Explained with ayahs 136–140
موثر بیانات بھی بےاثر
حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
سورة الشُّعَرَآء 93
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے، صدیوں سے ہمارے باپ دادا یہی کچھ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا، یہی ان کا تمدن تھا اور ایسے ہی ان کے اخلاق اور معاملات تھے۔ کون سی آفت ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ اب ہم اس کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ کریں۔ اس طرز زندگی میں کوئی خرابی ہوتی تو پہلے ہی وہ عذاب آ چکا ہوتا جس سے تم ڈراتے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو باتیں تم کر رہے ہو ایسی ہی باتیں پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے کرتے رہے ہیں، مگر دنیا کی گاڑی جس طرح چل رہی تھی اسی طرح چلے جا رہی ہے۔ تم جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–140
معارف و مسائل
چند مشکل الفاظ کی تشریح
اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
آیت 138-137
خلق الاولین وہ روایت جو پہلوں سے چلی آرہی ہے۔
یعنی عذاب کا جو ڈراوا تم ہمیں سنا رہے ہو، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی اس قسم کے ڈراوے سنائے جاتے رہے ہیں لیکن یہ محض ڈراوے تھے۔ نہ پہلے عذاب آیا نہ اب پر کوئی عذاب آنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے جیسے وہ ہمی لوگ اس قسم کی باتیں پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ ہم اس قسم کے فرضی اندیشوں میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ یہ مضمون سورة مومنوں :83 میں بھی گزر چکا ہے اور آگے سو فضل آیت 68 میں بدیں الفاظ آیا یہ۔ لقد وعدنا ھذا انحن و بآء نا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین (اس کی دھمکی ہمیں بھی سنائی جا رہی ہے اور اس سے پہلے ہمارے آباء و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
137-1یعنی وہی باتیں ہیں جو پہلے بھی لوگ کرتے آئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم جس دین اور عادات و روایات پر قائم ہیں، وہ وہی ہیں جن پر ہمارے آباء و اجداد کار بند رہے، مطلب دونوں سورتوں میں یہ ہے کہ ہم آبائی مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
28: اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم جو ہمیں دنیا کی شان و شوکت سے بیزار کر کے آخرت کی باتیں کر رہے ہو، پچھلے زمانے میں بھی لوگ اس طرح کے جھوٹے دعوے کرتے آئے ہیں، اس لیے تمہاری بات توجہ کے لائق نہیں ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ پرانے زمانے سے لوگ یہی کرتے آرہے ہیں۔ اس لیے اس پر اعتراض درست نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
قالوا سوآء ……الوعظین (136)
انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہود صاحب آپ فضول لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے آپ کا وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہے۔ یہ جواب ان کی طرف سے سخت توہین آمیز ، سنگدلانہ اور انتہائی دینی جمود اور بلاوت کا مظہر تھا۔ یہ لوگ اپنے تقلیدی مذہب پر تلے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
1 یعنی تمہاری نصیحت بیکار ہے۔ یہ جادو ہم پر چلنے والا نہیں۔ قدیم سے یہ عادت چلی آتی ہے کہ کچھ لوگ نبی بن کر عذاب سے ڈرایا کرتے ہیں اور مرنے جینے کا سلسلہ بھی پہلے سے چلا آتا ہے تو اس سے ہم کو کیا اندیشہ ہوسکتا ہے رہا جو طریقہ ہمارا ہے وہ ہی ہمارے اگلے باپ دادوں کا تھا۔ ہم اس سے کسی طرح ہٹنے والے نہیں۔ نہ عذاب کی دھمکیوں کو خاطر میں لاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 137 اِنْ ہٰذَآ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ ”
آپ علیہ السلام ہمارے سامنے پرانے زمانے کی باتوں اور فرسودہ روایات کو دہرا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ باتیں تو بس یوں ہی چلی آئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
