Explained with ayahs 90–104
نیک لوگ اور جنت
جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
سورة الشُّعَرَآء 74
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 59 تا 64۔ یونس، آیات 71 تا 73۔ ہود، آیات 25 تا 48۔ بنی اسرائیل، آیت 3۔ الانبیاء، آیات 76۔ 77۔ المؤمنون، آیات 23 تا 30۔ الفرقان، آیت 37۔ اس کے علاوہ قصہ نوح ؑ کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں العنکبوت آیات 14۔ 15۔ الصّٰفّٰت، 75 تا 82۔ القمر، 9۔ 15۔ سورة نوح مکمل۔
سورة الشُّعَرَآء 75
اگرچہ انہوں نے ایک ہی رسول کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ رسول کی تکذیب درحقیقت اس دعوت اور پیغام کی تکذیب ہے جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، اس لیے جو شخص یا گروہ کسی ایک رسول کا بھی انکار کر دے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–104
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
آیت 104-103
یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہے اور اس کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
5-1قوم نوح ؑ نے اگرچہ صرف اپنے پیغمبر حضرت نوح ؑ کی تکذیب کی تھی۔ مگر چونکہ ایک نبی کی تکذیب، تمام نبیوں کی تکذیب کے مترادف ہے۔ اس لئے فرمایا کہ قوم نوح ؑ نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
21: یہ وہ تقریر تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے فرمائی۔ باقی واقعہ یہاں بیان نہیں کیا گیا، اس کی تفصیل پیچھے سورة انبیاء : 51 میں گذر چکی ہے اور کچھ تفصیل سورة صافات : 83 میں بھی آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ان فی ……الرحیم (104)
یہ وہی تبصرہ ہے جو اس سورت میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہی کے واقعات کے بیان کے بعد آیا ہے۔ نیز یہ تبصرہ ان تمام معجزات کے بعد بھی آیا ہے۔ جو جھٹلانے والوں کو دکھائے گئے۔ قیامت کے مناظر میں سے یہ منظر ان مکذبین کے مناظر عبرت کے بالمقابل آیا ہے۔ جن کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے اور جن کو اس جہاں میں نیست و نابود کیا گیا ۔ یہاں قوم ابراہیم اور ان مشرک اقوام کے انجام کی تصویر کشی کی گئی تھی اور اس سورت کے تمام قصص سے یہی سبق دینا مطلوب ہے۔ قرآن کریم میں قیامت کے مناظر اسی طرح پیش کئے جاتے ہیں جس طرح گویا یہ افعال ہمارے سامنے واقع ہو رہے ہیں۔ ہمیں نظر آ رے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
4 یعنی نہایت صدق و امانت کے ساتھ حق تعالیٰ کا پیغام بلا کم وکاست تم کو پہنچاتا ہوں۔ لہذا واجب ہے کہ پیغام الٰہی سن کر خدا سے ڈرو۔ اور میرا کہا مانو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
71 قوم نوح کی طرف مبعوث تو نوح (علیہ السلام) ہوئے تھے لیکن یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کی بنیادی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہذا ایک نبی کو جھٹلانا سب نبیوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس قوم کے پاس نوح (علیہ السلام) سے پہلے کچھ نبی آئے ہوں۔ جن کا ذکر قرآن اور حدیث میں موجود نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
71۔ (سومجھ پر اور میرے لائے ہوئے پیام پر اعتماد کرو) (آیت) ” نوح “۔ اور قوم نوح دونوں پر حاشیے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” امین “۔ یعنی متدین۔ دیانت و احتیاط کے ساتھ پیام الہی پہنچانے والا، (آیت) ” المرسلین “۔ صیغہ جمع شاید اس لیے لایا گیا کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے سلسلہ نبوت کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ اور جاہلی قوموں کا مقصود اصلی کسی پیغمبر کی شخصی تکذیب ہوتی ہی نہیں، بلکہ وہ لوگ سرے سے اس تخیل رسالت ہی کے منکر ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم نوح “۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) جو انہیں لوگوں کے ہم قوم، ہم وطن، وہم نسل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور حقیقت یہی ہے کہ آپ کا رب ہی غالب (اور) مہربان (کریم) ہے۔
یعنی انتقام پر قادر ہے مگر اس نے اپنی رحمت سے کافروں کو ڈھیل دی تاکہ وہ یا ان کی اولاد میں سے کوئی ایمان لے آئے اور اسی نے اپنی رحمت سے اہل ایمان کو اپنی نعمتوں سے سرفراز کیا۔
Read the full tafseer →(104) اور آپ کا رب ان کو سزا دینے میں بڑا زبردست اور مومنین پر رحمت کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (9)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
