Explained with ayahs 48–50
بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری
اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کردیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کردیتی ہیں بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کردیتی ہیں بعض بادلوں کو پانی سے بھردیتی ہیں اور انہیں بوجھل کردیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی میں فاعل کے ہے یا مبالغہ کے…
Read the full tafseer →سورة الْفُرْقَان 62
یعنی ایسا پانی جو ہر طرح کی گندگیوں سے بھی پاک ہوتا ہے اور ہر طرح کے زہریلے مادوں اور جراثیم سے بھی پاک۔ جس کی بدولت نجاستیں دھلتی ہیں اور انسان، حیوان، نباتات، سب کو زندگی بخشنے والا جوہر خالص بہم پہنچتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَهُوْرًا، طھور کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ کا صیغہ ہے۔ طہور اس کو کہا جاتا ہے خود بھی پاک ہو اور دوسری چیزوں کو بھی اس سے پاک کیا جاسکے۔ حق تعالیٰ نے پانی کو یہ خاص صفت عطا فرمائی ہے کہ جیسے وہ خود پاک ہے اس سے دوسری ہر قسم کی نجاست حقیقی و معنوی کو بھی دور کیا جاسکتا ہے۔ اور جس پانی کو آدمی استعمال کرتے ہیں وہ عموماً وہی ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے کبھی بارش کی صورت میں کبھی برف اور اولے کی صورت میں۔ پھر وہ ہی پانی پہاڑوں کی رگوں کے ذریعہ قدرتی پائپ لائن کی صورت میں ساری زمین پر پھیلتا ہے جو کہیں خود بخود چشموں کی صورت میں نکل کر زمین پر بہنے لگتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت 49-48
بارش کی نشانیوں کی طرف اشارہ
رحمۃ یہاں بارش کے مفہوم میں ہے اور یہ لفظ اس معنی میں جگہ جگہ قرآن میں استعمال ہوا ہے رات اور دن کی آمد و شد کے اندر اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا مشاہدہ ہو رہا ہے ان کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ بارش کی رحمت کی طرف توجہ دلائی جو ہرچند روز تو نہیں آتی لیکن اس زمین کا ہر جاندار اس کا محتاج ہے جب آتی ہے تو ہمیں پروردگار کی ان تمام صفات اور شانوں کا مشاہدہ کرا دیتی ہے جس پر قرآن کی دعوت کی بنیاد ہے۔
فرمایا کہ وہی خدا تمہارا رب ہے جو باران رحمت سے پہلے موسمی ہوائوں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے جو مختلف اطراف سے بادلوں کو ہانک کر لاتی ہیں، پھر ان کو تہ بہ تہ اکھٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48-1طَھُور فعول کے وزن پر آلے کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسی چیزیں جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے جیسے وضو کے پانی کو وضو اور ایندھن کو وقود کہا جاتا ہے اس معنی میں پانی طاہر خود بھی پاک اور مطہر دوسروں کو پاک کرنے والا بھی ہے حدیث میں بھی ہے ان الماء طہور لا ینجسہ شیء ابو داؤد۔ ذائقہ بدل جائے تو ایسا پانی ناپاک ہے کما فی الحدیث
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
17: پانی کی الٹ پھیر کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ پانی اللہ تعالیٰ انسانوں کے درمیان اپنی خمت سے ایک خاص تناسب کے مطابق تقسیم فرماتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پانی کا اصل ذخیرہ سمندر میں ہے۔ اللہ تعالیٰ وہاں سے اسے بادلوں کے ذریعے اٹھاتے ہیں، اور پہاڑوں پر برف کی صورت میں جما دیتے ہیں جہاں سے وہ پگھل پگھل کر دریاؤں کی صورت اختیار کرتا ہے، اور لوگ اس سے اپنی ضروریات پوری کر کے اسے ضائع کردیتے ہیں، لیکن یہی مستعمل پانی ندی نالوں کے ذریعے دوبارہ سمندروں میں جا گرتا ہے، اور پاک پانی کے اس ذخیرے میں بہہ بہہ کر دوبارہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسے پھر بادلوں کے ذریعے اوپر اٹھایا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وھو الذی ارسل ……اناسی کثیراً (49)
