Explained with ayahs 105–110
بت پرستی کا اغاز
زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 76
دوسرے مقامات پر حضرت نوح ؑ کا اپنی قوم سے ابتدائی خطاب ان الفاظ میں آیا ہے اُعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (المؤمنون آیت 23) " اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے، تو کیا تم ڈرتے نہیں ہو " ؟ اُعْبُدُوا اللہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ ہ (نوح آیت 3)۔ " اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ " اس لیے یہاں حضرت نوح ؑ کے اس ارشاد کا مطلب محض خوف نہیں بلکہ اللہ کا خوف ہے۔ یعنی کیا تم اللہ سے بےخوف ہوگئے ؟ اس کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہوئے تم کچھ نہیں سوچتے کہ اس باغیانہ روش کا انجام کیا ہوگا ؟
دعوت کے آغاز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
خلاصہ تفسیر
قوم نوح نے پیغمبروں کو جھٹلایا (کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے سب کی تکذیب لازم آتی ہے) جبکہ ان سے ان کی برادری کے بھائی نوح ؑ نے فرمایا کہ کیا تم (خدا سے) نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں (کہ بعینہ پیغام خداوندی بلا کمی بیشی پہنچا دیتا ہوں) سو (اس کا مقتضی یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور (نیز) میں تم سے کوئی (دنیوی) صلہ (بھی) نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے سو (میری اس بےغرضی کا مقتضی بھی یہ ہے کہ) تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم تم کو مانیں گے حالانکہ رذیل لوگ تمہارے ساتھ ہو لئے ہیں (جن کی موافقت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 107-106
رسول امین
الاتتقون میں دعوت بانداز انذار و تنبیہ ہے اور رسول امین میں اس حقیقت کا اظہار ہے کہ میں کوئی مفتری اور جھوٹا مدعی نہیں ہوں، جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے، بلکہ خدا کا رسول ہوں اور پوری دیانت و امانت کے ساتھ تمہیں وہی باتیں پہنچا رہا ہوں جن کے پہنچانے کا مجھے حکم ہوا ہے۔
Read the full tafseer →16-1بھائی اس لئے کہا کہ حضرت نوح ؑ ان ہی کی قوم کے ایک فرد تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
21: یہ وہ تقریر تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے فرمائی۔ باقی واقعہ یہاں بیان نہیں کیا گیا، اس کی تفصیل پیچھے سورة انبیاء : 51 میں گذر چکی ہے اور کچھ تفصیل سورة صافات : 83 میں بھی آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
درس نمبر 164 ایک نظر میں
جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔
قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
4 یعنی نہایت صدق و امانت کے ساتھ حق تعالیٰ کا پیغام بلا کم وکاست تم کو پہنچاتا ہوں۔ لہذا واجب ہے کہ پیغام الٰہی سن کر خدا سے ڈرو۔ اور میرا کہا مانو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 107 اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ”
مجھے اللہ کی طرف سے تمہاری طرف جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ میں بلاکم وکاست تم لوگوں تک پہنچارہا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
72 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے ہاں سے جو وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے بلاکم وکاست تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ اس میں نہ کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں جوں کی توں تم لوگوں کو پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ تو تم خود جانتے ہو کہ میں ایک راست باز اور امین انسان ہوں۔ کبھی کسی سے مکروفریب یا ہیرا پھیری کی بات نہیں کہی۔ تو کیا اب میں اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں منسوب کروں گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
71۔ (سومجھ پر اور میرے لائے ہوئے پیام پر اعتماد کرو) (آیت) ” نوح “۔ اور قوم نوح دونوں پر حاشیے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” امین “۔ یعنی متدین۔ دیانت و احتیاط کے ساتھ پیام الہی پہنچانے والا، (آیت) ” المرسلین “۔ صیغہ جمع شاید اس لیے لایا گیا کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے سلسلہ نبوت کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ اور جاہلی قوموں کا مقصود اصلی کسی پیغمبر کی شخصی تکذیب ہوتی ہی نہیں، بلکہ وہ لوگ سرے سے اس تخیل رسالت ہی کے منکر ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم نوح “۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) جو انہیں لوگوں کے ہم قوم، ہم وطن، وہم نسل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت نمبر 105 تا 122
ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…
Read the full tafseer →اذ قال لہم اخوہم نوح جب انکے بھائی نوح نے ان سے کہا۔ بھائی سے مراد نسبی بھائی ہے دینی بھائی نہیں۔
