مدبر کائنات نور ہی نور ہے
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ اللہ ہادی ہے، آسمان والوں اور زمین والوں کا۔ وہی ان دونوں میں سورج چاند اور ستاروں کی تدبیر کرتا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں اللہ کا نور ہدایت ہے۔ ابن جریر اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس کے نور کی مثال یعنی اس کا نور رکھنے والے مومن کی مثال جن کے سینے میں ایمان و قرآن ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اولا اپنے نور کا ذکر کیا پھر مومن کی نورانیت کا کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے کے نور کی مثال بلکہ حضرت ابی اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت (مثل نور من امن بہ) ابن عباس کا اس طرح پڑھنا بھی مروی ہے آیت (کذالک نور من…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 61
یہاں سے روئے سخن منافقین کی طرف پھرتا ہے جو اسلامی معاشرے میں فتنوں پر فتنے اٹھائے چلے جا رہے تھے اور اسلام، اسلامی تحریک اور اسلامی ریاست و جماعت کو زک دینے میں اسی طرح سرگرم تھے جس طرح باہر کے کھلے کھلے کافر دشمن سرگرم تھے۔ یہ لوگ ایمان کے مدعی تھے، مسلمانوں میں شامل تھے، مسلمانوں کے ساتھ، اور خصوصاً انصار کے ساتھ، رشتہ و برادری کے تعلقات رکھتے تھے، اسی لیے ان کو مسلمانوں میں اپنے فتنے پھیلانے کا زیادہ موقع ملتا تھا، اور بعض مخلص مسلمان تک اپنی سادہ لوحی یا کمزوری کی بنا پر ان کے آلۂ کار بن جاتے تھے اور پشت پناہ بھی۔ لیکن درحقیقت ان کی دنیا پرستی نے ان کی آنکھیں اندھی کر…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
آیت مذکورہ کو اہل علم آیت نور لکھتے ہیں کیونکہ اس میں نور ایمان اور ظلمت کفر کو بڑی تفصیلی مثال سے سمجھایا گیا۔
نور کی تعریف
امام غزالی نے یہ فرمائی الظاہر بنفسہ والمظھر لغیرہ، یعنی خود اپنی ذات سے ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر و روشن کرنے والا ہو۔ اور تفسیر مظہری میں ہے کہ نور دراصل اس کی کیفیت کا نام ہے جس کو انسان کی قوت باصرہ پہلے ادراک کرتی ہے اور پھر اس کے ذریعہ ان تمام چیزوں کا ادراک کرتی ہے جو آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں جیسے آفتاب اور چاند کی شعاعیں ان کے مقابل اجسام کثیفہ پر پڑ کر اول اس چیز کو روشن کردیتی ہیں پھر اس سے شعاعیں منعکس ہو کر دوسری چیزوں کو روشن کرتی…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون آیات 40-35
اب آگے وہ آیات آرہی ہیں جن کی حیثیت اس سورة کے اندر آفتاب تاباں کی ہے۔ جس کا پرتو سورة کے تمام اجزاء پر پڑ رہا ہے۔ ان میں ایمان اور کفر دونوں کی تمثیل بیان ہوئی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ ایمان سے انسان کے ظاہر اور باطن میں کیا روشنی پیدا ہوتی ہے اور اس سے کس طرح کے اعمال، انفرادی و اجتماعی زندگی میں، ظہور میں آتے ہیں اور کفر سے انسان کے ظاہر و باطن پر کسط رح کی تاریکی چھا جاتی ہے اور بالآخر وہ انفرادی و اجتماعی زندگی پر کس طرح ہلاکت مسلط کردیتی ہے۔ مقصود ان تمثیلوں کے پیش کرنے سے اہل ایمان پر یہ واضح کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر گوشے کو ایمان کی نورانیت سے منور کریں…
Read the full tafseer →35-1یعنی اگر اللہ نہ ہوتا تو آسمان میں نور ہوتا نہ زمین میں، نہ آسمان و زمین میں کسی کو ہدایت نصیب ہوتی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان و زمین کو روشن کرنے والا ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کا رسول (بحیثیت صفات کے) نور ہے۔ یعنی ان دونوں کے ذریعے سے زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی اور روشنی حاصل کی جاتی ہے، جس طرح چراغ اور بلب سے انسان روشنی حاصل کرتا ہے۔ حدیث سے بھی اللہ کا نور ہونا ثابت ہے، پس اللہ، اس کی ذات نور ہے، اس کا حجاب نور ہے اور ہر ظاہری اور معنوی نور کا خالق، اس کا عطا کرنے والا اور اس کی طرف ہدایت کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔
35-2نور سے مراد ایمان و اسلام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جن کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
29: اس جملے کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات کو ہدایت کا نور پہنچانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ امام غزالی نے اس آیت کی تشریح میں ایک مستقل مقالہ لکھا ہے جس میں اس فقرے کا مطلب بڑے لطیف فلسفیانہ انداز میں سمجھایا ہے، ان کی یہ پوری بحث امام رازی نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت نقل فرمائی ہے جو اہل علم کے لیے قابل دید ہے۔
