Explained with ayahs 116–122
تذکرہ نوح ؑ
لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 84
اصل الفاظ ہیں لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم کو رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ تم پر ہر طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ کی جائے گی، جہاں جاؤ گے دھتکارے اور پھٹکارے جاؤ گے۔ عربی محاورے کے لحاظ سے ان الفاظ کے یہ دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–122
شرافت و رذالت اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ خاندان اور جاہ و چشم سے
قَالُـوْٓا اَنُؤ ْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ، قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس آیت میں اول مشرکین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ پر ایمان لانے سے انکار کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں ؟ نوح ؑ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ تم لوگ جو خاندانی شرافت یا مال و دولت اور عزت و جاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ مدار عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دراصل اعمال و اخلاق پر…
Read the full tafseer →قوم کی آخری دھمکی
بحث کے میدان میں پسپا ہوجانے کے بعد حضرت نوح کی قوم نے ان کو یہ آخری دھمکی دی کہ اگر تم اپنی اس دعوت سے باز نہ آئے تو یاد رکھو کہ بالآخر ہم تم سے جان چھڑانے کے لئے تم کو سنگسار کر کے رہیں گے۔ الفاظ سے یہ بات صاف نکل رہی ہے کہ سنگسار کرنے کی دھمکی وہ پہلے بھی دیتے رہے تھے۔ لیکن حضرت نوح نے اس کی کوئی پروا نہیں کی بالآخر قوم نے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا کہ ہماری دھمکی کو صرف دھمکی نہ خیال کرو ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں کر گزریں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–120
120-1یہ تفیصلات کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں اور کچھ آئندہ بھی آئیں گی کہ حضرت نوح ؑ کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ کے باوجود ان کی قوم کے لوگ بد اخلاقی اور اعراض پر قائم رہے، بالآخر حضرت نوح ؑ نے بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا اور اس میں مومن انسانوں، جانوروں اور ضروری سازو سامان رکھنے کا حکم دیا اور یوں اہل ایمان کو بچا لیا گیا اور باقی سب لوگوں کو حتٰی کہ بیوی اور بیٹے کو بھی، جو ایمان نہیں لائے تھے، غرق کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–119
23: کافروں کے مذکورہ اعتراض میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ یہ نچلے درجے کے لوگ سوچ سمجھ کر دل سے ایمان نہیں لائے ہیں، بلکہ کسی ذاتی مفاد کی خاطر آپ کے ساتھ ہو لیے ہیں۔ اس جملے میں اس کا جواب ہے کہ اگر بالفرض ان کے دل میں کوئی اور بات ہے بھی، تو میں اس کی تحقیق کا مکلف نہیں ان کا حساب اللہ تعالیٰ خود لے لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
قالوا لئن ……المرجومین (116)
’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔
اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →9 یعنی بس اب ہم کو اپنی نصیحت سے معاف رکھو، اگر اس روش سے باز نہ آئے تو سنگسار کیے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–118
آیت 118 فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا ”
یعنی ایسا کھلا فیصلہ جس کے بعد حق کے احقاق اور باطل کے ابطال میں کوئی شک یا ابہام نہ رہ جائے۔
وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
اہل ایمان میں سے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
78 لفظ من المرجومین کے بھی دو مطلب ہیں۔ رجم کے معنی دور سے پتھر، کنکر وغیرہ پھینکنا اور جان سے مار ڈالنا یا سنگسار کرنا ہے اور یہ معنی ترجمہ میں مذکور ہیں۔ پھر یہ لفظ مادی اور معنوی دونوں طرح استعمال ہوگا ہے۔ اور رجیم اور مرجوم وہ شخص یا چیز ہے۔ جسپر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے۔ یعنی قوم نوح کے چودھریوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر تم اپنی دعوت و تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہر طرف سے تم پر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہا کرے گی۔
Read the full tafseer →75۔ سنگساری، یاد رہے کہ دنیا کی قدیم ترین سزاؤں میں سے ہے۔ اور معاصرین نوح (علیہ السلام) انہیں اپنا قومی مجرم سمجھ کر اسی سزا دینے پر آمادہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت نمبر 105 تا 122
ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…
Read the full tafseer →قالوا لئن لم تنتہ یا نوح لتکونن من المرجومین۔ قوم والوں نے کہا نوح اگر تو (اپنے قول
سے) باز نہ آیا تو ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ (مقاتل و کلبی) ضحاک نے مرجومین کا ترجمہ کیا ہے مَشْتُومِیْنَیعنی ہم تجھے گالیاں دیں گے۔
Read the full tafseer →(116) وہ لوگ کہنے لگے اے نوح ؑ اگر تم اپنے اس کہنے سننے سے باز آؤ گے تو ضرور قتل کردیے جاؤ گے جیسا کہ تمہارے ماننے والوں میں سے غریبوں کو قتل کیا گیا۔
