اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۟ۙاِنِّىۡ لَـكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌۙ
میں تو تمہارا امانت دار ہوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۟ۙاِنِّىۡ لَـكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌۙ
میں تو تمہارا امانت دار ہوں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
میں تو تمہارا امانت دار ہوں
سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں
یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔
بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا بھیجا ہوا امین ہوں
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،
بیشک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
میں تمہارے لئے ایک امانتدار رسول ہوں
میں تمہارے لئے ایک معتبر رسول ہوں
بلاشبہ میں تمہارے لیے اللہ کا رسول ہوں امانت دار
میں ہوں تمہارا راست باز پیغمبر۔
یقیناً میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔
I am a trustworthy Messenger to you;
I am an honest messenger for you.
I am an honest messenger for you.
"I am a trustworthy Messenger to you."
Lo! I am a faithful messenger unto you,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, I am to you a trustworthy messenger.
I am a trustworthy Messengers sent to you.
Surely I am a faithful apostle to you;
Verily I am unto you an apostle trusted.
"I am to you a messenger worthy of all trust:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 105–110
بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 77 اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ میں اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر یا کم و بیش کر کے بیان نہیں کرتا بلکہ جو کچھ خدا کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے وہی بےکم وکاست تم تک پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ میں ایک ایسا رسول ہوں جسے تم پہلے سے ایک امین اور راستباز آدمی کی حیثیت سے جانتے ہو۔ جب میں خلق کے معاملے میں خیانت کرنے والا نہیں ہوں تو خدا کے معاملے میں کیسے خیانت کرسکتا ہوں۔ لہٰذا تمہیں باور کرنا چاہیے کہ جو کچھ میں خدا کی طرف سے پیش کر رہا ہوں اس میں بھی ویسا ہی امین ہوں جیسا دنیا کے معاملات میں آج تک تم نے مجھے امین پایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
خلاصہ تفسیر قوم نوح نے پیغمبروں کو جھٹلایا (کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے سب کی تکذیب لازم آتی ہے) جبکہ ان سے ان کی برادری کے بھائی نوح ؑ نے فرمایا کہ کیا تم (خدا سے) نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں (کہ بعینہ پیغام خداوندی بلا کمی بیشی پہنچا دیتا ہوں) سو (اس کا مقتضی یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور (نیز) میں تم سے کوئی (دنیوی) صلہ (بھی) نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے سو (میری اس بےغرضی کا مقتضی بھی یہ ہے کہ) تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم تم کو مانیں گے حالانکہ رذیل لوگ تمہارے ساتھ ہو لئے ہیں (جن کی موافقت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 107-106 رسول امین الاتتقون میں دعوت بانداز انذار و تنبیہ ہے اور رسول امین میں اس حقیقت کا اظہار ہے کہ میں کوئی مفتری اور جھوٹا مدعی نہیں ہوں، جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے، بلکہ خدا کا رسول ہوں اور پوری دیانت و امانت کے ساتھ تمہیں وہی باتیں پہنچا رہا ہوں جن کے پہنچانے کا مجھے حکم ہوا ہے۔
Read the full tafseer →17-1یعنی اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے، وہ بلا کم وکاست تم تک پہنچانے والا ہوں، اس میں کمی بیشی نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
21: یہ وہ تقریر تھی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے فرمائی۔ باقی واقعہ یہاں بیان نہیں کیا گیا، اس کی تفصیل پیچھے سورة انبیاء : 51 میں گذر چکی ہے اور کچھ تفصیل سورة صافات : 83 میں بھی آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
درس نمبر 164 ایک نظر میں جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔ قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
4 یعنی نہایت صدق و امانت کے ساتھ حق تعالیٰ کا پیغام بلا کم وکاست تم کو پہنچاتا ہوں۔ لہذا واجب ہے کہ پیغام الٰہی سن کر خدا سے ڈرو۔ اور میرا کہا مانو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 107 اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ” مجھے اللہ کی طرف سے تمہاری طرف جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ میں بلاکم وکاست تم لوگوں تک پہنچارہا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
72 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے ہاں سے جو وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے بلاکم وکاست تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ اس میں نہ کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں جوں کی توں تم لوگوں کو پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ تو تم خود جانتے ہو کہ میں ایک راست باز اور امین انسان ہوں۔ کبھی کسی سے مکروفریب یا ہیرا پھیری کی بات نہیں کہی۔ تو کیا اب میں اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں منسوب کروں گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
