Ash-Shu'araa 26:129

Ash-Shu'araa · from ayah 129

26:129

وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ۟ۚوَ تَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ‌ۚ

اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And take for yourselves palaces and fortresses that you might abide eternally?

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:129

اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم نے بڑی کاریگری سے بنائی ہوئی عمارتیں اس طرح رکھ چھوڑی ہیں جیسے تمہیں ہمیشہ زندہ رہنا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم (تالابوں والے) مضبوط محلات بناتے ہو اس امید پر کہ تم (دنیا میں) ہمیشہ رہو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور عمارتیں اتنی شاندار بناتے ہو کہ شاید تم ہمیشہ ان میں رہو گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور شاندارمحل بناتے رہو گے گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بغیر کسی ضرورت و مقصد کے اور طرح طرح کے محل بناتے چلے جاتے ہو گویا تم نے اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے تمہیں ہمیشہ ہی رہنا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم بناتے ہو ایسے شاندار محل کہ شاید تمہیں ہمیشہ (ان میں) رہنا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and erect huge palaces as though you will live for ever,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and take the objects of architecture 8 as if you are going to live forever,

— Muhammad Taqi Usmani

and take the objects of architecture 8 as if you are going to live forever,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And seek ye out strongholds, that haply ye may last for ever?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And take for yourselves palaces and fortresses that you might abide eternally?

— Saheeh International

and raise strong mansions as if you were to live forever?

— Muhammad Sarwar

And you make strong fortresses that perhaps you may

— Muhammad Habib Shakir

And take ye for yourselves castles that haply ye may abide.

— Abdul Majid Daryabadi

"And do ye get for yourselves fine buildings in the hope of living therein (for ever)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:129

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–135

ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 91 یعنی تمہاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگرچہ استعمال کے لیے ہیں، مگر انکو شاندار، مزیَّن اور مستحکم بنانے میں تم اس طرح اپنی دولت، محنت اور قابلیتیں صرف کرتے ہو جیسے دنیا میں ہمیشہ رہنے کا سامان کر رہے ہو، جیسے تمہاری زندگی کا مقصد بس یہیں کے عیش کا اہتمام کرنا ہے اور اس کے ماوراء کوئی چیز نہیں ہے۔ جس کی تمہیں فکر ہو۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ بلا ضرورت یا ضرورت سے زیادہ شاندار عمارتیں بنانا کوئی منفرد فعل نہیں ہے جس کا ظہور کسی قوم میں اس طرح ہوسکتا ہو کہ اس کی اور سب چیزیں تو ٹھیک ہوں اور بس یہی ایک کام وہ غلط کرتی ہو۔ یہ صورت حال تو ایک قوم میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–140

معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 128–129

129-128 ریع اس بنلد زمین کو کہتے ہیں جو دور سے نظر آئے۔ ایۃ یہاں نشانی اور یادگار کے مفہوم میں ہے۔ مصالع قلعوں اور گڑھیوں کے لئے بھی آتا ہے اور محلوں اور ایوانوں کے لئے بھی۔ لعلکم فصیح عربی میں کالکم یعنی گویا کہ کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ فساد تمدن پر تنبیہ یہ حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم کو اس کے فاسد تمدن پر متنبہ فرمایا کہ مکانوں اور عمارتوں کی تعمیر ضرورت کے لئے ہے نہ کہ محض نمائش اور تفاخروتنا فس کے لئے۔ تمہارا حال یہ ہے کہ شوق تعمیر کا جنون اس طرح تم پر مستولی ہے کہ تمہارا ہر دولت مند اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ ہر بلند اور خوش منظر جگہ پر اس کی دولت و ثروت کی کوئی یادگار اور اس کے قیام و تفریح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

129-1اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے، جیسے وہ ہمیشہ انہی محلات میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

