شنیع کے ارتکاب میں تم اس قدرت حد سے گذر چکے ہو کہ تمہاری فطرت ہی مسخ ہوچکی ہے اور تم بھری مجلس میں بھی یہ فعل کرتے ہوئے نہیں شرماتے ہو۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 160–175

ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔ لوط (علیہ السلام) کی بعثت ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِۨ الْمُرْسَلِيْنَ۝ 16 0ۚۖ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 160–164

کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ لُوْطٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 160 تا 164) (قومِ لوط نے بھی رسول کی تکذیب کی۔ یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا، کیا تم ڈرتے نہیں۔ بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا معاوضہ تو اس کے ذمہ ہے جو رب العالمین ہے۔ ) یہ آیات گزشتہ انبیاء کرام کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 156–160

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کا اپنی قوم کو سمجھنا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نسل انسانی کے ناطے سے تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ انھوں نے انہی الفاظ اور انداز سے اپنی دعوت کا آغاز کیا جس طرح ان کے پیش رو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انھوں نے بار بار قوم کو اپنے رب سے ڈرایا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ میں رب کے پیغام تم تک پوری دیانت و امانت کے ساتھ پہنچانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم لوط کا تذکرہ : 160: کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ (قوم لوط نے رسولوں کو جھٹلایا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 157–164

157۔ فعقروھا فاصبحوا نادمین، جب اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اللہ کا عذاب نظر آگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 160–175

(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 160–175

آیت 160 سے 175 حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 158–165

81 قوم لوط کے اوندھے پن کا نمونہ و مظہر : سو حضرت لوط نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ یعنی یہ کام تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا۔ یعنی اس سے پہلے کوئی قوم من حیث القوم اس فعل قبیح اور جرم شنیع کی مرتکب نہیں ہوئی۔ سو تم لوگ حدود انسانیت سے نکل کر حضیض حیوانیت میں گرگئے ہو۔ بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے پہنچ گئے ہو۔ کیونکہ تم اس فعل خبیث کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب کوئی حیوان بھی نہیں کرتا کہ تم لوگ ایسے بگڑ گئے ہو کہ تم اس مخلوق کو جو کہ اس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ یعنی عورت ۔ اس کو چھوڑ کر تم مردوں کو اختیار کرتے ہو جو کہ تمہارے ممسوخ الفطرت ہونے کی دلیل ہے ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 160–175

آیات 160 تا 175 اسرار و معارف قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔ بد فعلی حرام ہے : یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 159–161

10 ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) جس بستی میں جا کر رہے تھے اس کا نا م ” سدوم “ تھا۔ اس کے رہنے والوں کو حضرت لوط ( علیہ السلام) کی قوم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اس کے ہم وطن یا ہم شہر تھے۔ اگرچہ وہ اصلاً بابل کے رہنے والے تھے اور اپنے چچا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھیجنے پر وہاں گئے تھے۔ قصہ کی تفصیل سورة اعراف اور ہود میں گزر چکی ہے۔ (دیکھئے اعراف آیت 80 تا 84 و ہود آیت 69 تا 83 ضمن قصہ ابراہیم) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 157–164

(26:157) عقروھا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (اونٹنی کے لئے) انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ عقر یعقر (ضرب) عقر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں۔ فاصبحوا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب) انہوں نے صبح کی۔ وہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 160–175

لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 : اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 160–175

حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 153–160

ف 1: حضرت صالح کو قوم نے جواب دیا ۔ وہ یہ تھا کہ ہم سمجھتے ہیں ۔ تمہارا دماغ درست نہیں ۔ تم آسیب زدہ ہو ۔ نیز بشری ضرورت اور خواہشات سے متصف ہو ۔ گویا ان کے نزدیک پیغمبر کا انسان ہونا ۔ نبوت کے منافی تھا آخر میں انہوں نے معجزہ طلب کیا ۔ اور کہا اگر تم واقعی راست باز ہو تو ہم کو تریق عادت کے طور پر کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت صالح نے فرمایا ۔ یہ اونٹنی نشانی ہے ۔ اس کو آزادی سے وقت مقررہ پر پانی پینے دو ۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا ۔ ورنہ مطلوبہ معجزہ کا ظہور نہ ہوگا ۔ اور تم عذاب عظیم میں مبتلا ہوجاؤ گے ۔ ان لوگوں کو چونکہ حضرت صالح سے کوئی عقیدت نہ تھی ۔ اس لئے انہوں نے ازماہ شرارت اس اونٹنی کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

160۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی پیغمبروں کے جھٹلانے کا شیوہ اختیار کیا اور پیغمبروں کی تکذیب کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 158–165

ف 1۔ یعنی اور کوئی آدمی تمہارے سوا یہ حرکت نہیں کرتا، اور یہ نہیں کہ اس کے قبیح ہونے میں کچھ خفا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دیکھو قوم لوط نے بھی ہمارے بھیجے ہوؤں کو جھٹلایا : 160۔ لوط (علیہ السلام) ‘ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ ہیں ان کے والد کا نام حاران تھا ، لوط (علیہ السلام) کا بچپن سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے زیر سایہ گزرا اور ان کی نشو ونما حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی آغوش تربیت کی رہین منت ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ہجرت کی تھی اور اس وقت تک وہ ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے جب ہجرت کرکے مصر کی طرف آئے تو دونوں بزرگوں کے پاس بہت ساسازوسامان بھی تھا جس میں بڑے بڑے ریوڑ تھے اس لئے دونوں کے مشورہ سے طے پایا کہ دونوں الگ الگ علاقوں کی طرف بڑھ جائیں اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–165

Commentary وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِ‌هِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149] According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِ‌هِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth. Useful vocations are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 159–160

107 For comparison, see Al-A'raf: 80-84, Hud: 7483. AI-Hijr: 57-77, AI-Anbiya': 71-75, An-Naml; 54-58, Al-'Ankabut: 28-35, As-Saffat: 133-138 and A I-Qamar: 33-39.

Read the full tafseer →