Ash-Shu'araa 26:136

Ash-Shu'araa · from ayah 136

26:136

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَ ۟ۙقَالُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَوَعَظۡتَ اَمۡ لَمۡ تَكُنۡ مِّنَ الۡوٰعِظِيۡنَۙ

وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "It is all the same to us whether you advise or are not of the advisors.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:136

انہوں نے جواب دیا "تو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے یکساں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ کہنے لگے : چاہے تم نصیحت کرو، یا نہ کرو، ہمارے لیے سب برابر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے ہمیں برابر ہے چاہے تم نصیحت کرو یا ناصحوں میں نہ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: ہمارے حق میں برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں نہ بنو (ہم نہیں مانیں گے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہم پر برابر ہے کہ تو نصیحت کرے، یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : ہمیں تو ایسا وعظ کر یا نہ کرو، ہمیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے جواب دیا، ہمارے لئے یکساں ہے، خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ بنو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان لوگوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ہمارے لیے سب یکساں ہے خواہ تم نصیحت کرو یا تم واعظ نہ بنو،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ بولے ہمارے لئے برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو خواہ ناصح نہ بنو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے جواب دیا کہ (اے ہود) ُ ہمارے لیے برابر ہے خواہ تم وعظ کرو یا نہ کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لیے یکساں ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied: "It is all the same for us whether you admonish us or not.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :It is all equal for us, whether you give us advice or you do not become one of the advisors.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :It is all equal for us, whether you give us advice or you do not become one of the advisors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "It is the same to us whether you preach or be not of those who preach."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: It is all one to us whether thou preachest or art not of those who preach;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "It is all the same to us whether you advise or are not of the advisors.

— Saheeh International

They said, "Whether you preach to us or not,

— Muhammad Sarwar

They said: It is the same to us whether you admonish or are not one of the admonishers

— Muhammad Habib Shakir

They said: it is equal unto us whether thou admonishest or art not of the admonishers.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "It is the same to us whether thou admonish us or be not among (our) admonishers!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:136

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 136–140

موثر بیانات بھی بےاثر حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 131–137

سورة الشُّعَرَآء 93 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے، صدیوں سے ہمارے باپ دادا یہی کچھ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا، یہی ان کا تمدن تھا اور ایسے ہی ان کے اخلاق اور معاملات تھے۔ کون سی آفت ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ اب ہم اس کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ کریں۔ اس طرز زندگی میں کوئی خرابی ہوتی تو پہلے ہی وہ عذاب آ چکا ہوتا جس سے تم ڈراتے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو باتیں تم کر رہے ہو ایسی ہی باتیں پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے کرتے رہے ہیں، مگر دنیا کی گاڑی جس طرح چل رہی تھی اسی طرح چلے جا رہی ہے۔ تم جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–140

معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قہارت قلب کی آخری حد حضرت ہود کی اس ساری دلسوزی و دردی ندی اور اس تمام تذکیر و تنبیہ کا جواب قوم نے نہایت تحقیر و استہزاء کے ساتھ یہ دیا کہ آپ ہمیں نصیحت فرمائو یا نہ فرمائو، ہمارے لئے دونوں یکساں ہے۔ ہم بہرحال آپ کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔ ام لم تکن من الواعظین کے الفاظ پر اچھی طرح غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کے اندر ایک مخفی قسم کا طنز بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ماننا تو الگ رہا ہماری نگاہوں میں تو آپ کی اس بےقرار و بےچینی کو بھی کوئی وقعت نہیں ہے جو ہمارے مستقبل سے متعلق آپ ظاہر کرتے ہیں۔ ہم تو اس کو محض ایک خبط و جنون سمجھت ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ بسا اوقات آدمی اپنے کسی ناصح مشفق کی نصیحت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 136–137

137-1یعنی وہی باتیں ہیں جو پہلے بھی لوگ کرتے آئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم جس دین اور عادات و روایات پر قائم ہیں، وہ وہی ہیں جن پر ہمارے آباء و اجداد کار بند رہے، مطلب دونوں سورتوں میں یہ ہے کہ ہم آبائی مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 130–136

