Explained with ayahs 32–34
نکاح اور شرم وحیا کی تعلیم
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولا نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتاہو، اسے نکاح کرلینا چاہئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے (بخاری مسلم) سنن میں ہے آپ فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة النُّوْر 54
ان آیات کی بہترین تفسیر وہ احادیث ہیں جو اس سلسلہ میں نبی ﷺ سے مروی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا یا معشر الشباب، من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر و احصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء، " نوجوانو، تم میں سے جو شخص شادی کرسکتا ہو اسے کر لینی چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو بد نظری سے بچانے اور آدمی کی عفت قائم رکھنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے، کیونکہ روزے آدمی کی طبیعت کا جوش ٹھنڈا کردیتے ہیں "۔ (بخاری و مسلم)۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا ثلٰثۃ حق علی اللہ عونہم، الناکح یرید العفاف،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (تم لوگوں کی ہدایت کے واسطے اس سورت میں یا قرآن میں رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے) تمہارے پاس کھلے کھلے احکام (علمیہ و عملیہ) بھیجے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کی (یا ان جیسے لوگوں کی) بعض حکایات اور (خدا سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحت کی باتیں (بھیجی ہیں) اللہ تعالیٰ نور (ہدایت) دینے والا ہے آسمانوں (میں رہنے والوں) کا اور زمین (میں رہنے والوں) کا (یعنی اہل آسمان و زمین میں جن کو ہدایت ہوئی ہے ان سب کو اللہ ہی نے ہدایت دی ہے اور مراد آسمان و زمین سے کل عالم ہے پس جو مخلوقات آسمان و زمین سے باہر ہے وہ بھی داخل ہوگئی جیسے حاملان عرش) اس کے نور (ہدایت) کی حالت عجیبہ ایسی…
Read the full tafseer →موعظت کا آمادہ
یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ اس سورة میں بار بار آئی ہے۔ پیچھے بھی اس کی مثالیں گزر چکی ہیں اور آگے آیت 46 میں بھی اس کی نظیر موجود ہے۔ ان تنبیہات کے بار بار اعادہ کی حکمت کی طرف ہم اس سورة کی پہلی ہی آیت کے تحت اشارہ کر آئے ہیں۔ ومثلاً من الذین حلوا من قبلکم سے اشارہ اس تمثیل کی طرف ہے جو آگے آیت 35 میں آرہی ہے اور جس کی وضاحت آپ کے سامنے انشاء اللہ آئے گی۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف یہ نہایت واضح ہدایات نازل کردی ہیں اور تمہاری حوصلہ افزائی کے لئے ان اسلاف صالحین کی تمثیل بھی پیش کردی ہے جن کے نقش قدم کی تمہیں پیروی کرنی ہے۔ ان کے اندر ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32-1آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کردو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کرلو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مرد و عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی، جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اس طرح امر کے صیغے سے بعض نے ثبوت کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ اسے جائز اور پسندیدہ قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت مؤکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے بچنے کی سخت وعید ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے میری سنت سے انکار کیا، وہ مجھ سے نہیں۔
32-2یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
26: جب غلاموں اور باندیوں کا رواج تھا، اس وقت وہ اپنے آقاؤں سے یہ معاملہ کرلیتے تھے کہ وہ ایک طے شدہ رقم کما کر اپنے آقاؤں کو دیں گے جس کے بعد وہ آزاد ہوجائیں گے۔ یہ معاملہ مکاتبت کہلاتا ہے۔ اس آیت نے آقاؤں کو یہ ترغیب دی ہے کہ جب ان کے غلام یا باندیاں ان سے یہ معاملہ کرنا چاہیں تو انہیں قبول کرلینا چاہیے، اور دوسرے مسلمانوں کو یہ ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے غلاموں اور باندیوں کی مالی مدد کریں، تاکہ وہ آزادی حاصل کرسکیں۔
27 جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ لوگ اپنی کنیزوں سے عصمت فروشی کراتے، اور اس طرح ان کو بدکاری پر مجبور کر کے پیشہ کماتے تھے۔ اس آیت نے اس گھناؤنی رسم کو شدید گناہ قرار دے کر اسے…