اس دنیا کی ہر زندگی پانی پر قائم ہے یا بارش کا پانی ہے اور یا دریائوں اور ندی نالوں پر نہریں قائم کر کے سطح زمین کو پانی دیا جاتا ہے۔ پھر ان پانیوں میں سے جو زمین کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ وہ چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا کنوئوں کی صورت میں نکالا جاتا ہے۔ لیکن ہے یہ بھی بارش کا پانی۔ لیکن جن لوگوں کی سیرابی کا تعلق صرف بارش ہی پر ہے۔ وہ اللہ کی اس رحمت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو بارش کی شکل میں برستی ہے۔ وہ تو رات اور دن بارش پر آس لگائے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی زندی بارش پر قائم ہوتی ہے۔ وہ ان ہوائوں کے انتظار میں ہوتے ہیں جو رحمت بھرے بادل چلا کر لاتی ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
1 یعنی اول برساتی ہوائیں بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، پھر آسمان کی طرف سے پانی برستا ہے جو خود پاک اور دوسروں کو پاک کرنے والا ہے۔ پانی پڑتے ہی مردہ زمینوں میں جان پڑجاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ زار بن جاتا ہے۔ اور کتنے جانور اور آدمی بارش کا پانی پی کر سیراب ہوتے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن ایک غیبی بارش کے ذریعہ مردہ جسموں کو جو خاک میں مل چکے تھے زندہ کردیا جائے گا اور دنیا میں بھی اسی طرح جو دل جہل و عصیان کی موت سے مرچکے تھے، وحی الٰہی کی آسمانی بارش ان کو زندہ کردیتی ہے جو روحیں پلیدی میں پھنس گئی تھیں۔ روحانی بارش کے پانی سے دھل کر پاک و صاف ہوجاتی ہیں اور…
Read the full tafseer →آیت 48 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ج ”
بادلوں کے آگے آگے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے گویا باران رحمت کی نوید سناتے جاتے ہیں۔
وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوْرًا ”
بارش کا پانی پاک بھی ہے اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ جب یہ پانی برستا ہے تو سب سے پہلے فضا کی آلودگی کو صاف کرتا ہے۔ پھر زمین کی بہت سی آلودگیوں کو سمندر میں بہا لے جاتا ہے۔ سمندر کے پانی سے بخارات کی صورت میں بالکل صاف اور ہر آلودگی سے پاک پانی پھر سے فضا میں پہنچ کر بادل کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس طرح یہ سلسلہ cycle چلتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →60 ریاح کا لفظ ریح کی جمع ہے۔ جس کا معنی محض ہوا ہے خواہ وہ چل رہی ہو یا ساکن ہو اور اگر وہ حرکت میں ہو یعنی چل رہی ہو تو عربی زبان میں ہر سمت سے چلنے والی ہوا کے لئے الگ الگ لغت ہے۔ جو ہوا شمال سے جنوب کی طرف چل رہی ہو اس ہوا کو بھی شمال ہی کہتے ہیں اور یہ عموماً بارش ہوتی ہے اور جو جنوب سے شمال کو چلے اسے جنوب کہتے ہیں اور یہ عموماً بادلوں کو اڑا لے جانے والا ہوتی ہے جو مشرق سے مغرب کو عموماً صبح کے وقت چلتی ہے اسے صبا کہتے ہیں اور یہ دل کو فرحت بخشنے والی ہوتی ہے اور جو مغرب سے مشرق کو چلے اسے دبور کہتے ہیں۔ اسے منحوس خیال کیا جاتا ہے۔ عاد کی قوم اسی ہوا سے ہلاک ہوئی تھی۔
اگرچہ ریاح ریح کی…
Read the full tafseer →55۔ ہوا، بارش وغیرہ سب کا خالق وہی ایک ہے۔ اندر دیوتا یا اور کوئی دیوی دیوتا وجود نہیں رکھتے، طھور فعول کے وزن پر طاہر کا صیغہ مبالغہ ہے، اور امام ابو حنفیہ (رح) نے اسے طاہر ہی کے معنی میں لیا ہے، دوسرے بعض فقہاء نے اسے مطھر کے معنی میں بھی لیا ہے واختلف الناس فی معنی وصفہ بانہ طھور علی قولین احدھما انہ مطھر لغیرہ وبہ قال مالک والشافعی وخلق کثیر سواھما والثانی انہ وبمعنی طاھر وبہ قال ابو حنیفۃ (ابن العربی) فقہاء مفسرین نے آیت کے تحت میں طہارت آب کے متعلق طویل بحثیں چھیڑ دی ہیں، جن کا تعلق تفسیر قرآنی سے نہیں، فقہیات سے ہے۔ یہاں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ پانی کے اس وصف مخصوص سے فقہاء نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : کیا تو اپنے رب کی صنعت کو نہیں دیکھتا وقت اسفار سے طلوع شمس کے وقت تک اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک ھالت پر ٹھہرا ہوا رکھتا، یعنی ساکن رکھتا جو طلوع شمس سے زائل نہ ہوتا پھر ہم نے سورج کو اس سایہ کو اپنی طرف بتدریج سمیٹ لیا یعنی طلوع شمس کی وجہ سے شیئاً فشیئاً اور وہ ایسا ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات کا لباس یعنی لباس کے مانند ساتر بنایا اور نیند کو قطع کرنے والی یعنی جسموں کے لئے اعمال کو موقوف کرکے راحت کی چیز بنایا اور دن کو منتشر ہونے کا وقت بنایا اس میں رزق وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں اور ایک…