27: یعنی ایک طرف تو تمہارا حال یہ ہے کہ ان نام و نمود کی عمارتوں پر پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہو، اور دوسری طرف غریبوں کے ساتھ تمہارا رویہ انتہائی ظالمانہ ہے کہ ذرا سی بات پر کسی کی پکڑ کرلی تو اس کی جان عذاب میں آگئی۔ حضرت ہود ؑ کی یہ باتیں نقل کر کے قرآن کریم نے ہم سب کو توجہ دلائی ہے کہ کہیں ہمارا طرز عمل بھی اس زمرے میں تو نہیں آتا کہ بس دنیا کی شان و شوکت ہی کو سب کچھ سمجھ کر آخرت سے غافل ہوں، اور دولت مندی کے نشے میں غریبوں کو اپنے ظلم و ستم کی چکی میں پیس رکھا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 136–137

قالوا سوآء ……الوعظین (136) انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہود صاحب آپ فضول لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے آپ کا وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہے۔ یہ جواب ان کی طرف سے سخت توہین آمیز ، سنگدلانہ اور انتہائی دینی جمود اور بلاوت کا مظہر تھا۔ یہ لوگ اپنے تقلیدی مذہب پر تلے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 136–138

1 یعنی تمہاری نصیحت بیکار ہے۔ یہ جادو ہم پر چلنے والا نہیں۔ قدیم سے یہ عادت چلی آتی ہے کہ کچھ لوگ نبی بن کر عذاب سے ڈرایا کرتے ہیں اور مرنے جینے کا سلسلہ بھی پہلے سے چلا آتا ہے تو اس سے ہم کو کیا اندیشہ ہوسکتا ہے رہا جو طریقہ ہمارا ہے وہ ہی ہمارے اگلے باپ دادوں کا تھا۔ ہم اس سے کسی طرح ہٹنے والے نہیں۔ نہ عذاب کی دھمکیوں کو خاطر میں لاسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 133–136

آیت 136 قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَکُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَ ” آپ علیہ السلام کے اس وعظ کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوگا ‘ ہم آپ کے کہنے پر اپنے عقائد اور اپنے باپ دادا کے طریقوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 136–137

86 اس نصیحت کے جواب میں یہ سرکش قوم کہنے لگی کہ ایسی باتیں تو ہم بھی سنتے چلے آئے ہیں۔ کچھ لوگ نبی بن کر ایسی باتیں کیا کرتے ہیں کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا اور مرتے جینے کا سلسلہ ان سے پہلے بھی چلتا تھا۔ بعد میں بھی چلتا رہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ لہذا تمہاری ایسی نصیحتیں ہمارے لئے بےکار ہیں۔ نہ ہم ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ امام بخاری نے خلق الاولین میں خلق سے دین مراد لیا ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ زیر تفسیر روم ( اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ تو پرانے لوگوں کا مذہب ہے۔ پرانے لوگ ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر اب ایسے اولڈ فیشن لوگوں کا زمانہ لد چکا۔ موجودہ دور میں ایسے لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 135–138

81۔ یعنی اس قسم کا وعظ وپند تو پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ کرتے آئے ہیں، اس کے اندر حقیقت کبھی نہ دیکھی۔ (آیت) ” ھذا “ یعنی جو کچھ تم ہمیں سنا رہے ہو۔ اے ھذا الذی جئتنا بہ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–140

آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا سوآء علینا او عظت ام لم تکن من الوعظین۔ قوم ہود نے (جواب میں) کہا ہمارے لئے (دونوں) برابر ہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو۔ یعنی تمہارے وعظ کی وجہ سے اپنے طریقہ کو جس پر ہم چل رہے ہیں ترک نہیں کریں گے۔ وعظ اس کلام کو کہتے ہیں جو وعد و وعید (ترغیب و ترہیب) کے ذکر کی وجہ سے دلوں میں نرمی پیدا کر دے (یعنی وعظ کے اندر ترغیب و ترہیب ضروری ہے تاکہ دلوں کی سختی دور ہو) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 136–138

