Ash-Shu'araa 26:118

Ash-Shu'araa · from ayah 118

26:118

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟فَافۡتَحۡ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحًا وَّنَجِّنِىۡ وَمَنۡ مَّعِىَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏

سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then judge between me and them with decisive judgement and save me and those with me of the believers."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:118

اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب آپ میرے اور ان کے در میان دو ٹوک فیصلہ کردیجیے، اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو مجھ میں اور ان میں پورا فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں کو نجات دے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے اور مجھے اور ان مومنوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دے دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تو میرے درمیان اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے، کھلا فیصلہ اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں، انھیں بچالے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا میرے اور ان کے درمیان قطعی فیصلہ کردے۔ اور مجھے اور میرے ساتھی مومنوں کو ان سے نجات دے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو میرے اور ان کے درمیان بالکل واضح فلہتو فرما دے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں ان کو نجات دے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس اب تو فیصلہ فرما دے میرے اور ان لوگوں کے درمیان کھلا فیصلہ اور نجات دے دے مجھے بھی اور ان ایمان والوں کو بھی جو میرے ساتھ ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ ہی میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا ہوافیصلہ کردیجیے اور مجھے اور میرے ساتھ جو ایمان والے ہیں انہیں نجات دیجیے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اب دو ٹوک فیصلہ فرما دے میرے اور ان کے مابین اور نجات دے دے مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے۔ مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں انہیں بچا لے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So pass a clear judgement between me and them and rescue me and the believers with me."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So judge between me and them with an open verdict, and save me and all the believers who are with me.

— Muhammad Taqi Usmani

So judge between me and them with an open verdict, and save me and all the believers who are with me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Therefore judge You between me and them, and save me and those of the believers who are with me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor judge Thou between us, a (conclusive) judgment, and save me and those believers who are with me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then judge between me and them with decisive judgement and save me and those with me of the believers."

— Saheeh International

Judge among us and save me and the believers with me".

— Muhammad Sarwar

Therefore judge Thou between me and them with a (just) judgment, and deliver me and those who are with me of the believers.

— Muhammad Habib Shakir

So decide Thou between me and them with a decision, and deliver me and those who are with me of the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

"Judge Thou, then, between me and them openly, and deliver me and those of the Believers who are with me."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:118

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–122

تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 86 یعنی صرف یہی فیصلہ نہ کر دے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون، بلکہ وہ فیصلہ اس شکل میں نافذ فرما کہ باطل پرست تباہ کر یئے جائیں اور حق پرست بچا لیے جائیں۔ یہ الفاظ کہ " مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لے " خود بخود اپنے اندر یہ مفہوم رکھتے ہیں کہ باقی لوگوں پر عذاب نازل کر اور انہیں حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 111–122

شرافت و رذالت اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ خاندان اور جاہ و چشم سے قَالُـوْٓا اَنُؤ ْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ، قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس آیت میں اول مشرکین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ پر ایمان لانے سے انکار کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں ؟ نوح ؑ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ تم لوگ جو خاندانی شرافت یا مال و دولت اور عزت و جاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ مدار عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دراصل اعمال و اخلاق پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 117–118

آیت 118-117 حضرت نوح کی دعا فتح ون صرت کے لئے قوم کے اس فیصلہ کن اعلان کے بعد جب حضرت نوح اس کے ایمان لانے سے بالکل مایوس ہوگئے تب انہوں نے رسولوں کی معروف سنت کے مطابق، اپنے رب سے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے میری تکذیب کردی تو اب تو میرے اور اس کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان میں ان کو نجات دے۔ فتحاً کی تاکید سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت نوح نے یہ دعا اس فتح و نصرت کے ظہور کے لئے فرمائی ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کی قوم کی ہلاکت اور رسول اور اس کے ساتھیوں کی نجات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 116–120