71۔ (سومجھ پر اور میرے لائے ہوئے پیام پر اعتماد کرو) (آیت) ” نوح “۔ اور قوم نوح دونوں پر حاشیے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” امین “۔ یعنی متدین۔ دیانت و احتیاط کے ساتھ پیام الہی پہنچانے والا، (آیت) ” المرسلین “۔ صیغہ جمع شاید اس لیے لایا گیا کہ ایک پیغمبر کی تکذیب سارے سلسلہ نبوت کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ اور جاہلی قوموں کا مقصود اصلی کسی پیغمبر کی شخصی تکذیب ہوتی ہی نہیں، بلکہ وہ لوگ سرے سے اس تخیل رسالت ہی کے منکر ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم نوح “۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) جو انہیں لوگوں کے ہم قوم، ہم وطن، وہم نسل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…
Read the full tafseer →انی لکم رسول امین۔ میں بلاشبہ تمہاری ہدایت کے لئے امانتدار پیغمبر ہوں۔ یعنی اللہ کا قاصد ہوں اور جو وحی اللہ کی طرف سے میرے پاس آتی ہے اس کا امانتدار ہوں اور تم لوگوں میں بھی میری امانتداری اور سچائی مشہور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
(106 تا 108) جب کہ ان سے ان کے نبی اور ان کے برادری کے بھائی حضرت نوح ؑ نے فرمایا کیا تم غیر اللہ کی عبادت سے نہیں ڈرتے ہو اللہ کی طرف سے رسالت پر تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں یا یہ مطلب ہے کہ میں تمہارے اندر اس سے پہلے امانت دار تھا پھر آج کیسے مجھے متہم قرار دیتے ہو لہذا تم لوگ کفر سے توبہ کرکے اور ایمان لا کر اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرے حکم اور میرے طریقہ کی پیروی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۔۔ : نوح ؑ نے دعوئ رسالت کے ثبوت کے طور پر دو چیزیں پیش فرمائیں، پہلی یہ کہ میں امانت دار ہوں، میری ساری عمر تمہارے سامنے گزری، تم میری امانت اور میرے صدق سے خوب واقف ہو، پھر تمہیں میری رسالت تسلیم کرنے میں رکاوٹ کیا ہے ؟ ہمارے نبی ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بات واشگاف الفاظ میں کہہ دینے کا حکم دیا، فرمایا : (فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ یونس : 16 ] ”پس بیشک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟“ حدیث ہرقل میں ابوسفیان نے جب رسول اللہ ﷺ کا صادق و امین ہونا تسلیم کیا تو ہرقل نے کہا : ”یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
(کذبت قوم نوح المرسلین۔۔۔۔۔۔ ) کذبت قوم نوح المرسلین، کذبت فرمایا جب کہ قوم مذکر ہے کیونکہ مراد ہے کذبت جماعۃ قوم نوح۔ المرسلین فرمایا کیونکہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا اس نے تمام رسل کو جھٹلایا کیونکہ ہر رسول تمام رسولوں کی تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے اور ان کے بعد رسولوں کے آنے کی جو خبردی اس کو جھٹلایا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جنس کا ذکر کیا مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں سورة فرقان میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اذقال لھم احواھم نوح ان کے جداعلیٰ کے بیٹے، وہ ان کے نسبی بھائی تھے دینی بھائی نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ مجانست کی اخوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →اِنِّىْ [ بیشک میں ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ [ ایک امانتدار رسول ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
45:۔ انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ نبوت سے پہہلے بھی اخلاقی محاسن و فضائل سے آراستہ ہوتے ہیں اور اپنی قوموں اور اپنے ماحول میں دیانت و امانت اور دوسری اخلاقی خوبیوں کے ساتھ معروف ہوتے ہیں اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے جن کا ذکر آگے آرہا ہے اپنی اپنی قوم کو اس مسلمہ حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ میری دیانت و امانت کو تو تم پہلے ہی سے جانتے ہو اس لیے میں جو کچھ کہوں گا وہ حقیقت ہوگی میں اللہ کا رسول ہوں اس لیے تم میری اطاعت کرو اور اللہ سے ڈرو، اس کی توحید کو مانو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ فاتقوا اللہ واطیعون فیما امرکم بہ من التوحید والطاعۃ للہ تعالیٰ (روح ج 19 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…
Read the full tafseer →اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ 107ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟ قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَا تَّـقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 107، 108) (بیشک میں تمہارے لیے ایک رسول امین ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ) رسولِ امین کا مطلب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا لازمی نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ آدمی وہ راستہ تلاش کرے جس پر چل کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچا جاسکتا ہے۔ اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے بعد فوراً اس راستے کی خبر دی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچنا چاہتے ہو اور اس کی ناراضگی کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتے تو پھر میں تمہیں اس راستے کی خبر دیتا ہوں جس پر چل کر تم عافیت کو پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا رد عمل بیان کرنے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی قوم کا ردّ عمل بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ اپنے عقیدہ اور عمل کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ یقین جانو کے میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں بس تمہیں اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرنا چاہیے۔ میں منصب نبوت کے حوالے سے تم سے کسی معاوضہ کا طلب گار نہیں۔ میرا اجر میرے رب نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب کے بارے میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ انھوں…
