Explained with ayahs 123–135
ہود ؑ اور ان کی قوم
حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 92
یعنی اپنا معیار زندگی بلند کرنے میں تو تم اس قدر غلو کر گئے ہو کہ رہنے کے لیے تم کو مکان نہیں محل اور قصر درکار ہیں، اور ان سے بھی جب تمہاری تسکین نہیں ہوتی تو بلا ضرورت عالی شان عمارتیں بنا ڈالتے ہو جن کا کوئی مصرف اظہار وقت و ثروت کے سوا نہیں ہے۔ لیکن تمہارا معیار انسانیت اتنا گرا ہوا ہے کہ کمزوروں کے لیے تمہارے دلوں میں کوئی رحم نہیں، غریبوں کے لیے تمہاری سر زمین کوئی انصاف نہیں، گرد و پیش کی ضعیف قومیں ہوں یا خود اپنے ملک کے پست طبقات، سب تمہارے جبر اور ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور کوئی تمہاری چیرہ دستیوں سے بچا نہیں رہ گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–140
معارف و مسائل
چند مشکل الفاظ کی تشریح
اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…
Read the full tafseer →فساد فی الارض پر تنبیہ
اوپر کی آیت میں قوم کے داخلی فساد مزاج کی طرف اشارہ تھا۔ یہ ان کے خارجی فساد فی الارض کی طرف اشارہ ہے۔ جنگ اگر مجرد اپنی قوت وصولت کے مظاہرے اور دوسروں کو مغلوب و محکوم بنانے کے لئے ہو تو یہ فساد فی الارض ہے۔ یہ جائز صرف اس صورت میں ہے جب یہ کسی شر و فساد کے مٹانے کے لئے ہو۔ اس صورت میں بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی نیکی بلکہ خدا کی عبادت بن جاتی ہے۔ صلاحین کے ہاتھوں دنیا میں جو جہاد ہوئے ہیں وہ ہمیشہ یا تو مدافعت میں ہوئے ہیں یا استیصال فتنہ کے لئے اور یہ دونوں صورتیں حمایت حق اور اعلائے کلمتہ اللہ کی ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو اس برائی سے بھی روکنے کی کوشش کی۔ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →130-1یہ ان کے ظلم و تشدد اور قوت و طاقت کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
27: یعنی ایک طرف تو تمہارا حال یہ ہے کہ ان نام و نمود کی عمارتوں پر پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہو، اور دوسری طرف غریبوں کے ساتھ تمہارا رویہ انتہائی ظالمانہ ہے کہ ذرا سی بات پر کسی کی پکڑ کرلی تو اس کی جان عذاب میں آگئی۔ حضرت ہود ؑ کی یہ باتیں نقل کر کے قرآن کریم نے ہم سب کو توجہ دلائی ہے کہ کہیں ہمارا طرز عمل بھی اس زمرے میں تو نہیں آتا کہ بس دنیا کی شان و شوکت ہی کو سب کچھ سمجھ کر آخرت سے غافل ہوں، اور دولت مندی کے نشے میں غریبوں کو اپنے ظلم و ستم کی چکی میں پیس رکھا ہو۔
Read the full tafseer →واذا بطشتم بطشتم جبارین (130)
یہ لوگ بہت بڑے نافرمان اور سرکش تھے۔ جب کسی کو اپنی ظالمانہ گرفت میں لیتے تو حد سے گزر جاتے۔ ظلم اور سنگدلی ان کا شیوہ ہوتا۔ جس طرح اس دنیا میں مادی قوت رکھنے والے ہر جبار کا قانون ہوتا ہے۔
چناچہ حضرت ہود ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خدا سے ڈریں اور اس کے رسول کی اطاعت میں آجائیں۔ تاکہ اللہ اور رسول ان کو اس سختی سے روک دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
4 یعنی ظلم و ستم سے زیر دستوں اور کمزوروں کو تنگ کر رکھا ہے۔ گویا انصاف اور نرمی کا سبق ہی نہیں پڑھا۔ خدا کی ضعیف مخلوق کو جبرو تعدی کا تختہ، مشق بنا رکھا ہے۔ سو اللہ سے ڈرو، ظلم وتکبر سے باز آؤ، اور میری بات مانو۔
Read the full tafseer →آیت 130 وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ”
جب تم کسی قوم پر حملہ آور ہوتے ہو تو ظلم و جبر کی انتہا کردیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–130
83 اس قوم کے تین افعال کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا جن میں سے پہلے دو فن تعمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ یادگاریں بہت زیادہ تعمیر کرتے جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ کسی نے اپنی یادگار میں شاندار مقبرہ تعمیر کرالیا۔ کسی نے کوئی اونچا مینار بنایا۔ تو کسی نے کوئی بارہ دری تعمیر کرا دی۔ جیسے اہرام مصر ہیں یا روضہ تاج محل اور اسی طرح کی دوسری یادگاریں آج کل بھی پائی جیتی ہیں اور ان سے مقصود۔۔ ناموری یا نمودو نمائش ہوتا تھا۔ تغبثون سے بعض لوگوں نے مراد کھیل تماشا ہی لیا ہے۔ یعنی وہ ایسی بلند عمارتوں کو اوپر چڑھ کر کبوتر بازی اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ دوسری…