Read the full tafseer →قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ۔۔ : نوح ؑ اور ان کی قوم کی یہ گفتگو دو چار مواقع کی بات نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کی قوم کی یہ کش مکش ساڑھے نو سو (950) برس جاری رہی۔ جیسے جیسے آپ دعوت کے کام میں آگے بڑھتے گئے وہ بدی میں آگے بڑھتے گئے۔ آخر کار تمام ظالم و جابر لوگوں کی طرح، جو دلیل میں لاجواب ہو کر دھمکیوں اور تشدد پر اتر آتے ہیں، نوح ؑ کی قوم نے بھی صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ آئندہ اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم پتھر مار مار کر تمہیں ختم کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–122
قالوا انومن لک واثثعک الا ردلون۔۔۔
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 :۔ قالوانومن لک انہوں نے کہا : کیا ہم آپ کے قول کی تصدیق کریں۔ واتبعک الا ردنون وائو حالیہ اس میں قد ہے تقدیر کلام یہ ہے وقد اتبعک الا رزلون، یہ ارزل کی جمع ہے جمع مسکر ارازل، مونث ردنی اس کی جمع رذل ہے۔ نحاس نے کہا : جن نحویوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے کسی کے نزدیک بھی اس میں سے الف لام کا حذف جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود، ضحاک، یعقوب حضرمی اور قراء نے اسے وانما اتباعک الا رزلون پڑھا ہے نحاس نے کہا : یہ اچھی قرأت ہے اس وائو کے بعد اکثر اسماء آتے ہیں اور افعال قد کے بعد آتے ہیں اتباع یہ تبع اور تبیع کی جمع ہے یہ لفظ واحد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قوم نوح کا تذکرہ
1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ
4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔
5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔
6۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] لَىِٕنْ [ یقینا اگر ] لَّمْ تَنْتَهِ [ تو باز نہ آیا ] يٰنُوْحُ [ اے نوح ] لَتَكُوْنَنَّ [ تو لازما تو ہوجائے گا ] مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ [ سنگسار کئے ہوئوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی
مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔
آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
48:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) عرصہ دراز تک اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور قوم ضد پر اڑی رہی آخرت قوم کے سرداروں نے نوح (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکی دی کہ اے نوح اگر اتو اپنے اس عقیدے اور اس وعظ سے باز نہ آیا تو ہم تجھے سنگسار کردیں گے۔ ” قال رب ان قومی کذبون “ اب نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ میرے پروردگار میری مسلسل تبلیغ کے باوجود میری قوم تکذیب پر قائم ہے اس لیے اب میرے اور ان کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے یعنی ان پر عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کردے اور مجھ کو اور ایمان والوں کو اس عذاب سے بچا لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَہِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ 116ۭ
نهى
النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10]
( ن ھ ی ) النهي
کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔
نوح
نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟
قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَـنْـتَہِ یٰـنُوحُ لَـتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْمُرْجُوْمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 116)
(ان سرداروں نے کہا، اے نوح ! اگر تم باز نہ آئے تو تم سنگسار ہو کر رہو گے۔ )
بحث کے میدان میں پسپا ہونے کے بعد رجم کی دھمکی
بحث کے میدان میں پسپا ہونے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے اپنی خفت مٹانے اور اپنی قوم کو سہارا دینے کے لیے کہا کہ اے نوح ! اگر تم نے اپنی تبلیغ و دعوت کے کام کو نہ روکا اور تم نے ایک ایک آدمی کو متاثر کرنے کی کوشش نہ چھوڑی تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ اب باتوں کا وقت گزر چکا ہے، اب ہم تمہیں مزید برداشت نہیں کرسکتے۔ تم یقینا ہمارے ہاتھوں سے سنگسار ہو کے رہو گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال سمجھایا۔ (العنکبوت : 14) لیکن قوم نے انھیں بدتر سے بدترین جواب دیا یہاں تک کہ انھوں نے کہا اے نوح ! اگر تو عقیدہ توحید کی دعوت سے باز نہ آیا تو ہم پتھر مار مار کر تجھے جان سے مار دیں گے۔
” نوح نے عرض کی اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت دی لیکن میری دعوت دینے سے وہ اور زیادہ دوری اختیار کرتے گئے۔ جب بھی میں نے انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے آپ پر کپڑے ڈال لیے۔ ہٹ دھرمی اور تکبر اختیار کیا پھر میں نے انہیں…
Read the full tafseer →116: قَالُوْا لَپنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰنُوْحُ (کہنے لگے اے نوح اگر تو باز نہ آیا) اس بات سے جو تو کہہ رہا ہے۔ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ (تو ضرور بضرور تمہیں سنگسار کردیا جائے گا) مرجوم اس کو کہا جاتا ہے جس کو پتھر مار مار کر قتل کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