Read the full tafseer →اس سبق پر اب یہ آخری تبصرہ آتا ہے جو اس کے موضوع کے ساتھ خوب متناسب ہے۔
(ولقد۔۔۔۔۔۔ للمتقین) (34)
یہ آیات ایسی ہیں جو بات کو کھول کھول کر بتاتی ہیں۔ ان کے اندر کوئی پیچیدگی اور مشکل نہیں ہے کہ ان کو سمجھا نہ جاسکے۔ یا ان کے اندر جو مستحکم نظام زندگی تجویز ہوا ہے وہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔ یہ نظام ایسا ہے کہ اس کی صحت پر گزری ہوئی اقوام کے تجربات بھی شہادت دیتے ہیں اور قرآن کریم نے ایسی اقوام کی تاریخ بیان بھی کی ہے۔ پھر دنیا میں ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ ایک اعلیٰ ترقی یافتہ اور پاک و صاف سوسائٹی قائم ہو جو خدا خوفی پر مبنی ہو۔ اسلام ایسا ہی نظام زندگی ہے۔
اس پورے سبق میں جو فیصلے اور جو…
Read the full tafseer →5 یعنی قرآن میں سب کچھ نصیحتیں، احکام اور گذشتہ اقوام کے عبرتناک واقعات بیان کردیے گئے ہیں تاکہ خدا کا ڈر رکھنے والے سن کر نصیحت و عبرت حاصل کریں اور اپنے انجام کو سوچیں۔ یا مثلاً من الذین خلوا سے مراد یہ ہو کہ پہلی امتوں پر بھی اسی طرح کی حدود اور احکام جاری کیے گئے تھے جو اس سورت میں مذکور ہوئے۔ اور بعض قصے بھی اسی قصہ " افک " کے مشابہ پیش آئے جو سورت ہذا میں بیان کیا گیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم صدیقہ اور حضرت یوسف صدیق کی دشمنوں کے بہتان سے برأت ظاہر فرمائی، عائشہ صدیقہ بنت الصدیق کی برأت اور بزرگی بھی تاقیام قیامت صادقین کے قلوب میں نقش فی الحجر کردی۔ اور دشمنوں کا منہ کالا…
Read the full tafseer →آیت 34 وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّمَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ”
جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے تھے اور ان کے اندر جو جو معاشرتی برائیاں پائی جاتی تھیں ہم نے ان سب کی نشان دہی بھی اس کتاب میں کردی ہے۔
وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ”
سورۂ یونس کی آیت 57 میں بھی قرآن کو موعظہ نصیحت قرار دیا گیا ہے : قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ”آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے۔“
Read the full tafseer →58 واضح احکام سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو ابتدائے سورة نور سے بیان ہو رہے ہیں یعنی زنا اور قذف کی حد۔ لعان کا طریقہ۔ معاشرہ کو فحاشی سے پاک رکھنے کے لئے احکام و ہدایات وغیرہ۔ اور پہلے لوگوں کی مثالی بیان کرنے سے مراد یہ ہے کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم سے پہلے جن جن لوگوں کے اللہ کے احکامات سے سرتابی کی تو ایسی قوموں کا کیا حشر ہوا۔ اور ان کا یہ حشر بھی پہلے متعدد مقامات پر مذکور ہوچکا ہے۔ لہذا اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ان سابقہ نظائر میں بہت سے نصیحت آموز اسباب موجود ہیں۔
Read the full tafseer →75۔ (اس قرآن بلکہ اس سورت کے ذریعہ سے) وحی خفی جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتی ہیں۔ وہ بھی آیت کا مدلول بن سکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
آیت نمبر 27 تا 34
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو اور اہل خانہ کو سلام نہ کرلو پس ہر اجازت لینے والے کو چاہیے کہ کہے السلام علیکم أادخُلُ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ہے بغیر اجازت داخل ہونے سے تاکہ تم خیال رکھو اجازت کے خیر ہونے کا پھر تم اس پر عمل کرو تائے ثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے سو اگر تم گھروں میں کسی کو نہ پاؤ کہ تم کو اجازت دے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے اور اگر اجازت طلب کرنے کے بعد تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو…
Read the full tafseer →ولقد انزلنا الیکم اور (اے محمد ﷺ ! اس سورت میں) ہم نے تم پر اتاریں۔
ایت مبینت ایسی آیات جو احکام و حدود کو کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ یا (باب تفعلیل بمعنی تفعل ہے) یہ
مطلب ہے کہ کھلی کھلی واضح آیات ہم نے نازل کیں جن کی تصدیق گزشتہ آسمانی کتابوں سے بھی ہوتی ہے اور سالم عقلیں بھی ان کو مانتی ہیں۔
