وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۟ۚوَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَۚ
اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And we are not to be punished."
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۟ۚوَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَۚ
اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And we are not to be punished."
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں"
اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا
اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے
اور ہم عذاب کا نشانہ بننے والے نہیں ہیں۔
اور ہمیں عذاب ہونا نہیں
اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گا،
اور ہم قطعاً عذاب دیے جانے والے نہیں۔
اور ہم پر کچھ عذاب نہیں آنے کا۔
اور ہم پر ہرگز عذاب آنے والا نہیں ہے
اور ہمیں بہرحال کوئی عذاب نہیں ہونا،
اور ہم کو (ہرگز) عذاب نہیں ہونے کا۔
اور ہمیں کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا
اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔
We will not be subjected to any chastisement."
and we are not going to be punished.
and we are not going to be punished.
"And we are not going to be punished."
And we shall not be doomed.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And we are not to be punished."
They rejected him and We destroyed them.
And we are not going to be punished.
And we are not going to be tormented.
"And we are not the ones to receive Pains and Penalties!"
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 136–140
موثر بیانات بھی بےاثر حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
سورة الشُّعَرَآء 94 اس قوم کے ہلاک ہونے کی جو تفصیل قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اچانک زور کی آندھی اٹھی۔ یہ لوگ دور سے اس کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھ کر سمجھے کہ گھٹا چھائی ہے۔ خوشیاں منانے لگے کہ اب خوب بارش ہوگی۔ مگر وہ تھا خدا کا عذاب۔ آٹھ دن اور سات راتوں تک مسلسل ایسی طوفانی ہوا چلتی رہی جس نے ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے زور کا یہ عالم تھا کہ اس نے آدمیوں کو اٹھا اٹھا کر پھینک دیا۔ اس کی گرمی و خشکی کا یہ حال تھا کہ جس چیز پر گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا۔ اور یہ طوفان اس وقت تک نہ تھما جب تک اس ظالم قوم کا ایک ایک متنفس ختم نہ ہوگیا۔ بس ان کی بستیوں کے کھنڈر ہی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–140
معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
آیت 138-137 خلق الاولین وہ روایت جو پہلوں سے چلی آرہی ہے۔ یعنی عذاب کا جو ڈراوا تم ہمیں سنا رہے ہو، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی اس قسم کے ڈراوے سنائے جاتے رہے ہیں لیکن یہ محض ڈراوے تھے۔ نہ پہلے عذاب آیا نہ اب پر کوئی عذاب آنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے جیسے وہ ہمی لوگ اس قسم کی باتیں پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ ہم اس قسم کے فرضی اندیشوں میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ یہ مضمون سورة مومنوں :83 میں بھی گزر چکا ہے اور آگے سو فضل آیت 68 میں بدیں الفاظ آیا یہ۔ لقد وعدنا ھذا انحن و بآء نا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین (اس کی دھمکی ہمیں بھی سنائی جا رہی ہے اور اس سے پہلے ہمارے آباء و…
Read the full tafseer →138-1جب انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ ہم تو اپنا آبائی دین نہیں چھوڑیں گے، تو اس میں عقیدہ آخرت کا انکار بھی تھا۔ اس لئے انہوں نے عذاب میں مبتلا ہونے کا بھی انکار کیا۔ کیونکہ عذاب الٰہی کا اندیشہ تو اسے ہوتا ہے جو اللہ کو مانتا اور روز جزا کو تسلیم کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
