Ash-Shu'araa 26:128

Ash-Shu'araa · from ayah 128

26:128

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ ۟ۙاَتَبۡنُوۡنَ بِكُلِّ رِيۡعٍ اٰيَةً تَعۡبَثُوۡنَۙ

بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you construct on every elevation a sign, amusing yourselves,

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:128

یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم ہر اونچی جگہ پر کوئی یاد گار بنا کر فضول حرکتیں کرتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار تعمیر کرتے ہو (محض) تفاخر اور فضول مشغلوں کے لئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو ؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کیا بات ہے کہ تم ہر بلند جگہ پر بےفائدہ ایک یادگار تعمیر بنا ڈالتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے رہو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگ محض اپنی دولت و شوکت کی نمود کے لیے ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بنا ڈالتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

تو کہا تم ایک محض فضول یادگار ہر اونچے مقام پر بناتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم لوگ تعمیر کرتے ہو ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار عبث کام کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا تم ہر اونچی جگہ پر عبث نشان تعمیر کرتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

What, you build a monument on every hill merely for fun

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you erect on every height a monument, having no sound purpose,

— Muhammad Taqi Usmani

Do you erect on every height a monument, having no sound purpose,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Build ye on every high place a monument for vain delight?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you construct on every elevation a sign, amusing yourselves,

— Saheeh International

"Do you build useless monuments on every mountain

— Muhammad Sarwar

Do you build on every height a monument? Vain is it that you do:

— Muhammad Habib Shakir

Build ye on every eminence a landmark in vanity?

— Abdul Majid Daryabadi

"Do ye build a landmark on every high place to amuse yourselves?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:128

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–135

ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 125–128

سورة الشُّعَرَآء 90 یعنی محض اپنی عظمت و خوشحالی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایسی عالی شان عمارتیں تعمیر کرتے ہو جن کا کوئی مصرف نہیں، جن کی کوئی حاجت نہیں، جن کا کوئی فائدہ اس کے سوا نہیں کہ وہ بس تمہاری دولت و شوکت کی نمود کے لیے ایک نشانی کے طور پر کھڑی رہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–140

معارف و مسائل چند مشکل الفاظ کی تشریح اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ ، وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ ، (الریع) ابن جریر نے حضرت مجاہد سے نقل فرمایا ہے کہ ریع دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے اور جمہور سے منقول ہے کہ ریع بلند جگہ کو کہتے ہیں اور اسی سے ریع النبات نکلا ہے یعنی بڑھنے اور چڑھنے والی نباتات (ایة) اس کے اصل معنی علامت کے ہیں اس جگہ بلند محل مراد ہے (تَعْبَثُوْنَ) یہ عبث سے ہے اور عبث اس کو کہتے ہیں جس میں نہ حقیقة کوئی فائدہ ہو اور نہ حکماً اس جگہ معنی یہ ہوں گے کہ وہ بےفائدہ بلند بلند محلات بناتے تھے جن کی ان کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 128–129

129-128 ریع اس بنلد زمین کو کہتے ہیں جو دور سے نظر آئے۔ ایۃ یہاں نشانی اور یادگار کے مفہوم میں ہے۔ مصالع قلعوں اور گڑھیوں کے لئے بھی آتا ہے اور محلوں اور ایوانوں کے لئے بھی۔ لعلکم فصیح عربی میں کالکم یعنی گویا کہ کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ فساد تمدن پر تنبیہ یہ حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم کو اس کے فاسد تمدن پر متنبہ فرمایا کہ مکانوں اور عمارتوں کی تعمیر ضرورت کے لئے ہے نہ کہ محض نمائش اور تفاخروتنا فس کے لئے۔ تمہارا حال یہ ہے کہ شوق تعمیر کا جنون اس طرح تم پر مستولی ہے کہ تمہارا ہر دولت مند اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ ہر بلند اور خوش منظر جگہ پر اس کی دولت و ثروت کی کوئی یادگار اور اس کے قیام و تفریح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 125–128

128-1ریع، ریعۃ، کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، درہ یا گھاٹی یہ ان گزر گاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو بلندی پر ایک نشانی مشہور ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود ؑ نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتے ہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیا کا کوئی مفاد وابستہ نہیں بلکہ صرف کھیل کود ہوتا ہے بیکار محض بےفائدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