86 اس نصیحت کے جواب میں یہ سرکش قوم کہنے لگی کہ ایسی باتیں تو ہم بھی سنتے چلے آئے ہیں۔ کچھ لوگ نبی بن کر ایسی باتیں کیا کرتے ہیں کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا اور مرتے جینے کا سلسلہ ان سے پہلے بھی چلتا تھا۔ بعد میں بھی چلتا رہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ لہذا تمہاری ایسی نصیحتیں ہمارے لئے بےکار ہیں۔ نہ ہم ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔
امام بخاری نے خلق الاولین میں خلق سے دین مراد لیا ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ زیر تفسیر روم ( اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ تو پرانے لوگوں کا مذہب ہے۔ پرانے لوگ ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر اب ایسے اولڈ فیشن لوگوں کا زمانہ لد چکا۔ موجودہ دور میں ایسے لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–138
81۔ یعنی اس قسم کا وعظ وپند تو پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ کرتے آئے ہیں، اس کے اندر حقیقت کبھی نہ دیکھی۔ (آیت) ” ھذا “ یعنی جو کچھ تم ہمیں سنا رہے ہو۔ اے ھذا الذی جئتنا بہ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت نمبر 123 تا 140
ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…
Read the full tafseer →ان ہذا الا خلق الاولین۔ یہ تو پہلے لوگوں کی عادت ہی ہے (کہ وہ اسی طرح کی جھوٹی باتیں بنایا کرتے
تھے) یا یہ مطلب ہے کہ ہمارا جو مذہب اور دین ہے۔ یہی دین ہمارے اسلاف کا تھا اور ہم ان کے پیرو ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ زندگی اور موت کی یہ رفتار پہلے زمانے سے یوں ہی چلی آئی ہے سب لوگ پیدا ہوتے اور مرتے رہے ہیں۔
کسائی ‘ ابو جعفر اور ابو عمرو کی قرأت میں لفظ خلق کی بجائے خلق بسکون لام آیا ہے اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ تم ہم کو جو وعظ نصیحت کر رہے ہو یہ تو پہلے لوگوں کی من گھڑت اور دروغ بافی ہے۔
اور خلقکا معنی ہے خود کسی بات کو گھڑنا۔ آیت میں آیا ہے وَتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ یا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
(136 تا 138) وہ بولے ہمارے نزدیک دونوں چیزیں برابر ہیں خواہ آپ ہمیں ان چیزوں سے روکیں یا نہ روکیں اور جس طریقہ پر ہم قائم ہیں یہ تو پہلے لوگوں کا ایک طریقہ چلا آرہا ہے یا یہ کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ تو بس پہلے لوگوں کی باتیں ہیں اور رسم ہے اور تم جو ہمیں عذاب سے ڈراتے ہو ہمیں ہرگز عذاب نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
اِنْ ھٰذَآ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ۔۔ : یعنی یہ بت پرستی، یادگاریں اور عالی شان عمارتیں بنانا اور اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا سلوک کرنا کوئی ہمارا شیوہ ہی نہیں، یہی کچھ ہمارے پہلے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ ان کا دین بھی یہی تھا اور تمدن بھی یہی، نہ ان پر کوئی عذاب آیا نہ ہم پر آئے گا۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نصیحت کی یہ باتیں جو تم ہم سے کر رہے ہو کوئی نئی نہیں ہیں، پہلے بھی ایسے خبطی گزرے ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ ہم پر ان کا کچھ اثر نہیں، نہ ہمیں کوئی عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →ان ھذا الا خلق الاولین، خلقا سے مراد دین ہے : حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا۔ فراء نے کہا : پہلے لوگوں کی عادت ہے۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور کسائی نے خلق الاولین پڑھا ہے بقای نے خلق پڑھا ہے۔ ہر وی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان ھذا الا خلق الاولین کا معنی ہے ان کا اختلاف اور ان کا کذب۔ جس نے خلق الاولین پڑھا ہے تو اس کا معنی ہے ان کی عادت یہ ہے۔ عرب کہتے ہیں : حدثنا فلاں با حادیث الخلق فلاں نے ہمیں خرافات اور من گھڑت باتیں بتائیں۔ ابن اعرابی نے کہا : خلق کا معنی دین، طبع اور مروت ہے۔ نحاس نے کہا : فراء کے نزدیک خلق الاولین سے مراد پہلوئوں کی عادت ہے۔ محمد بن ولید نے محمد بن زید سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔
2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔
5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →اِنْ ھٰذَآ [ نہیں ہے یہ ] اِلَّا [ مگر ] خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ [ پہلے لوگوں کا طریقہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔
یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
53:۔ ” خلق، یعنی عادت۔ یہ عالیشان محل بنانا اور یادگاریں تعمیر کرنا اور دنیوی نعمتوں سے متمتع ہونا یا ایسا توحید کا وعظ سننا سنانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک پرانی ریت اور ڈگر ہے جس پر پہلے لوگ چلے آرہے ہیں۔ تم سے پہلے کئی وعظ سنانے والے آئے مگر ہمارے باپ دادا اپنے دین پر قائم رہے اور ہم بھی ان کے دین پر قائم ہیں۔ وہ آئے اور چلے گئے، ہم بھی آئے ہیں اور آخر مرجائیں گے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ کوئی حشر و نشر نہیں اور نہ کوئی جزاء و سزا ہے۔ ما ھذا الذی نحن علیہ من الدین الا خلق الاولین و عادتھم کانوا بہ یدینون و نحن بہم مقتدون او ما ھذا الذی نحن علیہ من الحیاۃ والموت الا عادۃ لم یزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–140
ربط آیات
حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے ساتھ فرعون کا ذکر کیا ۔ پھر نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ۔ اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ۔ پھر ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا حال بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام میں پائی جانے والی بیماریوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ کے نبی اپنی اپنی اقوام کو ان خرابیوں سے منع کرتے رہے۔ کفر و شرک کی بیماری تو تمام اقوام میں قدر مشترک تھی ۔ اس کے علاوہ کسی میں معاملات کی خرابی تھی ، کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں…
Read the full tafseer →اِنْ ھٰذَآ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ 13 7ۙ
خُلُقُ ( جھوٹ)
وكلّ موضع استعمل الخلق في وصف الکلام فالمراد به الکذب، ومن هذا الوجه امتنع کثير من النّاس من إطلاق لفظ الخلق علی القرآن وعلی هذا قوله تعالی:
إِنْ هذا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ [ الشعراء/ 137] ، وقوله : ما سَمِعْنا بِهذا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هذا إِلَّا اخْتِلاقٌ [ ص/ 7] ،
اور وہ ہر مقام جہاں خلق کا لفظ کلام کے متعلق استعمال ہوا ہے ۔ اس سے جھوٹ ہی مرا د ہے ۔ اس بنا پر الگ اکثر لوگ قرآن کے متعلق خلق کا لفظ استعمال نہیں کیا کرتے تھے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا :۔إِنْ هذا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ [ الشعراء/ 137] یہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–137
1 ؎ خلق افتراء خلق عادت۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 137، 138)
(یہ باتیں تو یونہی ہوتی چلی آئی ہیں۔ اور ہم پر ہرگز عذاب آنے والا نہیں ہے۔ )
تم ہمیں جس عذاب سے ڈرا رہے ہو، یہ ڈراوا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے ایسی ہی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اگر ان باتوں پر عذاب آنا ہوتا تو پہلے لوگوں پر عذاب آجاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری باتوں کی حیثیت توہمات سے زیادہ نہیں۔ ہم ایسی فرضی باتوں سے یہ روگ نہیں پال سکتے کہ ہم پر عذاب آنے والا ہے۔ ہمیں ایسے کسی عذاب کا اندیشہ نہیں۔ سورة نمل آیت 68 میں یہی بات ان الفاظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–141
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔
قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
تعمیر و تخریب تو پہلے سے چلتی رہی ہے :
137، 138: اِنْ ھٰذَا اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ (یہ تو پہلے لوگوں کی عادت ہی ہے) یعنی ہم جس زندگی میں رہ رہے ہیں۔ اس میں موت وحیات و تعمیر و تخریب یہ آباء اولین کی عادت چلی آرہی ہے۔ نمبر 2۔ جس پر ہم ہیں یہ دین اباء اولین ہے۔ اِلَّا خَلُقُ الْاَوَّلِیْنَ یہ مکی بصری، یزید و علی نے پڑھا یہ جو کچھ تو لایا ہے یہ پہلے لوگوں کی گھڑنت ہے۔ اور دعوی نبوت کرنے والوں کا کذب ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے اساطیر الاولین ] الانعام : 25[ نمبر 2۔ ہماری پیدائش پہلے لوگوں کی پیدائش کی طرح ہے ہم مرتے اور زندہ رہتے ہیں۔ وَمَانَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ (اور ہمیں عذاب نہ دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