120-1یہ تفیصلات کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں اور کچھ آئندہ بھی آئیں گی کہ حضرت نوح ؑ کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بد اخلاقی اور اعراض پر قائم رہے، بالآخر حضرت نوح ؑ نے بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا اور اس میں مومن انسانوں، جانوروں اور ضروری سازو سامان رکھنے کا حکم دیا اور یوں اہل ایمان کو بچا لیا گیا اور باقی سب لوگوں کو حتٰی کہ بیوی اور بیٹے کو بھی، جو ایمان نہیں لائے تھے، غرق کردیا گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 113–119

23: کافروں کے مذکورہ اعتراض میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ یہ نچلے درجے کے لوگ سوچ سمجھ کر دل سے ایمان نہیں لائے ہیں، بلکہ کسی ذاتی مفاد کی خاطر آپ کے ساتھ ہو لیے ہیں۔ اس جملے میں اس کا جواب ہے کہ اگر بالفرض ان کے دل میں کوئی اور بات ہے بھی، تو میں اس کی تحقیق کا مکلف نہیں ان کا حساب اللہ تعالیٰ خود لے لیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 116–122

قالوا لئن ……المرجومین (116) ’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔ اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 117–118

10 یعنی میرے اور ان کے درمیان عملی فیصلہ فرما دیجئے۔ اب ان کے راہ راست پر آنے کی توقع نہیں۔ 1 یعنی مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو الگ کر کے ان کا بیڑا غرق کر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 113–118

آیت 118 فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا ” یعنی ایسا کھلا فیصلہ جس کے بعد حق کے احقاق اور باطل کے ابطال میں کوئی شک یا ابہام نہ رہ جائے۔ وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” اہل ایمان میں سے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 117–118

79 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سرداروں میں کوئی دو چار دفعہ ایسے مکالمے اور بحثیں ہوئی ہوں گی۔ لیکن واقعہ ایسا نہیں۔ پورے ساڑھے نو سو سال نوح اور ان کی قوم میں ایسے مکالمے اور بحث و تکرار ہوتی رہی۔ اور جب حضرت نوح اس قوم میں سے کسی نئے فرد کے ایمان لانے سے قطعاً مایوس ہوگئے تو اس وقت آپ نے یہ دعا کی تھی۔ اس دعا کی تفصیلی ذکر سورة نوح میں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 117–121

76۔ (ہماری قوت اور قدرت انتقام کا) قوم نوح (علیہ السلام) کی غرقابی پر مفصل حاشیے سورة ہود وغیرہ میں گزر چکے۔ (آیت) ” فافتح بینی وبینھم فتحا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو شخص دین کو ضرر پہنچا رہا ہو اس کے لیے بددعا کرنا کمال صبر وحلم کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–122

آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فافتح بینی وبینہم فتحا ونجنی ومن معی من المؤمنین۔ اب میرا اور ان کا قطعی (اور آخری) فیصلہ کر دے اور مجھے اور میرے ساتھی مؤمنوں کو (ان کے ارادوں سے یا ان کی بداعمالی کی نحوست سے) بچا لے۔ حضرت نوح نے یہ دعا کافروں کے خلاف اس لئے کی کہ انہوں نے تکذیب حق کی تھی اس وجہ سے نہیں کی تھی کہ کافروں نے آپ کو ڈرایا دھمکایا تھا آپ کی بےعزتی کی تھی۔ یعنی آپ نے بددعا کا سبب ظاہر کردیا کہ تکذیب حق کی وجہ سے میں کافروں کے خلاف دعا کر رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 117–119

(117 تا 119) تب نوح ؑ نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میری قوم میری رسالت کی مسلسل تکذیب کر رہی ہے۔ اور میرے ماننے والوں کو قتل کر رہی ہے تو میرے اور ان کے درمیان ایک عملی عادلانہ فیصلہ فرما دیجیے اور مجھے اور میرے ماننے والوں کو ان لوگوں پر جو آپ عذاب نازل فرمائیں اس سے نجات دیجیے چناچہ ہم نے ان کو اور ان کے ساتھ جو مسلمان اس بھری ہوئی کشتی میں سوار تھے نجات دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا۔۔ : اس فیصلے سے مراد انھیں نیست و نابود کردینے والا عذاب ہے، جو ”وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ“ سے سمجھ میں آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 111–122

