Explained with ayahs 123–135
ہود ؑ اور ان کی قوم
حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
سورة الشُّعَرَآء 90
یعنی محض اپنی عظمت و خوشحالی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایسی عالی شان عمارتیں تعمیر کرتے ہو جن کا کوئی مصرف نہیں، جن کی کوئی حاجت نہیں، جن کا کوئی فائدہ اس کے سوا نہیں کہ وہ بس تمہاری دولت و شوکت کی نمود کے لیے ایک نشانی کے طور پر کھڑی رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
خلاصہ تفسیر
قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کی (برادری کے) بھائی ہود ؑ نے کہا کہ کیا تم (خدا سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو، اور میری اطاعت کرو، اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی صلہ نہیں مانگتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے، کیا تم (علاوہ شرک کے تکبر و تفاخر میں بھی اس درجہ مصروف ہو کہ) ہر اونچے مقام پر ایک یادگار (کے طور پر عمارت) بناتے ہو (تاکہ خوب اونچی نظر آوے) جس کو محض فضول (بلاضرورت) بناتے ہو اور (اس کے علاوہ جو رہنے کے مکان ہیں جن کی ایک درجہ ضرورت بھی ہے ان میں بھی یہ غلو ہے) کہ بڑے بڑے محل بناتے ہو (حالانکہ اس سے کم میں…
Read the full tafseer →بدکنے والوں کو ملامت
اس آیت کے اندر جو پہلو ترغیب و تودیع کے ہیں ان کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں۔ مزید برآں اس میں ان بدکنے والوں کو ملامت بھی ہے۔ جو حضرت ہود کی بات سننے کے لئے کسی طرح تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ فرمایا کہ خدا کے بندو، میری بات سنو تو سہی، میں نے اس پر کوئی ٹکٹ تو نہیں لگا رکھا ہے جو تم پر گراں گزر رہا ہے، میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے، میں تم سے اس پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میں تو تمہیں یہ بالکل مفت دے رہا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
128-1ریع، ریعۃ، کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، درہ یا گھاٹی یہ ان گزر گاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو بلندی پر ایک نشانی مشہور ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود ؑ نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتے ہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیا کا کوئی مفاد وابستہ نہیں بلکہ صرف کھیل کود ہوتا ہے بیکار محض بےفائدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–127
24: پورا واقعہ سورة ہود : 25 تا 48 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
درس نمبر 165 تشریح آیات
123……تا……140
قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔
سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–129
3 ان لوگوں کو بڑا شوق تھا اونچے مضبوط منارے بنانے کا جس سے کچھ کام نہ نکلے، مگر نام ہوجائے اور رہنے کی عمارتیں بھی بڑے تکلف کی بناتے تھے مال ضائع کرنے کو۔ ان میں بڑی کاریگریاں دکھلاتے گویا یہ سمجھتے تھے کہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور یہ یادگاریں اور عمارتیں کبھی برباد نہ ہوں گی۔ (لیکن آج دیکھو تو ان کے کھنڈر بھی باقی نہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
آیت 128 اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ”
تم لوگ بغیر کسی مقصد اور افادیت کے جگہ جگہ بڑی بڑی عمارتیں محض اپنی یادگاروں کے طور پر تعمیر کردیتے ہو۔ یہ فضول ریت ہر تمدن اور ہر قوم میں رہی ہے۔ ہر دور کے امراء اور حکمران زرکثیر خرچ کر کے بڑی بڑی عمارتیں محض اس لیے تعمیر کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں ان کی یادگاروں کے طور پر قائم رہیں۔ اہرام مصر اور تاج محل ان یادگاروں کی مثالیں ہیں جن پر اپنے اپنے زمانے میں کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر انسانیت کے لیے ان کی افادیت کچھ بھی نہیں ہے۔ قوم عاد کے امراء بھی ایسی یادگاریں بنانے کے شوقین تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–130
83 اس قوم کے تین افعال کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا جن میں سے پہلے دو فن تعمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ یادگاریں بہت زیادہ تعمیر کرتے جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ کسی نے اپنی یادگار میں شاندار مقبرہ تعمیر کرالیا۔ کسی نے کوئی اونچا مینار بنایا۔ تو کسی نے کوئی بارہ دری تعمیر کرا دی۔ جیسے اہرام مصر ہیں یا روضہ تاج محل اور اسی طرح کی دوسری یادگاریں آج کل بھی پائی جیتی ہیں اور ان سے مقصود۔۔ ناموری یا نمودو نمائش ہوتا تھا۔ تغبثون سے بعض لوگوں نے مراد کھیل تماشا ہی لیا ہے۔ یعنی وہ ایسی بلند عمارتوں کو اوپر چڑھ کر کبوتر بازی اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