Read the full tafseer →وہو الذی ارسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ اور وہ رب وہی تو ہے جو اپنی رحمت (بارش نازل کرنے)
سے پہلے ہواؤں کو بشارت دینے والیاں (بنا کر) بھیجتا ہے۔
وانزلنا من السمآء مآء طہورا۔ اور ہم نے اوپر سے بالکل پانی اتارا۔
طہوروہ چیز جس سے پاکی حاصل ہوتی ہے جیسے سحور ‘ سحری کا کھانا۔ فطور افطار کی چیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پاک مٹی مسلمان کو طاہر بنانے کی چیز ہے ‘ جب تک پانی نہ پائے خواہ دس سال گزر جائیں ‘ رواہ احمد و ابو داؤد والترمذی عن ابی ذر۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ساری زمین ہمارے لئے مسجد بنا دی گئی ہے اور زمین کی مٹی کو طہور (پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ) بنا دیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(48۔ 49) اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے خوش کردینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں جو پاک صاف کردینے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعے سے مردہ وبنجیر زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور بہت سے انسانوں کو سیراب کریں۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا۔۔ : دیکھیے سورة اعراف (57) ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہے کہ وہ ہواؤں کو خوش خبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے کہ وہ اپنے بعد بادل آنے کی خوش خبری دیتی ہیں، اور ہواؤں کی کئی قسمیں ہیں جو کئی کاموں پر مقرر ہیں، بعض وہ جو بادلوں کو ابھارتی ہیں، بعض انھیں اٹھاتی ہیں، کچھ انھیں ہانکتی ہیں، کچھ ان سے پہلے بشارت دیتی ہیں، کچھ زمین پر جھاڑو پھیر دیتی ہیں اور کچھ بادلوں میں بار آوری کا کام کرتی ہیں، تاکہ ان سے بارش برسے۔“ یعنی ہواؤں، بادلوں اور بارش کے اس سلسلے کا خالق اور مالک و مختار بھی وہی ہے۔ اس حقیقت کو مشرکین مکہ بھی تسلیم…
Read the full tafseer →( وھو الذی ارسل۔۔۔۔۔ )
وَھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ج سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً طَھُوْرًا۔
اس میں پندرہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ ماء طھورا جس کے ساتھ طہارت حاصل کی جاتی ہے، جس طرح کہا جاتا ہے : اس سے مراد ایسا پانی ہے جس کے ساتھ وضو کیا جاتا ہے ہر طہور، طاہر تو ہوتا ہے مگر ہر طاہر، طہور نہیں ہوتا۔ طہور جب طاء کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اسم ہوتا ہے اسی طرح وضو اور وقود، ضمہ کے ساتھ مصدر ہوتا ہے، لغت میں یہی معروف ہے : یہ ابن انباری کا قول ہے۔ یہ واضح کیا کہ آسمان سے جو پانی نازل ہوتا ہے وہ فی نفسہ ظاہر ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
1۔ عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وہوا لذی ارسل الریح “ اس میں الریاح کو جمع کا صیغۃ اور ” بشرا “ باء کے رفع کے ساتھ دونوں کے درمیان نون خفیفہ پڑھا۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” الریاح بشرا “ میں الریاح کو جمع کا صیغہ اور بشرا کو بشراً پڑھا یعنی نون اور آخر میں تنویں اور نون خفیفہ کے ساتھ پڑھا۔
3۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے آیت ” وانزلنا من السماء ماء طہورا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والدارقطنی نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پاک پانی اتارا کوئی چیز اس…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْٓ [ وہی ہے جس نے ] اَرْسَلَ [ بھیجا ] الرِّيٰحَ [ ہواؤں کو ] بُشْرًۢا [ خوشخبریاں ہوتے ہوئے ] بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۚ [ اپنی رحمت کے آگے (یعنی بارش سے پہلے)] وَاَنْزَلْنَا [ اور ہم نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً طَهُوْرًا [ کچھ انتہائی پاک پانی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ثالثاً بارش کی نعمت کا تذکرہ فرمایا اور بارش سے پہلے جو ہوائیں بارش کی خوشخبری دیتی ہوئی آتی ہیں ان کا نعمت ہونا بیان فرمایا، ان ہواؤں سے لوگوں کو بارش کے آنے کی خوشخبری بھی مل جاتی ہے اور جن چیزوں کو بارش سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں (تاکہ بھیگ کر خراب نہ ہو) ان کے محفوظ کرنے کا وقت بھی مل جاتا ہے۔
یہاں بارش کے تین منافع بتائے اول یہ کہ اس پانی سے طہارت اور پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے، یہ پانی ندیوں اور نہروں میں بھی آتا ہے تالابوں میں جمع ہوتا ہے پھر اس پانی سے غسل بھی کرتے ہیں وضو کے استعمال میں بھی لاتے ہیں اور میل کچیل بھی صاف کرتے ہیں کپڑے بھی دھوتے ہیں خاص کر طہارت حکمیہ تو پانی کے بغیر کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
قسم سوم از دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی ارسل الریاح بشرا بین یدی رحمتہ .... الیٰ .... وجاھدھم بہ جھادا کبیرا۔
اور وہ خدا وہ ہے جو باران رحمت سے پہلے بشارت دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے بارش اللہ کی رحمت ہے اور اس سے پہلے ہواؤں کا چلنا یہ بشارت ہے کہ عنقریب بارش نازل ہونے والی ہے اور ہم نے اپنی رحمت سے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جو خود بھی پاک ہے اور دوسرے کو بھی پاک کرنے والا ہے تاکہ ہم اس پانی کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کریں یعنی خشک زمین سے قسم قسم کی نباتات اگاویں۔ اس طرح قیامت کے قریب ایک غیبی بارش نازل ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے اور تاکہ اس اپنی مخلوقات میں سے چوپایوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
30:۔ ” ارایت من الخ “ ان مشرکین سے قبول حق کی توقع بےسود ہے یہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ نفس کے بندے ہیں اور خواہش نفس کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے یعنی اپنی خواہش سے معبودان باطلہ کو حاجت روا اور برکات دہندہ سمجھ رکھا ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خواہش سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کارساز اور معبود بنا لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ” ان کاد لیضلنا عن الھتنا “ بھی قرینہ ہے کہ مشرکین اپنی خواہش سے جسے چاہتے برکات دہندہ بنا لیتے۔ فالایۃ شاملۃ لمن عبد غیر اللہ تعالیٰ حسب ھواہ ولمن اطاع الھوی فی سائر المعاصی وھو الذی یقتضیہ کلام الحسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ربطہ آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید کے سلسلے میں سائے کا ذکر کیا کہ اس کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ۔ سورج اس کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ گھٹتا بڑھتا ہے ۔ پھر اللہ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی قدرت ِ الٰہی کے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے رات کو بمنزلہ لباس قرار دیا ، اور نیند کو آرام کو ذریعہ بنایا ۔ پھر دن کے وقت کا روبار اور محنت مزدوری کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر اس کی توحید سمجھ میں آتی ہے۔
باران رحمت کی دعائیں
اب دلائل قدرت ہی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذی ارسل الریح بشرا بین…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِہٖ 0ۚ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَہُوْرًا 48ۙ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
