Ash-Shu'araa 26:135

Ash-Shu'araa · from ayah 135

26:135

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۟ؕاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍؕ

مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, I fear for you the punishment of a terrible day."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:135

مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ مجھے تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک مجھے تم پر ڈر ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک میں تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مجھے تو تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک میں تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مجھے سخت ڈر ہے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا

— مولانا اسحاق مدنی

مجھے تمہارے لئے اندیشہ ہے بڑے سخت دن کے عذاب کا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

مجھے تو اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مجھے تمہارے بارے میں بڑے سخت دن کے عذاب کا خوف ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

I fear for you the chastisement of an Awesome Day."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In fact I fear for you the punishment of a horrible day.

— Muhammad Taqi Usmani

In fact I fear for you the punishment of a horrible day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, I fear for you the torment of a Great Day."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! I fear for you the retribution of an awful day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, I fear for you the punishment of a terrible day."

— Saheeh International

I am afraid that you will suffer the torment of the Day of Judgment."

— Muhammad Sarwar

Surely I fear for you the chastisement of a grievous day

— Muhammad Habib Shakir

Verily I fear for you the torment of a Mighty Day.

— Abdul Majid Daryabadi

"Truly I fear for you the Penalty of a Great Day."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:135

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–135

ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 131–137

سورة الشُّعَرَآء 93 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے، صدیوں سے ہمارے باپ دادا یہی کچھ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا، یہی ان کا تمدن تھا اور ایسے ہی ان کے اخلاق اور معاملات تھے۔ کون سی آفت ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ اب ہم اس کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ کریں۔ اس طرز زندگی میں کوئی خرابی ہوتی تو پہلے ہی وہ عذاب آ چکا ہوتا جس سے تم ڈراتے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو باتیں تم کر رہے ہو ایسی ہی باتیں پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے کرتے رہے ہیں، مگر دنیا کی گاڑی جس طرح چل رہی تھی اسی طرح چلے جا رہی ہے۔ تم جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–140

معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 131–135

آیت 135-131 فاتقوا اللہ واصیعون یہ بات تقریباً ہر رسول سے قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ یہ نہایت دلسوزی ودرد ندی کے ساتھ قوم کو گویا آخری مرحلے میں تذکیر و تنبیہ ہے کہ اب بھی وقت گزرا نہیں ہے۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی اس غلط روش سے باز آجائو اور اپنے مفسد لیڈروں کی پیروی کرنے کے بجائے میری بات مانو۔ انعام کے اندر استدراج کا پہلو واتقوا الذین امدکم بم تعلمن یہ حضرت ہود نے قوم کو خدا کے جلال و جبروت کے بجائے اس کے انعامات کے حوالہ سے ڈرایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مال و اولاد اور باغوں اور چشموں کی جو نعمتیں خدا نے تمہیں دے رکھی ہیں ان کو بنانے اور گنا نے کی ضرورت نہیں ہے، تم خود اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 132–135

135-1یعنی اگر تم نے اپنے کفر پر اصرار جاری رکھا اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا شکر ادا نہ کیا، تو تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا جاؤ گے۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت تو ہے ہی عذاب وثواب کے لئے۔ وہاں تو عذاب سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 130–136

27: یعنی ایک طرف تو تمہارا حال یہ ہے کہ ان نام و نمود کی عمارتوں پر پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہو، اور دوسری طرف غریبوں کے ساتھ تمہارا رویہ انتہائی ظالمانہ ہے کہ ذرا سی بات پر کسی کی پکڑ کرلی تو اس کی جان عذاب میں آگئی۔ حضرت ہود ؑ کی یہ باتیں نقل کر کے قرآن کریم نے ہم سب کو توجہ دلائی ہے کہ کہیں ہمارا طرز عمل بھی اس زمرے میں تو نہیں آتا کہ بس دنیا کی شان و شوکت ہی کو سب کچھ سمجھ کر آخرت سے غافل ہوں، اور دولت مندی کے نشے میں غریبوں کو اپنے ظلم و ستم کی چکی میں پیس رکھا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 132–135

واتقوا ……عظیم (135) حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 132–135

5 یعنی اتنا تو سوچو کہ آخر یہ سا مان تم کو کس نے دیے ہیں ؟ کیا اس منعم حقیقی کا تمہارے ذمہ کوئی حق نہیں۔ اگر تمہاری یہ ہی شرارت اور سرکشی رہی تو مجھے اندیشہ ہے کہ پہلی قوموں کی طرح کسی سخت آفت میں گرفتار نہ ہوجاؤ۔ دیکھو ! میں تم کو نصیحت کرچکا۔ اپنے انجام کو خوب سوچ لو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 133–136