25: فضول حرکتوں کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر بلند جگہ پر کوئی یادگار تعمیر کرنے کو ہی فضول حرکت کہا گیا ہے، کیونکہ اس کا کوئی صحیح مقصد نہیں تھا، بلکہ محض دکھاوے اور بڑائی کے اظہار کے لیے یہ کام کیا جاتا تھا۔ دوسری تشریح بعض مفسرین، مثلا حضرت ضحاک نے یہ کی ہے کہ وہ لوگ ان اونچی تعمیروں پر بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر نیچے سے گذرنے والوں کے ساتھ طرح طرح کی ناشائستہ حرکتیں کیا کرتے تھے۔ اس کو فضول حرکت سے تعبیر کیا گیا ہے (روح المعانی)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 128–129

اتبنون بکل ……تخلدون (79) ربع عربی میں بلند زمین کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اونچے مقامات پر مکانات بناتے تھے اور دور سے وہ مکانات یوں نظر آتے تھے جیسا کہ بڑا پہاڑ اور مقصود ان کا یہ دکھانا تھا کہ وہ بڑے ماہر فن اور بڑے صاحب مقدرت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کے لئے عبث کا لفظ استعمال کیا ، اگر یہ بڑے بڑے نشانات وہ مسافروں کی رہنمائی یا سمندری جہازوں کی راہنمائی کے لئے بناتے تو قرآن ان کے لئے عبث کا لفظ استعمال نہ کرتا۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوت اور مہارت اور دولت کو منفعت بخش امور میں خرچ کرنا ہے۔ محض نمائش ، زیبائش اور اظہار حسن و کمال کے لئے نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 121–129

3 ان لوگوں کو بڑا شوق تھا اونچے مضبوط منارے بنانے کا جس سے کچھ کام نہ نکلے، مگر نام ہوجائے اور رہنے کی عمارتیں بھی بڑے تکلف کی بناتے تھے مال ضائع کرنے کو۔ ان میں بڑی کاریگریاں دکھلاتے گویا یہ سمجھتے تھے کہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور یہ یادگاریں اور عمارتیں کبھی برباد نہ ہوں گی۔ (لیکن آج دیکھو تو ان کے کھنڈر بھی باقی نہیں)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 120–128

آیت 128 اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ” تم لوگ بغیر کسی مقصد اور افادیت کے جگہ جگہ بڑی بڑی عمارتیں محض اپنی یادگاروں کے طور پر تعمیر کردیتے ہو۔ یہ فضول ریت ہر تمدن اور ہر قوم میں رہی ہے۔ ہر دور کے امراء اور حکمران زرکثیر خرچ کر کے بڑی بڑی عمارتیں محض اس لیے تعمیر کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں ان کی یادگاروں کے طور پر قائم رہیں۔ اہرام مصر اور تاج محل ان یادگاروں کی مثالیں ہیں جن پر اپنے اپنے زمانے میں کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر انسانیت کے لیے ان کی افادیت کچھ بھی نہیں ہے۔ قوم عاد کے امراء بھی ایسی یادگاریں بنانے کے شوقین تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 124–130

83 اس قوم کے تین افعال کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا جن میں سے پہلے دو فن تعمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ یادگاریں بہت زیادہ تعمیر کرتے جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ کسی نے اپنی یادگار میں شاندار مقبرہ تعمیر کرالیا۔ کسی نے کوئی اونچا مینار بنایا۔ تو کسی نے کوئی بارہ دری تعمیر کرا دی۔ جیسے اہرام مصر ہیں یا روضہ تاج محل اور اسی طرح کی دوسری یادگاریں آج کل بھی پائی جیتی ہیں اور ان سے مقصود۔۔ ناموری یا نمودو نمائش ہوتا تھا۔ تغبثون سے بعض لوگوں نے مراد کھیل تماشا ہی لیا ہے۔ یعنی وہ ایسی بلند عمارتوں کو اوپر چڑھ کر کبوتر بازی اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 125–129