1 ؎ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ظل سے مراد سایہ الٰہی ہو وہ کسی قوم اور کسی شخص کے لیے خدا نے کیسا دراز کیا ہو ؟ مگر بقاء اسی کو ہے اس کو ٹھہرا نہیں رکھتا وہ پھر ڈھلنے لگتا ہے اور آفتاب عنایت و اقبال اس کی دلیل ہوتا ہے انسان کی عمر بھی ایک سایہ ہے باوجود درازی کے کس طرح سے ڈھلتی ہے اور یہ بیخبر غافل ہے۔ 12 منہ
ترکیب : اناسی اصلا اناسین جمع انسان کسر حان و سراحین ابدلت النون فیہ یاء وادغمت وقیل جمع انسی علی القیاس صرفناہ الضمیر للماء۔
تفسیر : ان کے شبہات رد کر کے اور اس کجروی کا نتیجہ امم گزشتہ کے حالات میں بیان فرما کر اب یہ چند دلائل توحید اور کمال قدرت پر بیان فرماتا ہے : فقال الم ترابی ربک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وَھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًا م بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ج وَاَنْزَلْـنَا مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً طَھُوْرًا۔ لِّـنُحْیِ بِـہٖ بَلْدَۃً مَّـیْـتًا وَّ نُسْقِیَـہٗ مِمَّا خَلَقْنَـآ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ کَـثِیْرًا۔
(الفرقان : 48، 49)
(اور وہی ہے جو اپنی رحمت سے پہلے ہَوائوں کو خوشخبری بنا کے بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاکیزہ پانی اتارتے ہیں۔ تاکہ ہم اس سے کسی مردہ شہر (زمین) کو زندہ کردیں، تاکہ ہم اس سے اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کردیں۔ )
ایک اور نشان قدرت
شب و روز کی آمدوشد اور زمین پر بسنے والی مخلوقات بالخصوص انسانوں کے لیے اس میں مخفی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید دلائل۔
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ہواؤں پر اختیار نہیں وہی ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جس سے لوگ بارش کی آمد آمد محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش کی صورت میں پاک پانی نازل کرتا ہے، پھر بارش سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو پائے اور انسان پیدا کیے ہیں وہی بارش کے ذریعے انھیں پانی پلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور انداز میں لوگوں کو نصیحت فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمودات کا انکار کرتی ہے۔ اس آیت میں ” اَلرِّیٰحٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →48: وَھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ (اور وہ رب وہی تو ہے جو اپنی رحمت سے پہلے ہوائوں کو بھیجتا ہے)
قراءت : مکی نے الریح مفرد پڑھا مراد جنس لی ہے۔
ماء طہور کا ذکر :
بُشْرًا (خوشخبری دینے والیاں) تخفیف کے ساتھ بشر جمع بشور بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ (اس کی رحمت سے پہلے) بارش سے پہلے کیونکہ وہ ریح ہے پھر بادل پھر بارش۔ یہ انتہائی عمدہ استعارہ ہے۔ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا) ماءؔ سے بارش مراد ہے۔ طَھُوْرًا (بالکل پاک) یہ طہارت کا مبالغہ ہے اور صیغہ صفت ہے جیسا کہتے ہیں مائً طہورًا یعنی طاہر اور یہ اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس سے طہارت حاصل کی جاتی ہے…
Read the full tafseer →48۔ وھوالذی ارسل الریاح،۔۔ رحمت سے مراد بارش ہے۔ وانزلنا من السماء ماء طھورا۔
ماء طھورا کی تفسیر۔
طہور کہتے ہیں جو فی نفسہ پاک ہو اور دوسری چیز کو پاک کرنے والی ہو۔ یہ نام ہے جس کے ساتھ پاک کیا جاتا ہے جیسے سحور، نام ہے جس کو سحری کے وقت کھایاجاتا ہے۔ فطور نام ہے افطار کی چیز کو۔ اس پر دلیل وہ روایت ہے جو نبی کریم نے سمندر کے بارے میں فرمائی تھی کہ اس کا پانی پاک ہے۔ اور اس کامردار حلال ہے۔ یہاں مطہر سے مراد پانی کا مطہرہونا ہے۔ کیونکہ انسان اس کے ذریعے سے حدث اور نجاست کو دور کرتا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے ، وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ، اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ طہارت صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