آیت 136 قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَکُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَ ” آپ علیہ السلام کے اس وعظ کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوگا ‘ ہم آپ کے کہنے پر اپنے عقائد اور اپنے باپ دادا کے طریقوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 133–135

85 پھر ہود (علیہ السلام) نے ان پر اللہ تعالیٰ کے ایک ایک انعام کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تمہیں چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ کے انعامات کا شکریہ بجا لاتے اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ بناتے اور اس کے فرمانبردار بندے بن جاتے۔ لیکن تم نے اس کے بجائے فساد پھیلا رکھا ہے۔ لہذا اللہ کی گرفت اس کے عذاب سے ڈر جاؤ جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آکے رہے گا۔ عذاب یوم عظیم سے مراد وہ دین بھی ہوسکتا ہے جس دن اس قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور قیامت کے دن کا عذاب بھی اور دونوں قسم کے عذاب بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 135–138

81۔ یعنی اس قسم کا وعظ وپند تو پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ کرتے آئے ہیں، اس کے اندر حقیقت کبھی نہ دیکھی۔ (آیت) ” ھذا “ یعنی جو کچھ تم ہمیں سنا رہے ہو۔ اے ھذا الذی جئتنا بہ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–140

آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم۔ (اگر تم میرے کہنے پر نہ چلو گے تو) مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یوم عظیم کا عذاب تم پر آجائے گا (کذا فسرہ ابن عباس) یوم عظیم کا عذاب دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ کیونکہ جو خدا عطاء نعمت پر قادر ہے وہ انتقام پر بھی قادر ہے۔ یہ جملہ حکم سابق کی علت کو ظاہر کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(135) مجھے تمہارے حق میں اگر تم کفر وشرک اور بتوں کی پرستش سے باز نہ آئے ایک بڑے سخت دن کے عذاب یعنی دوزخ کا خدشہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ : نصیحت کی ابتدا ڈرانے سے کی تھی، اب اسے ختم بھی اسی پر کیا، کیونکہ خوف ہی انسان کو غلط راستے سے پلٹنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ یعنی اگر تم ایمان نہ لائے تو میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ”بہت بڑے عذاب سے“ کہنے کے بجائے فرمایا ”بہت بڑے دن کے عذاب سے“ مطلب یہ ہے کہ جب وہ دن ہی بہت بڑا ہے تو اس کا عذاب کتنا بڑا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 130–136

واذا بطشتم بطشتم جنارین، بطش کا معنی سطوت اور سختی سے پکڑنا ہے اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے قد بطش بہ یطش ویطش بطشا، باطشہ مباطشۃ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : بطش سے مراد تلوار سے قتل کرنا اور ڈنڈے سے مارتا ہے۔ اس کا معنی ہے تم نے یہ عمل ظلم کے طور پر کیا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : اس سے مراد ڈنڈے سے مارنا ہے۔ مالک بن انس نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں جو ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ناحق تلوار سے قتل کرنا ہے۔ یہ یحییٰ بن سلام نے حکایت بیان کی ہے۔ کلبی اور حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد غصہ کی وجہ سے قتل کرنا ہے۔ سب حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–140

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کے عذاب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 134–136

(قَالُوْا سَوَاءٌ عَلَیْنَا) (الآیۃ) ان لوگوں نے جواب میں کہا کہ تمہاری و اعظانہ باتوں سے ہم متاثر ہونے والے نہیں تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو بہر حال ہم اپنی جگہ پر اٹل ہیں ہمیں بات ماننا نہیں ہے، اور یہ جو تم کہتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور قیامت کو مانو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ایسی باتیں کہتے آئے ہیں اب تک قیامت آئی نہیں اور یہ جو تم عذاب والی بات کہتے ہو ہم اسے بھی نہیں مانتے ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اللہ پاک نے انہیں سخت آندھی کے ذریعہ ہلاک کردیا جس کا ذکر سورة حم سجدہ (ع 2) اور سورة الحاقہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–140

قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 127–135

52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 132–140

ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے ساتھ فرعون کا ذکر کیا ۔ پھر نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ۔ اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ۔ پھر ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا حال بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام میں پائی جانے والی بیماریوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ کے نبی اپنی اپنی اقوام کو ان خرابیوں سے منع کرتے رہے۔ کفر و شرک کی بیماری تو تمام اقوام میں قدر مشترک تھی ۔ اس کے علاوہ کسی میں معاملات کی خرابی تھی ، کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝ 135ۭ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 132–135

وَاتَّـقُوالَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اَمَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِیْنَ ۔ وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 132 تا 135) (اور اس اللہ سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہیں مدد پہنچائی جن کو تم جانتے ہو۔ اس نے تمہاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سے۔ اور باغوں اور چشموں سے۔ بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ) کفرانِ نعمت سے بچو گزشتہ آیت سے جو امید دلائی تھی اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تم پر پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں، وہ یقینا تمہیں تباہ نہیں کرنا چاہتا، تمہاری اصلاح چاہتا ہے۔ تم اس کے غیظ و غضب کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 133–141

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 134–135

134، 135: وَجَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ ۔ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ( اور باغات اور چشمے مجھے تمہارے متعلق بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے) اگر تم نے میری نافرمانی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

135۔ انی اخاف علیکم، ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا ہے اس کی نافرمانی کا عذاب نہ آجائے۔ عذاب یوم عظیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–140

(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–140

آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 128–135

73 کفر و انکار پر سخت عذاب کا خدشہ ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو تنبیہ و تذکیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے کفر و انکار ہی پر اڑے رہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ اگر تم لوگ اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور تم نے حقِّ شکر ادا نہ کیا اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار پر سخت عذاب کا آنا ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ رسول کی تکذیب کی بنا پر ایسے عذاب کا آنا اللہ پاک کی سنت کا مقتضیٰ ہے۔ سو حضرت ہود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 122–140

قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–140

آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 131–136

4 ۔ ” ہم کسی طور ماننے والے نہیں “۔ یہ بات انہوں نے بےپرواہی اور حقارت آمیز لہجہ میں کہی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 135–136

(26:135) عذاب یوم عظیم : عذاب مضاف یوم عظیم موصوف وصف مل کر مضاف الیہ۔ بڑے دن کا عذاب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–140

لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–140

حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(135) میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں یعنی تم نے جو یہ عبث کام اختیار کررکھا ہے اور ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈروجس نے تم کو یہ تمام سازو سامان دیا ہے اور تمہاری مدد کی ہے اور تم کو دنیا میں مقدور کیا ہے غرض ! جو چیزیں تم کو دی گئی ہیں ان کو تم جانتے ہو یعنی مویشی اور بیٹے اور باغات اور چشمے یہ سب چیزیں تم کو دے کر تمہاری مدد اور اعانت کی تم اس کے جواب میں اگر تکبر کرتے رہے اور کمزوروں اور زیردستوں پر ظلم کرتے رہے تو میں اس دن سے ڈرتا ہوں کہ جو دن عذاب کا بڑا دن ہوگا یعنی دنیا میں ہی کوئی عذاب آجائے یا قیامت میں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان لوگوں کو بڑا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 135–136

ف 1۔ یعنی ہم دونوں حالتوں میں اپنی کردار سے باز نہ آویں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسا نہ ہو کہ اس دن تم کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا جائے جو قیامت کا دن ہے : 135۔ لوگو ! مجھے ایک خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ یہ کہ میں دیکھتا ہوں کہ جہاں آسانیاں ہوتی ہیں وہاں دشواریوں سے واسطہ پڑجاتا ہے ‘ جہاں انعامات کی فراوانی ہوتی ہے وہاں عذاب بھی منڈلاتے نظر آتے ہیں ‘ جہاں بجتی ہیں شہنائیاں وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں ، اس دنیا کا سلسلہ اضدادا پر قائم ہے تم اس قدر مست ہوگئے ہو کہ کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں ایسی گہری نیند سوئے ہو کہ جاگنے کا نام ہی نہیں لے رہے ایک بار اٹھو ‘ جاگو ‘ ہوش میں آؤ دن کے وقت اتنی غفلت اچھی نہیں ہوتی ابھی تمہاری رات آنے والی ہے اور اس کے اندھیرے بڑے بھیانک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–148

Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِ‌يعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 131–137

93 This can have two meanings: (1) "Whatever we are doing is not new but has been happening from the tune of our elders since centuries: they had the same creed, the same way of life, the same morality and the same kind of dealings and yet they remained unharmed and safe from every calamity. If there was any evil in this way of life, we should have met the doom with which you are threatening us." (2) "The things you are preaching have been preached and said before also by religious maniacs and so-called moralists, but they could not change the ways of the world. It has never happened that the…

Read the full tafseer →