Ash-Shu'araa 26:105

Ash-Shu'araa · from ayah 105

26:105

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ ١لْمُرْسَلِیْنَ ۟ۚۖكَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِ ۨالۡمُرۡسَلِيۡنَ‌

قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The people of Noah denied the messengers

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:105

قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نوح ؑ کی قوم نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نوح کی قوم نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نوح کی قوم نے بھی رسولوں کی تکذیب کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نوح کی قوم نے بھی جھٹلایا رسولوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جھٹلایا نوح ؑ کی قوم نے بھی رسولوں ؑ کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قوم نوح نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The people of Noah gave the lie to the Messengers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The people of NuH rejected the messengers

— Muhammad Taqi Usmani

The people of NuH rejected the messengers

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The people of Nuh denied the Messengers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Noah's folk denied the messengers (of Allah),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The people of Noah denied the messengers

— Saheeh International

The people of Noah rejected the Messengerss.

— Muhammad Sarwar

The people of Nuh rejected the apostles.

— Muhammad Habib Shakir

And Nuh's people belied the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

The people of Noah rejected the messengers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:105

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 105–110

بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 104–105

سورة الشُّعَرَآء 74 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 59 تا 64۔ یونس، آیات 71 تا 73۔ ہود، آیات 25 تا 48۔ بنی اسرائیل، آیت 3۔ الانبیاء، آیات 76۔ 77۔ المؤمنون، آیات 23 تا 30۔ الفرقان، آیت 37۔ اس کے علاوہ قصہ نوح ؑ کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں العنکبوت آیات 14۔ 15۔ الصّٰفّٰت، 75 تا 82۔ القمر، 9۔ 15۔ سورة نوح مکمل۔ سورة الشُّعَرَآء 75 اگرچہ انہوں نے ایک ہی رسول کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ رسول کی تکذیب درحقیقت اس دعوت اور پیغام کی تکذیب ہے جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، اس لیے جو شخص یا گروہ کسی ایک رسول کا بھی انکار کر دے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–108

خلاصہ تفسیر قوم نوح نے پیغمبروں کو جھٹلایا (کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے سب کی تکذیب لازم آتی ہے) جبکہ ان سے ان کی برادری کے بھائی نوح ؑ نے فرمایا کہ کیا تم (خدا سے) نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں (کہ بعینہ پیغام خداوندی بلا کمی بیشی پہنچا دیتا ہوں) سو (اس کا مقتضی یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور (نیز) میں تم سے کوئی (دنیوی) صلہ (بھی) نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے سو (میری اس بےغرضی کا مقتضی بھی یہ ہے کہ) تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم تم کو مانیں گے حالانکہ رذیل لوگ تمہارے ساتھ ہو لئے ہیں (جن کی موافقت سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون ……آیات 122-105 حضرت نوح کی دعوت کا بیان آگے حضرت نوح ؑ کی دعوت، ان کی قوم کی طر سے ان کی تکذیب اور اس کے نتیجہ میں قوم پر عذاب کا نزول اور آخر اور آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ ایک رسول کی تکذیب پر رسول کی تکذیب ہے قوم نے تکذیب اگرچہ ایک ہی رسول … حضرت نوح … کی کی تھی لیکن لفظ مرسلین جمع استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ رد و قبول کے معاملے میں اصل اعتبار درحقیقت رویا قبول کرنے والوں کی ذہنیت کا ہوتا ہے۔ جب تمام نبیوں کی دعوت وہی رہی ہے جو حضرت نوح نے دی تو جن لوگوں نے ان کی دعوت رد کردی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 104–105

5-1قوم نوح ؑ نے اگرچہ صرف اپنے پیغمبر حضرت نوح ؑ کی تکذیب کی تھی۔ مگر چونکہ ایک نبی کی تکذیب، تمام نبیوں کی تکذیب کے مترادف ہے۔ اس لئے فرمایا کہ قوم نوح ؑ نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 102–111

21: یہ وہ تقریر تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے فرمائی۔ باقی واقعہ یہاں بیان نہیں کیا گیا، اس کی تفصیل پیچھے سورة انبیاء : 51 میں گذر چکی ہے اور کچھ تفصیل سورة صافات : 83 میں بھی آنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 105–108

درس نمبر 164 ایک نظر میں جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔ قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 104–108

4 یعنی نہایت صدق و امانت کے ساتھ حق تعالیٰ کا پیغام بلا کم وکاست تم کو پہنچاتا ہوں۔ لہذا واجب ہے کہ پیغام الٰہی سن کر خدا سے ڈرو۔ اور میرا کہا مانو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 99–105

اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 104–105

71 قوم نوح کی طرف مبعوث تو نوح (علیہ السلام) ہوئے تھے لیکن یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کی بنیادی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہذا ایک نبی کو جھٹلانا سب نبیوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس قوم کے پاس نوح (علیہ السلام) سے پہلے کچھ نبی آئے ہوں۔ جن کا ذکر قرآن اور حدیث میں موجود نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 104–107

71۔ (سومجھ پر اور میرے لائے ہوئے پیام پر اعتماد کرو) (آیت) ” نوح “۔ اور قوم نوح دونوں پر حاشیے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” امین “۔ یعنی متدین۔ دیانت و احتیاط کے ساتھ پیام الہی پہنچانے والا، (آیت) ” المرسلین “۔ صیغہ جمع شاید اس لیے لایا گیا کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے سلسلہ نبوت کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ اور جاہلی قوموں کا مقصود اصلی کسی پیغمبر کی شخصی تکذیب ہوتی ہی نہیں، بلکہ وہ لوگ سرے سے اس تخیل رسالت ہی کے منکر ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم نوح “۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) جو انہیں لوگوں کے ہم قوم، ہم وطن، وہم نسل تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–122

آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کذبت قوم نوح المرسلین۔ قوم نوح نے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا۔ قوم مؤنث ہے اسی لئے تصغیر کی صورت میں (تاء تانیث کا اظہار کردیا جاتا ہے اور) قُوْئمَۃٌکہا ہے۔ المرسلین اگرچہ جمع کا صیغہ ہے مگر اس سے مراد جنس مرسل ہے۔ جیسے عربی محاورہ ہے فلاَنٌ یَرْکب الخیلفلاں شخص گھوڑوں پر سوار ہوتا ہے خواہ وہ ایک ہی گھوڑے پر سوار ہوتا ہو تب بھی یرکب الخیل کہا جاتا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قوم نوح سارے پیغمبروں کا (یعنی نفس رسالت کا) ہی انکار کرتی ہو۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حسن بصری سے دریافت کیا گیا۔ ابو سعید یہ تو بتائیے کہ اللہ نے کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ‘ کَذَّبَتْ عَادُ نِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(105) حضرت نوح ؑ کی قوم نے حضرت نوح ؑ کو اور ان پیغمبروں کو جن کا حضرت نوح ؑ نے ذکر کیا جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ : سورت کا آغاز نبی کریم ﷺ کو تسلی دلانے اور رسولوں کو جھٹلانے کے انجام بد کے ساتھ ہوا تھا، موسیٰ اور ابراہیم ؑ اور ان کی قوم کے ذکر کے بعد اب قوم نوح کا ذکر ہوتا ہے۔ اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے انجام بد کا ذکر ہے، اس کے بعد عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ کے ذکر میں بھی یہ دونوں چیزیں نمایاں ہیں۔ 3 اگرچہ انھوں نے صرف ایک پیغمبر نوح ؑ کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ تمام پیغمبروں کی دعوت ایک تھی اور ایک پیغمبر کو جھٹلانا اس دعوت کو جھٹلانا ہے جو تمام پیغمبر لے کر آئے، اس لیے فرمایا کہ انھوں نے تمام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 105–110

(کذبت قوم نوح المرسلین۔۔۔۔۔۔ ) کذبت قوم نوح المرسلین، کذبت فرمایا جب کہ قوم مذکر ہے کیونکہ مراد ہے کذبت جماعۃ قوم نوح۔ المرسلین فرمایا کیونکہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا اس نے تمام رسل کو جھٹلایا کیونکہ ہر رسول تمام رسولوں کی تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے اور ان کے بعد رسولوں کے آنے کی جو خبردی اس کو جھٹلایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنس کا ذکر کیا مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں سورة فرقان میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اذقال لھم احواھم نوح ان کے جداعلیٰ کے بیٹے، وہ ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ مجانست کی اخوت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–122

قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذَّبَتْ [ جھٹلایا ] قَوْمُ نُوْحِۨ [ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ] الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (یعنی رسولوں) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 93–105

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–122

قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 103–105

43:۔ یہ تیسری نقلی دلیل ہے مع تخویف دنیوی۔ اس آیت میں قوم نوح کی طرف بہت سے رسولوں کی تکذیب منسوب کی گئی ہے حالانکہ انہوں نے صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ اسی طرح آگے چل کر عاد وثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ کے بارے میں یہی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بہت سے رسولوں کی تکذیب کی حالانکہ انہوں نے ایک پیغمبر ہی کو جھٹلایا جو ان کے پاس بھیجا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) توحید اور دیگر اصول دین میں متفق تھے اور سب کی دعوت ایک تھی اس لیے ان میں سے ایک کو جھٹلانا اور اس کی دعوت کو نہ ماننا ایسا ہی ہے جیسا سب کو جھٹلا دیا و تکذیبھم المرسلین باعتبار اجماع…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–122

