فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ ۟ۚفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ
تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So fear Allah and obey me.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ ۟ۚفَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ
تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
— Fateh Muhammad Jalandhari
So fear Allah and obey me.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو
اب اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو،
پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو
تو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو
پس ڈرو تم لوگ اللہ سے اور میرا کہنا مانو
سوا للہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو
تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
So fear Allah and obey me.
So fear Allah and obey me.
So fear Allah and obey me.
"So have Taqwa of Allah, and obey me."
Rather keep your duty to Allah, and obey me.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So fear Allah and obey me.
Have fear of God and obey me.
So guard against (the punishment of) Allah and obey me
So fear Allah, and obey me.
"Now fear Allah, and obey me.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 123–135
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
سورة الشُّعَرَآء 93 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے، صدیوں سے ہمارے باپ دادا یہی کچھ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا، یہی ان کا تمدن تھا اور ایسے ہی ان کے اخلاق اور معاملات تھے۔ کون سی آفت ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ اب ہم اس کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ کریں۔ اس طرز زندگی میں کوئی خرابی ہوتی تو پہلے ہی وہ عذاب آ چکا ہوتا جس سے تم ڈراتے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو باتیں تم کر رہے ہو ایسی ہی باتیں پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے کرتے رہے ہیں، مگر دنیا کی گاڑی جس طرح چل رہی تھی اسی طرح چلے جا رہی ہے۔ تم جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–140
معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–135
آیت 135-131 فاتقوا اللہ واصیعون یہ بات تقریباً ہر رسول سے قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ یہ نہایت دلسوزی ودرد ندی کے ساتھ قوم کو گویا آخری مرحلے میں تذکیر و تنبیہ ہے کہ اب بھی وقت گزرا نہیں ہے۔ اللہ سے ڈرو۔ اپنی اس غلط روش سے باز آجائو اور اپنے مفسد لیڈروں کی پیروی کرنے کے بجائے میری بات مانو۔ انعام کے اندر استدراج کا پہلو واتقوا الذین امدکم بم تعلمن یہ حضرت ہود نے قوم کو خدا کے جلال و جبروت کے بجائے اس کے انعامات کے حوالہ سے ڈرایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مال و اولاد اور باغوں اور چشموں کی جو نعمتیں خدا نے تمہیں دے رکھی ہیں ان کو بنانے اور گنا نے کی ضرورت نہیں ہے، تم خود اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے…
Read the full tafseer →131-1جب ان کے اوصاف قبیحہ بیان کیئے جو ان کے دنیا میں انہماک اور ظلم و سرکشی پر دلالت کرتے ہیں تو پھر انھیں دوبارہ تقویٰ اور اپنی اطاعت کی دعوت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
27: یعنی ایک طرف تو تمہارا حال یہ ہے کہ ان نام و نمود کی عمارتوں پر پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہو، اور دوسری طرف غریبوں کے ساتھ تمہارا رویہ انتہائی ظالمانہ ہے کہ ذرا سی بات پر کسی کی پکڑ کرلی تو اس کی جان عذاب میں آگئی۔ حضرت ہود ؑ کی یہ باتیں نقل کر کے قرآن کریم نے ہم سب کو توجہ دلائی ہے کہ کہیں ہمارا طرز عمل بھی اس زمرے میں تو نہیں آتا کہ بس دنیا کی شان و شوکت ہی کو سب کچھ سمجھ کر آخرت سے غافل ہوں، اور دولت مندی کے نشے میں غریبوں کو اپنے ظلم و ستم کی چکی میں پیس رکھا ہو۔
Read the full tafseer →فاتقوا اللہ و اطیعون (131) حضرت ہود ان کو یاد دلاتے ہیں کہ تمہارے پاس جو مادی قوت ہے اور جس کے ذریعہ تم بڑے بڑے محلات بناتے ہو اور اپنی قوت کا رعب جماتے ہو۔ یہ تو سب اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور اس نعمت کے بدلے مناسب تو یہ تھا کہ تم اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس بات سے ڈرتے کہ اللہ کہیں یہ نعمت تم سے چھین نہ لے اور مزید اس پر تمہیں سزا نہ دے کیونکہ تم تو اسراف کرتے ہو ، بےفائدہ کام کرتے ہو اور ظلم و ستم ڈھاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
4 یعنی ظلم و ستم سے زیر دستوں اور کمزوروں کو تنگ کر رکھا ہے۔ گویا انصاف اور نرمی کا سبق ہی نہیں پڑھا۔ خدا کی ضعیف مخلوق کو جبرو تعدی کا تختہ، مشق بنا رکھا ہے۔ سو اللہ سے ڈرو، ظلم وتکبر سے باز آؤ، اور میری بات مانو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
آیت 132 وَاتَّقُوا الَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ” اللہ تعالیٰ نے تمہیں اولاد عطا کی ہے ‘ مال و اسباب سے نوازا ہے ‘ خوشحالی اور فارغ البالی دی ہے ‘ وسیع خطۂ زمین بخشا ہے اور تمہاری اس زمین کو خصوصی طور پر زرخیز بنایا ہے۔ اور تم لوگ اس اللہ کو خوب پہچانتے ہو جس کی طرف سے تمہیں یہ تمام نعمتیں ملی ہیں۔