30: امام رازی فرماتے ہیں کہ اگرچہ سورج کی روشنی ایک چراغ کی روشنی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت کی مثال سورج کے بجائے چراغ سے اس لیے دی گئی ہے کہ یہاں مقصود اس ہدایت کی مثال دینا ہے جو گمراہی کے اندھیروں کے عین درمیان…
Read the full tafseer →درس نمبر 154 ایک نظر میں
اس سورة کے دونوں سابق اسباق میں انسان کی ان مادی خواہشات کا علاج کیا گیا تھا جو انسانی شخصیت کی طبیعی خواہشات ہیں اور انسانی شخصیت پر ان کی گہری گرفت ہے۔ مقصد یہ تھا کہ ان خواہشات کو پاک و صاف کیا جائے اور ان کو نورانی افق تک بلند کیا جائے۔ گوشت و پوست کی شہوتوں ‘ آنکھوں اور شرمگاہوں کی خواہشتات۔ ان باتوں کی تشیر اور تنقید۔ اس سلسلے میں پیاد ہونے والے غضب ‘ اشتعال اور دشمنی کے مسائل کو حل کیا گیا تھا اور ہدایات دی گئی تھیں۔
یہ حکم دیا گیا تھا کہ اسلامی معاشرے میں فحاشی کے پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ عملی زندگی اور انسان کے اقوال میں فحاشی کی ممانعت کی گئی۔ ان امور کے…
Read the full tafseer →6 یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین اور آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہوجائیں (موضح القرآن) سب مخلوق کو نور وجود اسی سے ملا ہے۔ چاند، سورج، ستارے، فرشتے اور انبیاء و اولیاء میں جو ظاہری یا باطنی روشنی ہے اسی منبع النور سے مستفاد ہے۔ ہدایت و معرفت کا جو چمکارا کسی کو پہنچتا ہے اسی بارگاہ رفیع سے پہنچتا ہے۔ تمام علویات و سفلیات اس کی آیات تکوینیہ و تنزیلیہ سے منور ہیں۔ حسن و جمال یا خوبی و کمال کی کوئی چمک اگر کہیں نظر پڑتی ہے وہ اسی کے وجہ منور اور ذات مبارک کے جمال و کمال کا ایک پر تو ہے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ طائف میں جب لوگوں نے حضور ﷺ کو ستایا تو یہ دعا زبان پر تھی۔ "…
Read the full tafseer →یہ اس سورت کا پانچواں رکوع ہے جو اپنے مضامین کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب کے دوسرے حصے میں ایمان کی بحث کے ضمن میں ایک اہم درس درس 7 اس رکوع پر مشتمل ہے۔ اس رکوع کی پہلی آیت آیت 35 قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں سے ہے۔ سورة الاحزاب اور سورة النور کا آپس میں جوڑا ہونے کا تعلق ہے۔ ان دونوں سورتوں کے درمیان بہت سی دوسری مناسبتوں اور مشابہتوں کے علاوہ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سورة الاحزاب کی آیت 35 بھی اسی موضوع پر ہے ‘ یعنی ایمان اور اسلام کی کیفیات کے حوالے سے یہ دونوں آیات قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں سے ہیں۔
اس رکوع میں ایمان کے حوالے سے انسانوں کی تین اقسام زیر…
Read the full tafseer →59 قرآن میں عموماً جہاں کہیں بھی آسمانوں اور زمین کا اکٹھا ذکر آیا ہے وہاں اس سے مراد پوری کائنات ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نور ہے یا پوری کائنات کو روشن کرنے والا ہے۔
نور تین قسم کا ہوتا ہے (1) روشن چیزوں کا نور مثلاً سورج، چاند، ستاروں اور چراغ یا برقی قمقموں کا نور۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ ایسے نور کے بغیر انسان ظاہری چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ (2) آنکھ کا نور جس کی عدم موجودگی میں روشن چیزوں کا نور بےکار ہوتا ہے۔ سورج نکلا ہوا ہو تب بھی آنکھ کے اندھے کو کوئی چیز نہیں آتی۔ (3) وحی یا علم دین کا نور جس کی عدم موجودگی میں…
Read the full tafseer →76۔ یعنی اللہ ہی نور ہدایت بخشنے والا ہے اہل آسمان کو بھی، اہل زمین کو بھی، یعنی جملہ مخلوقات کو۔ اے ھادی من فی السموت والارض فھم بنورہ الی الحق یھتدون بھذہ من جرۃ الضللۃ یعتصمون (ابن جریر) یقول اللہ سبحانہ ھادی اھل السموات والارض (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ ھادی السموت والارض (جصاص عن انس ؓ) اے مثل نور اللہ تعالیٰ فی قلب ال مومن ھو النور الذی یھتدی بہ (معالم) انجیل میں بھی خدا کو نور کہا گیا ہے۔ یوحنا کے پہلے عام خط میں ہے :۔” خدا نور ہے اور اس میں ذرا بھی تاریکی نہیں “ (1۔ 5) اصل انجیل یوحنا باب اول کے شروع میں بھی اس قسم کی کچھ عبارتیں ہیں۔ (آیت) ” نور “۔ اپنے لغوی معنی میں وہ روشنی ہے جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یعنی ان دونوں کو شمس و قمر کے ذریعہ منور کرنے والا ہے اور اس کے نور کی مثال یعنی اس کی صفت قلب مومن میں ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہے زُجَاجَۃٌ بمعنی قندیل اور المصباح بمعنی چراغ یعنی جلتی ہوئی بتی (شعلہ) اور المشکوٰۃ بمعنی طاق جو آرپار نہ ہو یعنی قندیل کی نلکی (پائپ) اور وہ قندیل حال یہ کہ اس میں نور ہو ایسا ہے جیسا کہ روشن ستارہ دال کے کسرہ کے ساتھ اور دال کے ضمہ کے ساتھ (اس وقت) دَرْءٌ سے مشتق ہوگا اور معنی دفع کرنے کے ہوں گے اس کے تاریکی کو دفع کرنے کی وجہ سے، اور دال کے ضمہ اور یا کی تشدید…
Read the full tafseer →اللہ نور السموت والارض اللہ آسمانوں کا اور زمین کا نور ہے۔
نور اس کیفیت کا نام ہے جس کو آنکھ سب سے پہلے ادراک کرتی ہے پھر اس کے ذریعہ سے دوسری قابل دید چیزوں کا انکشاف کرتی ہے جیسے چاند سورج کی روشنی کہ (پہلے چاند سورج اس سے روشن ہوتے ہیں پھر) ان چیزوں کا اس سے انجلاء ہوجاتا ہے جو سورج و چاند کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس تعریف کی رو سے لفظ نور کا ذات باری تعالیٰ پر حقیقی اطلاق ممکن نہیں (کیونکہ یہ نور مادی ہے اور عوارض مادیات میں سے ہے) لامحالہ تاویل کی جائے گی۔ تاویل کی چند صورتیں ہیں (1) مضاف کو محذوف مانا جائے یعنی اللہ زمین و آسمان کو نور عطا کرنے والا ہے۔ (2) بطور مبالغہ مصدر کو اللہ پر محمول…
Read the full tafseer →(35) اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے اور ہدایت منجانب اللہ دو قسم کی ہوتی ہے تعریف اور بتیان یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ستاروں کے ساتھ اور زمین کو نباتات اور پانی کے ذریعے مزین کرنے والا اور رونق دینے والا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں میں سے مسلمانوں کے دلوں کو روشن ومنور کرنے والا ہے، مسلمانوں کے اس نور یا یہ کہ مسلمان کے دل میں جو نور خداوندی ہے اس کی حالت عجیبہ ایسی ہے جیسے فرض کرو کہ ایک طاق ہے اور اس میں ایک چراغ رکھا ہے اور وہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہے اور وہ قندیل طاق میں رکھا ہے اور وہ ایسا شفاف ہے جیسا ان پانچ ستاروں یعنی عطارد،…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے“ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ ہو۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین اور آسمان کی۔ اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہوجائیں۔“ یاد رہے، یہاں اللہ کے آسمان و زمین کا نور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور آسمان و زمین کا نور ہے اور اسے روشن کرنے والا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور نور کی مثال بیان کی گئی ہے، جب کہ اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نور السموات والارض کلام عرب میں نور ان روشنیوں کو کہتے ہیں جو آنکھ کے ذریعے دیکھی جاتی ہیں مجازاً دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی چمکنا بھی ہے۔ اسی سے کہا جاتا ہے : کلام لہ نور اس کا چمکنے والا کلام ہے۔ اسی سے الکتاب المنیر (روشن کتاب) ہے، اسی سے شاعر کا قول ہے :
نسب کان علیہ من شمس الضحا نورا ومن فلق الصباح عمودا
لوگ کہتے ہیں : فلان نور البلد شمس العصر و قمرہ فلاں شہر کا نور ہے زمانہ کا سورج اور چاند ہے۔
شاعر نے کہا : فانک شمس والملوک کواکب۔
ایک شاعر نے کہا :
ھلا خصصت من البلاد بمقصد قمر القبائل خالد بن یزید
ایک اور شاعر نے کہا :
ازا سار عبداللہ من…
Read the full tafseer →1۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن ماجہ والبیہقی فی السماء والصفات ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد میں نماز پڑھتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے۔
اللہم لک الحمد انت رب السموٰت والارض ومن فیہن ولک الحمد انت نور اسلموت والارض ومن فیہن ولک الحمد انت قیام السموت والرض ومن فیہن وانت الحق وقولک حق ووعدک حق ولقائک حق الجنۃ حق والنار حق والساعۃ حق اللہم لک اسلمت ربک امنت وعلیک تو لکت والیک انبت ربک خاصمت والیک حاکمت فاغفرلی ماقدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت انت الہی لا الہ الا انت۔
