وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۟ۚوَجَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۚ
اور باغوں اور چشموں سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And gardens and springs.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz
وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۟ۚوَجَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۚ
اور باغوں اور چشموں سے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And gardens and springs.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
باغ دیے اور چشمے دیے
اور باغوں اور چشموں سے
باغات سے اور چشموں سے
اور باغوں اور چشموں سے بھی۔
اور باغوں اور چشموں سے،
اور باغات اور چشموں سے (بھی)،
اور باغوں اور چشموں کے ساتھ۔
باغات اور چشمے عطا کئے ہیں
اور باغوں اور چشموں سے
اور قسما قسم کے باغوں اور چشموں سے،
اور باغوں اور چشموں سے۔
اور باغات اور چشموں کے ذریعے
) اور باغوں اور چشموں سے
and with gardens and springs.
and with gardens and springs.
and with gardens and springs.
"And gardens and springs."
And gardens and watersprings.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And gardens and springs.
gardens, and springs.
And gardens and fountains;
And gardens and springs.
"And Gardens and Springs.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 123–135
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
سورة الشُّعَرَآء 93 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے، صدیوں سے ہمارے باپ دادا یہی کچھ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا، یہی ان کا تمدن تھا اور ایسے ہی ان کے اخلاق اور معاملات تھے۔ کون سی آفت ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ اب ہم اس کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ کریں۔ اس طرز زندگی میں کوئی خرابی ہوتی تو پہلے ہی وہ عذاب آ چکا ہوتا جس سے تم ڈراتے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو باتیں تم کر رہے ہو ایسی ہی باتیں پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے کرتے رہے ہیں، مگر دنیا کی گاڑی جس طرح چل رہی تھی اسی طرح چلے جا رہی ہے۔ تم جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–140
معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–135
آیت 135-131 فاتقوا اللہ واصیعون یہ بات تقریباً ہر رسول سے قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ یہ نہایت دلسوزی ودرد ندی کے ساتھ قوم کو گویا آخری مرحلے میں تذکیر و تنبیہ ہے کہ اب بھی وقت گزرا نہیں ہے۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی اس غلط روش سے باز آجائو اور اپنے مفسد لیڈروں کی پیروی کرنے کے بجائے میری بات مانو۔ انعام کے اندر استدراج کا پہلو واتقوا الذین امدکم بم تعلمن یہ حضرت ہود نے قوم کو خدا کے جلال و جبروت کے بجائے اس کے انعامات کے حوالہ سے ڈرایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مال و اولاد اور باغوں اور چشموں کی جو نعمتیں خدا نے تمہیں دے رکھی ہیں ان کو بنانے اور گنا نے کی ضرورت نہیں ہے، تم خود اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–135
135-1یعنی اگر تم نے اپنے کفر پر اصرار جاری رکھا اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کا شکر ادا نہ کیا، تو تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا جاؤ گے۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت تو ہے ہی عذاب وثواب کے لئے۔ وہاں تو عذاب سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
27: یعنی ایک طرف تو تمہارا حال یہ ہے کہ ان نام و نمود کی عمارتوں پر پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہو، اور دوسری طرف غریبوں کے ساتھ تمہارا رویہ انتہائی ظالمانہ ہے کہ ذرا سی بات پر کسی کی پکڑ کرلی تو اس کی جان عذاب میں آگئی۔ حضرت ہود ؑ کی یہ باتیں نقل کر کے قرآن کریم نے ہم سب کو توجہ دلائی ہے کہ کہیں ہمارا طرز عمل بھی اس زمرے میں تو نہیں آتا کہ بس دنیا کی شان و شوکت ہی کو سب کچھ سمجھ کر آخرت سے غافل ہوں، اور دولت مندی کے نشے میں غریبوں کو اپنے ظلم و ستم کی چکی میں پیس رکھا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–135
واتقوا ……عظیم (135) حضرت بن کو پہلے رحمالی نعمت یاد دلاتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا کیا انعامات سے نوازا گیا۔ جو کچھ تم ہو ، وہ تمہارے سامنے ہے۔ تم اس حال میں مست ہو لیکن بعض اہم چیزوں کا وہ نام بھی لیتے ہیں۔ تمہیں جانور دیئے ، تمہیں اولاد دی ، باغات دیئے اور پانی کے چشمے دیئے۔ اس دور کی ترقی میں یہی چیزیں اہم تھیں۔ جبکہ یہ چیز ہر دور کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور آج بھی اہم ہیں۔ حضرت ان لوگوں کو ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ کیونکہ جو روش انہوں نے اختیار کر لیت ھی اس کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے تھے اور حضرت ہود چونکہ انہی کے بھائی تھے۔ اس لئے وہ بڑی شفقت سے انہیں ڈرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–135