Read the full tafseer →107: اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ (بیشک میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں) نوح (علیہ السلام) ان میں اسی طرح امانت دار معروف تھے جیسے حضرت محمد ﷺ قریش میں۔
Read the full tafseer →107۔ انی لکم رسول امین۔ جو اللہ کی طرف سے میری طرف وحی آئی ہے میں اس میں امانت دار ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت 105 سے 122 اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
61 اصلاح کی اولین اساس : تقوی و پرہیزگاری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور اطاعت و فرمانبرداری اصلاح احوال کی سب سے اہم اور اولین اساس ہے۔ اسی لیے حضرت نوح نے اپنی قوم سے یہ ارشاد فرمایا کہ " پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کا تقویٰ اور خوف خداوندی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور فوزو فلاح کی اصل اساس اور بنیاد ہے۔ اور تقویٰ و خوف خداوندی اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری پیغمبر کی اطاعت و فرمانبرداری کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے حضرت نوح نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ بلکہ پیغمبر کی اطاعت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–121
سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیات 105 تا 122: اسرار و معارف : نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا : نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…
Read the full tafseer →1 ۔ امانت دار یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرنے والا۔
Read the full tafseer →(26:107) امین : امانۃ اور امن سے اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم مفعول کا بھی۔ کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشترک ہے۔ امانت دار۔ معتبر۔ امن والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 : الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 : سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
(ف 1) ان آیتوں میں سب سے پہلے نوح سے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکر فرمایا ہے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح کو جھٹلایا اور دیگر تمام انبیاء کو بھی جھٹلایا، ایک نبی کو جھٹلانا اور اس کے حکم کی تعمیل نہ کرنا حقیقت میں سب انبیاء کو جھٹلانا ہے اس میں سب کے حکم کی نافرمانی پائی گئی اور سب کی تکذیب کی۔ جب ان کے ہم قوم بھائی نوح نے یہ کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے اور بتوں کو پوجتے ہو۔ بیشک میں تمہارے لیے خدا کی طرف سے امانت دار رسول ہوکر آیا ہوں میری امانت اور دیانت پر تم لوگ بھی اتفاق کرتے ہو ہمیشہ سے تم میں رہتاسہتا ہوں کسی اور ملک یا اور قوم یا اور زبان کا آدمی نہیں پس تم اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
[21] یعنی نہات دیانت و احتیاط کے ساتھ پیغام الٰہی پہنچانے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
اخوھم ۔ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتے ہیں ۔ کہ انبیاء شفقت اور محبت کے اعتبار سے کس درجہ قریب ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →(107) میں تم سب کے لئے ایک امین اور امانت دار پیغمبرہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–115
ف 1۔ اور تبلیغ سے میرا فرض منصبی پورا ہوجاتا ہے، آگے اپنا نفع و نقصان تم دیکھ لو۔
Read the full tafseer →107۔ اے میرے قوم کے لوگو ! میری صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو اب میری بات ماننے میں تم کو کیوں لیت ولعل ہے میں تم کو اپنے مالک حقیقی کی ناراضگی سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں میں تم سے کوئی ذاتی اور نجی منفعت نہیں چاہتا مجھے میرے رب کریم سے جو پیغام ملتا ہے میں تم تک نہایت امانت کے ساتھ اس کو پہنچا دیتا ہوں اور وہی کہتا ہوں جو خود کرتا ہوں اور وہی بتاتا ہوں جو خود اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے سنتا ہوں یا سنایا جاتا ہوں ۔ میری امانت ودیانت پر اگر تم کو کوئی شک ہے تو اس کو واضح کرو اگر نہیں تو تم بھی امین بن جاؤ یہی بات تمہارے فائدے کی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾ The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89] This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →77 It has two meanings: (1) "1 present before you nothing but what Allah reveals to me;" and (2) "I am a Messenger whom you have already known to be a trustworthy and honest and righteous man. When I have been honest and true in my dealings with you, how can 1 be dishonest and untrustworthy in conveying the Message of God'? Therefore, you should rest assured that whatever I am presenting is the Truth. "
Read the full tafseer →