48۔ 50:۔ مینہ کا پانی جب تک زمین پر نہ آوے اور زمین کی کوئی نجاست کی چیز اس میں نہ ملے ‘ اس پانی کا اسی آیت میں ذکر ہے کہ وہ پانی پاک ہے اور زمین کے پانی کا یہ ذکر کہ کون سا پانی پاک ہے اور کس قدر پانی پاک ہے ‘ اس کی تفصیل حدیث شریف اور فقہ میں ہے ‘ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ‘ پوری تفصیل تو اس مسئلہ کی یہاں ممکن نہیں مگر حاصل کلام یہ ہے کہ بہتا ہوا پانی تو بلا اختلاف کے سب علماء کے نزدیک خواہ کتنا ہی ہو پاک ہے ‘ رکے ہوئے پانی میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اس اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ نسائی میں حضرت ابو سعید خدری سے ایک روایت 2 ؎ ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت 48 سے 50
یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے بندوں کو اپنی بےپایاں رحمت سے ڈھانپ لیا ہے اور اپنے رزق کی ان پر اس طرح فراوانی کی کہ اس نے اپنی رحمت یعنی بارش کے آگے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں (اور اس کے ذریعے سے اس نے بادلوں پر اپنے رزق کے دروازے کھول دئیے) ان ہواؤں کے ذریعے سے بادل اٹھتا ہے پھر اکٹھا ہو کر گھٹا کے ٹکڑے بن جاتا ہے، ہوائیں اسے بار آور کرتی ہیں اور پھر اپنے رب اور تصرف کرنے والے کے حکم سے اس گھٹا کو کھینچ کر لاتی ہیں۔۔۔ تاکہ بارش برسنے سے پہلے بندے بارش کی آمد کی نوید پر خوش ہوجائیں اور بارش کے اچانک آجانے سے پہلے بارش کے لئے تیار ہوجائیں۔
(وانزلنا من السماء ماء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–48
پانی کے مسائل
قول باری ہے : (وانزلنا من السمآء ماء طھوراً ) اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا، طھور مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے ذریعے یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانی خود پاک ہے اور اس میں دوسری چیز کو پاک کرنے کی صفت بھی موجود ہے۔ اس صفت کو طھور کے لفظ سے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے۔ جس طرح یہ کہا جاتا ہے ” رجل ضروب وقتول “ یعنی وہ ضرب اور قتل کا فعل کرتا ہے اور ان لفظوں کے ذریعے اس کے ان دونوں افعال کو مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وضو کو طہور کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بننے والے حدث سے…
Read the full tafseer →60 آسمان سے اتارے جانے والے مائے طہور میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ہی نے اتارا آسمان سے پاک صاف پانی "۔ جو کہ پاک صاف ہوتا ہے ہر طرح کی گندگی اور آمیزش سے۔ اور جو کہ طاہر و محفوظ ہوتا ہے ہر قسم کے زہریلے مادوں اور جراثیم سے۔ اور جو کہ صرف پاک ہی نہیں ہوتا بلکہ پاک کرنے والا بھی ہوتا ہے۔ یعنی طاہر کے ساتھ ساتھ وہ مطہر بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ طہور کے معنیٰ ہیں طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ جیسے وضو کے معنیٰ ہیں وضو کرنے کا ذریعہ اور " وقود " کے معنیٰ ہیں جلانے کا ذریعہ۔ یعنی " ایندھن "۔ سو اس پانی سے طرح طرح کی نجاستوں اور گندگیوں و غلاظتوں کو دھویا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
سورج، دن رات، ہوائیں اور بارش پیدا کرنے کا مقصد
تشریح : ان آیات میں اللہ کی تخلیقات میں سے سورج ‘ دن ‘ رات ‘ بارش اور ہوائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور آخر میں بتایا گیا ہے کہ سب تخلیقات صرف انسانوں کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور ہر تخلیق اپنی جگہ بےحد اہم اور عجیب و غریب ہے۔