5 یعنی اتنا تو سوچو کہ آخر یہ سا مان تم کو کس نے دیے ہیں ؟ کیا اس منعم حقیقی کا تمہارے ذمہ کوئی حق نہیں۔ اگر تمہاری یہ ہی شرارت اور سرکشی رہی تو مجھے اندیشہ ہے کہ پہلی قوموں کی طرح کسی سخت آفت میں گرفتار نہ ہوجاؤ۔ دیکھو ! میں تم کو نصیحت کرچکا۔ اپنے انجام کو خوب سوچ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–136
آیت 136 قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَکُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَ ” آپ علیہ السلام کے اس وعظ کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوگا ‘ ہم آپ کے کہنے پر اپنے عقائد اور اپنے باپ دادا کے طریقوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
85 پھر ہود (علیہ السلام) نے ان پر اللہ تعالیٰ کے ایک ایک انعام کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تمہیں چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ کے انعامات کا شکریہ بجا لاتے اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ بناتے اور اس کے فرمانبردار بندے بن جاتے۔ لیکن تم نے اس کے بجائے فساد پھیلا رکھا ہے۔ لہذا اللہ کی گرفت اس کے عذاب سے ڈر جاؤ جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آکے رہے گا۔ عذاب یوم عظیم سے مراد وہ دین بھی ہوسکتا ہے جس دن اس قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور قیامت کے دن کا عذاب بھی اور دونوں قسم کے عذاب بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
80۔ مطلب یہ ہے کہ تم کو جو ناز اپنی کثرت تعداد پر ہے نیز اپنے ملک کے باغ وسبزہ زار پر، اور اپنے ہاں کے نہر ودریا پر ہے یہ سب آخر انعامات الہی ہی تو ہیں، یہ عطیے کسی دیوی دیوتا، کے نہیں اور نہ تمہارے اپنے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اسی معبود واحد ہی کے تو ہیں۔ توحید کا تو تمہیں اور زائد قائل ہونا چاہیے، قرآن مجید نے توحید پر استدلال جس طرح انسان کی غربت و افلاس سے کیا ہے اسی طرح اس کی خوشحالی وامارت سے بھی کیا ہے۔ (آیت) ” جنت وعیون “۔ قوم عاد، خیال رہے کہ جزیرہ نمائے عرب کے شاداب وزرخیز ترین علاقہ میں آباد تھی، یعنی یمن، حضرموت میں، خلیج فارس کے ساحل پر، اور عراق عرب کی سرحد تک ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…
Read the full tafseer →وجنت وعیون۔ اور باغات اور چشمے یہ مذکورۂ بالا امد کم سے بدل ہے (یعنی سابق الذکر امداد سے یہی مؤخر الذکر امداد مقصود ہے) اس کے بعد عذاب کی وعید سنائی اور فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 تا 134) اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں کفر سے توبہ کرنے اور ایمان لانے کا حکم دیا ہے اس چیز میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے تمہیں وہ چیزیں دیں جن کو تم جانتے ہومویشی اور بیٹے اور باغات اور پاک پانی کے چشمے تمہیں عطا کیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
وَاتَّــقُوا الَّذِيْٓ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ۔۔ : نصیحت کرتے ہوئے ہود ؑ نے انھیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلا کر تیسری بار پھر اس سے ڈرایا۔ پہلی آیت میں مجمل طور پر نعمتیں ذکر فرمائیں، پھر مفصل طریقے سے بیان کیں، یعنی سوچو جس مالک نے تمہیں اتنی نعمتیں عطا فرمائیں وہ انھیں چھین بھی سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
واذا بطشتم بطشتم جنارین، بطش کا معنی سطوت اور سختی سے پکڑنا ہے اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے قد بطش بہ یطش ویطش بطشا، باطشہ مباطشۃ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : بطش سے مراد تلوار سے قتل کرنا اور ڈنڈے سے مارتا ہے۔ اس کا معنی ہے تم نے یہ عمل ظلم کے طور پر کیا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : اس سے مراد ڈنڈے سے مارنا ہے۔ مالک بن انس نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں جو ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ناحق تلوار سے قتل کرنا ہے۔ یہ یحییٰ بن سلام نے حکایت بیان کی ہے۔ کلبی اور حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد غصہ کی وجہ سے قتل کرنا ہے۔ سب حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَجَنّٰتٍ [ اور باغوں سے ] وَّعُيُوْنٍ [ اور چشموں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–136
(قَالُوْا سَوَاءٌ عَلَیْنَا) (الآیۃ) ان لوگوں نے جواب میں کہا کہ تمہاری و اعظانہ باتوں سے ہم متاثر ہونے والے نہیں تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو بہر حال ہم اپنی جگہ پر اٹل ہیں ہمیں بات ماننا نہیں ہے، اور یہ جو تم کہتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور قیامت کو مانو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ایسی باتیں کہتے آئے ہیں اب تک قیامت آئی نہیں اور یہ جو تم عذاب والی بات کہتے ہو ہم اسے بھی نہیں مانتے ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اللہ پاک نے انہیں سخت آندھی کے ذریعہ ہلاک کردیا جس کا ذکر سورة حم سجدہ (ع 2) اور سورة الحاقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–135
52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–140
ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے ساتھ فرعون کا ذکر کیا ۔ پھر نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ۔ اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ۔ پھر ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا حال بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام میں پائی جانے والی بیماریوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ کے نبی اپنی اپنی اقوام کو ان خرابیوں سے منع کرتے رہے۔ کفر و شرک کی بیماری تو تمام اقوام میں قدر مشترک تھی ۔ اس کے علاوہ کسی میں معاملات کی خرابی تھی ، کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں…
Read the full tafseer →وَّجَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 13 4ۚ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–137
1 ؎ خلق افتراء خلق عادت۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–135
وَاتَّـقُوالَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اَمَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِیْنَ ۔ وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 132 تا 135) (اور اس اللہ سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہیں مدد پہنچائی جن کو تم جانتے ہو۔ اس نے تمہاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سے۔ اور باغوں اور چشموں سے۔ بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ) کفرانِ نعمت سے بچو گزشتہ آیت سے جو امید دلائی تھی اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تم پر پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں، وہ یقینا تمہیں تباہ نہیں کرنا چاہتا، تمہاری اصلاح چاہتا ہے۔ تم اس کے غیظ و غضب کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–141
فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
134، 135: وَجَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ ۔ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ( اور باغات اور چشمے مجھے تمہارے متعلق بڑے دن کے عذاب کا خطرہ ہے) اگر تم نے میری نافرمانی کی۔
Read the full tafseer →134۔ وجنات وعیون، انکے باغات اور نہریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
73 کفر و انکار پر سخت عذاب کا خدشہ ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو تنبیہ و تذکیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے کفر و انکار ہی پر اڑے رہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ اگر تم لوگ اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور تم نے حقِّ شکر ادا نہ کیا اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار پر سخت عذاب کا آنا ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ رسول کی تکذیب کی بنا پر ایسے عذاب کا آنا اللہ پاک کی سنت کا مقتضیٰ ہے۔ سو حضرت ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–140
قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–136
4 ۔ ” ہم کسی طور ماننے والے نہیں “۔ یہ بات انہوں نے بےپرواہی اور حقارت آمیز لہجہ میں کہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–134
(26:132) امدکم : امد اصل میں امداد تھا پہلے دال کی حرکت حرف ماقبل صحیح م کو دی دال کو دال میں مدغم کیا امد ہوا۔ اس کا مضارع یمد باب افعال امداد سے ہے۔ امدا امداد سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہے اس نے تمہاری مدد کی۔ اس نے تم کو پہنچایا۔ امدکم بما تعلمون۔ تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کو تم (اچھی طرح) جانتے ہو۔ یعنی مویشی، اولاد، باغات، چشمے۔ (آیات 133 - 134)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–136
مصانع ۔ جمع مصنع ۔ قلعے ۔ محلات ۔ حوض ، اور کنوئیں ۔
Read the full tafseer →(134) اور باغوں سے اور چشموں سے امداد کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ف 6۔ منعم ہونے کا مقتضی یہ ہے کہ اس کے احکام کی اصلا مخالفت نہ کی جاوے۔
Read the full tafseer →اللہ نے تم کو باغات بھی دیئے ہیں اور چشمے بھی : 134۔ سبحان اللہ ! کلام بھی دیکھو اور کلام کا معجزانہ انداز بھی ‘ فرمایا لوگو ! غور کرو کہ اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جہاں تم کو باغات عطاکئے وہاں ان باغات کو سیراب کرنے کے لئے چشمے بھی جو پانی سے ہر وقت بھرے رہتے ہیں اور پھر پانی ان کا نہایت ٹھنڈا اور میٹھا ہے اگر اس نے باغات دیئے تھے تو ان کو سیراب کرنے کے لئے وہ تم کو پانی نہ دیتا تو اسکا نتیجہ کیا ہوتا ؟ لیکن اس نے تم پر کتنا احسان کیا کہ جہاں تم کو طرح طرح کے باغات دیئے وہاں تم کو ان کے سیراب کرنے کے لئے چشموں کا پانی بھی دیا تاکہ تم اپنی مرضی سے جب چاہو ان کو سیراب کرلو اور لطف انداز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
93 This can have two meanings: (1) "Whatever we are doing is not new but has been happening from the tune of our elders since centuries: they had the same creed, the same way of life, the same morality and the same kind of dealings and yet they remained unharmed and safe from every calamity. If there was any evil in this way of life, we should have met the doom with which you are threatening us." (2) "The things you are preaching have been preached and said before also by religious maniacs and so-called moralists, but they could not change the ways of the world. It has never happened that the…
Read the full tafseer →