137۔ ان ھذا، یہ عادت پہلے لوگوں کی ہے۔ الاخلق الاولین، ابن کثیر ، ابوجعفر، ابوعمر اور کسائی ، یعقوب نے (خلق ) خاء کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ کہ یہ پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے کہ تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وتخلقون افکا، دوسرے قراء نے خاء کے ضمہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں کی یہی عادت تھی ، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے وہ پیدا ہوتے مرتے رہیں گے ہم بھی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں نہ وہ مرکراٹھے نہ ان کا حساب ہوا اور نہ ہم مرکراٹھیں گے اور نہ ہی ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت 123 سے 140
یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–145
75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–140
قوم عاد کا تذکرہ
تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیات 123 تا 140
اسرار و معارف :
ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…
Read the full tafseer →5 ۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ یہ نصیحت کی باتیں جو تم ہم سے کر رہے ہو کوئی نئی نہیں ہیں پہلے بھی ایسے خبطی گزرے ہیں جو اس طرح کی پاگل پن کی باتیں کرتے رہے ہی۔ (ان ھذا الالساطیر الاولین۔ اور دوسرا یہ کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں کوئی نئی چیز نہیں ہے پہلے بھی ہمارے باپ دادا یہی کرتے رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا اور یہی ان کا اخلاق و تمدن۔ (کبیر و شوکانی)
Read the full tafseer →(26:137) ان ھذا الا خلق الاولین میں ان نافیہ ہے۔ ھذا یہ پندو نصیحت اور یہ جزاء و سزا کے ڈراوے جو تم ہمیں سنا رہے ہو خلق اطوار و عادات الاولین پرانے لوگوں کی باتوں کی طرح ہیں وہ بھی ایسا ہی ڈرایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 :
اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 :
سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
حل لغات :۔ خلق الاولین ۔ پہلوں کی عادت ۔ گزشتہ لوگوں کا وتیرہ ۔
Read the full tafseer →(137) جو باتیں تو کہتا ہے یہ کچھ نہیں مگر محض اگلے لوگوں کی ایک رسم اور عادت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–151
ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں آج سے نہیں یہ تو ہمارے باپ دادا بھی کرتے رہے :
137۔ قوم کے لوگوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ جو تم ہم کو دھمکیاں دے رہے ہو کہ اگر ہم نے تمہاری دعوت قبول نہ کی تو ہم پر آسمان ٹوٹ پڑے گا اور ہم تباہ وبرباد ہوجائیں گے یہ محض کذب ‘ افتراء اور ایک من گھڑت بات ہے جو آپ نے خواہ مخواہ گھڑ لی ہے تمہارے قماش کے لوگ پہلے بھی ہمارے آباء واجدا کو ایسے جھوٹ گھڑ گھڑ کر ڈرایا کرتے تھے اور تم نے بھی وہی روش اختیار کر رکھی ہے ، آپ خود تو اپنی خشک مزاجی کے باعث زندگی کی ان لذتوں سے محروم ہو اور اب یہ چاہتے ہو کہ ہم بھی تمہاری طرح سوکھے ٹکڑے کھائیں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary
Explanation of some difficult words
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾
Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129)
Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
93 This can have two meanings: (1) "Whatever we are doing is not new but has been happening from the tune of our elders since centuries: they had the same creed, the same way of life, the same morality and the same kind of dealings and yet they remained unharmed and safe from every calamity. If there was any evil in this way of life, we should have met the doom with which you are threatening us." (2) "The things you are preaching have been preached and said before also by religious maniacs and so-called moralists, but they could not change the ways of the world. It has never happened that the…
Read the full tafseer →