فما لنا من شافعین ہمارے کوئی شفیع نہیں فرشتوں میں سے انبیاء میں سے اور مومنوں میں سے۔ ولا صدیق حیم اور نہ کوئی مشفق دوست ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ کہا کرتے تھے : بھلائیوں کو لازم پکڑو کیونکہ وہ دنیا و آخرت کا سامان ہیں کیا تو جہنمیوں کا قول نہیں سنتا۔ فما لنا من شافعین۔ ولا صدیق حمیم۔ زمحشری نے کہا : شافع کی جمع ذکر کی کیونکہ شفاعت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور صدیق کو واحد ذکر کیا کیونکہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ انسان جب ظالم کے ظلم کا شکارہو تو اس کے شہر کی بڑی جماعت اس کی سفارش کے لیے جاتی ہے مقصد اس پر رحم و شفقت کا اظہارہوتا ہے اگرچہ اکثر کو پہلے اس کی پہچان تک نہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فما لنا من شافعین “ سے مراد کہ نہ آسمان والوں میں سے کوئی ہماری سفارش کرنے والا اور آیت ” ولا صدیق حمیم “ اور نہ زمین والوں میں سے کوئی غمخوار دوست ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولا صدیق حمیم “ سے مراد ہے کوئی دوست شفقت کرنے والا نہیں ہے جو سفارش کرے۔
5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فلو ان لنا کرۃ “ یعنی اگر ہمارے لیے لوٹنا ہوتا دنیا کی طرف آیت ” فنکون من المؤمنین “ تو ہم ایمان والے ہوتے یہاں تک کہ ہمارے لیے بھی سفارش حلال ہوجاتی جیسے ان مومنین کے لیے حلال ہوئی واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ [ یقینا وہی ] الْعَزِيْزُ [ بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–105
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
43:۔ یہ تیسری نقلی دلیل ہے مع تخویف دنیوی۔ اس آیت میں قوم نوح کی طرف بہت سے رسولوں کی تکذیب منسوب کی گئی ہے حالانکہ انہوں نے صرف ایک رسول حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ اسی طرح آگے چل کر عاد وثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ کے بارے میں یہی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بہت سے رسولوں کی تکذیب کی حالانکہ انہوں نے ایک پیغمبر ہی کو جھٹلایا جو ان کے پاس بھیجا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) توحید اور دیگر اصول دین میں متفق تھے اور سب کی دعوت ایک تھی اس لیے ان میں سے ایک کو جھٹلانا اور اس کی دعوت کو نہ ماننا ایسا ہی ہے جیسا سب کو جھٹلا دیا و تکذیبھم المرسلین باعتبار اجماع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
ربط آیات
اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ 1 04ۧ
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–105
ترکیب : اتبعک جملہ حال ہے ضمیر نؤمن سے ارذلون جمع ارذل بمعنی ذلیل ماعلمی ظاہر میں ما استفہامیہ سے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے وعلمی اس کی خبر اور ممکن ہے کہ نافیہ ہو بما کی ب دونوں تقدیر پر علمی سے متعلق ہے دوسری تقدیر پر خبر کو مضمر ماننا پڑے گا بعد ای بعد انجائہ۔
تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا عبرتناک قصہ بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ سورة اعراف و سورة ہود میں یہ قصہ مشرحاً بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ اسلوب قرآن مؤرخانہ نہیں کہ جن کے نزدیک مکرر بیان کرنا عیب ہے بلکہ واعظانہ کہ جن کے نزدیک عبرتناک قصوں کو بمقتضائے مقام و حالات قوم مکرر بیان فرمانا عین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 103، 104)
(یقینا اس میں ایک بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور بیشک آپ کا رب سب پر غالب اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔ )
یہ ترجیع کی آیت ہے، اس کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا رد عمل بیان کرنے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی قوم کا ردّ عمل بیان کیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ اپنے عقیدہ اور عمل کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ یقین جانو کے میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں بس تمہیں اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرنا چاہیے۔ میں منصب نبوت کے حوالے سے تم سے کسی معاوضہ کا طلب گار نہیں۔ میرا اجر میرے رب نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب کے بارے میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ انھوں…
Read the full tafseer →104: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور بیشک آپ کا رب البتہ زبردست) وہ ابراہیم کی تکذیب کرنے والوں سے بذریعہ جہنم انتقام لے گا۔ الرَّحِیْمُ (نہایت مہربان ہے) ہر سلامتی والے دل رکھنے والے کو جنت کے سپرد کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
104۔ وان ربک لھوالعزیر الرحیم۔ عزیز وہ جس پر کوئی غالب نہیں آسکے ، اللہ تعالیٰ عزیز ہیں اور ان کی وصف عزت کیساتھ رحیم والی بھی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
102 تا 104:۔ اوپر کی آیتوں کے موافق جب کہ جنت طرح طرح کی نعمتوں سے آراستہ کی جاوے گی جس آراستگی کا ذکر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت 4 ؎ میں مختصر طور پر یوں فرمایا ہے کہ ایک کمان کی لکڑی کی لمبائی برابر جگہ بھی جنت میں تمام دنیا اور تمام دنیا کی نعمتوں سے بہتر ہے اور اسی طرح دوزخ میں طرح طرح کے عذاب مہیا کئے جاویں گے جس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ترمذی 5 ؎ کی صحیح روایت میں اس طرح فرمایا ہے کہ دوزخ کے تھور کے دودھ کا ایک قطرہ بھی دنیا میں آن پڑے تو تمام اہل دنیا کی زیست دشوار ہوجائے اس جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذابوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مختصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