116۔ قالوا لئن لم تنتہ یانوح، ، جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس سے باز نہ آئے۔ لتکونن من المرجومین، مقاتل، کلبی کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے جو پتھروں کی بارش سے قتل کیے گئے ہوں۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ کیا ہے ، مشنومین یعنی ہم تمہیں گالیاں دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت 105 سے 122
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
65 حضرت نوح کی دعا اپنے رب کے حضور : سو آخرکار حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور فیصلے کی دعا و درخواست کی۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ ان کی دھمکی پر فوراً ہی حضرت نوح نے یہ دعا کردی۔ جیسا کہ ایجاز کلام کی وجہ سے بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ یہ دراصل صدیوں پر محیط اس طویل قصے کا اجمال و اختصار ہے۔ جیسا کہ دو سرے مقام پر اس کی تفصیل و تصریح موجود ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے درمیان ساڑھے نو سو برس تک تبلیغِ حق فرمائی۔ اور ان لوگوں کو ہر طرح سے سمجھایا۔ اس طویل جدوجہد کے بعد جب یہ امر واضح ہوگیا کہ اب یہ لوگ راہ راست پر آنے والے نہیں اور وحی کے ذریعے آپ کو بتادیا گیا کہ اب ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–121
سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیات 105 تا 122:
اسرار و معارف :
نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا :
نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی اگر ہمارے دین میں کیڑے ڈالنے اور ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز آئے گا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:116) لم تنتہ۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم واحد مذکر حاضر تنتہ اصل میں تنتھی تھا۔ لم کے آنے سے ی حرف علت حذف ہوگیا۔ انتھاء (افتعال) مصدر سے بھی مادہ تو باز نہیں آئے گا۔
لتکونن۔ لام تاکید کا۔ تکونن کان سے مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ تو ضرور ہوجائے گا۔
المرجومین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور۔ مرجوم واحد رجم یرجم (نصر) رجم سے۔ سنگسار کرنا۔ من المرجومین۔ سنگسار کئے جانے والوں میں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 :
الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 :
سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) نوح (علیہ السلام) نے فرمایا، اے کاش اگر تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو تو پھر تمہارا کچھ اعتراض باقی نہیں رہتا، اور تم لوگوں کے کہنے سے میں ان غریب ایمانداروں کو اپنی مجلس سے نکال نہیں سکتا، قوم کے لوگوں نے نوح کی ان باتوں کا یہ جواب دیا کہ اے نوح اگر تم اپنی اس طرح کی باتوں سے بازنہ آئے تو ہم تم کو پتھروں سے سنگسار کردیں گے۔ آخرمجبور ہوکر نوح نے بددعا کی اور سوائے نوح اور ان کے فرمابرداروں کے باقی ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی اسی کو فرمایا کہ رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اگرچہ اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے مگر جو لوگ علم الٰہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
[22] اس قصے کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
حل لغات :۔ بطارد ۔ طہود سے ہے ۔ معنے ہتا دینا ۔ دور کردینا ۔
Read the full tafseer →(116) اس پر قوم کے لوگوں نے کہا اے نوح (علیہ السلام) تو اگر اپنے طریق کار سے باز نہ آیا تو ضرور سنگسار کردیاجائے گا یعنی پتھروں سے کچل دیاجائے گا سالہا سال تک قوم سیی ہی کشمکش جاری رہی۔
Read the full tafseer →ف 2۔ غرض جب سالہا سال اس طرح گزر گئے تب نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔
Read the full tafseer →قوم نوح سے جب کوئی جواب بن نہ آیا تو انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو دھمکی سنا دی :
116۔ قوم نوح کے سرداروں نے جب دیکھا کہ ہم جو سوال کرتے ہیں نوح (علیہ السلام) ہم کو کھرا کھرا جواب سنا دیتا ہے اور ہماری کسی بات پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو دھمکی سنا دی کہ اے نوح ! اگر تم اپنی اس دعوت سے باز نہ آئے تو ہم اپنے بیوی بچوں کو خراب کرنے کے تیار نہیں ہمیں تیرے خلاف جو قدم بھی اٹھانا پڑا اٹھائیں گے یہاں تک کہ اگر تجھ کو سنگسار کرنا پڑا تو بھی گریز نہیں کریں گے کیونکہ آپ نے ہمیں بےچین کرنے میں بہت زور لگا لیا ہے اور اس سے زیادہ برداشت ہم نہیں رکھتے کتنا عرصہ گزر چکا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–127
Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status
قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾
They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112)
It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…
Read the full tafseer →84 ' The words in the Text may have two meanings: (1) "You will be stoned to death"; and (2) "You will be showered with abuses from all sides, and cursed and reviled wherever you go. "
Read the full tafseer →