قالوا انومن لک واثثعک الا ردلون۔۔۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 :۔ قالوانومن لک انہوں نے کہا : کیا ہم آپ کے قول کی تصدیق کریں۔ واتبعک الا ردنون وائو حالیہ اس میں قد ہے تقدیر کلام یہ ہے وقد اتبعک الا رزلون، یہ ارزل کی جمع ہے جمع مسکر ارازل، مونث ردنی اس کی جمع رذل ہے۔ نحاس نے کہا : جن نحویوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے کسی کے نزدیک بھی اس میں سے الف لام کا حذف جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود، ضحاک، یعقوب حضرمی اور قراء نے اسے وانما اتباعک الا رزلون پڑھا ہے نحاس نے کہا : یہ اچھی قرأت ہے اس وائو کے بعد اکثر اسماء آتے ہیں اور افعال قد کے بعد آتے ہیں اتباع یہ تبع اور تبیع کی جمع ہے یہ لفظ واحد اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–122

قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَافْتَحْ [ پس تو فیصلہ کر دے ] بَيْنِيْ [ میرے درمیان ] وَبَيْنَهُمْ [ اور ان کے درمیان ] فَتْحًا [ جیسے فیصلہ کرنے کا حق ہے ] وَّنَجِّـنِيْ [ اور تو نجات دے مجھ کو ] وَمَنْ [ اور ان کو جو ] مَّعِيَ [ میرے ساتھ ہیں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–123

ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–122

قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 117–119

49:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاء کے مطابق ہم نے ان کی قوم پر طوفان بھیج دیا۔ نوح اور اس کے مومن ساتھیوں کو کشتی میں محفوظ رکھا اور طوفان سے بچا لیا لیکن باقی تمام مشرکوں کو غرق کر کے ہلاک کردیا اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے نوح (علیہ السلام) اور مومنوں کو طوفان سے بچایا اور یہی نوح (علیہ السلام) کی دعوت تھی نیز مشرکین قوم نوح کے اس انجام بد سے مشرکین مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–122

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَہُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 118 فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] (ت ح ) الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–123

تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟ قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 117–118

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنَ ۔ فَافْـتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْـنَـھُمْ فَـتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 117، 118) (حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی، اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلادیا ہے، اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردے اور مجھ کو اور میرے ساتھ جو اہل ایمان ہیں ان کو نجات دے دے۔ ) فتح و نصرت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے نبوت کے اعلان اور دعوت کے آغاز ہی میں قوم نے آپ ( علیہ السلام) کو ماننے سے انکار کردیا اور آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کی تکذیب کردی۔ تو آپ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 117–119

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے فیصلہ کن عذاب کی بدعا کی اللہ تعالیٰ نے انھیں اور ان کے مومن ساتھیوں کو عذاب سے محفوظ رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو واضح طور پر بتلادیا کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تیری قوم سے جن لوگوں نے ایمان لانا تھا لاچکا۔ اب کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا لہٰذا ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی تیار کیجیے اور اب میرے حضور ظالموں کے حق میں فریاد نہ کرنا کیونکہ یہ غرق ہو کر رہیں گے۔ (ہود : 36۔ 37) ” نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے قریب سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے نوح جواب دیتے کہ جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

طلب فیصلہ : 118: فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ فَتْحًا (پس ان کے درمیان اور میرے درمیان فیصلہ فرما دیں) میرے اور ان کے درمیان معاملہ کو طے کردیں۔ الفتاحۃؔ (فیصلہ کرنا) الفتاحؔ (حاکم) کیونکہ وہ بند کو کھولتا ہے جیسا کہ اس کو فیصل بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ فیصلے چکا تا ہے۔ وَّ نَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ( اور مجھے اور میرے ساتھ والے مؤمنوں کو نجات عنایت فرما) ان کے اعمال پر اترنے والے عذاب سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

118۔ فافتح ، ہمارے درمیان فیصلہ کردے۔ بینی وبینھم فتحا، یعن میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ دونوں جگہ فتح سے مراد فیصلہ ہے۔ ونجنی من معی من المومنین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–122