الا تتقون۔ کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے کہ دوسروں کی پوجا چھوڑ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(106 تا 108) جب کہ ان سے ان کے نبی اور ان کے برادری کے بھائی حضرت نوح ؑ نے فرمایا کیا تم غیر اللہ کی عبادت سے نہیں ڈرتے ہو اللہ کی طرف سے رسالت پر تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں یا یہ مطلب ہے کہ میں تمہارے اندر اس سے پہلے امانت دار تھا پھر آج کیسے مجھے متہم قرار دیتے ہو لہذا تم لوگ کفر سے توبہ کرکے اور ایمان لا کر اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے حکم اور میرے طریقہ کی پیروی کرو۔
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ : ”اَخُوْهُمْ“ کے لفظ سے ان کے ساتھ نوح ؑ کا نسبی تعلق واضح کیا ہے اور اس خیر خواہی کی طرف اشارہ ہے جو نوح ؑ کو اس قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول بشر ہی ہوتے ہیں اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے، کیونکہ انسانوں کے لیے نمونہ انسان ہی بن سکتا ہے، فرشتہ یا کوئی اور نہیں، مگر اس وقت کفار نے بشر ہونے کی وجہ سے انھیں نبی نہیں مانا اور اب کئی جاہل ایسے ہیں جو نبی مانتے ہیں مگر نبی ہونے کی وجہ سے بشر نہیں مانتے۔ عقیدہ دونوں کا ایک ہے کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ قرآن نے جا بجا اس عقیدے کی تردید کی ہے۔
دوسرے مقامات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
(کذبت قوم نوح المرسلین۔۔۔۔۔۔ )
کذبت قوم نوح المرسلین، کذبت فرمایا جب کہ قوم مذکر ہے کیونکہ مراد ہے کذبت جماعۃ قوم نوح۔ المرسلین فرمایا کیونکہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا اس نے تمام رسل کو جھٹلایا کیونکہ ہر رسول تمام رسولوں کی تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے اور ان کے بعد رسولوں کے آنے کی جو خبردی اس کو جھٹلایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنس کا ذکر کیا مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں سورة فرقان میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
اذقال لھم احواھم نوح ان کے جداعلیٰ کے بیٹے، وہ ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ مجانست کی اخوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قوم نوح کا تذکرہ
1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ
4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔
5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔
6۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ [ جب کہا ] لَهُمْ [ ان سے ] اَخُوْهُمْ [ ان کے بھائی ] نُوْحٌ [ نوح (علیہ السلام) نے ] اَلَا تَتَّقُوْنَ [ کیا تم لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرو گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی
مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔
آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…
Read the full tafseer →44:۔ ” اخوھم نوح “۔ ضمیر مجرور قوم کی طرف راجع ہے اور اخوت سے قومی اور خاندانی اخوت مراد ہے کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان مشرکین ہی کی قوم اور انہی کے خاندان سے تھے اخوھم نسبا لا دینا (مدارک ج 3 ص 154) ۔ حقیقی اخوت کے علاوہ اخوت کی اور بھی کئی قسمیں ہیں مثلا قومی اخوت یعنی ہم قوم ہونا اس میں ہم مذہب ہونا ضروری نہیں، جیسا کہ حضرت نوح، ہود، صالح اور لوط (علیہم السلام) کو اپنی اپنی مشرک قوم کا بھائی کہا گیا۔ اور جنسی اخوت اس لحاظ سے تمام بنی آدم آپس میں بھائی بھائی ہیں اور دینی اخوت یعنی ایک دین و مذہب کے پیرو آپس میں دینی بھائی جیسا کہحضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا تھا ” اعبدوا ربکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ 1 06 ۚ
أخ
أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟
قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ نُوْحٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ (الشعرآء : 106)
(یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کا بھائی کہنے کا مفہوم
یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کا بھائی کہا گیا ہے۔ چونکہ ہر پیغمبر عموماً اپنی ہی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے جن سے وہ نسبی رشتہ رکھتا ہے۔ اس لیے عموماً قرآن کریم نے قوم اور پیغمبر کے درمیان اخوت کے رشتے کا ذکر فرمایا ہے۔ ظاہر ہے یہ اخوت دینی نہیں، نسبی ہے۔ البتہ اخوت کے حوالے سے دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو اس بات کی طرف کہ پیغمبر چونکہ تم سے اخوت کا رشتہ رکھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا رد عمل بیان کرنے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی قوم کا ردّ عمل بیان کیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ اپنے عقیدہ اور عمل کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ یقین جانو کے میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں بس تمہیں اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرنا چاہیے۔ میں منصب نبوت کے حوالے سے تم سے کسی معاوضہ کا طلب گار نہیں۔ میرا اجر میرے رب نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب کے بارے میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ انھوں…