78۔ یہ قدیم شائستہ ومتمدن قوم بڑی صناع وکاریگر تھی، خصوصا انجینئری اور فن تعمیرات کی ماہر۔ ملاحظہ ہوں پ 8 سورة الاعراف کے حاشیے۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہ خوب لکھا ہے کہ اس سورة میں مختلف انبیاء کی دعوت میں بار بار انہی فقروں کی تکرار اس لیے ہے کہ ایک ہی طرز تبلیغ سب کا تھا۔ (آیت) ” تعبثون “۔ سے ظاہر ہے کہ یہ شوق تعمیر کسی ضرورت کی بنا پر نہ تھا۔ محض جذبات فخر ونمائش کی تسکین کے لیے تھا، مرشد تھانوی (رح) نے کہا کہ تعبثون سے عبث (محض فضول) کی مذمت صریح نکلتی ہے، خواہ وہ عبث بہ لحاظ قول ہو یا فعل۔ مرشد تھانوی (رح) نے یہ بھی فرمایا کہ عقیدۃ یہ لوگ ان تعمیرات کے ذریعہ سے خلود کے قائل نہ تھے، مگر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–140

آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اتبنون بکل ریع ایۃ تبعثون۔ کیا تم ہر اونچے مقام پر یادگار کے طور پر ایک عمارت بناتے ہو

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(128) کیا تم ہر ایک راستہ پر ایک یادگار کے طور پر عمارت بناتے ہو اور وہاں سے غریبوں میں سے جو بھی گزرتا ہے اس کو مارتے ہو اور اس کے کپڑے اتار لیتے ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہر ایک اونچے مقام پر ایک یادگار کے طور پر عمارت بناتے ہو جس کو محض فضول بناتے ہو اور وہاں سے ہر ایک گزرنے والے مذاق اڑاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ : ”رِيْعٍ“ اونچی جگہ۔ قاموس میں ہے ”رِیْعٌ“ (کسرہ اور فتحہ کے ساتھ) اونچی زمین یا ہر کشادہ راستہ یا ہر راستہ یا پہاڑ میں کھلا راستہ یا بلند پہاڑ۔ واحد کے لیے تاء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ ”اٰيَةً“ نشانی، یادگار۔ ”تَعْبَثُوْنَ“ ”عَبَثٌ“ (ع) بےفائدہ اور لاحاصل کام کرنا، یعنی تم بےفائدہ اور لاحاصل کام کرتے ہو۔ ”کُلُّ رِیْعٍ“ سے مراد بہت سی اونچی جگہیں ہیں، کیونکہ ہر اونچی جگہ تو یاد گار نہ بن سکتی ہے اور نہ انھوں نے بنائی تھی۔ ہود ؑ نے پہلے اپنی قوم کو تمام انبیاء کی لائی ہوئی بنیادی تعلیم اللہ پر ایمان، اس کے تقویٰ اور اطاعت کی دعوت دی، اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–129

( کذبت عاد المرسلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کذبت عاد المرسلین ثانیث قبیلہ اور جماعت کے معنی کی وجہ سے ہے۔ وہ مرسلین کو جھٹلاتے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔ اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ ہُوْدٌ اَ لَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللہ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ معنی واضح ہے بحث گزر چکی ہے۔ اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ ربع سے مراد وہ چیز ہے جو زمین سے بلند ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے : یہ ریعۃ کی جمع ہے کا ریع ارضک تیری زمین کی بلندی کتنی ہے۔ قتادہ نے کہا : ربع سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–140

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَتَبْنُوْنَ [ کیا تم لوگ تعمیر کرتے ہو ] بِكُلِّ رِيْعٍ [ ہر ٹیلے پر ] اٰيَةً [ کوئی نشان ] تَعْبَثُوْنَ [ (پھر) مذاق کرتے ہو (راہگیروں سے)] ر ی ع۔ (ض) ریعا نشو و نما پانا۔ زیادہ ہونا۔ ریع بلند جگہ۔ ٹیلہ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 128 ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 128 ۔ کی تفسیر میں ایک رائے یہ ہے کہ یہ لوگ سرراہ بلند جگہوں پر بارہ دری یا اسی قسم کی دیگر تعمیرات کرتے تھے۔ پھر وہاں بیٹھ کر راہ چلنے والوں سے تمسخر کرتے اور انھیں پریشان کرتے تھے۔ (تفسیر تعیمی) ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ لوگ بلند جگہوں پر ایسی یادگاریں تعمیر کرتے تھے جن میں کسی کو افادیت نہیں ہوتی تھی، جن کا مقصد دولت کی نمائش کے علاوہ اور کچھ نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 124–130

(وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ) (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) چونکہ وہ لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور انہیں اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ بھی تھا اس لیے انہوں نے از راہ تکبر یہاں تک کہہ دیا تھا (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ طاقت میں ہم سے بڑھ کر کون ہوگا) اپنے اسی گھمنڈ اور غرور کی وجہ سے جب کسی کو پکڑتے تھے تو بہت ظلم و زیادتی کرتے تھے بغیر کسی رحم کے ترس کھائے بغیر مارتے کاٹتے اور ظلم کرتے چلے جاتے تھے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں مسلطین غاشمین بلا رافۃ و لا قصد تادیب و لا نظر فی العاقبۃ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–140

قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 127–135

52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 123–131

ربط آیات یہ تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔ سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ اور آپ نے ان کو تسلی دی گئی تھی کہ آپ اتنی زیادہ فکر نہ کریں اور یہ لوگ آپ کی بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے بلکہ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اب اسی سلسلے میں سابقہ اقوام کا حال بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اکثر مشرکین بہت بڑے سر کش میں تو ان سے پہلی اقوام کے لوگ بھی کوئی کم سر کش نہیں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے …علیہم السلام کو سخت تکالیف پہنچائیں ، ان کی تکذیب کی مگر وہ خود ہی ہلاک ہوئے اس ضمن میں قوم فرعون ، قوم ابراہیم اور قوم نوح کا ذکر ہوچکا ہے ۔ قوم فرعون اور قوم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْــعٍ اٰيَۃً تَعْبَثُوْنَ۝ 128ۙ بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 12] . والبِنَاء : اسم لما يبنی بناء، قال تعالی: لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ، والبَنِيَّة يعبر بها عن بيت اللہ تعالیٰ «2» . قال تعالی: وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، وَالسَّماءِ وَما بَناها [ الشمس/ 5] ، والبُنيان واحد لا جمع، لقوله تعالی: لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ التوبة/ 110] ، وقال : كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ [ الصف/ 4] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 124–128

3 ؎ الریع بالکسرو الفتح المرتفع من الارض قاموس مصانع المصنعۃ کالحوض یجمع فیہ مارالمطرو المصانع الجمع، والقری والبانی من المقصور و الحصون قاموس 12۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 128–129

اَ تَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَـۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّـکُمْ تَخْلُدُوْنَ ۔ (الشعرآء : 128، 129) (کیا تم ہر بلندی پر عبث ایک یادگار بنا ڈالتے ہو۔ اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ ) رِیْعٌ … بلند زمین کو بھی کہتے ہیں اور اس راستے کو بھی جو دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزر رہا ہو۔ اٰیَـۃٌ … یہاں نشانی اور یادگار کے مفہوم میں ہے۔ مَصَانِعَ … مَصْنَعْ کی جمع ہے۔ محلوں اور ایوانوں پر بھی بولا جاتا ہے اور مضبوط قلعے پر بھی۔ ترجیحات کے بگاڑ پر تنبیہ قوموں کی روحانی اور اخلاقی زندگی میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اخلاقی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 124–132

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا بار بار قوم کو خطاب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروانا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس دلایا اور انھیں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ اے میری قوم ! اپنے ماضی پر غور کرو۔ تم افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثیر افزائش سے نوازا۔ جس کے نتیجے میں تم افرادی قوت کے اعتبار سے اپنے مخالفوں پر برتر ہوئے۔ اس نے تمہیں مال، مویشی کے اعتبار سے بھی برکت عنایت فرمائی تم بڑے بڑے باغات اور چشموں کے مالک بنے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 127–128

127، 128: وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعَلَمِیْنَ اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ (اور میں اس پر تم سے مزدوری نہیں مانگتا۔ میری مزدوری اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کیا تم ہر بلند مقام پر عمارت کھڑی کردیتے ہو) ریعٍؔ بلند مقام۔ ٰایَۃً منارہ، حمام، نمبر 2۔ ایسی عمارت جو بلندی میں بطور نشانی کے استعمال ہو۔ وہ ہرگز رنے والے کا مذاق اڑاتے۔ تَعْبَثُوْنَ (کھیل و تفریح کے طور پر ) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