Read the full tafseer →84 ہود (علیہ السلام) نے شرک کے انجام سے ڈرایا اور ان تینوں قسم کے کاموں کی قباحت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنے کا طرز عمل سیکھو اور خوب سمجھ لو کہ تمہیں یہاں ہمیشہ رہنا کبھی میسر نہ آئے گا۔ مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور تمہارے ان تمام افعال و اعمال کی تم سے باز پرس بھی ہوگی۔ لہذا تمہارے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ میری بات مان لو اور جس طرح میں کہہ رہا ہوں اسی طرح کرتے جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
80۔ مطلب یہ ہے کہ تم کو جو ناز اپنی کثرت تعداد پر ہے نیز اپنے ملک کے باغ وسبزہ زار پر، اور اپنے ہاں کے نہر ودریا پر ہے یہ سب آخر انعامات الہی ہی تو ہیں، یہ عطیے کسی دیوی دیوتا، کے نہیں اور نہ تمہارے اپنے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اسی معبود واحد ہی کے تو ہیں۔ توحید کا تو تمہیں اور زائد قائل ہونا چاہیے، قرآن مجید نے توحید پر استدلال جس طرح انسان کی غربت و افلاس سے کیا ہے اسی طرح اس کی خوشحالی وامارت سے بھی کیا ہے۔ (آیت) ” جنت وعیون “۔ قوم عاد، خیال رہے کہ جزیرہ نمائے عرب کے شاداب وزرخیز ترین علاقہ میں آباد تھی، یعنی یمن، حضرموت میں، خلیج فارس کے ساحل پر، اور عراق عرب کی سرحد تک ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…
Read the full tafseer →فاتقوا اللہ پس اللہ سے ڈرو (یعنی ان حرکات کو چھوڑ دو ) ۔ واطیعون۔ اور میرا کہا مانو یعنی جس چیز کی طرف آنے کی میں تم کو دعوت دے رہا ہوں اس کو مان لو تمہارے لئے یہ بہت زیادہ فائدہ رساں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 تا 134) اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں کفر سے توبہ کرنے اور ایمان لانے کا حکم دیا ہے اس چیز میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے تمہیں وہ چیزیں دیں جن کو تم جانتے ہومویشی اور بیٹے اور باغات اور پاک پانی کے چشمے تمہیں عطا کیے۔
Read the full tafseer →فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ : یہ دعوت کا خلاصہ ہے جو تقریر کے شروع میں بیان فرمایا، تاکید کے لیے اسے پھر بیان فرمایا ہے کہ اللہ سے ڈر کر اس اکیلے کی عبادت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–136
واذا بطشتم بطشتم جنارین، بطش کا معنی سطوت اور سختی سے پکڑنا ہے اس کا باب یوں ذکر کیا جاتا ہے قد بطش بہ یطش ویطش بطشا، باطشہ مباطشۃ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : بطش سے مراد تلوار سے قتل کرنا اور ڈنڈے سے مارتا ہے۔ اس کا معنی ہے تم نے یہ عمل ظلم کے طور پر کیا۔ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے : اس سے مراد ڈنڈے سے مارنا ہے۔ مالک بن انس نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں جو ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ناحق تلوار سے قتل کرنا ہے۔ یہ یحییٰ بن سلام نے حکایت بیان کی ہے۔ کلبی اور حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد غصہ کی وجہ سے قتل کرنا ہے۔ سب حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →فَاتَّقُوا [ پس تقوی اختیار کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاَطِيْعُوْنِ [ اور اطاعت کرو میری ]
Read the full tafseer →حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو مزید سمجھایا اور فرمایا (فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ) (سو اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–135
52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–131
ربط آیات یہ تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔ سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ اور آپ نے ان کو تسلی دی گئی تھی کہ آپ اتنی زیادہ فکر نہ کریں اور یہ لوگ آپ کی بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے بلکہ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اب اسی سلسلے میں سابقہ اقوام کا حال بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اکثر مشرکین بہت بڑے سر کش میں تو ان سے پہلی اقوام کے لوگ بھی کوئی کم سر کش نہیں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے …علیہم السلام کو سخت تکالیف پہنچائیں ، ان کی تکذیب کی مگر وہ خود ہی ہلاک ہوئے اس ضمن میں قوم فرعون ، قوم ابراہیم اور قوم نوح کا ذکر ہوچکا ہے ۔ قوم فرعون اور قوم…
Read the full tafseer →فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ 131ۚ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–137
1 ؎ خلق افتراء خلق عادت۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاتَّـقُواللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ ۔ (الشعرآء : 131) (بس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ) قوم کے اعمالِ فاسدہ پر تنقید کرنے کے بعد انھیں تباہی کے حوالے نہیں کیا بلکہ اب بھی پیش نظر یہ ہے کہ وہ کسی طرح اپنے برے انجام سے بچ جائیں۔ اس لیے نہایت دلسوزی اور دردمندی کے ساتھ باردگر تذکیر و تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے کانٹوں کی فصل بونے میں اگرچہ کوئی کمی نہیں کی لیکن ابھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا، اگر اپنی غلط روش سے باز آجاؤ اور اپنے مفسد لیڈروں کی پیروی کرنے کی بجائے میری اطاعت کرو تو اب بھی اس ڈوبتی کشتی کو بچایا جاسکتا ہے۔ اور ازسرنو اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–132
فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا بار بار قوم کو خطاب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروانا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس دلایا اور انھیں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ اے میری قوم ! اپنے ماضی پر غور کرو۔ تم افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثیر افزائش سے نوازا۔ جس کے نتیجے میں تم افرادی قوت کے اعتبار سے اپنے مخالفوں پر برتر ہوئے۔ اس نے تمہیں مال، مویشی کے اعتبار سے بھی برکت عنایت فرمائی تم بڑے بڑے باغات اور چشموں کے مالک بنے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کے…
Read the full tafseer →131: فَاتَّقُوا اللّٰہَ (پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو) پکڑکے موقعہ میں وَاَطَیْعُوْنٍ (اور میری بات مانو) جس کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
تفسیر۔ 130۔ واذا بطشتم ، ، جب تم کسی کو پکڑنے کے لیے آتے ہو ۔ بطشتم جبارین، تلوار کے ساتھ قتل کردیتے ہو اور کوڑوں کیس اتھ مارتے ہو۔ جبار وہ ہے جو قتل کرے اور غصہ کے وقت مارے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
73 کفر و انکار پر سخت عذاب کا خدشہ ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو تنبیہ و تذکیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے کفر و انکار ہی پر اڑے رہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ اگر تم لوگ اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور تم نے حقِّ شکر ادا نہ کیا اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار پر سخت عذاب کا آنا ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ رسول کی تکذیب کی بنا پر ایسے عذاب کا آنا اللہ پاک کی سنت کا مقتضیٰ ہے۔ سو حضرت ہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–140
قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–136
4 ۔ ” ہم کسی طور ماننے والے نہیں “۔ یہ بات انہوں نے بےپرواہی اور حقارت آمیز لہجہ میں کہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
(26:130) بطشتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ بطش یبطش (ضرب) و بطش یبطش (نصر) بطش مصدر۔ تم نے پکڑا۔ یہاں بمعنی تم پکڑتے ہو۔ جبارین۔ جبار کی جمع ۔ جبر مادہ۔ زبردست۔ زور آور۔ الجبر کے معنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کے اصلاح کرنے کے ہیں لیکن اس کا استعمال اصلاح اور محض زبردستی کے لئے بھی ہوتا ہے۔ جبار جیر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الجبار جب انسان کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ناجائز تعلیّ سے اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا۔ بدیں معنی اس کا استعمال بطور مذمت ہوتا ہے جیسے ولم یجعلنی جبارا شقیا (19:32) اور مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔ کبھی محض دوسرے دوسرے پر استبداد کرنے والے کو جبار کہا جاتا ہے۔ مثلاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–136
مصانع ۔ جمع مصنع ۔ قلعے ۔ محلات ۔ حوض ، اور کنوئیں ۔
Read the full tafseer →(131) سو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
ف 6۔ منعم ہونے کا مقتضی یہ ہے کہ اس کے احکام کی اصلا مخالفت نہ کی جاوے۔
Read the full tafseer →اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو : 131۔ زیر نظر آیت میں ہود (علیہ السلام) نے وہی بات ارشاد فرمائی جو اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کہہ چکے ہیں اور قوم کو مسلسل سمجھانے کے بعد ہر نبی نے آخری مرحلہ میں پہنچ کر قوم کو یہی نصیحت کی کہ اے قوم ابھی وقت نہیں گزرا اور تمہارے لئے موقع موجود ہے کہ اپنی من مانیوں سے باز آجاؤ اور میری اطاعت وفرمانبرداری کرو اس طرح آخری حجت پوری ہوگئی اور اسکے بعد وہ مقرر وقت آگیا جو گزشتہ قوموں کی تاریخ ہمارے سامنے پیش کر رہی ہے لیکن جس طرح قوم نے اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا اس طرح انہوں نے اس آخری ہدایت کو بھی باوجود کو بھی سننے کے باوجود ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–148
Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–137
93 This can have two meanings: (1) "Whatever we are doing is not new but has been happening from the tune of our elders since centuries: they had the same creed, the same way of life, the same morality and the same kind of dealings and yet they remained unharmed and safe from every calamity. If there was any evil in this way of life, we should have met the doom with which you are threatening us." (2) "The things you are preaching have been preached and said before also by religious maniacs and so-called moralists, but they could not change the ways of the world. It has never happened that the…
Read the full tafseer →