ترجمہ : اے اللہ تیرے لیے ہی بت تعریفیں ہیں تو ہی رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے اور تیرے…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ [ اللہ ] نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ] مَثَلُ نُوْرِهٖ [ اس کے نور کی مثال ] كَمِشْكٰوةٍ [ ایک ایسے طاق کی سی ہے ] فِيْهَا [ جس میں ] مِصْبَاحٌ ۭ [ ایک چراغ ہے ] اَلْمِصْبَاحُ [ وہ چراغ ] فِيْ زُجَاجَةٍ ۭ [ ایک شیشے کے برتن (قندیل) میں ہے ] اَلزُّجَاجَةُ [ وہ قندیل ] كَاَنَّهَا [ (ایسے ہے) جیسے کہ وہ ] كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ [ ایک چمکدار ستارہ ہے ] يُّوْقَدُ [ اس کو چمکایا جاتا ہے ] مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ [ ایک ایسے برکت دئیے ہوئے درخت سے جو ] زَيْتُوْنَةٍ [ ایک ایسا زیتون کا درخت ہے جو ] لَّا شَرْقِيَّةٍ [ نہ مشرقی ہے ] وَّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ [ اور نہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا منور فرمانے والا ہے
اس آیت کریمہ میں اول تو یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، حضرات مفسرین کرام نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے لفظ نور منور کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو روشن فرما دیا ہے یہ روشنی آسمانوں اور زمین کے لیے زینت ہے اور یہ زینت صرف ظاہری روشنی تک محدود نہیں۔
حضرات ملائکہ آسمانوں میں رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہیں اس سے بھی عالم بالا میں نورانیت ہے اور زمین میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے ہدایت کا نور پھیلایا اس سے اہل زمین کو نورانیت حاصل ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت نور دربارہ تمثیل نور ہدایت وظلمت فسق وفجور
وانوار قلوب اہل ہدایت وظلمت قلوب اہل ضلالت
قال اللہ تعالی۔ اللہ نور السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ من یشاء بغیر حساب۔
(ربط) ابتداء سورت سے یہاں تک احکام ہدایت اور کلمات حکمت وموعظت کا ذکر ہوا اور گزشتہ آیات میں یہ فرمایا کہ ہم نے روشن آیتیں نازل کیں جس سے مقصود یہ تھا کہ لوگ گمراہی کی ظلمت سے نکل کر نور ہدایت میں آجائیں۔ اس لئے ان آیات میں اول نور ہدایت اور ظلمت ضلالت کی مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اہل ہدایت اور اہل ضلالت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ دلائل ایمان و ہدایت نور مبین کی طرح روشن ہیں اور ادیان کفر انتہائی ظلمت اور تاریکی میں…
Read the full tafseer →41:۔ ” اللہ نور السموت الخ “: حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے سے منافقین کا مقسد یہ تھا کہ اس سے مسلمان آنحضرت ﷺ کے خلاف ہوجائیں گے اور مسئلہ توحید اور دین اسلام سے پھر جائینگے تہمت سے متعلقہ احکام اور اصلاح و تطہیر معاشرہ کے قوانین بیان کرنے کے بعد اب یہاں اصل دعوی توحید کا ذکر کیا گیا ہے۔ ” اللہ نور السموت والارض “ اللہ تعالیٰ سارے جہان کا نور ہے سارے جہان کی رونق اور چہل پہل اسی کی ذات سے قائم ہے۔ سارے عالم کا کاروبار اسی کی تدبیر اور تصرف سے چل رہا ہے اور کائنات کے ہر ذرے سے اس کی قدرت ظاہر و ہویدا ہے۔ وہی سارے جہان کا مدبر اور تمام جہان والوں کا کارساز ہے قال مجاھد و ابن عباس فی قولہ…
Read the full tafseer →ربط آیات :
اس سورة میں پہلے اللہ نے حدود کا ذکر کیا ، پھر واقعہ افک بیان ہوا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے نظام عفت وعصمت کے مختلف قوانین بیان ہوئے۔ دوسروں کے گھروں میں جانے کے آداب بیان ہوئے ، غیر محرموں اور اجنبیوں سے ملاقات کے وقت نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہوا ، عورتوں کے لئے پردے کے خصوصی احکام دیئے گئے کہ وہ اپنی زیب وزینت کو محرموں کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ کریں۔ پھر اللہ نے نکاح کرنے کی ترغیب دی تاکہ سوسائٹی میں بدکاری کا سلسلہ پیدا نہ ہو۔ اور نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو معاشرے میں پاکدامن بن کر رہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد مکاتبت کا قانون بیان ہوا۔ کہ اس معاملہ میں غلاموں کے ساتھ مالی تعاون کروجو…