78۔ یہ قدیم شائستہ ومتمدن قوم بڑی صناع وکاریگر تھی، خصوصا انجینئری اور فن تعمیرات کی ماہر۔ ملاحظہ ہوں پ 8 سورة الاعراف کے حاشیے۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہ خوب لکھا ہے کہ اس سورة میں مختلف انبیاء کی دعوت میں بار بار انہی فقروں کی تکرار اس لیے ہے کہ ایک ہی طرز تبلیغ سب کا تھا۔ (آیت) ” تعبثون “۔ سے ظاہر ہے کہ یہ شوق تعمیر کسی ضرورت کی بنا پر نہ تھا۔ محض جذبات فخر ونمائش کی تسکین کے لیے تھا، مرشد تھانوی (رح) نے کہا کہ تعبثون سے عبث (محض فضول) کی مذمت صریح نکلتی ہے، خواہ وہ عبث بہ لحاظ قول ہو یا فعل۔ مرشد تھانوی (رح) نے یہ بھی فرمایا کہ عقیدۃ یہ لوگ ان تعمیرات کے ذریعہ سے خلود کے قائل نہ تھے، مگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت نمبر 123 تا 140
ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…
Read the full tafseer →وما اسلئکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔
میں تم سے اس (تبلیغ و ہدایت) کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا ثواب تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ اداء رسالت اللہ کی طاعت ہے اس لئے اس کا ثواب بھی اللہ ہی کے ذمہ ہے۔
مسئلہ۔ طاعت کی اجرت لینا جائز نہیں ورنہ وہ طاعت اللہ کی طاعت نہ ہوگی اور اللہ کے نزدیک مستحق اجر نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(127) میں اس تبلیغ توحید پر تم سے کسی صلے کا طالب نہیں ہوں بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : نوح ؑ اور ان کے بعد چاروں انبیاء ؑ کے قصوں میں خاص طور پر تقویٰ اور اطاعت کے حکم اور تبلیغ رسالت پر کسی قسم کے بدلے کی نفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی اطاعت کا حکم دینا ہے اور یہ کہ انبیاء ؑ دنیاوی طمع سے پاک ہوتے ہیں۔
3 اس قصے کی اور نوح ؑ کے قصے کی ابتدائی آیات ایک جیسی ہیں، اس لیے ان کی تفسیر دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تقابل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (65 تا 72) اور ہود (50 تا 60) مزید تفصیلات ان مقامات پر بھی ہیں، سورة حٰم السجدہ (13 تا 16) ، احقاف (21 تا 26) ، ذاریات (41 تا 45) ، قمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–129
( کذبت عاد المرسلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
کذبت عاد المرسلین ثانیث قبیلہ اور جماعت کے معنی کی وجہ سے ہے۔ وہ مرسلین کو جھٹلاتے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔
اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ ہُوْدٌ اَ لَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللہ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ معنی واضح ہے بحث گزر چکی ہے۔
اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ ربع سے مراد وہ چیز ہے جو زمین سے بلند ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے : یہ ریعۃ کی جمع ہے کا ریع ارضک تیری زمین کی بلندی کتنی ہے۔ قتادہ نے کہا : ربع سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔
2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔
5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ اور میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْ اَجْرٍ ۚ[ کوئی بھی اجرت ] اِنْ اَجْرِيَ [ نہیں ہے میری اجرت ] اِلَّا [ مگر ] عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–130
(وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ) (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) چونکہ وہ لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور انہیں اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ بھی تھا اس لیے انہوں نے از راہ تکبر یہاں تک کہہ دیا تھا (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ طاقت میں ہم سے بڑھ کر کون ہوگا) اپنے اسی گھمنڈ اور غرور کی وجہ سے جب کسی کو پکڑتے تھے تو بہت ظلم و زیادتی کرتے تھے بغیر کسی رحم کے ترس کھائے بغیر مارتے کاٹتے اور ظلم کرتے چلے جاتے تھے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں مسلطین غاشمین بلا رافۃ و لا قصد تادیب و لا نظر فی العاقبۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔
یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–135