26: قرآن کریم میں یہاں مصانع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی ہیں وہ چیزیں جو کاریگری کا مظاہرہ کر کے بنائی گئی ہوں، اس میں ہر طرح کی وہ تعمیرات داخل ہیں جو نام و نمود کی خاطر بڑی شان و شوکت سے بنائی گئی ہو چاہے وہ زرق برق محل ہوں، یا پر شکوہ قلعے یا نہریں اور راستے۔ یہاں حضرت ہود ؑ نے اس طرز عمل پر جو اعتراض فرمایا ہے، در اصل اس کا منشا یہ ہے کہ تم نے اپنی ساری دوڑ دھوپ کا مرکز اس نام و نمود اور شان و شوکت کو بنایا ہوا ہے، اور اسی کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھے ہو، جیسے تمہیں ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے، اور کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش نہیں ہونا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 128–129

اتبنون بکل ……تخلدون (79) ربع عربی میں بلند زمین کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اونچے مقامات پر مکانات بناتے تھے اور دور سے وہ مکانات یوں نظر آتے تھے جیسا کہ بڑا پہاڑ اور مقصود ان کا یہ دکھانا تھا کہ وہ بڑے ماہر فن اور بڑے صاحب مقدرت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کے لئے عبث کا لفظ استعمال کیا ، اگر یہ بڑے بڑے نشانات وہ مسافروں کی رہنمائی یا سمندری جہازوں کی راہنمائی کے لئے بناتے تو قرآن ان کے لئے عبث کا لفظ استعمال نہ کرتا۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوت اور مہارت اور دولت کو منفعت بخش امور میں خرچ کرنا ہے۔ محض نمائش ، زیبائش اور اظہار حسن و کمال کے لئے نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 121–129

3 ان لوگوں کو بڑا شوق تھا اونچے مضبوط منارے بنانے کا جس سے کچھ کام نہ نکلے، مگر نام ہوجائے اور رہنے کی عمارتیں بھی بڑے تکلف کی بناتے تھے مال ضائع کرنے کو۔ ان میں بڑی کاریگریاں دکھلاتے گویا یہ سمجھتے تھے کہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور یہ یادگاریں اور عمارتیں کبھی برباد نہ ہوں گی۔ (لیکن آج دیکھو تو ان کے کھنڈر بھی باقی نہیں)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 129 وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ ” ایسی یادگاریں اور ایسے محلات تو بعد میں بھی قائم رہتے ہیں مگر انہیں بنانے والے باقی نہیں رہتے۔ جیسے غرناطہ اور قرطبہ کے محلاتّ تو اب بھی موجود ہیں مگر ان کے مکینوں کا آج کہیں نام و نشان نہیں۔ بہر حال ان محلات کو تعمیر کروانے والوں نے تو انہیں ایسے ہی بنایا تھا جیسے انہیں ہمیشہ ان میں رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 124–130

83 اس قوم کے تین افعال کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا جن میں سے پہلے دو فن تعمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ یادگاریں بہت زیادہ تعمیر کرتے جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ کسی نے اپنی یادگار میں شاندار مقبرہ تعمیر کرالیا۔ کسی نے کوئی اونچا مینار بنایا۔ تو کسی نے کوئی بارہ دری تعمیر کرا دی۔ جیسے اہرام مصر ہیں یا روضہ تاج محل اور اسی طرح کی دوسری یادگاریں آج کل بھی پائی جیتی ہیں اور ان سے مقصود۔۔ ناموری یا نمودو نمائش ہوتا تھا۔ تغبثون سے بعض لوگوں نے مراد کھیل تماشا ہی لیا ہے۔ یعنی وہ ایسی بلند عمارتوں کو اوپر چڑھ کر کبوتر بازی اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 125–129