Read the full tafseer →اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ مَثَلُ نُوْرِہٖ كَمِشْكٰوۃٍ فِيْہَا مِصْبَاحٌ 0 ۭ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَۃٍ 0ۭ اَلزُّجَاجَۃُ كَاَنَّہَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَكَۃٍ زَيْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِيَّۃٍ وَّلَا غَرْبِيَّۃٍ 0ۙ يَّكَادُ زَيْتُہَا يُضِيْۗءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ 0ۭ نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ 0ۭ يَہْدِي اللہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَيَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ 0ۭ وَاللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 35ۙ
نور ( روشنی)
النّور : الضّوء المنتشر الذي يعين علی الإبصار، وذلک ضربان دنیويّ ، وأخرويّ ، فالدّنيويّ ضربان : ضرب معقول بعین…
Read the full tafseer →ترکیب : اللہ متبداء نور السموت الخ خبر، مثل نورہ صفۃ نورہ مبتداء کمشکٰوۃ موصوف فیہا مصباح صفت سب محذوف سے متعلق ہو کر خبر ہوئی تمام جملہ بیان ہوا نور السموات کا المصباح مبتداء فی زجاجہ خبر قس علی ھذا۔ دری منسوب الی الدر اوفعیل کمریق من الدر۔ یوقد صفت ہے مصباح کی۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ اللہ نے تمہارے لیے آیات بینات نازل کیں تم کو جہل کی اندھیریوں سے نکال کر علم کی روشنی میں لایا۔ اب یہاں اپنے اوصاف نورانی اور نور ہدایت کی تمثیل بیان فرماتا ہے کہ وہ اللہ جس نے تم کو جہل کی ظلمات سے نکالا آسمانوں اور زمین کا نور ہے پھر اپنے نور کو اس شمع سے تشبیہ دے کر جو شیشہ کی قندیل میں ہو یہ فرماتا ہے…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوِۃٍ فِیْھَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُمِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لاَّشَرْقِیـَّۃٍ وَّلاَ غَرْبِیَّۃٍ لا یَّکَادُزَیْتُـھَا یُضِیْٓ ئُ وَلَوْلَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (النور : 35)
(اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو، اس میں ایک چراغ ہو، وہ چراغ ایک شیشہ میں ہو، وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔
اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال اس طرح ہے جس طرح ایک طاق میں چراغ ہو۔ چراغ شیشے کے فانوس میں رکھا ہوا ہے فانوس اس چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے اس کے اندر رکھے ہوئے چراغ میں زیتون کا تیل ہے جو ایسے مبارک درخت سے لیا گیا ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ چراغ کے تیل کو آگ نہ بھی دکھلائی جائے مگر پھر بھی روشن ہوجائے۔ دیکھنے والے کو یوں لگے جیسے روشنی پر روشنی پھوٹ رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور سے راہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ انہیں بات سمجھنے اور حقیقت تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ اللہ…
Read the full tafseer →نورِ ایمان یا نور وجود :
35: اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے) اللہ نور الایۃ کی نظیر بمع اس کے ارشاد : مثل نورہٖ ویھدی اللہ لنورہٖ ۔ تمہارا یہ قول ہے زید کرم وجود۔ پھر تم کہو : ینعش الناس بکرمہٖ وجودہٖ زید تو نری سخاوت ہے لوگ اس کی سخاوت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے ذونور السٰمٰوت نمبر 1۔ آسمانوں کے نور والا ہے۔ اور آسمان و زمین کا نور حق ہے جس کو ظہور وبیان میں نور سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : اللہ ولی الذین امنوا یخرجھم من الظلمات الی النور ] البقرۃ : 257[ یعنی باطل سے حق کی طرف نکال لاتے ہیں۔ آسمان و زمین کی طرف نور کی…
Read the full tafseer →اللہ نور السموات کی تفسیر۔
35۔ اللہ نور السموات والارض، ،، ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ آسمان و زمین کا ہادی ہے اس کی رہنمائی سب حق کی طرف چل رہے ہیں اور گمراہی سے نجات پا رہے ہیں ۔ ضحاک کا قول ہے کہ زمین و آسمان کو منور کرنے والاجیسا کہ کہاجاتا ہے اللہ نے آسمان کو منور کیا فرشتوں کو منور کیا، انبیاء کرام (علیہم السلام) سے۔ مجاہد کا قول ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ابی بن کعب اور حسن ابوالعالیہ کا قول ہے کہ آسمان اور زمین کو مزین کیا آسمان کو مزین کیا سورج کے ساتھ اور چاند ستاروں کے ساتھ اور زمین کو مزین کیا انبیاء ، علمائ، صلحائ، اور مومنین کے ساتھ اور بعض نے کہا کہ…