28: اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم جو ہمیں دنیا کی شان و شوکت سے بیزار کر کے آخرت کی باتیں کر رہے ہو، پچھلے زمانے میں بھی لوگ اس طرح کے جھوٹے دعوے کرتے آئے ہیں، اس لیے تمہاری بات توجہ کے لائق نہیں ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ پرانے زمانے سے لوگ یہی کرتے آرہے ہیں۔ اس لیے اس پر اعتراض درست نہیں۔
Read the full tafseer →ان ھذا ……بمعذبین (138) یعنی وہ جو کام کر رہے ہیں وہ تو اسی رطح ہوتے چلے آئے ہیں۔ ہودعلیہ السلام خواہ مخواہ رفت کر رہے تھے وہ تو آباء و اجادد کی راہ پر جا رہے ہیں اور کوئی عذاب آنے کا ڈر نہیں ہے کیونکہ ہمارے آباء پر تو عذاب نہیں آیا۔ اب قرآن مجید اس مکالمے کے بقیہ حصوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ بس انجام بتا دیا جاتا ہے ، اختصار کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
1 یعنی تمہاری نصیحت بیکار ہے۔ یہ جادو ہم پر چلنے والا نہیں۔ قدیم سے یہ عادت چلی آتی ہے کہ کچھ لوگ نبی بن کر عذاب سے ڈرایا کرتے ہیں اور مرنے جینے کا سلسلہ بھی پہلے سے چلا آتا ہے تو اس سے ہم کو کیا اندیشہ ہوسکتا ہے رہا جو طریقہ ہمارا ہے وہ ہی ہمارے اگلے باپ دادوں کا تھا۔ ہم اس سے کسی طرح ہٹنے والے نہیں۔ نہ عذاب کی دھمکیوں کو خاطر میں لاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ” یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
87 جب ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو اور وعدہ عذاب کو جھٹلانے میں حد کردی اور ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان پر اللہ کا عذاب آگیا۔ یہ عذاب قہر الٰہی بن کر نازل ہوا۔ تند و تیز آندھی چلی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی۔ آندھی اتنی تیز تھی کہ کھڑے آدمیوں کو ان کے پاؤں سے اکھاڑ اکھاڑ کر ایک دوسرے پر پھینک رہی تھی۔ یہ آندھی ان کے مضبوط اور عالی شان گھروں میں گھس گھس کر ان کے ایک ایک فرد کو تباہ کر رہی تھی۔ اس عذاب کے وقت ان کے یہ مضبوط اور عالی شان مکان کسی بھی کام نہ آسکے۔ اور یہ سرکش اور متکبر قوم پوری کی پوری تباہ و برباد کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے پہلے ہی ہود (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–138
81۔ یعنی اس قسم کا وعظ وپند تو پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ کرتے آئے ہیں، اس کے اندر حقیقت کبھی نہ دیکھی۔ (آیت) ” ھذا “ یعنی جو کچھ تم ہمیں سنا رہے ہو۔ اے ھذا الذی جئتنا بہ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…
Read the full tafseer →وما نحن بمعذبین۔ اور (جس طریقہ پر ہم چل رہے ہیں اس پر) ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–138
(136 تا 138) وہ بولے ہمارے نزدیک دونوں چیزیں برابر ہیں خواہ آپ ہمیں ان چیزوں سے روکیں یا نہ روکیں اور جس طریقہ پر ہم قائم ہیں یہ تو پہلے لوگوں کا ایک طریقہ چلا آرہا ہے یا یہ کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ تو بس پہلے لوگوں کی باتیں ہیں اور رسم ہے اور تم جو ہمیں عذاب سے ڈراتے ہو ہمیں ہرگز عذاب نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
اِنْ ھٰذَآ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ۔۔ : یعنی یہ بت پرستی، یادگاریں اور عالی شان عمارتیں بنانا اور اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا سلوک کرنا کوئی ہمارا شیوہ ہی نہیں، یہی کچھ ہمارے پہلے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ ان کا دین بھی یہی تھا اور تمدن بھی یہی، نہ ان پر کوئی عذاب آیا نہ ہم پر آئے گا۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نصیحت کی یہ باتیں جو تم ہم سے کر رہے ہو کوئی نئی نہیں ہیں، پہلے بھی ایسے خبطی گزرے ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ ہم پر ان کا کچھ اثر نہیں، نہ ہمیں کوئی عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