سورج کا اپنے مدار میں گردش کرنا اور زمین کا اپنے مدار میں گردش کرنا ایک خاص اندازے اور خاص نظام کے تحت یہ لوگوں کے لیے رحمت سے کسی طرح کم نہیں کیونکہ اسی کی وجہ سے دھوپ مناسب اوقات میں زمین پر پڑتی ہے جس سے صبح دوپہر شام اور رات وجود میں آتے ہیں۔ بادل بنتے ہیں۔ پھول پھل اور فصلیں پکتی ہیں۔ سایہ جو سورج کی روشنی سے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اے مخاطب تو دیکھتا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہر شے میں اور ہر کام میں ایک رشتہ قائم کردیا ہے یہی رشتہ سبب اور اس کے نتیجے میں ہے سورج کی روشنی اور سائے میں ہے کس طرح قدرت باری نے چیزوں کو سایہ بخشا کہ دور تک پھیلا ہوتا ہے ، اگر اللہ جل جلالہ چاہتا تو اسے ہمیشہ ایسے ہی رکھنے پر قادر تھا مگر اس نے سائے کے بڑھنے گھٹنے کو سورج اور دھوپ سے متعلق کردیا ، سورج اوپر اٹھتا ہے تو سائے سمٹتے چلے جاتے ہیں اور دھوپ اور گرمی کی تپش پھیلتی ہے اور پھر سورج ڈھلتا ہے تو دوبارہ سائے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ رشتے یہ اسباب ونتائج اللہ نے دنیا کی آبادی اور بنی آدم کے آرام کا سبب بنائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
11 ۔ یعنی یہ خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا بھی ہے اس بنا پر جمہور علما نے اس کے مفہوم کو ” طاہر مطہر “ سے ادا کیا ہے بعض نے ” ظہور “ بمعنی طاہر کیا ہے یعنی جو خود پاک ہو۔ اور ” طہور “ صیغہ آلہ ہے یعنی ما یتطھر بہ کے معنی میں ہے یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ پاکیزگی حاصل کی جائے اور یہ صیغہ صفت برائے مبالغہ نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا ماننے سے متعدد اشکال (لفظی و معنوی) لازم آتے ہیں۔ (ابن کثیر) 12 ۔ یعنی اکثر جاندار چیزیں اور انسان بارش کا پانی پی کر ہی سیرابی حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(25:48) بشرا۔ خوشخبری دینے والیاں۔ بروزن فعل بشیرۃ کی جمع ہے۔
بین : البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں۔ جیسا قرآن مجید میں آیا ہے :۔۔ وجعلنا بینھما زرعا (18:32) اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیتی پیدا کردی تھی۔ اور کبھی جدائی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے عرب والے بولتے ہیں بان کذا۔ یعنی وہ چیز جدا ہوگئی۔ کبھی وصل و ملاپ کے معنوں میں جیسے لقد تقطع بینکم (6:94) اور تمہارا آپس میں تعلق ٹوٹ گیا۔
سو بین بمعنی درمیان۔ بیچ۔ جدائی ، ملاپ۔ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن جب بین کی اضافت ایدی (ہاتھوں کی جمع) کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ مثلاً ثم لاتینھم من بین ایدیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 50 :
مد (پھیلایا) ‘ الظل (سایہ) ‘ ساکن (ٹھرا ہوا) ‘ دلیل (نشانی۔ راستہ بتانے والا) ‘ قبضنا ( ہم نے سمیٹ لیا) ‘ سبات (آرام و راحت کی چیز) ‘ الریاح ( ہوائیں) ‘ طھور (پاکیزہ۔ صاف ستھرا) ‘ بلدۃ ( بستی ۔ شہر) ‘ انعام (جو پائے جانور) ‘ ابی (انکار کیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 50 :
اللہ تعالیٰ کا نظام و انتظام ایسا ہے کہ وہ ہر آن اس کا ئنات کی کیفیات اور حالات کو تبدیل کرتارہتا ہے تاکہ انسان یکسانیت سے اکتانہ جائے کبھی دن کبھی رات ‘ کہیں بہار اور کسی جگہ خزاں ‘ کبھی سردی کبھی گمی یا برسات۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک ہی کیفیت رکھتا تو زندگی بےکیف ہو کر رہ جاتی۔
اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(ف 1) اللہ تعالیٰ وہ قدرت رکھتا ہے کہ بارش آنے سے پہلے ایک ایسی ہوا چلاتا ہے جو بارش کی خوش خبری دینے والی ہوتی ہے وہ بادلوں کے اٹھنے کا سبب ہوتی ہے پھر فرمایا کہ آسمان سے پاکیزہ اور ستھرا پانی برستا ہے جس سے سوکھی مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں طرح طرح کی پیداوار ہوتی ہے اور مینہ کا پانی ندی نالوں اور تالابوں میں جو جمع ہوتا ہے وہ چوپایوں اور آدمیوں کے پینے کے کام آتا ہے پھر فرمایا ہر ملک کی ضرورت کے موافق اللہ تعالیٰ نے مینہ کے پانی کی تقسیم کردی ہے جہاں جتنی ضرورت ہوتی ہے وہاں اسی قدر مینہ برستا ہے پھر فرمایا بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