Read the full tafseer →35۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح 1 ؎ قول کے موافق اَللّٰہُ نُوْرُا لسَّمٰوٰتِ وَالْاَ رْضِ کی تفسیر یہ ہے کہ آسمان پر فرشتے اور زمین پر نیک لوگ اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت سے راہ راست پر آئے ہیں اور صحح مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی 2 ؎ ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں ‘ ترمذی ‘ ابوداود وغیرہ کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی صحیح حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے 3 ؎ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے ‘ اسی واسطے اولاد آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا ‘ کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (35
(اللہ نور السموت والارض) ” اللہ تعالیٰ (حسی اور معنوی طور پر) آسمانوں اور زمین کا نور ہے “ اللہ تعالیٰ بذات خود نور ہے اس کا حجاب نور ہے۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرہ مبارک کے انوار جلال حد نگاہ تک تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کردیں۔ اس کے نور سے عرش ‘ کرسی ‘ سورج ‘ چاند اور جنت منور ہیں۔۔۔ اسی طرح معنوی نور کا منبع بھی اللہ تعالیٰ ہے اس کی کتاب نور ہے ‘ اس کی شریعت نور ہے ‘ ایمان نور ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے مومن بندوں کے دلوں میں موجود معرفت الہی نور ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا نور نہ ہو تو گمراہیوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھا جائیں ‘ لہذا ہر وہ مقام جہاں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →قول باری ہے : اللہ نور السموات والارض۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت کے مطابق اور حضرت انس ؓ کے قول کے مطابق اللہ آسمانوں اور زمین پر رہنے والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ابولعالیہ نیز حسن سے مروی ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کو ستاروں اور شمس وقمر کے ذریعے روشن کرنے والا ہے۔
قول باری ہے : (مثل نورہ) اس کے نور کی مثال حضرت ابی بن کعب ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ (نورہ) میں ضمیر مومن کی طرف راجع ہے۔ اور معنی یہ ہیں کہ ” اللہ کی ہدایت کی وجہ سے مومن کے دل کے نور کی مثال یہ ہے، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ضمیر اللہ کے نام کی طرف راجع ہے اور معنی یہ…
Read the full tafseer →72 اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا : کہ اسی نے اپنے کرم لامتناہی، رحمت ِبے نہایت اور قدرت لامحدود سے ان کو خلعت وجود سے نوازا۔ سو وجود نور ہے اور عدم ظلمت و اندھیرا۔ پھر اسی نے اپنی قدرت بےپایاں سے زمین و آسمان کی اس مخلوق میں ظاہری و باطنی اور حسی و معنوی نور اور روشنیوں کے طرح طرح کے سامان رکھ دئیے جن میں سب سے بڑی سب سے اہم اور سب سے عظیم الشان روشنی ایمان و یقین کی وہ روشنی ہے جو دلوں کی دنیا کو روشن کرنے والی اور انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفراز کرنے والی ہے۔ اس لئے اللہ پاک کے نور کے ذکر کے بعد اسی کا ذکر فرمایا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَثَلُ نُوْرِہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
اللہ کے نور مثال اور مرد لوگوں کی تعریف
تشریح : ان آیات میں اللہ کے اس صفاتی نام نور کی مثال دی گئی ہے ایک ایسے روشن، خوبصورت ترین چراغ کے ساتھ جس میں تیل بھی بہترین زیتون کے درخت کا پڑتا ہے۔ زیتون کے درخت کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر بہترین درخت وہ ہوتا ہے جو کھلی فضا اور کھلی جگہ میں ہوتا ہے۔ اس کا تیل کھانے کے لیے اور جلانے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ زیتون کا درخت اس کا پھل اور اس کا تیل انسان کے لیے بےحد مفید شفاف اور صحت کے لیے بہترین غذائیت رکھتا ہے۔
اللہ کے نور کی تعریف کرنا بڑی مشکل بات ہے بہرحال اس وقت کے بہترین چراغ سے اللہ نے خود اپنے نور کو تشبیہ دی ہے۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، نور کا معنی ایسی چیز ہے جو از خود ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرنے والی ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ تمام جہانوں میں حقیقی ذاتی اللہ کی ہے جو ہر ہر شے سے ظاہر ہے اور دوسری چیزوں کی روشن اور ظاہر کرنے والی ہے تو یہ نور جو شئے کے معنوں میں آئے گا اس کا اطلاق اللہ کی ذات پر نہ ہوگا بلکہ اس کی طرف سے عطا کی جانے والی روشنی پر ہوگا کہ اصل سارے نور اور روشنی کا مالک اللہ ہے پھر اس کے نور کی اور روشنی بخشنے کی مثال ایسی کہ جیسے کسی طاق میں ایک روشن چراغ اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہو جو شفاف اور ستاروں جیسے چمکدار شیشے کی بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