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ۝ 1 05ۚۖ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 95–105

ترکیب : اتبعک جملہ حال ہے ضمیر نؤمن سے ارذلون جمع ارذل بمعنی ذلیل ماعلمی ظاہر میں ما استفہامیہ سے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے وعلمی اس کی خبر اور ممکن ہے کہ نافیہ ہو بما کی ب دونوں تقدیر پر علمی سے متعلق ہے دوسری تقدیر پر خبر کو مضمر ماننا پڑے گا بعد ای بعد انجائہ۔ تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا عبرتناک قصہ بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ سورة اعراف و سورة ہود میں یہ قصہ مشرحاً بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ اسلوب قرآن مؤرخانہ نہیں کہ جن کے نزدیک مکرر بیان کرنا عیب ہے بلکہ واعظانہ کہ جن کے نزدیک عبرتناک قصوں کو بمقتضائے مقام و حالات قوم مکرر بیان فرمانا عین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الشعرآء : 105) (حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی دعوت کی سرگزشت سے پہلے چند حقائق آنحضرت ﷺ کی تسلی اور قریش پر دین حق کی حقانیت کو واضح کرنے اور ساتھ ہی ساتھ انھیں تنبیہ کرنے کے لیے دلائلِ آفاق اور دلائلِ انفس کے بعد تاریخی واقعات سے استشہاد کا جو سلسلہ شروع کیا تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کا حوالہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان واقعات کو پڑھتے ہوئے جو حقائق بار بار سامنے آتے ہیں ان میں سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری رسول کریم ﷺ تک جتنے انبیاء کرام اور رسولانِ عظام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 103–107

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا رد عمل بیان کرنے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی قوم کا ردّ عمل بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ اپنے عقیدہ اور عمل کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ یقین جانو کے میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں بس تمہیں اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرنا چاہیے۔ میں منصب نبوت کے حوالے سے تم سے کسی معاوضہ کا طلب گار نہیں۔ میرا اجر میرے رب نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب کے بارے میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ انھوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تذکرئہ نوح۔ : 105: کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِیْنَ (قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا) القومؔ کا لفظ مؤنث و مذکر آتا ہے۔ ایک قول یہ ہے نوح (علیہ السلام) کی ولادت زمان آدم (علیہ السلام) میں ہوئی۔ المرسلینؔ کو جمع لائے اور مراد نوح (علیہ السلام) لئے۔ اس کی مثال اس طرح ہے فلان یرکب الدواب و یلبس البرود حالانکہ اس کے پاس ایک چوپایہ اور ایک مخلط چادر ہے۔ نمبر 2۔ وہ سرے سے بعثت ِرسل کے قائل ہی نہ تھے۔ اسی لئے جمع لائے نمبر 3۔ جس نے ان میں سے ایک کی تکذیب کی اس نے تمام کی تکذیب کی کیونکہ تمام رسول لوگوں کو تمام رسولوں پر ایمان لانے کی طرف بلاتے ہیں اور اسی طرح اس تمام پر جو اس سورت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

105۔ کذبت قوم نوح المرسلین۔ حضرت حسن بصری سے دریافت کیا گیا کہ اے ابوسعید، یہ توبتلائیے کہ اللہ تبارک وتعالی نے ، کذبت قوم نوح المرسلین، کذبت عاد المرسلین، کذبت ثمود المرسلین فرمایا ہے حالانکہ ان میں سے ہر قوم نے صرف اپنے ہی ایک پیغمبر کی تکذیب کی کیونکہ ان کی ہدایت ک لیے ایک ہی پیغمبر بھیجا گیا، تھا، حسن بصری نے فرمایا ہر دوسرا پیغمبر انہی، عقائد کا حامل) تعلیم ل کر آیا جس کے لیے پہلا پیغمبر لے کرآیا، اور جب انہوں نے ایک پیغمبر کی تکذیب کی تو حقیقت میں سب کی تکذیب کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–122