وما نحن بمعذبین جو ہم کیا کرتے تھے اس پر ہمیں عذاب نہیں دیا جاتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے خلق اجسام الاولین یعنی ہماری پیدائش نہیں ہے مگر پہلوں کی پیدائش کی طرح جو ہم سے قبل پیدا کیے گئے وہ مر گئے اور جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اس میں سے کوئی چیز ان پر نازل نہ ہوئی۔ فکذبوہ فاھلکنھم ہم نے انہیں ریح صرصر سے ہلاک کردیا وہ سرکش تھی جس طرح سورة حاقہ میں آئے گا۔ ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ “ بعض نے کہا : ان پر تین لاکھ اور چند سو ایمان لائے اور باقی ماندہ ہلاک ہوگئے۔ 1 ؎؎۔ جامع ترمذی، بابنی الرضاع، باب ما جاء لحق المراۃ علی زوجھا، جلد 1، صفحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَمَا نَحْنُ [ اور ہم نہیں ہیں ] بِمُعَذَّبِيْنَ [ عذاب دئیے جانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…
Read the full tafseer →54:۔ یہ مرنا جینا دنیا کا پرانا دستور ہے اس کے بعد کوئی حشر و نشر اور ثواب و عقاب نہیں۔ ” فکذبوہ الخ “ آخرت قوم نے ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اس واقعہ میں کافی عبرت و نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–140
ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے ساتھ فرعون کا ذکر کیا ۔ پھر نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ۔ اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ۔ پھر ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا حال بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام میں پائی جانے والی بیماریوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ کے نبی اپنی اپنی اقوام کو ان خرابیوں سے منع کرتے رہے۔ کفر و شرک کی بیماری تو تمام اقوام میں قدر مشترک تھی ۔ اس کے علاوہ کسی میں معاملات کی خرابی تھی ، کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں…
Read the full tafseer →وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ 138ۚ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–141
ترکیب : : آمنین حال من ضمیر تترکون فی جنات الخ بدل من فیماھھنا باعادۃ الجار ھضیم لطیف لین تنحتون نحت تراشیدن فرھین حال۔ قوم ثمود کے عادات : یہ پانچواں قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی کنارہ میں تھی۔ ان کے ہاں باغ اور کھیتی اور پانی کے جاری چشمے اور عمدہ کھجوریں پیدا ہوتی تھیں یہ ملک نہایت سرسبز اور شاداب تھا اس قوم کو بڑی فارغ البالی حاصل تھی باغوں اور کھیتوں میں عیش کیا کرتے تھے مگر بدبخت بت پرست تھے رہزانی اور غارتگری اور چوری اور دیگر فواحش میں سخت مبتلا تھے قیامت اور روز جزا کے منکر اور ان میں بیہودہ لوگ ان کے پیر تھے ان کے نسبت فرماتا ہے الذین یفسدون فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 137، 138) (یہ باتیں تو یونہی ہوتی چلی آئی ہیں۔ اور ہم پر ہرگز عذاب آنے والا نہیں ہے۔ ) تم ہمیں جس عذاب سے ڈرا رہے ہو، یہ ڈراوا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے ایسی ہی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اگر ان باتوں پر عذاب آنا ہوتا تو پہلے لوگوں پر عذاب آجاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری باتوں کی حیثیت توہمات سے زیادہ نہیں۔ ہم ایسی فرضی باتوں سے یہ روگ نہیں پال سکتے کہ ہم پر عذاب آنے والا ہے۔ ہمیں ایسے کسی عذاب کا اندیشہ نہیں۔ سورة نمل آیت 68 میں یہی بات ان الفاظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–141
فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
تعمیر و تخریب تو پہلے سے چلتی رہی ہے : 137، 138: اِنْ ھٰذَا اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ (یہ تو پہلے لوگوں کی عادت ہی ہے) یعنی ہم جس زندگی میں رہ رہے ہیں۔ اس میں موت وحیات و تعمیر و تخریب یہ آباء اولین کی عادت چلی آرہی ہے۔ نمبر 2۔ جس پر ہم ہیں یہ دین اباء اولین ہے۔ اِلَّا خَلُقُ الْاَوَّلِیْنَ یہ مکی بصری، یزید و علی نے پڑھا یہ جو کچھ تو لایا ہے یہ پہلے لوگوں کی گھڑنت ہے۔ اور دعوی نبوت کرنے والوں کا کذب ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے اساطیر الاولین ] الانعام : 25[ نمبر 2۔ ہماری پیدائش پہلے لوگوں کی پیدائش کی طرح ہے ہم مرتے اور زندہ رہتے ہیں۔ وَمَانَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ (اور ہمیں عذاب نہ دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–145