Read the full tafseer →106: اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ (جب ان کو ان کے بھائی نے کہا) نسبی بھائی مراد ہے نہ کہ دینی۔ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنََ (نوح (علیہ السلام) نے کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے) جو لوگوں کا خالق ہے تاکہ تم بتوں کی عبادت ترک کردو۔
Read the full tafseer →106۔ اذقال لھم اخوھم، ، جب ان سے ان کے نسبی بھائی نے کہا دینی بھائی مراد نہیں، نوح الاتتقون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت 105 سے 122
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
59 پیغمبر اپنی قوم اور اپنی امت کا بھائی ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بھی یاد کرو کہ جب قوم نوح سے انکے بھائی نوح نے کہا " یعنی وہ انکے بھائی تھے قومی اور نسبی اعتبار سے۔ کہ اس اعتبار سے عموماً ہر نبی اپنی قوم کا بھائی ہی ہوا ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں جابجا ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا } ۔ (الاعراف :65) ۔ { وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صَالِحًا } ۔ (الاعراف : 73) ۔ { وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا } ۔ (الاعراف : 85) ۔ { وَاِخْوَانُ لُوطٍ } ۔ (ق : 13) وغیرہ۔ اور صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا ۔ " وَدِدْتُّ لَوْ اَنَّا قَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–121
سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیات 105 تا 122:
اسرار و معارف :
نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا :
نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…
Read the full tafseer →14 ۔ جو اسے چھوڑ کر ان بتوں کی پوجا کرتے ہو اور دوسروں کے کہنے پر چلتے ہو اور اس کے پیغمبر کی دعوت قبول نہیں کرتے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:106) لہم اخوھم میں ضمیر جمع مذکر غائب قوم نوح کی طرف راجع ہے اور اخوت و بھائی چارہ کا رشتہ نسبی ہے دینی نہیں۔
الا تتقون۔ میں الف استفہامیہ ہے لا نفی کیلئے ہے۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 :
الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 :
سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
(ف 1) ان آیتوں میں سب سے پہلے نوح سے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکر فرمایا ہے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا اور دیگر تمام انبیاء کو بھی جھٹلایا، ایک نبی کو جھٹلانا اور اس کے حکم کی تعمیل نہ کرنا حقیقت میں سب انبیاء کو جھٹلانا ہے اس میں سب کے حکم کی نافرمانی پائی گئی اور سب کی تکذیب کی۔ جب ان کے ہم قوم بھائی نوح نے یہ کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے اور بتوں کو پوجتے ہو۔ بیشک میں تمہارے لیے خدا کی طرف سے امانت دار رسول ہوکر آیا ہوں میری امانت اور دیانت پر تم لوگ بھی اتفاق کرتے ہو ہمیشہ سے تم میں رہتاسہتا ہوں کسی اور ملک یا اور قوم یا اور زبان کا آدمی نہیں پس تم اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
[21] یعنی نہات دیانت و احتیاط کے ساتھ پیغام الٰہی پہنچانے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
اخوھم ۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتے ہیں ۔ کہ انبیاء شفقت اور محبت کے اعتبار سے کس درجہ قریب ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(106) جبکہ ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ؟
برادری ایک تھی اس لئے بھائی فرمایا ڈرتے کیوں نہیں اگر ڈرو تو اس کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–115
ف 1۔ اور تبلیغ سے میرا فرض منصبی پورا ہوجاتا ہے، آگے اپنا نفع و نقصان تم دیکھ لو۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) نے قوم کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟
106۔ زیر نظر آیت میں اگرچہ یہی بیان ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ” کیا تم ڈرتے نہیں “ لیکن اس کی وضاحت تصریف آیات کے طور پر قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر اس طرح کردی ہے کہ ” ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا اس نے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کرو اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے ہولناک دن کا عذاب تمہیں پیش نہ آجائے سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ جس رسول کو بھی اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا تو نبی کو قوم کا بھائی ہی قرار دیا گیا کیونکہ نبی ورسول اور اس کی قوم میں اخوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾
The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89]
This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →76 The initial address of Prophet Noah to his people, as mentioned at other places in the Qur'an, was as follows: "O my people, worship Allah alone: you have no other deity than Him. Are you not afraid (of Him)?" (Al-Mu'minun: 23); and "Warship Allah and fear Him and obey me." (Nuh: 3). That is, "Are you not afraid of the consequences of adopting an attitude of rebellion against AIIah and worshipping others than Him?
Read the full tafseer →