Read the full tafseer →79۔ غفلت وسرمستی کی افراط کے ساتھ قوم عاد کی دوسری خصوصیت ان کا ظلم وتشدد تھا، قرآن مجید نے پچھلی مشرک ومعذب قوموں کا جہاں جہاں بیان کیا ہے، ان کے شرک وجہالت کے ساتھ، کہ وہ سب میں مشترک ہے، ذکر ان کے مخصوص قومی جرائم کا بھی کرتا گیا ہے، کوئی قوم تجارتی بددیانتی، خیانت وغبن فاحش میں خاص طور پر آلودہ گزری ہے کوئی ظلم وشقاوت و سنگدلی میں، کوئی بدچلنی وشہوت پرستی میں، وغیرہا، صاحب روح المعانی کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی گرفت ہے جس میں نہ رحم ہو، نہ اس سے تادیب کا قصد ہو، اور نہ اس میں انجام پر نظر رہے، اور مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس گرفت میں یہ امور ملحوظ رہیں وہ اصلاح ہے اور منافی طریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت نمبر 123 تا 140
ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…
Read the full tafseer →واذا بطشتم بطشتم جبارین۔ اور جب کسی پر داروگیر کرنے لگتے ہو تو بالکل جابر (اور ظالم) بن کر داروگیر کرتے ہو۔ یعنی جب سختی کے ساتھ عذاب دینے کے لئے پکڑتے ہو۔
جبارین یعنی بغیر رحم کے ناحق قتل کرنے والے۔ قاموس میں ہے جبار ‘ متکبر آدمی اور وہ دل جس میں رحم نہ آئے اور ناحق بہت زیادہ قتل کرنے والا۔
Read the full tafseer →(130) اور جب کسی کا مواخذہ کرنے لگتے ہو تو بالکل ہی ظالم و جابر بن کر اس کا مواخذہ کرتے ہو اور اسے غصہ میں آکر قتل کرتے ہو۔
Read the full tafseer →وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ : یہ ان کا تیسرا کام ہے جس پر ہود ؑ نے انکار فرمایا کہ تم ایسے سنگدل اور انسانیت سے عاری ہو کہ کمزوروں کے لیے تمہارے دل میں کوئی رحم نہیں، وہ گرد و پیش کی کمزور قومیں ہوں یا تمہارے پست طبقہ کے لوگ، جب انھیں پکڑتے ہو تو بہت بےرحم ہو کر پکڑتے ہو، دنیا کے لالچ اور تکبر نے انسانی اخلاق کا لباس تمہارے جسموں سے اتار دیا ہے۔ اس کا باعث بھی یہی تھا کہ ان کا اللہ کی توحید اور یوم آخرت پر ایمان نہ تھا۔ ایمان سنگدلی کی اجازت نہیں دیتا۔ مومن قتل کرتے وقت بھی سنگدلی سے کام نہیں لیتا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَعَفَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
واذا بطشتم بطشتم جنارین، بطش کا معنی سطوت اور سختی سے پکڑنا ہے اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے قد بطش بہ یطش ویطش بطشا، باطشہ مباطشۃ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : بطش سے مراد تلوار سے قتل کرنا اور ڈنڈے سے مارتا ہے۔ اس کا معنی ہے تم نے یہ عمل ظلم کے طور پر کیا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : اس سے مراد ڈنڈے سے مارنا ہے۔
مالک بن انس نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں جو ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ناحق تلوار سے قتل کرنا ہے۔ یہ یحییٰ بن سلام نے حکایت بیان کی ہے۔ کلبی اور حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد غصہ کی وجہ سے قتل کرنا ہے۔ سب حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔
2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔
5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب کبھی ] بَطَشْتُمْ [ تم لوگ گرفت کرتے ہو ] بَطَشْتُمْ [ تو گرفت کرتے ہو ] جَبَّارِيْنَ [ انتہائی جبر کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–130
(وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ) (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) چونکہ وہ لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور انہیں اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ بھی تھا اس لیے انہوں نے از راہ تکبر یہاں تک کہہ دیا تھا (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ طاقت میں ہم سے بڑھ کر کون ہوگا) اپنے اسی گھمنڈ اور غرور کی وجہ سے جب کسی کو پکڑتے تھے تو بہت ظلم و زیادتی کرتے تھے بغیر کسی رحم کے ترس کھائے بغیر مارتے کاٹتے اور ظلم کرتے چلے جاتے تھے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں مسلطین غاشمین بلا رافۃ و لا قصد تادیب و لا نظر فی العاقبۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔
یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–135
52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–131
ربط آیات
یہ تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔ سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ اور آپ نے ان کو تسلی دی گئی تھی کہ آپ اتنی زیادہ فکر نہ کریں اور یہ لوگ آپ کی بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے بلکہ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اب اسی سلسلے میں سابقہ اقوام کا حال بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اکثر مشرکین بہت بڑے سر کش میں تو ان سے پہلی اقوام کے لوگ بھی کوئی کم سر کش نہیں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے …علیہم السلام کو سخت تکالیف پہنچائیں ، ان کی تکذیب کی مگر وہ خود ہی ہلاک ہوئے اس ضمن میں قوم فرعون ، قوم ابراہیم اور قوم نوح کا ذکر ہوچکا ہے ۔ قوم فرعون اور قوم…
Read the full tafseer →وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ 1 30ۚ
بطش
البَطْشُ : تناول الشیء بصولة، قال تعالی: وَإِذا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ [ الشعراء/ 130] ، يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] . يقال : يد بَاطِشَة .
( ب ط ش ) البطش کے معنی کوئی چیز زبردستی لے لینا کے ہیں قرآن میں : { وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ } ( سورة الشعراء 130) اور جب کسی کو پکڑتے تو ظالمانہ پکڑتے ہو ۔ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ۔ وَلَقَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–137
1 ؎ خلق افتراء خلق عادت۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ۔ (الشعرآء : 130)
(اور جب تم کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو جبار بن کر ہاتھ ڈالتے ہو۔ )
فساد فی الارض پر تنبیہ
تم نے دولت و ثروت کے اظہار اور ضروریاتِ زندگی میں تکلف اور تعیش کے عناصر شامل کرنے میں اس حد تک غلو سے کام لیا ہے کہ اب تمہاری رہائش کے لیے مکان کافی نہیں بلکہ محلات درکار ہیں۔ پھر اسی پر تمہاری تسکین نہیں ہوئی تو تم نے اظہارِقوت و ثروت کے لیے ہر نمایاں جگہ میں یادگاریں قائم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کردیا جس سے ایک طرف تمدن و تہذیب کو نقصان پہنچا تو دوسری طرف تمہارا انسانیت سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ قوم طبقات میں بٹ گئی۔ غریب، غریب تر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–132
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا بار بار قوم کو خطاب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروانا۔
حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس دلایا اور انھیں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ اے میری قوم ! اپنے ماضی پر غور کرو۔ تم افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثیر افزائش سے نوازا۔ جس کے نتیجے میں تم افرادی قوت کے اعتبار سے اپنے مخالفوں پر برتر ہوئے۔ اس نے تمہیں مال، مویشی کے اعتبار سے بھی برکت عنایت فرمائی تم بڑے بڑے باغات اور چشموں کے مالک بنے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کے…
Read the full tafseer →130: وَاِذَا بَطَشْتُمْ (جب تم کسی پر دار و گیر کرتے ہو) سزا کیلئے ان کو پکڑتے ہو۔ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْن (تو جابر بن کر دار وگیر کرتے ہو) تلوار سے قتل یا کوڑوں سے پٹوانا۔ الجبارؔ (جو قتل کروائے اور غصہ کی حالت میں ضرب لگائے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
تفسیر۔
130۔ واذا بطشتم ، ، جب تم کسی کو پکڑنے کے لیے آتے ہو ۔ بطشتم جبارین، تلوار کے ساتھ قتل کردیتے ہو اور کوڑوں کیس اتھ مارتے ہو۔ جبار وہ ہے جو قتل کرے اور غصہ کے وقت مارے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت 123 سے 140
یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