78۔ یہ قدیم شائستہ ومتمدن قوم بڑی صناع وکاریگر تھی، خصوصا انجینئری اور فن تعمیرات کی ماہر۔ ملاحظہ ہوں پ 8 سورة الاعراف کے حاشیے۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہ خوب لکھا ہے کہ اس سورة میں مختلف انبیاء کی دعوت میں بار بار انہی فقروں کی تکرار اس لیے ہے کہ ایک ہی طرز تبلیغ سب کا تھا۔ (آیت) ” تعبثون “۔ سے ظاہر ہے کہ یہ شوق تعمیر کسی ضرورت کی بنا پر نہ تھا۔ محض جذبات فخر ونمائش کی تسکین کے لیے تھا، مرشد تھانوی (رح) نے کہا کہ تعبثون سے عبث (محض فضول) کی مذمت صریح نکلتی ہے، خواہ وہ عبث بہ لحاظ قول ہو یا فعل۔ مرشد تھانوی (رح) نے یہ بھی فرمایا کہ عقیدۃ یہ لوگ ان تعمیرات کے ذریعہ سے خلود کے قائل نہ تھے، مگر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–140

آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وتتخذون مصانع جس کو محض فضول (بلا ضرورت) بناتے ہو اور بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو۔ استفہام ‘ زجری یا تقریری ہے۔ کل ریع میں استغراق حقیقی نہیں (کیونکہ ہر اونچی جگہ میں قوم عاد نہ قصر بناتی تھی نہ ایسا ممکن تھا) اور کثرت اضافی بھی مراد نہیں ہے (کیونکہ یہ بھی خلاف واقعہ ہے) بلکہ فی نفسہٖ کثرت مراد ہے۔ یعنی بہت سے مقامات میں تم یادگاریں تعمیر کرتے ہو۔ والبی نے کہا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ریع کا ترجمہ کیا اونچا مقام ‘ بلند جگہ۔ ضحاک اور مقاتل نے ترجمہ کیا ہر راستہ میں۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا بھی یہی قول آیا ہے۔ مجاہد نے کہا دو پہاڑوں کے درمیان کا راستہ۔ مجاہد کا دوسرا قول مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(129) اور بڑی بڑی منزلیں محلات اور حوض بناتے ہو جیسا کہ دنیا میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اور یہاں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ۔۔ :”مَصَانِعَ“ ”مَصْنَعٌ“ یا ”مَصْنَعَۃٌ“ کی جمع ہے۔ مختار الصحاح اور قاموس میں اس کا معنی بڑے بڑے قلعے، مضبوط محلات اور زمین دوز نہریں لکھا ہے۔ راغب لکھتے ہیں کہ ”صَنْعٌ“ کا معنی کوئی کام عمدہ طریقے سے کرنا ہے۔ عالی شان جگہوں کو ”مَصَانِعَ“ کہا گیا ہے۔ ”لَعَلَّكُمْ“ ”لَعَلَّ“ کا معنی ہے ”امید ہے، شاید“ یہاں یہ ”کَأَنَّ“ کا مفہوم ادا کر رہا ہے ”گویا، جیسے۔“ یہ ان کا دوسرا کام ہے جس پر ہود ؑ نے انکار کا اظہار فرمایا، اس سے ان کی ہمیشہ زندہ رہنے کی حرص اور لمبی امید کا اظہار ہوتا تھا۔ یعنی تمہاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگرچہ استعمال کے لیے ہیں مگر انھیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–129

( کذبت عاد المرسلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کذبت عاد المرسلین ثانیث قبیلہ اور جماعت کے معنی کی وجہ سے ہے۔ وہ مرسلین کو جھٹلاتے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔ اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ ہُوْدٌ اَ لَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللہ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ معنی واضح ہے بحث گزر چکی ہے۔ اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ ربع سے مراد وہ چیز ہے جو زمین سے بلند ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے : یہ ریعۃ کی جمع ہے کا ریع ارضک تیری زمین کی بلندی کتنی ہے۔ قتادہ نے کہا : ربع سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–140

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَتَتَّخِذُوْنَ [ اور تم لوگ بناتے ہو ] مَصَانِعَ [ محلات ] لَعَلَّكُمْ [ شاید کہ تم لوگ ] تَخْلُدُوْنَ [ ہمیشہ رہو گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 124–130

(وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ) (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) چونکہ وہ لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور انہیں اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ بھی تھا اس لیے انہوں نے از راہ تکبر یہاں تک کہہ دیا تھا (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ طاقت میں ہم سے بڑھ کر کون ہوگا) اپنے اسی گھمنڈ اور غرور کی وجہ سے جب کسی کو پکڑتے تھے تو بہت ظلم و زیادتی کرتے تھے بغیر کسی رحم کے ترس کھائے بغیر مارتے کاٹتے اور ظلم کرتے چلے جاتے تھے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں مسلطین غاشمین بلا رافۃ و لا قصد تادیب و لا نظر فی العاقبۃ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–140

قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 127–135

52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 123–131

ربط آیات یہ تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔ سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ اور آپ نے ان کو تسلی دی گئی تھی کہ آپ اتنی زیادہ فکر نہ کریں اور یہ لوگ آپ کی بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے بلکہ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اب اسی سلسلے میں سابقہ اقوام کا حال بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اکثر مشرکین بہت بڑے سر کش میں تو ان سے پہلی اقوام کے لوگ بھی کوئی کم سر کش نہیں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے …علیہم السلام کو سخت تکالیف پہنچائیں ، ان کی تکذیب کی مگر وہ خود ہی ہلاک ہوئے اس ضمن میں قوم فرعون ، قوم ابراہیم اور قوم نوح کا ذکر ہوچکا ہے ۔ قوم فرعون اور قوم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ۝ 129 ۚ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ)…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 128–129

اَ تَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَـۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّـکُمْ تَخْلُدُوْنَ ۔ (الشعرآء : 128، 129) (کیا تم ہر بلندی پر عبث ایک یادگار بنا ڈالتے ہو۔ اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ ) رِیْعٌ … بلند زمین کو بھی کہتے ہیں اور اس راستے کو بھی جو دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزر رہا ہو۔ اٰیَـۃٌ … یہاں نشانی اور یادگار کے مفہوم میں ہے۔ مَصَانِعَ … مَصْنَعْ کی جمع ہے۔ محلوں اور ایوانوں پر بھی بولا جاتا ہے اور مضبوط قلعے پر بھی۔ ترجیحات کے بگاڑ پر تنبیہ قوموں کی روحانی اور اخلاقی زندگی میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اخلاقی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 124–132

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا بار بار قوم کو خطاب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروانا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس دلایا اور انھیں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ اے میری قوم ! اپنے ماضی پر غور کرو۔ تم افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثیر افزائش سے نوازا۔ جس کے نتیجے میں تم افرادی قوت کے اعتبار سے اپنے مخالفوں پر برتر ہوئے۔ اس نے تمہیں مال، مویشی کے اعتبار سے بھی برکت عنایت فرمائی تم بڑے بڑے باغات اور چشموں کے مالک بنے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

129: وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ (اور تم کارخانے بناتے ہو) پانی لینے کے مقامات نمبر 2۔ بلند محلات نمبر 3۔ مضبوط قلعے لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ (شاید کہ تم نے ہمیشہ رہنا ہے) تم دنیا میں ہمیشہ رہنے کی امید رکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

129۔ وتتخذون مصانع، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد بڑے بڑے محلات ہیں، کلبی نے اس کا ترجمہ مضبوط قلعوں سے کیا ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد بڑے بڑے حوض وتالات ہیں۔ مصانع کی واحد مصنعہ، ہے۔ لعلکم تخلدون، اس امید پر مضبوط مضبوط عمارتیں بناتے ہو کہ تم اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے گویا کہ تمہی موت آنی ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–140

(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–140

آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 128–135

73 کفر و انکار پر سخت عذاب کا خدشہ ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو تنبیہ و تذکیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے کفر و انکار ہی پر اڑے رہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ اگر تم لوگ اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور تم نے حقِّ شکر ادا نہ کیا اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار پر سخت عذاب کا آنا ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ رسول کی تکذیب کی بنا پر ایسے عذاب کا آنا اللہ پاک کی سنت کا مقتضیٰ ہے۔ سو حضرت ہود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 122–140

قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–140

آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ یعنی بڑے بڑے قلعے اور محل تعمیر کرتے ہو یا پانی کے بند اور زمین دوز نہریں نکالتے ہو۔ (ابن کثیر۔ روح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 128–129

(26:128) اتبنون۔ الف استفہام کے لئے ہے تنبون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم بناتے ہو۔ تم تعمیر کرتے ہو۔ بنی یبنی بناء (ضرب) وبنیان وبنی بنی مادہ۔ ریع۔ بلند جگہ جو دور سے ظاہر ہو۔ ٹیلہ۔ مکان مرتفع۔ تعبثون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم عبث مشغول ہوتے ہو۔ عبث یعبث (سمع) کھیل کود اور بےکار کاموں میں مشغول ہونا۔ ایۃ۔ نشانی۔ یادگار۔ آیت کا ترجمہ : کیا تم ہر اونچی جگہ بےضرورت یادگاریں بناتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–140

لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–140

حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(129) اور پختہ پختہ اور بڑے بڑے محل بناتے ہو شاید تم کو دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اس قوم کی عادت تھی کہ تکبر اور تفاخر کی وجہ سے بلند مینار سے بناتے تھے کبوتر بازی کرتے تھے اس کے لئے اونچی اور بلند جگہ بناتے تھے یا مسافروں کو دھوکہ دینے کے لئے بنایا کرتے تھے۔ بہرحال ! ہود (علیہ السلام) نے اس قسم کی فضول خرچی اور شہرت و تفاخر کے میناروں کو منع فرمایا کہ اگر کوئی غرض فاسد نہ ہو تو تب بھی ایسی یادگاروں میں روپیہ برباد نہیں کرنا چاہئے اور جب مبنیٰ بھی فاسد ہو مثلاً تفاخر اور جاہ پسندی اور دوسرے کی تعمیر سے اونچا بنا کے اس کو نیچا دکھانا یا کبوتر بازی کے لئے بنانا وغیرہ جب وجود فاسدہ بھی موجود ہوں تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 119–129

ف 4۔ یعنی ایسی توسیع اور ایسے ایوان رفیع اور ایسا استحکام اور ایسے یادگار اور اعلام اس وقت مناسب تھے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا ہوتا اور اب تو سب فضول ہے، بڑی بڑی یاد گاریں بنی ہیں، اور بانی کا نام تک معلوم نہیں، موت نے سب کا نام مٹا دیا، کسی کا جلدی کسی کا دیر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور کاریگری کا مظاہرہ کرتے ہو کہ شاید تم ہمیشہ رہو گے : 129۔ یہ لوگ قدیم صناع اور کاریگری میں نہایت ماہر تھے خصوصا انجینئرنگ اور فن تعمیرات کے بہت ہی ماہر تھے لیکن قرآن کریم کے لفظ (تعبثون) کا تقاضا یہ ہے کہ یہ محض عمارات وتعمیرات ضاعی کے شوقین تھے اور اس طرح اپنا شوق پورا کرنے دیتے تھے ضرورت کے بغیر ہی یہ لوگ بڑی بڑی عمارات تعمیر کرتے تھے تاکہ ان کا نام بلند رہے اور لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہوں اور یہ بھی کہ تعمیرات ایک مدت مدیر تک چلی جاتی ہیں یعنی سینکڑوں سال تک اس لئے کم ازکم ان کی عمر تک تو ان کا نام روشن رہے گا ۔ ہود (علیہ السلام) ان کو اس فعل عبث سے روکتے تھے کہ قوی ترقی کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–148

Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِ‌يعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

91 That is, ,"Though you have built other buildings also for dwelling purposes, in order to make them grand, beautiful and strong, you expend your wealth and mental and physical abilities in a manner as if you were going to live for ever, and there was no purpose of life except seeking of comfort and pleasure and nothing beyond this worldly life which might deserve your attention." In this connection, one should bear in mind the fact that extravagance in architecture is not a solitary vice in a people. This happens as a result of a people's becoming affluent and then crazy for selfish gains…

Read the full tafseer →