52:۔ میری قوم ! مجھے خطرہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے مسلسل انعامات کے باوجود کفران نعمت کرو گے اور اللہ کے سوا اوروں کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھد کر پکارتے رہوگے تو آخر ایک دن نہایت ہی دردناک عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے۔” قالوا سواء علینا الخ “ سرکش اور معاند قوم نے جواب دیا اے ہود ! تیرے وعظ و تبلیغ کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہم تیری بات مانیں گے، اس لیے تیرا وعظ کرنا اور نہ کرنا ہمارے لیے برابر ہے۔ ای لانقبل کلامک و دعوتک وعظت ام سکت (مدارک ج 3 ص 146) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–131
ربط آیات
یہ تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔ سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ اور آپ نے ان کو تسلی دی گئی تھی کہ آپ اتنی زیادہ فکر نہ کریں اور یہ لوگ آپ کی بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے بلکہ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اب اسی سلسلے میں سابقہ اقوام کا حال بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اکثر مشرکین بہت بڑے سر کش میں تو ان سے پہلی اقوام کے لوگ بھی کوئی کم سر کش نہیں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے …علیہم السلام کو سخت تکالیف پہنچائیں ، ان کی تکذیب کی مگر وہ خود ہی ہلاک ہوئے اس ضمن میں قوم فرعون ، قوم ابراہیم اور قوم نوح کا ذکر ہوچکا ہے ۔ قوم فرعون اور قوم…
Read the full tafseer →وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ 0ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 127ۭ
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
3 ؎ الریع بالکسرو الفتح المرتفع من الارض قاموس مصانع المصنعۃ کالحوض یجمع فیہ مارالمطرو المصانع الجمع، والقری والبانی من المقصور و الحصون قاموس 12۔
Read the full tafseer →وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 127)
(میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ )
اطاعت کی دلیل
ایک تو اس لیے تمہیں میری اطاعت کرنی چاہیے کہ میں رسول امین ہوں، مجھ پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے، میری دیانت پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اور دوسرا اس لیے کہ میں ایک بےغرض آدمی ہوں جس کے پیش نظر تمہاری صلاح و فلاح کے سوا اور کچھ نہیں۔ میں نے تبلیغ و دعوت کے عمل میں دنیوی اور مادی لحاظ سے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔ اگر میری کوئی اپنی غرض ہوتی تو میں کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔ البتہ مجھے اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–132
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا بار بار قوم کو خطاب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروانا۔
حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس دلایا اور انھیں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ اے میری قوم ! اپنے ماضی پر غور کرو۔ تم افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثیر افزائش سے نوازا۔ جس کے نتیجے میں تم افرادی قوت کے اعتبار سے اپنے مخالفوں پر برتر ہوئے۔ اس نے تمہیں مال، مویشی کے اعتبار سے بھی برکت عنایت فرمائی تم بڑے بڑے باغات اور چشموں کے مالک بنے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
127، 128: وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعَلَمِیْنَ اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ (اور میں اس پر تم سے مزدوری نہیں مانگتا۔ میری مزدوری اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کیا تم ہر بلند مقام پر عمارت کھڑی کردیتے ہو) ریعٍؔ بلند مقام۔ ٰایَۃً منارہ، حمام، نمبر 2۔ ایسی عمارت جو بلندی میں بطور نشانی کے استعمال ہو۔ وہ ہرگز رنے والے کا مذاق اڑاتے۔ تَعْبَثُوْنَ (کھیل و تفریح کے طور پر ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
125۔ انی لکم رسول امین، اپنی رسالت کو امانت داری سے انجام دینے والے ہیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ کہ اس کا معنی ہے کہ میں رسالت کے دعوے سے پہلے بھی تم لوگوں میں امانت دار جاناجاتا تھا مجھے تم جھوٹا نہیں جانتے تھے، پھر اب تم کیوں دروغ گوئی کی تہمت لگا رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیت 123 سے 140
یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
70 پیغمبر کی دعوت بےغرضانہ اور ہر قسم کے لوچ سے پاک :ـسو حضرت ہود نے ان لوگوں سے کہا کہ " میں تم سے دعوت و تبلیغ کے اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اجر تو میرے رب ہی کے ذمے ہے "۔ کہ میری یہ سب کوشش و محنت اسی کی رضا کے لئے ہے۔ سو اس میں ہر داعی ٔحق کے لئے یہ ایک اہم اور بنیادی تعلیم و درس ہے کہ وہ اپنی دعوت و تبلیغ کے کام پر کسی دنیاوی مفاد کی طمع نہ رکھے۔ اس طرح ایک تو اس کا اجر وثواب محفوظ رہے گا اور دوسرے اس سے دنیاوی مشکلات اس کے لئے حوصلہ شکنی کا باعث نہیں بنیں گی۔ کیونکہ اس نے مخلوق سے ایسی کوئی توقع رکھی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے ایسی مشکلات اور مصائب اس کے لئے نئے نہیں ہوتے۔ اور تیسرے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–140