137۔ ان ھذا، یہ عادت پہلے لوگوں کی ہے۔ الاخلق الاولین، ابن کثیر ، ابوجعفر، ابوعمر اور کسائی ، یعقوب نے (خلق ) خاء کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ کہ یہ پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے کہ تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وتخلقون افکا، دوسرے قراء نے خاء کے ضمہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں کی یہی عادت تھی ، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے وہ پیدا ہوتے مرتے رہیں گے ہم بھی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں نہ وہ مرکراٹھے نہ ان کا حساب ہوا اور نہ ہم مرکراٹھیں گے اور نہ ہی ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–145
75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–140
قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی پہلے لوگوں پر کونسا عذاب ٹوٹ پڑا جو آج ہم پر ٹوٹ پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–145
(26:138) وما نحن بمعذبین ۔ (نہ ہمارے آباء و اجداد پر کوئی آفت آئی) اور نہ ہی ہم پر کوئی عذاب آئے گا۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر ۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب دئیے جانے والے ۔ عذاب یافتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
حل لغات :۔ خلق الاولین ۔ پہلوں کی عادت ۔ گزشتہ لوگوں کا وتیرہ ۔
Read the full tafseer →(138) اور ہم ہرگز عذاب دئیے جانے والے نہیں اور ہم کو کوئی آفت آنے والی نہیں یعنی ہم جن باتوں پر قائم ہیں انہی پر قائم رہیں گے تیرا نصیحت کرنا نہ کرنا ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں ۔ سعدی نے خوب کہا ہے ؎ نصیحت کن مرا چنداں کہ خواہی نہ تواں شتن اززنگی سیاہی رہی یہ بات کہ تو کہتا ہے میں پیغمبر ہوں اور باز نہ آئو گے تو تم پر عذاب آجائے گا تو یہ باتیں بھی ایسی ہیں جو اوپر سے عادتاً چلی آتی ہیں کچھ لوگ نبی بن کر آکھڑے ہوتے ہیں اور مخلوق کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں تو ہم تیری نبو ت کو نہیں مانتے اور ہم تیرے ڈرانے سے بھی ڈرنے والے نہیں ہم کو کون عذاب کرسکتا ہے آج دنیا میں ہماری طاقت اور قوت کے مقابلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–151
ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →آپ بےفکر رہیں ہم کو کوئی عذاب وزاب نہیں ہوگا : 138۔ یہ جو عذاب کا ڈراوا ہم کو بار بار دے رہے ہو اور ہر وقت ہمارے سروں پر سوار کر رکھا ہے اس سے باز آجاؤ تمہارے منہ سے کبھی خیر کی خبر نہیں سنی گئی یہاں آپ جیسے کتنے ہی ہم کو ڈرا ڈرا کر گئے ہم نے مشکل کے ساتھ ان سے جان چھڑائی تھی کہ ادھر سے آپ کھڑے ہوگئے ہم تمہاری باتوں میں آنے والے نہیں اور ہم کو کوئی عذاب وزاب نہیں آئے گا ہمارے بزرگ ہماری پیٹھ کے پیچھے ہیں اور ان کا ہاتھ ہماری پیٹھ پر ہے اور جن لوگوں کی پیٹھ پر ان بزرگوں کا ہاتھ ہو ان کو کون گزند پہنچا سکتا ہے جاؤ اپنا کام کرو اور ہمارا سر نہ کھاؤ ” یہ خبریں ہم کو بہت پہلے دی گئی ہیں اور پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
94 According to the Qur'an, the people of 'Ad were destroyed by a violent windstorm. When they saw it advancing towards their valleys, they rejoiced with the hope that those were dense clouds which would bring much rain for them, but in reality it was Allah's scourge. The windstorm continued to rage for eight days and seven nights and destroyed everything. The people were swept away like straw and everything on which the hot, dry wind blew was left rotting. The storm did not abate until the last man of the wicked tribe had met his doom. Only ruins of their habitations remained to tell the…
Read the full tafseer →