(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–122

آیت 105 سے 122 اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

66 حضرت نوح کی دعا اپنی قوم کے بارے میں : سو حضرت نوح نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور کہا کہ " ان لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ پس تو فیصلہ فرما دے اے میرے مالک میرے اور ان کے درمیان "۔ یعنی عملی طور پر دو ٹوک فیصلہ فرما دے جسکے مطابق یہ لوگ اپنے آخری انجام اور اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہیں۔ ورنہ دلائل کی حد تک فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اور معاملہ روز روشن کی طرح پہلے ہی واضح ہوچکا ہے۔ اور نجات دے دے مجھے بھی اور ان ایمان والوں کو بھی جو میرے ساتھ ہیں۔ سو یہاں سے پھر یہ امر واضح ہوگیا کہ پیغمبر بھی مشکل وقت میں اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ مجبور و بیکس کی پکار کو سننا صرف اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–121

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–122

آیات 105 تا 122: اسرار و معارف : نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا : نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:118) افتح۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو فیصلہ کر دے۔ الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں خواہ اس ازالہ کا ادراک ظاہری آنکھ سے ہو سکے یا اس کا ادراک بصیرت سے ہو مثلاً ولما فتحوا متاعھم (12:65) اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا۔ یا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض (7:96) تو ہم نے ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دئیے۔ یعنی ان کو ہر طرح آسودگی اور فارغ البالی کی نعمت سے نوازتے۔ فتح القضیۃ فتاحا یعنی اس نے معاملہ کا فیصلہ کردیا۔ اور اس سے مشکل اور پیدگی کو دور کردیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق (7:89) اے ہمارے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–122

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 : الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 : سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 113–122

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) نوح (علیہ السلام) نے فرمایا، اے کاش اگر تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو تو پھر تمہارا کچھ اعتراض باقی نہیں رہتا، اور تم لوگوں کے کہنے سے میں ان غریب ایمانداروں کو اپنی مجلس سے نکال نہیں سکتا، قوم کے لوگوں نے نوح کی ان باتوں کا یہ جواب دیا کہ اے نوح اگر تم اپنی اس طرح کی باتوں سے بازنہ آئے تو ہم تم کو پتھروں سے سنگسار کردیں گے۔ آخرمجبور ہوکر نوح نے بددعا کی اور سوائے نوح اور ان کے فرمابرداروں کے باقی ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی اسی کو فرمایا کہ رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اگرچہ اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے مگر جو لوگ علم الٰہی میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 114–118

حل لغات :۔ بطارد ۔ طہود سے ہے ۔ معنے ہتا دینا ۔ دور کردینا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(118) لہٰذا ! آپ میرے اور ان کے درمیان ایک فیصلہ کردیجئے اور مجھ کو اور ان ایمان والوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دیدیجئے یعنی ایک عملی فیصلہ کردے ان ظالموں کو ہلاک کردے اور میرے ساتھیوں کو اس ہلاکت سے نجات دیدے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے رب ! میرے اور قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے : 118۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے اپنی عرض پیش کی اور اس میں فرمایا کہ اے میرے پروردگار ! اب تو میرے اور میری قوم کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے ۔ نوح (علیہ السلام) نے یہ آخری فیصلہ اس وقت طلب کیا جب اللہ تعالیٰ نے خود نوح (علیہ السلام) کو اس بات سے آگاہ کردیا کہ ” اے نوح تیری قوم میں جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اب اور کوئی بھی ایمان لانے والا نہیں ہے اب ان کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دے ۔ “ (ہود 11 : 36) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بعد آپ کو مکمل طور پر یقین ہوگیا کہ اب یہ لوگ ایمان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 111–127

Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْ‌ذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾ They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112) It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

86 "Deliver me and the believers with me to safety": "You should not only give Your judgment as to who is in the right and who is in the wrong, but deliver Your Judgment in such a manner that the followers of the Truth are saved and the followers of falsehood are completely annihilated from the earth.

Read the full tafseer →