1 ۔” نور “ کے لفظی معنی روشنی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر لفظ معنی روشنی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر لفظ ” نور “ کا اطلاق بطور مدح و ستائش کیا گیا ہے کیونکہ وہی ایک ذات ہے جس نے روشنی دینے والی تمام چیزوں کو اور ان کی روشنی کو پیدا کیا اور انہیں روشن بنایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے نور ہونے کے اس معنی کی تائید زید بن علی اور عبد العزیز المکی کی قرأت سے بھی ہوتی ہے یعنی ” اللہ نور السموت والارض “ (اللہ نے زمین اور آسمان کو روشن بنایا) مطلب یہ ہے کہ اس ساری کائنات کی رونق اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر و انتظام سے ہے۔ (شوکانی) 2 ۔ سب جانتے ہیں کہ شیشے میں رکھنے سے آگ کی روشنی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ 3 ۔ مبارک…
Read the full tafseer →(24:35) نور۔ اگرچہ نور کی تعریف میں علماء بڑی دقیق بحثوں میں گئے ہیں لیکن آسان فہم اس سے مراد وہ تعریف ہے جو صاحب لسان العرب اور حضرت امام غزالی (رح) نے کی ہے کہ :۔
نور اس کو کہتے ہیں جو خود ظاہر اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو۔
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :۔ النور۔ وہ پھیلنے والی روشنی جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے اور یہ دو قسم پر ہے :۔
(1) دنیوی۔ اور ۔ (2) اخروی۔ نور دنیو پھر دو قسم پر ہے :۔
(1) معقول۔ جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے یعنی امور الٰہیہ کی روشنی میں جیسے عقل۔ یا قرآن کی روشنی ۔
(2) محسوس۔ جس کا تعلق بصر سے ہے جیسے چاند سورج۔ ستارے اور دیگر اجسام نیرہ۔
چناچہ نور الٰہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 40 :
مسکوۃ (طاق) ‘ مصباح (چراغ) ‘ زجاجۃ (شیشہ۔ قندیل) ‘ کو کت (ستارہ) ‘ دری (موتی کی طرح چمک دار) یوقد (روشن کیا جاتا ہے) ‘ زیت (تیل) یضیء (روشن کیا جاتا ہے) ‘ لم تمسس (نہ چھوا ہو) ‘ یضرب (بیان کرتا ہے۔ مارتا ہے) ‘ اذن (اجازت دی ہے) ‘ ترفع (بلند کیا جاتا ہے۔ کیا جائے) ‘ الغدو (صبح) ‘ الاصال (شام) لاتلھی (غافل نہیں کرتی) ‘ بیع (تجارت۔ لین دین) ‘ قیعۃ (قاع) چٹیل کھلا ریت کا میدان) ‘ الظمان (پیاسا) ‘ لجی (گہرپانی) ‘ سحاب (بادل) ‘ لم یکد (قریب نہیں ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 40 :
آسمانوں ‘ زمین اور کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ہدایت کا نور موجزن ہے۔ جہاں بھی اس کی…
Read the full tafseer →نور کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : نور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے ابن عباس کے قول کی موافق اس کے تفسیر یوں ہے کہ آسمانوں پر فرشتے اور زمین پر نیک لوگوں اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت سے راہ راست پر آئے ہیں ایماندار کے دل میں یہ نور ہدایت ایسا ہے جس طرح موتی ساچمکتا ہے آگے اس کی مثال یہ بیان فرمائی کہ ایماندار کا سینہ مشکوۃ یعنی طاق کی مانند ہے اور اس کا دل ایک چمکدار شیشے کی قندیل ہے جس قندیل میں نور ایمانی چراغ میں ایسا آبدار زیتوں کا تیل جلتا ہے جو آگ کے شعلے کی طرح چمکتا ہے کیونکہ وہ زیتون نہ تو باغ کے شرقی کونے کا ہے جس کو سہ پہر کی دھوپ نہ پہنچ سکے اور نہ غربی کونے کا ہے جس کو دوپہر سے…
Read the full tafseer →[43] یعنی اللہ ہی نور ہدایت بخشنے والا ہے اہل آسمان کو بھی اور اہل زمین کو بھی یعنی جملہ مخلوقات کو۔
[44] یعنی برکت والا، بہت مفید اور نفع بخش۔
[45] یعنی کسی آڑ میں نہ ہو کہ اس پر صرف صبح کی یا صرف شام کی دھوپ پڑے بلکہ ایسی جگہ واقع ہو جہاں صبح سے شام تک اس پر دھوپ پڑتی رہے۔ زیتون کے ایسے درخت کا تیل زیادہ لطیف اور صاف ہوتا ہے۔ اور زیادہ روشنی دیتا ہے بہ نسبت اس درخت کے جو شرقی یا غربی ہو۔
[46] یعنی اللہ تعالیٰ کے نور سے تمام موجودات کی نمود ہے لیکن مومن صالح کو نور الٰہی سے ہدایت و عرفان کا جو خصوصی حصہ ملتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ گویا مومن کا جسم ایک طاق کی طرح ہے جس کے اندر