128۔ اتبنون بکل ریع، والبی نیابن عباس ؓ عنہماکے حوالے سے نقل کیا کہ اس کا معنی ہے اونچامقام بلند جگہ، ضحاک اور مقاتل وکلبی نے اس کا ترجمہ کیا ہے ہر راستہ میں اور عوفی کی روایت میں ابن عباس ؓ عنہماکا بھی یہی قول آیا ہے مجاہد کا قول ہے کہ دو پہاڑوں کے درمیان راستہ ۔ مجاہد کادوسراقول مروی ہے کہ ، ریع کا معنی ہے ، منظر، ایہ بمعنی علامت ، تعبثون ، یعنی فضول کام کرتے ہوئے آخرت میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ دنیا میں بھی بےکار ہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ قوم عاد والے کبوتربازی کرتے تھے۔ انہوں نے کبوتروں کے لیے برج بنارکھے تھے۔ حضرت ہود نے ان کو اس فعل کو پسند نہیں کیا اور ان برجوں کے بنانے کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–140

(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–140

آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 128–135

73 کفر و انکار پر سخت عذاب کا خدشہ ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو تنبیہ و تذکیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے کفر و انکار ہی پر اڑے رہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ اگر تم لوگ اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور تم نے حقِّ شکر ادا نہ کیا اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار پر سخت عذاب کا آنا ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ رسول کی تکذیب کی بنا پر ایسے عذاب کا آنا اللہ پاک کی سنت کا مقتضیٰ ہے۔ سو حضرت ہود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 122–140

قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–140

آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی اسے بلا ضرورت اور بلامقصد بناتے ہو۔ صرف اس لئے کہ اپنی شان و شوکت اور خوشحالی کا مظاہرہ کرسکو۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 128–129

(26:128) اتبنون۔ الف استفہام کے لئے ہے تنبون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم بناتے ہو۔ تم تعمیر کرتے ہو۔ بنی یبنی بناء (ضرب) وبنیان وبنی بنی مادہ۔ ریع۔ بلند جگہ جو دور سے ظاہر ہو۔ ٹیلہ۔ مکان مرتفع۔ تعبثون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم عبث مشغول ہوتے ہو۔ عبث یعبث (سمع) کھیل کود اور بےکار کاموں میں مشغول ہونا۔ ایۃ۔ نشانی۔ یادگار۔ آیت کا ترجمہ : کیا تم ہر اونچی جگہ بےضرورت یادگاریں بناتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–140

لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–140

حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات :۔ ریع ۔ ٹیلہ ۔ بلندی آیہ ۔ نشان ۔ یعنی اونچی اونچی عمارتیں ۔ جو ان کی فارغ البالی کی علامت ہوں

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 119–129

ف 4۔ یعنی ایسی توسیع اور ایسے ایوان رفیع اور ایسا استحکام اور ایسے یادگار اور اعلام اس وقت مناسب تھے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا ہوتا اور اب تو سب فضول ہے، بڑی بڑی یاد گاریں بنی ہیں، اور بانی کا نام تک معلوم نہیں، موت نے سب کا نام مٹا دیا، کسی کا جلدی کسی کا دیر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے قوم کیا تم ہر اونچی زمین پر ایک نشانی فضول بنایا کرتے ہو : 128۔ (ربیع) جمع ہے ریعۃ کی اور ہر ایک اونچی جگہ کو ریعۃ کہا جاتا جو دور سے نظر آتی ہو (غ) راستہ اور وادی کو بھی ریعہ کہا جاتا ہے ایہ سے مراد اس جگہ اونچی عمارت کے کئے گئے ہیں اور یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کا شیوہ یہ تھا کہ یہ لوگ بڑے بڑے آدمیوں کی یادگار میں بڑی بڑی لمبی چوڑی عمارتیں بنایا کرتے تھے اور ان عمارتوں کو ایہ کا نام دے رکھا تھا اس سے انکی غرض دراصل عرف اپنے نام کی نمود ونمائش تھی اور سمجھتے تھے کہ یہ بلند عمارتیں ہماری قومی اور مذہبی رفعت کا گویا نشان ہیں جیسے آج کل ہمارے ہاں روضے اور خانقاہیں تعمیر کی جاتی ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–148

Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِ‌يعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–128

90 That is, "You build grand buildings merely to show off your wealth and power, whereas they have no use and purpose except that they stand as monuments to your grandeur and glory. "

Read the full tafseer →