Ash-Shu'araa 26:117

Ash-Shu'araa · from ayah 117

26:117

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِ ۟ۚۖقَالَ رَبِّ اِنَّ قَوۡمِىۡ كَذَّبُوۡنِ‌

نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "My Lord, indeed my people have denied me.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:117

نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

نوح نے کہا : میرے پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(نوح علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو نوح نے دعا کی : پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار نوح نے دعا کی کہ اے میرے رب میری قوم نے مجھے قطعی طور پر جھٹلا دیا

— مولانا اسحاق مدنی

نوح ؑ نے) دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم مجھے جھٹلا رہی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس ؑ نے فریاد کی : اے میرے پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نوح نے کہا 1 اے میرے رب میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "My Lord! My people have branded me a liar.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My Lord, my people have rejected me.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My Lord, my people have rejected me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "My Lord! Verily, my people have denied me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! Lo! my own folk deny me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "My Lord, indeed my people have denied me.

— Saheeh International

Then Noah said, "Lord, my people have rejected me.

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! Surely my people give me the lie!

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord! verily my people have belied me.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O my Lord! truly my people have rejected me.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:117

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–122

تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 85 یعنی آخری اور قطعی طور پر جھٹلا دیا ہے جس کے بعد اب کسی تصدیق و ایمان کی امید باقی نہیں رہی۔ ظاہر کلام سے کوئی شخص اس شبہ میں نہ پڑے کہ بس پیغمبر اور سرداران قوم کے درمیان اوپر کی گفتگو ہوئی اور ان کی طرف سے پہلی ہی تکذیب کے بعد پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کے حضور رپورٹ پیش کردی کہ یہ میری نبوت نہیں مانتے، اب آپ میرے اور ان کے مقدمہ کا فیصلہ فرما دیں۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس طویل کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے جو حضرت نوح ؑ کی دعوت اور ان کی قوم کے اصرار علی الکفر کے درمیان صدیوں برپا رہی۔ سورة عنکبوت میں بتایا گیا ہے کہ اس کشمکش کا زمانہ ساڑھے نو سو برس تک ممتد رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 111–122

شرافت و رذالت اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ خاندان اور جاہ و چشم سے قَالُـوْٓا اَنُؤ ْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ، قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس آیت میں اول مشرکین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ پر ایمان لانے سے انکار کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں ؟ نوح ؑ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ تم لوگ جو خاندانی شرافت یا مال و دولت اور عزت و جاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ مدار عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دراصل اعمال و اخلاق پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 117–118

آیت 118-117 حضرت نوح کی دعا فتح ون صرت کے لئے قوم کے اس فیصلہ کن اعلان کے بعد جب حضرت نوح اس کے ایمان لانے سے بالکل مایوس ہوگئے تب انہوں نے رسولوں کی معروف سنت کے مطابق، اپنے رب سے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے میری تکذیب کردی تو اب تو میرے اور اس کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان میں ان کو نجات دے۔ فتحاً کی تاکید سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت نوح نے یہ دعا اس فتح و نصرت کے ظہور کے لئے فرمائی ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کی قوم کی ہلاکت اور رسول اور اس کے ساتھیوں کی نجات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 116–120

120-1یہ تفیصلات کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں اور کچھ آئندہ بھی آئیں گی کہ حضرت نوح ؑ کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بد اخلاقی اور اعراض پر قائم رہے، بالآخر حضرت نوح ؑ نے بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا اور اس میں مومن انسانوں، جانوروں اور ضروری سازو سامان رکھنے کا حکم دیا اور یوں اہل ایمان کو بچا لیا گیا اور باقی سب لوگوں کو حتٰی کہ بیوی اور بیٹے کو بھی، جو ایمان نہیں لائے تھے، غرق کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 113–119

23: کافروں کے مذکورہ اعتراض میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ یہ نچلے درجے کے لوگ سوچ سمجھ کر دل سے ایمان نہیں لائے ہیں، بلکہ کسی ذاتی مفاد کی خاطر آپ کے ساتھ ہو لیے ہیں۔ اس جملے میں اس کا جواب ہے کہ اگر بالفرض ان کے دل میں کوئی اور بات ہے بھی، تو میں اس کی تحقیق کا مکلف نہیں ان کا حساب اللہ تعالیٰ خود لے لیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 116–122

قالوا لئن ……المرجومین (116) ’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔ اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 117–118

10 یعنی میرے اور ان کے درمیان عملی فیصلہ فرما دیجئے۔ اب ان کے راہ راست پر آنے کی توقع نہیں۔ 1 یعنی مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو الگ کر کے ان کا بیڑا غرق کر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 113–118

آیت 118 فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا ” یعنی ایسا کھلا فیصلہ جس کے بعد حق کے احقاق اور باطل کے ابطال میں کوئی شک یا ابہام نہ رہ جائے۔ وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” اہل ایمان میں سے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 117–118