[28] اسی طرح موت کی نیند کے بعد قیامت کی صبح آئے گی جب تمام انسان دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور یہی حالت اس وقت پیش آتی ہے جب ہدایت و معرفت کا روز روشن نمودار ہوتا ہے۔ پس ناگزیر ہے کہ جہل و غفلت کی نیند کے ماتے بیدار ہوں۔ البتہ جن کے لئے رات کی نیند موت کی نیند تھی وہ نہ جاگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
تذکیربآلا اللہ
3: قرآن حکیم دلائل وبراہین کا بےنظیر مجموعہ ہے ۔ اس میں ہر نوع اور ہر طبقے کے لوگوں کے لئے تسکین کا بہتر اور وافر سامان موجود ہے ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں دعوت و اشاعت کے کسی طریق کو اٹھا نہیں رکھا گیا ۔ اس میں حکمت وفلسفہ بھی ہے ۔ اور نفسیات انسانی کی عکاسی بھی ۔ معقول اور ٹھوس دلائل بھی ہیں ۔ اور اقوام و ملل کے حالات بھی ممکن طریقے تصور میں آسکتے ہیں ۔ وہ سب اس میں موجود ہیں ۔
ان آیات میں مشاہدات فطرت کا بیان ہے ۔ اور تذکیر بآلاء اللہ کے اصول پر ان لوگوں کو دعوت ایمان ہے ۔ جو غرو وفکر کے عادی ہیں ۔
ارشاد ہے کہ دیکھو ہم نے انسانوں کے سکھ اور آرام کے لئے آفات پیدا کیا ۔ اس…
Read the full tafseer →(48) اور وہی وحدہ لا شریک ہے جو اپنی رحمت یعنی بارش اور باران رحمت سے پہلے بشارت دینے والی ہوائوں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے ایسا پانی اتارتے اور برساتے ہیں جو پاک اور پاک کرنے والا ہے یعنی بارات رحمت سے پہلے بشارت اور خوشخبری دینے والی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں پھر آسمان کی جانب سے پانی برساتے ہیں وہ پانی خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو بھی پاک و صاف کرنے والا ہے یعنی طاہر بھی اور مطہر بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ف 1۔ اور تنہا آپ پر تمام کام نہ ڈالتے، لیکن چونکہ آپ کا اجر بڑھانا مقصود ہے، اس لئے ہم نے ایسا نہیں کیا، تو اس طور پر اتنا کام آپ کے سپرد کرنا خدا تعالیٰ کی نعمت ہے۔
Read the full tafseer →وہی ہے جو ہواؤں سے خوشخبری کا کام لے رہا ہے :
48۔ زیر نظر آیت میں (رحمت) بمعنی بارش بیان ہوئی ہے اور شاد ہو رہا ہے کہ اللہ وہی ذات ہے جو ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیج دیتا ہے اور وہ کس بات کی خوشخبری دیتی ہیں فرمایا بارش کی کہ ہوا آئی اور ساتھ ہی بڑے بڑے بھاری بادلوں کو اپنے کندھے پر اٹھالائی اور حکم الہی کے اشارہ پر جہاں کا حکم ملا وہاں لا کر اس کو اس طرح برسانا شروع کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پانی پانی کردیا اور جتنا پانی برسایا وہ اس طرح صاف و شفاف پانی تھا کہ اس میں کسی طرح کی کوئی آلائش ومیل موجود نہ تھی اور اس میں سے برسنے والا پانی ایسا پانی تھا جو خود بھی پاک وصاف تھا اور ناپاک وپلید…
Read the full tafseer →وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا (And We have sent down purifying water from the heavens - 25:48). In Arabic طَهُور (Tahur) means something which is pure by itself and which also purifies other things. Allah Ta’ ala has given this quality to water that it is clean by itself and possesses the property to cleanse other things also. The water we use comes down from the clouds in the form of rain, hail or snow. Then some of it flows on the surface of the earth and the rest seeps down into the ground. Under the ground there is a natural drainage system which takes the underground water…
Read the full tafseer →62 That is, such water as is pure and free from alI sorts of impurities, germs and poison, which cleanses and washes away filth and becomes a source of life for men, beasts as well as all kinds of plant life.
Read the full tafseer →