قوم عاد کا تذکرہ
تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
آیات 123 تا 140
اسرار و معارف :
ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
13 ۔ ان پانچوں قصوں میں خاص طور پر تقویٰ اور اطاعت کا حکم اور اس پر کسی قسم کے بدلہ کی نفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کا اساسی مقصد معرفت حق کی دعوت اور پیغمبر کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنا ہے۔ اس اصول دعوت پر تمام پیغمبر متفق تھے۔ نیز یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) اپنی قوم کے بےلوث خادم ہوتے ہیں۔ ان کو سیم و زر کی طمع و لالچ ہوتی ہے اور نہ ہوس و اقتدار۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
(26:123) کذبت عاد ن المرسلین۔ ملاحظہ ہو 26:105 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 :
اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 :
سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–140
حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
قوم عاد کی تباہی
1: انسانی فطرت کا عام قانون ہے ۔ کہ جب انسان کو مال و دولت سے بہرہ وافر قرار دیا جائے ۔ اور اس کی اہلیت سے زیادہ اس کو نوازا جائے ۔ تو پھر یہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں تفافر وتکبر کے جذبے ۔ دنیا کو دائمی اور ابدی سمجھنے کا تخیل اور تفردو اختصاص کے ولولے پیدا ہوجاتے ہیں ۔
چنانچہ حضرت ہود مبعوث ہوئے ۔ تو قوم عاد کی بالکل یہی کیفیت تھی ۔ مال و دولت کی فراوانی کی وجہ سے ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے ۔ یہ ہر بلندی پر عیش و عشرت کے قصر تعمیر کرتے ۔ تاکہ یہ ان کی عزت اور وقعت کے نشان قرار پائیں ۔ اور وہ بڑے بڑے قلعے بناتے ۔ تاکہ نفس کو یہ فریب دے سکیں ۔ کہ یہ مقام عارضی وفانی…
Read the full tafseer →(127) اور میں اس تبلیغ رسالت پر تم سے کوئی مزدوری اور اجرت نہیں مانگتا میرا صلہ اور میری اجرت تو بسرب العالمین ہی کے ذمے ہے عاد ایک بڑی طاقت وار اور بارعب قوم تھی مگر بت پرستی کرتی تھی حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا اور تقریباً وہی باتیں فرمائیں جو حضرت نوحل کی تقریر میں مذکور ہوئیں امانت و رسالت کا دعویٰ خدا سے ڈرنے کی تاکید اور اپنی اطاعت اور پیروی کا مطالبہ اور تبلیغ احکام الٰہی پر اجرت نہ مانگنے کا تذکرہ اس کے بعد ان کی بعض اخلاقی کمزوریوں اور خرابیوں کا اظہار فرمایا چانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–129
ف 4۔ یعنی ایسی توسیع اور ایسے ایوان رفیع اور ایسا استحکام اور ایسے یادگار اور اعلام اس وقت مناسب تھے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا ہوتا اور اب تو سب فضول ہے، بڑی بڑی یاد گاریں بنی ہیں، اور بانی کا نام تک معلوم نہیں، موت نے سب کا نام مٹا دیا، کسی کا جلدی کسی کا دیر میں۔
Read the full tafseer →اے قوم میں تم سے کچھ اجر تو نہیں مانگتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے :
127۔ قوم کے لوگوں نے بھی جھٹ جواب دیا کہ اگر آپ اجر نہیں مانگتے تو ہم کونسا اجر تم کو دے رہے ہیں تم کہتے ہو کہ میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے اور ہم کہتے ہیں کہ تم نبوت و رسالت کے دعوی میں بھی سچے نہیں ہو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ آپ ایک انسان ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ انسان کبھی رسول نہیں ہو سکتا چونکہ آپ انسان ہیں ‘ کھاتے پیتے ہیں ‘ چلتے پھرتے ہیں ‘ آپ کے بیوی بچے ہیں آخر آپ کو کس طرح ہم رسول مان لیں اگر آپ کوئی مزدوری طلب نہیں کر رہے تو یہ بھی یقینا آپ کو کوئی فریب ہے اور اب جو تم رب العلمین کا ذکر کرتے ہو تو آخر جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–127
Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status
قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾
They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112)
It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
90 That is, "You build grand buildings merely to show off your wealth and power, whereas they have no use and purpose except that they stand as monuments to your grandeur and glory. "
Read the full tafseer →