(136 تا 138) وہ بولے ہمارے نزدیک دونوں چیزیں برابر ہیں خواہ آپ ہمیں ان چیزوں سے روکیں یا نہ روکیں اور جس طریقہ پر ہم قائم ہیں یہ تو پہلے لوگوں کا ایک طریقہ چلا آرہا ہے یا یہ کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ تو بس پہلے لوگوں کی باتیں ہیں اور رسم ہے اور تم جو ہمیں عذاب سے ڈراتے ہو ہمیں ہرگز عذاب نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَوَعَــظْتَ۔۔ : مفردات راغب میں ہے ”وعظ“ ایسا ڈانٹنا ہے جس کے ساتھ خوف دلانا بھی ہو۔ خلیل نے فرمایا : ”اس کا معنی ہے ایسے اچھے طریقے سے نصیحت کرنا جس سے دل نرم ہوجائیں۔“ یہ ہود ؑ کی قوم کا جواب ہے کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ہم تمہاری بات کسی طرح ماننے والے نہیں۔ ان الفاظ سے ان کا ہود ؑ کے ساتھ بےپروائی اور تحقیر کا سلوک نمایاں ہو رہا ہے۔ سورة ہود (53) میں ان کے جواب کے مزید الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 130–136

واذا بطشتم بطشتم جنارین، بطش کا معنی سطوت اور سختی سے پکڑنا ہے اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے قد بطش بہ یطش ویطش بطشا، باطشہ مباطشۃ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : بطش سے مراد تلوار سے قتل کرنا اور ڈنڈے سے مارتا ہے۔ اس کا معنی ہے تم نے یہ عمل ظلم کے طور پر کیا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : اس سے مراد ڈنڈے سے مارنا ہے۔ مالک بن انس نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں جو ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ناحق تلوار سے قتل کرنا ہے۔ یہ یحییٰ بن سلام نے حکایت بیان کی ہے۔ کلبی اور حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد غصہ کی وجہ سے قتل کرنا ہے۔ سب حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–140

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] سَوَاۗءٌ [ برابر ہے ] عَلَيْنَآ [ ہم پر ] اَوَعَــظْتَ [ آپ ﷺ وعظ کریں ] اَمْ [ یا ] لَمْ تَكُنْ [ آپ ﷺ نہ ہوں ] مِّنَ الْوٰعِظِيْنَ [ وعظ کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 134–136

(قَالُوْا سَوَاءٌ عَلَیْنَا) (الآیۃ) ان لوگوں نے جواب میں کہا کہ تمہاری و اعظانہ باتوں سے ہم متاثر ہونے والے نہیں تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو بہر حال ہم اپنی جگہ پر اٹل ہیں ہمیں بات ماننا نہیں ہے، اور یہ جو تم کہتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور قیامت کو مانو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ایسی باتیں کہتے آئے ہیں اب تک قیامت آئی نہیں اور یہ جو تم عذاب والی بات کہتے ہو ہم اسے بھی نہیں مانتے ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اللہ پاک نے انہیں سخت آندھی کے ذریعہ ہلاک کردیا جس کا ذکر سورة حم سجدہ (ع 2) اور سورة الحاقہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–140

قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 136–137

53:۔ ” خلق، یعنی عادت۔ یہ عالیشان محل بنانا اور یادگاریں تعمیر کرنا اور دنیوی نعمتوں سے متمتع ہونا یا ایسا توحید کا وعظ سننا سنانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک پرانی ریت اور ڈگر ہے جس پر پہلے لوگ چلے آرہے ہیں۔ تم سے پہلے کئی وعظ سنانے والے آئے مگر ہمارے باپ دادا اپنے دین پر قائم رہے اور ہم بھی ان کے دین پر قائم ہیں۔ وہ آئے اور چلے گئے، ہم بھی آئے ہیں اور آخر مرجائیں گے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ کوئی حشر و نشر نہیں اور نہ کوئی جزاء و سزا ہے۔ ما ھذا الذی نحن علیہ من الدین الا خلق الاولین و عادتھم کانوا بہ یدینون و نحن بہم مقتدون او ما ھذا الذی نحن علیہ من الحیاۃ والموت الا عادۃ لم یزل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 132–140

ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے ساتھ فرعون کا ذکر کیا ۔ پھر نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ۔ اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ۔ پھر ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا حال بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام میں پائی جانے والی بیماریوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ کے نبی اپنی اپنی اقوام کو ان خرابیوں سے منع کرتے رہے۔ کفر و شرک کی بیماری تو تمام اقوام میں قدر مشترک تھی ۔ اس کے علاوہ کسی میں معاملات کی خرابی تھی ، کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِيْنَ۝ 136ۙ سواء ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال : فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] ، ( س و ی ) المسا واۃ مکان سوی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا سَوَآئٌ عَلَیْنَـآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَـکُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْن۔ (الشعرآء : 136) (انھوں نے جواب دیا کہ تم نصیحت کرو یا نہ کرو، ہمارے لیے سب یکساں ہیں۔ ) قلبی قساوت کی آخری حد قوموں میں بگاڑ کے بھی درجات ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ قومیں نصیحت سے لاپرواہی کا رویہ اختیار کرتی ہیں، پھر بےاعتنائی پیدا ہوتی ہے، لیکن دل میں اس بات کا احساس ضرور ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنا وقت اور اپنی توانائی صرف کرکے ہمارے پاس نصیحت کے لیے آتے ہیں یقینا وہ ہمارے خیرخواہ ہیں۔ نصیحت قبول نہ بھی کی جائے، دل میں ناصح کی خیرخواہی کا احساس ضرور ہوتا ہے لیکن بگاڑ کا آخری درجہ یہ ہے کہ نہ، نصیحت سے تعلق رہے اور نہ ناصح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 133–141

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم کا جواب : 136: قَالُوْا سَوَآئٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَکُنْ مِّنَ الْوَاعِظِیْنَ (کہنے لگے ہمارے حق میں برابر ہے۔ کہ آیا تم وعظ کرو یا نہ وعظ کہو ! ) ہم تیرے کلام کو قبول نہیں کرتے اور تیری دعوت نہیں مانتے خواہ وعظ کر یا خاموش رہو یہاں ام لم تعظ نہیں کہا تاکہ آیات کے اواخر ایک جیسے ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

136۔ قالواسواء علینا، تمہارے وعظ کی وجہ سے اپنے طریقے کو جس پر چل رہے ہیں ترک نہیں کریں گے ، اوعظت ام لم تکن من الواعظین، وعظ اس کلام کو کہتے ہیں جو وعدہ وعید کے ذکر کی وجہ سے دلوں میں نرمی پید ا کردے کلبی نے اس کا ترجمہ کیا کہ ہمارے لیے دونوں برابر ہیں ہم کو روکویانہ روکو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–140

(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–140

آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 136–145

75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 122–140

قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–140

آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 131–136

4 ۔ ” ہم کسی طور ماننے والے نہیں “۔ یہ بات انہوں نے بےپرواہی اور حقارت آمیز لہجہ میں کہی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 135–136

(26:135) عذاب یوم عظیم : عذاب مضاف یوم عظیم موصوف وصف مل کر مضاف الیہ۔ بڑے دن کا عذاب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–140

لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–140

حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(136) ان لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کو جواب دیا تو ہم کو نصیحت کرلے یا نصیحت کرنے والا نہ بنے ہمارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 135–136

ف 1۔ یعنی ہم دونوں حالتوں میں اپنی کردار سے باز نہ آویں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ بڑبڑا کر کہنے لگے کہ ہم کو نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے برابر ہے : 136۔ قوم کے لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کی دلآویز نصائح سنیں لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیں اور تحقیر و استہزاء کے ساتھ آپکا مذاق اڑایا اور ہنس ہنس کر کہنے لگے ہود تم ہم کو نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے کہ ہم آپ کی بات ماننے والے نہیں ۔ ذرا غور کرو کہ انہوں نے یہ بات کیسے کہہ دی ہاں ! انہوں نے کہہ نہیں دی بلکہ ان سے کہلوائی گئی کیونکہ ان کے پیچھے مذہبی پیشوا تھے جو انکو سہارا دے کر ان سے اس طرح کی باتیں کہلواتے تھے اور سیاسی لیڈر تھے جن کی طاقت ان کے پیچھے کام کر رہی تھی یہی دونوں گروہ ہیں جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–148

Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِ‌يعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 131–137

93 This can have two meanings: (1) "Whatever we are doing is not new but has been happening from the tune of our elders since centuries: they had the same creed, the same way of life, the same morality and the same kind of dealings and yet they remained unharmed and safe from every calamity. If there was any evil in this way of life, we should have met the doom with which you are threatening us." (2) "The things you are preaching have been preached and said before also by religious maniacs and so-called moralists, but they could not change the ways of the world. It has never happened that the…

Read the full tafseer →