79 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سرداروں میں کوئی دو چار دفعہ ایسے مکالمے اور بحثیں ہوئی ہوں گی۔ لیکن واقعہ ایسا نہیں۔ پورے ساڑھے نو سو سال نوح اور ان کی قوم میں ایسے مکالمے اور بحث و تکرار ہوتی رہی۔ اور جب حضرت نوح اس قوم میں سے کسی نئے فرد کے ایمان لانے سے قطعاً مایوس ہوگئے تو اس وقت آپ نے یہ دعا کی تھی۔ اس دعا کی تفصیلی ذکر سورة نوح میں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 117–121

76۔ (ہماری قوت اور قدرت انتقام کا) قوم نوح (علیہ السلام) کی غرقابی پر مفصل حاشیے سورة ہود وغیرہ میں گزر چکے۔ (آیت) ” فافتح بینی وبینھم فتحا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو شخص دین کو ضرر پہنچا رہا ہو اس کے لیے بددعا کرنا کمال صبر وحلم کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–122

آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 117–119

(117 تا 119) تب نوح ؑ نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم میری رسالت کی مسلسل تکذیب کر رہی ہے۔ اور میرے ماننے والوں کو قتل کر رہی ہے تو میرے اور ان کے درمیان ایک عملی عادلانہ فیصلہ فرما دیجیے اور مجھے اور میرے ماننے والوں کو ان لوگوں پر جو آپ عذاب نازل فرمائیں اس سے نجات دیجیے چناچہ ہم نے ان کو اور ان کے ساتھ جو مسلمان اس بھری ہوئی کشتی میں سوار تھے نجات دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِيْ كَذَّبُوْنِ : ”كَذَّبُوْنِ“ اصل میں ”کَذَّبُوْنِيْ“ ہے۔ جب قوم اس حد تک پہنچ گئی کہ اپنے رسول کو سنگسار کر دے اور اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کو اطلاع بھی دے دی کہ اب ان میں سے مزید کوئی ایمان نہیں لائے گا (دیکھیے ہود : 37) تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اس دعا کے الفاظ قرآن میں مختلف مقامات پر موجود ہیں، فرمایا : (اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) [ القمر : 10 ] ”کہ بیشک میں مغلوب ہوں، سو تو بدلا لے۔“ اور فرمایا : (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) [ نوح : 26 ] ”اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔“ یہاں انھوں نے جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 111–122

قالوا انومن لک واثثعک الا ردلون۔۔۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 :۔ قالوانومن لک انہوں نے کہا : کیا ہم آپ کے قول کی تصدیق کریں۔ واتبعک الا ردنون وائو حالیہ اس میں قد ہے تقدیر کلام یہ ہے وقد اتبعک الا رزلون، یہ ارزل کی جمع ہے جمع مسکر ارازل، مونث ردنی اس کی جمع رذل ہے۔ نحاس نے کہا : جن نحویوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے کسی کے نزدیک بھی اس میں سے الف لام کا حذف جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود، ضحاک، یعقوب حضرمی اور قراء نے اسے وانما اتباعک الا رزلون پڑھا ہے نحاس نے کہا : یہ اچھی قرأت ہے اس وائو کے بعد اکثر اسماء آتے ہیں اور افعال قد کے بعد آتے ہیں اتباع یہ تبع اور تبیع کی جمع ہے یہ لفظ واحد اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–122

قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ نوح نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنَّ [ بیشک ] قَوْمِيْ [ میرے قوم نے ] كَذَّبُوْنِ [ جھٹلایا مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–123

ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–122

قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 117–119

49:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاء کے مطابق ہم نے ان کی قوم پر طوفان بھیج دیا۔ نوح اور اس کے مومن ساتھیوں کو کشتی میں محفوظ رکھا اور طوفان سے بچا لیا لیکن باقی تمام مشرکوں کو غرق کر کے ہلاک کردیا اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کو طوفان سے بچایا اور یہی نوح (علیہ السلام) کی دعوت تھی نیز مشرکین قوم نوح کے اس انجام بد سے مشرکین مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–122

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِيْ كَذَّبُوْنِ۝ 1 17ۚۖ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–123

تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟ قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 117–118

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنَ ۔ فَافْـتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْـنَـھُمْ فَـتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 117، 118) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلادیا ہے، اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں ان کو نجات دے دے۔ ) فتح و نصرت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے نبوت کے اعلان اور دعوت کے آغاز ہی میں قوم نے آپ ( علیہ السلام) کو ماننے سے انکار کردیا اور آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کی تکذیب کردی۔ تو آپ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 117–119