73 کفر و انکار پر سخت عذاب کا خدشہ ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو تنبیہ و تذکیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے کفر و انکار ہی پر اڑے رہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ اگر تم لوگ اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور تم نے حقِّ شکر ادا نہ کیا اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار پر سخت عذاب کا آنا ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ رسول کی تکذیب کی بنا پر ایسے عذاب کا آنا اللہ پاک کی سنت کا مقتضیٰ ہے۔ سو حضرت ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–140
قوم عاد کا تذکرہ
تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیات 123 تا 140
اسرار و معارف :
ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی تمہارے دلوں میں غریبوں اور کمزوروں کے لئے رحم نہیں۔ جب تم اپنے گردوپیش کے قبیلوں یا خود اپنے قبیلہ کے غریب اور کمزور لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہو تو تمہارا رویہ انتہائی ظالمانہ اور بےرحمی کا ہوتا ہے۔ کیونکہ دنیا کے لالچ اور تکبر نے انسانی اخلاق کے کپڑے تمہارے جسموں سے اتار لئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
(26:130) بطشتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ بطش یبطش (ضرب) و بطش یبطش (نصر) بطش مصدر۔ تم نے پکڑا۔ یہاں بمعنی تم پکڑتے ہو۔
جبارین۔ جبار کی جمع ۔ جبر مادہ۔ زبردست۔ زور آور۔ الجبر کے معنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کے اصلاح کرنے کے ہیں لیکن اس کا استعمال اصلاح اور محض زبردستی کے لئے بھی ہوتا ہے۔
جبار جیر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الجبار جب انسان کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ناجائز تعلیّ سے اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا۔ بدیں معنی اس کا استعمال بطور مذمت ہوتا ہے جیسے ولم یجعلنی جبارا شقیا (19:32) اور مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔ کبھی محض دوسرے دوسرے پر استبداد کرنے والے کو جبار کہا جاتا ہے۔ مثلاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 :
اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 :
سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–136
مصانع ۔ جمع مصنع ۔ قلعے ۔ محلات ۔ حوض ، اور کنوئیں ۔
Read the full tafseer →(130) اور جب تم کسی کو پکڑتے ہو اور جب کسی سے داروگیر کرتے ہو تو بڑے سخت گیر اور بےرحم ہوکر پکڑتے ہو یعنی اس تکبر اور تفاخر کا طبیعت پر یہ اثر ہوتا ہے کہ بےرحم ہوکر انتقام لیتے ہو تمہارے قلب میں رحم نہیں رہا۔
Read the full tafseer →ف 5۔ ان اخلاق ذمیمہ کا اس لئے بیان کیا گیا کہ یہ اخلاق ذمیمہ اکثر مانع ایمان وانقیاد سے ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →جب تم کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بےدردی سے گرفت کرتے ہو :
130۔ جو قوم مال و دولت کی ریل پیل رکھتی ہے اور اسی طرح دوسرے وسائل کی ان کی ہاں فراوانی ہوتی ہے وہ ہمیشہ افراط وتفریط میں ضرور مبتلا ہوجاتی ہے کیونکہ اس نے جو کچھ کرنا ہے صرف اپنی ” انا “ کی تسکین کے لئے کرنا ہے انکے ہاں جائز وناجائز کی کوئی بحث نہیں ہوتی جو کچھ وہ کریں وہ جائز ہوتا ہے اور جو وہ نہ کریں وہی ناجائز ہوتا ہے یہ گمراہی افراد میں بھی ہوتی ہے اور قوم میں بھی اس لئے ان کی عادات میں یہ بات بھی داخل تھی کہ یہ جب کسی کو پکڑتے تھے تو بہت سخت پکڑتے تھے یعنی ان کی پکڑ کا معیار صرف طاقت تھی اگر پکڑنے والا طاقت ور ہے تو کمزور کو یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary
Explanation of some difficult words
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾
Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129)
Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →92 That is,"In order to meet the demands of your ever rising standards of life, you do not rest content with small living quarters but you build castles and fortresses, and yet being unsatisfied you erect lofty edifices unnecessarily just for ostentation. But as human beings you have become so depraved that there is no mercy in your hearts for the weak, no justice for the poor, and alI people of lower social strata, living inside or around your land, are being oppressed tyrannically and none is safe from your barbarities."
Read the full tafseer →