59 پیغمبر اپنی قوم اور اپنی امت کا بھائی ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بھی یاد کرو کہ جب قوم نوح سے انکے بھائی نوح نے کہا " یعنی وہ انکے بھائی تھے قومی اور نسبی اعتبار سے۔ کہ اس اعتبار سے عموماً ہر نبی اپنی قوم کا بھائی ہی ہوا ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں جابجا ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا } ۔ (الاعراف :65) ۔ { وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صَالِحًا } ۔ (الاعراف : 73) ۔ { وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا } ۔ (الاعراف : 85) ۔ { وَاِخْوَانُ لُوطٍ } ۔ (ق : 13) وغیرہ۔ اور صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا ۔ " وَدِدْتُّ لَوْ اَنَّا قَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
13 ۔ اگرچہ انہوں نے صرف ایک ہی پیغمبر نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا لیکن چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا دراصل اس دعوت کو جھٹلانا ہے جو تمام پیغمبر پیش کر رہے تھے۔ اس لئے فرمایا گیا کہ انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ نیز دیکھئے سورة الفرقان آیت 37 ۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(26:102) ذلک کا اشارہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا قصے اور آخرت کے دن کا نقشہ جو اوپر بیان ہوا ہے۔ اس کی طرف ہے۔
لایۃ۔ نشانی (عبرت کی یا اس کی توحید اور قدرت کی) لام تاکید کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں توعاقبت کے منکر لوگ دوزخ کے عذاب سے بےخوف ہیں میدان حشر میں جب وہ عذاب دیکھیں گے تو یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ پھر دنیا میں پیدا کیے جائیں اور نیک کام کرکے جس طرح نیک کام کرنے والوں کو اس عذاب سے نجات مل گئی ہے اسی طرح ان کو بھی اس عذاب سے نجات مل جائے مگر یہ خواہش ان کی اللہ کے علم میں ہے کہ اگر ان لوگوں کو دوبارہ دنیا میں پیدا کیا گیا تو پھر یہ ایسے ہی گمراہی کے کام کریں گے فرمایا کہ جب دوزخ میں منہ کے بل ڈالے جایں گے اس وقت یہ بدلوگ قسمیں کھاکھا کر اپنی گمراہی پر افسوس کریں گے اور کبھی بدل لوگ شیطان یا گمراہ کرنے والے دوست جنہوں نے بہکایا تھا ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
[20] اگرچہ انہوں نے صرف نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا لیکن کیونکہ تمام پیغمبر ایک ہی دین لے کر آئے تھے اس لئے ایک پیغمبر کی تکذیب درحقیقت سارے پیغمبروں کی تکذیب ہے اور جو شخص یا گروہ کسی ایک رسول کا انکار کرے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمام رسولوں کا منکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
حل لغات :۔ حمیم ۔ مخلص ۔ خویش ۔
Read the full tafseer →(104) بلاشبہ آپکا پروردگار کمال قوت کا مالک اور بڑی مہربانی کرنیوالا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
ف 7۔ کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے سب کی تکذیب لازم آتی ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ بلاشبہ تیرا رب غالب آنے والا ‘ پیار کرنے والا ہے :
104۔ زیر نظر آیت میں اے پیغمبر اسلام ! ﷺ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کا رب غالب آنے والا ہے وہ چاہے تو ایک دن بھر میں انکی ساری نخوتیں پامال کرکے رکھ دے لیکن وہ عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ پیار کرنے والا بھی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی مہلت پر مہلت دیئے جا رہا ہے کہ چلو آج نہیں تو کل ہی شاید یہ لوگ مان جائیں اور یقینا ان نہ ماننے والے بھی موجود ہیں آپ اپنی دعوت کو جاری رکھیں اور نتیجہ اپنے اللہ پر چھوڑ دیں آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچانا ہے ماننے نہ ماننے والوں کے متعلق آپ ﷺ سے سوال نہیں ہوگا کہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾
The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89]
This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
74 For comparison, see AI-A`raf: 59-64, Yunus: 71-73, Hud: 25-48, Bani Isra'il: 3, Al-Anbiya' 76-77, AI-Mu'minun:: 23-30, and Al-Furqan: 37. For the details of the story of Prophet Noah, see AI-'Ankabut:15, As-Saffat: 75-82, AIQamar: 9-15 and Surah Nuh itself.
75 Though they had rejected only one Messenger, it amounted to rejecting all the messengers because all of them had brought one and the same message from Allah. This is an important fact which the Qur'an has mentioned over and over again in different ways. Thus, even those people who rejected just one Prophet have been regarded as…
Read the full tafseer →