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے فیصلہ کن عذاب کی بدعا کی اللہ تعالیٰ نے انھیں اور ان کے مومن ساتھیوں کو عذاب سے محفوظ رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو واضح طور پر بتلادیا کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تیری قوم سے جن لوگوں نے ایمان لانا تھا لاچکا۔ اب کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا لہٰذا ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی تیار کیجیے اور اب میرے حضور ظالموں کے حق میں فریاد نہ کرنا کیونکہ یہ غرق ہو کر رہیں گے۔ (ہود : 36۔ 37) ” نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے قریب سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے نوح جواب دیتے کہ جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

117: قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنِ (کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا) یہ اخبار تکذیب نہیں کیونکہ نوح (علیہ السلام) جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہیں۔ وہ ہر چیز کو جانتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ میری قوم نے تیری وحی و رسالت میں میری تکذیب کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 116–117

116۔ قالوا لئن لم تنتہ یانوح، ، جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس سے باز نہ آئے۔ لتکونن من المرجومین، مقاتل، کلبی کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے جو پتھروں کی بارش سے قتل کیے گئے ہوں۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ کیا ہے ، مشنومین یعنی ہم تمہیں گالیاں دیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–122

(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–122

آیت 105 سے 122 اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 116–117

65 حضرت نوح کی دعا اپنے رب کے حضور : سو آخرکار حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور فیصلے کی دعا و درخواست کی۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ ان کی دھمکی پر فوراً ہی حضرت نوح نے یہ دعا کردی۔ جیسا کہ ایجاز کلام کی وجہ سے بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ یہ دراصل صدیوں پر محیط اس طویل قصے کا اجمال و اختصار ہے۔ جیسا کہ دو سرے مقام پر اس کی تفصیل و تصریح موجود ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے درمیان ساڑھے نو سو برس تک تبلیغِ حق فرمائی۔ اور ان لوگوں کو ہر طرح سے سمجھایا۔ اس طویل جدوجہد کے بعد جب یہ امر واضح ہوگیا کہ اب یہ لوگ راہ راست پر آنے والے نہیں اور وحی کے ذریعے آپ کو بتادیا گیا کہ اب ان میں سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–121

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–122

آیات 105 تا 122: اسرار و معارف : نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا : نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:117) رب : ای یا ربی۔ کذبون اصل میں کذبونی تھا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ محذوف۔ انہوں نے مجھے جھٹلایا۔ انہوں نے مجھے جھوٹا قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–122

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 : الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 : سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 113–122

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) نوح (علیہ السلام) نے فرمایا، اے کاش اگر تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو تو پھر تمہارا کچھ اعتراض باقی نہیں رہتا، اور تم لوگوں کے کہنے سے میں ان غریب ایمانداروں کو اپنی مجلس سے نکال نہیں سکتا، قوم کے لوگوں نے نوح کی ان باتوں کا یہ جواب دیا کہ اے نوح اگر تم اپنی اس طرح کی باتوں سے بازنہ آئے تو ہم تم کو پتھروں سے سنگسار کردیں گے۔ آخرمجبور ہوکر نوح نے بددعا کی اور سوائے نوح اور ان کے فرمابرداروں کے باقی ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی اسی کو فرمایا کہ رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اگرچہ اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے مگر جو لوگ علم الٰہی میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 114–118

حل لغات :۔ بطارد ۔ طہود سے ہے ۔ معنے ہتا دینا ۔ دور کردینا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(117) نوح (علیہ السلام) نے پروردگار کی جناب میں عرض کیا اے میرے پروردگار ! میری قوم برابر میری تکذیب کر رہی ہے اور مجھ کو جھوٹابتا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! قوم نے مجھ کو جھٹلا دیا : 117۔ نوح (علیہ السلام) کی دعوت ایک طویل مدت تک جاری رہی اور آپ نے قوم کو سمجھانے بجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن قوم بھی ایسی اکھڑ تھی کہ وہ ذرا بھر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی اور مخالفت کی حد کردی ‘ اس مخالفت کی حالت بیان کرتے ہوئے نوح (علیہ السلام) نے اللہ رب کریم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا مگر میری پکار نے ان کے فرار میں اضافہ ہی کیا یعنی جتنا میں ان کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ وہ مجھ سے دور بھاگتے چلے گئے اور جب بھی میں ان کو بلایا کہ تو انہیں معاف کردے تو انہوں نے اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 111–127

Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْ‌ذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾ They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112) It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

85 That is, "They have rejected me completely and absolutely and now there is no hope of their becoming believers." Here nobody should have the misunderstanding that just after this conversation between Prophet Noah and the chiefs of his people, and the rejection of his message by them, the Prophet submitted a report to AIIah that his people had rejected him and now He should settle the accounts between them. The Qur'an has mentioned at different places the details of the long struggle that went on for centuries between Prophet Noah and his people, who persisted in unbelief. According to…

Read the full tafseer →