(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–122

آیت 105 سے 122 اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 104–106

59 پیغمبر اپنی قوم اور اپنی امت کا بھائی ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بھی یاد کرو کہ جب قوم نوح سے انکے بھائی نوح نے کہا " یعنی وہ انکے بھائی تھے قومی اور نسبی اعتبار سے۔ کہ اس اعتبار سے عموماً ہر نبی اپنی قوم کا بھائی ہی ہوا ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں جابجا ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا } ۔ (الاعراف :65) ۔ { وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صَالِحًا } ۔ (الاعراف : 73) ۔ { وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا } ۔ (الاعراف : 85) ۔ { وَاِخْوَانُ لُوطٍ } ۔ (ق : 13) وغیرہ۔ اور صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا ۔ " وَدِدْتُّ لَوْ اَنَّا قَدْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–121

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–122

آیات 105 تا 122: اسرار و معارف : نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا : نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 104–105

13 ۔ اگرچہ انہوں نے صرف ایک ہی پیغمبر نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا لیکن چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا دراصل اس دعوت کو جھٹلانا ہے جو تمام پیغمبر پیش کر رہے تھے۔ اس لئے فرمایا گیا کہ انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ نیز دیکھئے سورة الفرقان آیت 37 ۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:105) کذبت قوم نوح ن المرسلین ۔ ۔ کذبت فعل ماضی قوم نوح مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل المرسلین ۔ مفعول

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–122

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 : الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 : سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 105–112

(ف 1) ان آیتوں میں سب سے پہلے نوح سے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکر فرمایا ہے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا اور دیگر تمام انبیاء کو بھی جھٹلایا، ایک نبی کو جھٹلانا اور اس کے حکم کی تعمیل نہ کرنا حقیقت میں سب انبیاء کو جھٹلانا ہے اس میں سب کے حکم کی نافرمانی پائی گئی اور سب کی تکذیب کی۔ جب ان کے ہم قوم بھائی نوح نے یہ کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے اور بتوں کو پوجتے ہو۔ بیشک میں تمہارے لیے خدا کی طرف سے امانت دار رسول ہوکر آیا ہوں میری امانت اور دیانت پر تم لوگ بھی اتفاق کرتے ہو ہمیشہ سے تم میں رہتاسہتا ہوں کسی اور ملک یا اور قوم یا اور زبان کا آدمی نہیں پس تم اللہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 104–105

[20] اگرچہ انہوں نے صرف نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن کیونکہ تمام پیغمبر ایک ہی دین لے کر آئے تھے اس لئے ایک پیغمبر کی تکذیب درحقیقت سارے پیغمبروں کی تکذیب ہے اور جو شخص یا گروہ کسی ایک رسول کا انکار کرے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمام رسولوں کا منکر ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(105) نوح (علیہ السلام) کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان کو جھوٹا بنایا یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی یہی رویہ تھا کہ پیغمبروں کی تکذیب کیا کرتیت ہے یا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے پہلے سے یہی عادت تھی کہ جو نبی آیا اس کو جھوٹا بتایا یا حضرت نوح (علیہ السلام) کی فقط تکذیب کو انبیاء کی تکذیب فرمایا کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–105

ف 7۔ کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے سب کی تکذیب لازم آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی تو انبیاء ورسول کا انکار کیا : 105۔ آدم (علیہ السلام) کے بعد اس زمین پر سب سے پہلے نبی نوح (علیہ السلام) ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا قرآن کریم کی 18 سورتوں میں آپ کا تذکرہ کیا گیا ہے جن میں زیادہ تر آپ کی سرگزشت سورة الاعراف کی آیات 59 تا 64 ‘ سورة یونس کی آیات 71 ‘ 73 ‘ سورة ہود کی آیات 25 تا 48 ‘ سورة الاسراء کی آیت 3 ‘ سورة الانبیاء کی آیت 76 ‘ 77 ‘ سورة المومنون کی آیات 23 تا 30 ‘ سورة الفرقان کی آیت 37 میں بیان کیا گیا ہے اور یہ وہ مقامات ہیں جن کا حال پیچھے گزر چکا ہے اس لئے تقابل کے لئے انہی مقامات پر آپ ایک نظر ڈال لیں قرآن کریم نے آپ کی عمر کے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–108

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾ The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89] This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 104–105

74 For comparison, see AI-A`raf: 59-64, Yunus: 71-73, Hud: 25-48, Bani Isra'il: 3, Al-Anbiya' 76-77, AI-Mu'minun:: 23-30, and Al-Furqan: 37. For the details of the story of Prophet Noah, see AI-'Ankabut:15, As-Saffat: 75-82, AIQamar: 9-15 and Surah Nuh itself. 75 Though they had rejected only one Messenger, it amounted to rejecting all the messengers because all of them had brought one and the same message from Allah. This is an important fact which the Qur'an has mentioned over and over again in different ways. Thus, even those people who rejected just one Prophet have been regarded as…

Read the full tafseer →