ستارے کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
اللہ نور ہے :
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمینوں کے نور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے ، اور قندیل ایسی صاف اور چمکدار ہے گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے ، اس میں برابر یکسان روشنی ہے نہ شرقی ہے اور نہ غربی تیل اس طرح کا مصفا کہ بغیر آگ جلنے کے تیار ہے ظاہر ہے کہ ایسی روشنی تیز ہوگی ، واضح ہوگی دور تک پہنچنے والی اور پاکیزہ ہوگی پس اپنے نور سے جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھلاتا ہے ، کیونکہ اللہ کی ذات ہر قسم کی تشبیہ سے پاک ہے ۔ (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ چناچہ آیت کے اختتام پر…
Read the full tafseer →(35) اب آگے ہدایت و ضلالت کی ایک اور مثال مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی روشنی ہے اور اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نور کی صفت عجیبہ ایسی ہے جیسے فرض کرو ایک طاق ہے اس طاق میں ایک چراغ ہے وہ چراغ ایک شیشے کی قندیل میں ہے وہ شیشے کی قندیل ایسی ہے جیسے ایک چمکتا ہوا تارا وہ چراغ ایک بابرکت درخت کے تیل سے کہ وہ زیتون ہے روشن کیا جاتا ہے وہ درخت نہ شرتی ہے اور نہ غربی ہے یعنی نہ تو بالکل پورب کی طرف ہے اور نہ بالکل پچھم رخ ہے بلکہ بیچ میں واقع ہے جس پر پورے دن کی دھوپ پڑتی ہے۔ اس درخت کا تیل ایسا صاف اور شفاف ہے کہ قریب ہے وہ…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی اہل آسمان و زمین میں جن کو ہدایت ہوئی ہے ان سب کو اللہ ہی نے ہدایت دی ہے، اور مراد آسمان و زمین سے کل عالم ہے، پس جو مخلوقات آسمان و زمین سے باہر ہے وہ بھی داخل ہوگئی، جیسے حملة العرش۔
4۔ پس اس طرح مومن کے قلب میں اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
5۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ مثالیں یان کرتا ہے اور وہ مثال نہایت مناسب ہوتی ہے تاکہ خوب ہدایت ہو۔
Read the full tafseer →اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یہ ایک مثال بیان کی گئی ہے :
56۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات یکسر رشد وہدایت ‘ نوروبصیرت اور پندوموعظت ہوتی ہیں ‘ ان پر عمل پیرا ہونے سے انسانی قلوب و دماغ میں روشنی پیدا ہوتی ہے اور برکات الہیہ کا نزول ہوتا ہے کہ مگر ان فیوض خداوندی سے مستفید ہونے کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ قوم میں اخلاق فاضلہ ہوں ‘ وہ فسق وفجور سے پرہیز کرتی ہو اور نیکی و طہارت اس کا شکار ہو اس لئے ابتدائے سورت میں ایک بدترین اخلاقی جرم پر بحث کی گئی تاکہ آئندہ تعلیم اور نیکی و طہارت اس کا شکار ہو اس لئے ابتدائے سورت میں ایک بدترین اخلاقی جرم پر بحث کی گئی تاکہ آئندہ تعلیم الہی کی نشر…
Read the full tafseer →The definition of Nur (Light)
Imam Ghazzali (رح) has given the definition of Nur (light) as الظاھر بنفسہٖ وا؛مظھر لغیرہ that is something which is bright and manifest on its own, and makes other things bright and evident. Tafsir Mazhari has explained that Nur is in fact that condition which is initially perceived by man's sense of sight, and then through that perception he comprehends all those things which can be seen by eye, such as in the case of rays of sun and the moon, which on falling on a solid mass brightens it up, and then through the reflection from solid mass brightens other…
Read the full tafseer →61. From here the discourse is directed towards the hypocrites, who were bent upon starting mischief in the Islamic community, and were as active from within as the unbelievers were from without to harm the Islamic movement and the body politic of Islam. As these people professed belief, and apparently belonged to the Muslim community, and had blood relationships with the Muslims, especially with the Ansar, they were better placed to start and spread mischief. The result was that even some sincere Muslims, due to simplicity or weakness, became tools in their hands and even their supporters.…
Read the full tafseer →