ومثلاً من الذین خلوا من قبلکم اور جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کی بعض حکایات یعنی جس طرح
یوسف ‘ ( علیہ السلام) مریم ( علیہ السلام) وغیرہ کے ہم نے عجیب تاریخی واقعات بیان کئے انہی کی طرح عجیب واقعہ ہم نے عائشہ ؓ : کا بھی بیان کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو حالات اور نتائج گزشتہ قوموں کے ہم نے بیان کئے…
Read the full tafseer →(34) اور ہم نے تمہارے نبی کے پاس بذریعہ جبریل امین حلال و حرام اور اوامرو نواہی زنا و فواحش سے بچنے کے واضح احکامات بھیجے ہیں اور مسلمان اور کافروں میں سے جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کی بعض حکایات اور زنا اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے نصیحت کی چیزیں بھیجی ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ : ”مُّبَيِّنٰتٍ“ باب تفعیل سے اسم فاعل ”مُبَیِّنَۃٌ“ کی جمع ہے، یہ باب لازم و متعدی دونوں میں آتا ہے، یہاں دونوں معنی اکٹھے بھی مراد ہوسکتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات واضح اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو خوب واضح کرنے والی بھی ہیں۔ ان آیات سے مراد نبی ﷺ پر نازل ہونے والی تمام آیات ہیں، اگرچہ سب سے پہلے اس سورت میں مذکور آیات و احکام مراد ہیں، جیسا کہ فرمایا : (سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَفَرَضْنٰهَا وَاَنْزَلْنَا فِيْهَآ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ) [ النور : 1 ] ”(یہ) ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نور السموات والارض کلام عرب میں نور ان روشنیوں کو کہتے ہیں جو آنکھ کے ذریعے دیکھی جاتی ہیں مجازاً دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی چمکنا بھی ہے۔ اسی سے کہا جاتا ہے : کلام لہ نور اس کا چمکنے والا کلام ہے۔ اسی سے الکتاب المنیر (روشن کتاب) ہے، اسی سے شاعر کا قول ہے :
نسب کان علیہ من شمس الضحا نورا ومن فلق الصباح عمودا
لوگ کہتے ہیں : فلان نور البلد شمس العصر و قمرہ فلاں شہر کا نور ہے زمانہ کا سورج اور چاند ہے۔
شاعر نے کہا : فانک شمس والملوک کواکب۔
ایک شاعر نے کہا :
ھلا خصصت من البلاد بمقصد قمر القبائل خالد بن یزید
ایک اور شاعر نے کہا :
ازا سار عبداللہ من…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولقد انزلنا الیک آیت مبینات “ سے مراد ہے کہ جو کچھ ان پر قرض ہو اس صورت میں “۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ [ اور بیشک ہم نے اتارا ہے ] اِلَيْكُمْ [ تم لوگوں کی طرف ] اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ [ خوب واضح کرنے والی نشانیاں ] وَّ مَثَلًا [ اور کچھ مثال (یعنی حال)] مِّنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں (کے حالات) میں سے جو ] خَلَوْا [ گزرے ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم سے پہلے ] وَمَوْعِظَةً [ اور نصیحت (بھی اتاری)] لِّلْمُتَّقِيْنَ [ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَلَقَدْ اَنزَلْنَا اِِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُبَیِّنَاتٍ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیجے ہیں جنہیں واضح طور پر بیان کردیا ہے اور جو امتیں تم سے پہلے گزری ہیں ان کے بھی بعض احوال اور واقعات بیان کردیئے ہیں جن میں تمہارے لیے عبرت ہے اور ایسی چیزیں نازل کی ہیں جن میں متقیوں کے لیے نصیحت ہے (نصیحت تو سب ہی کے لیے ہے لیکن جن کا گناہوں سے بچنے کا ارادہ ہے وہی اس سے مستفیض ہوتے ہیں اس لیے اہل تقویٰ کے لیے مفید ہونے کا خصوصی تذکرہ فرمایا) قال صاحب الروح ص 160 ج 18، و قیدت الموعظۃ بقولہ سبحانہ (للمتقین) مع شمو لھا للکل حسب شمول الانزال حثا للمخاطبین علی الاغتنام…
Read the full tafseer →خاتمہ احکام عشرہ مذکورہ بر امتنان ہدایت ونصیحت
قال اللہ تعالی۔ ولقد انزلنا الیکم ایت مبینت۔۔۔ الی۔۔۔ وموعظۃ للمتقین۔
(ربط) یہاں تک نفس کو رذائل اور خبائث سے پاک کرنے کے لئے دس احکام بیان فرمائے اب ان کے خاتمہ پر بندوں پر امتنان اور اظہار احسان فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہاری ہدایت اور نصیحت کے لئے یہ احکام نازل کئے تاکہ تم رذائل اور خبائث اور گندگیوں سے پاک ہوجاؤ اور تمہارے دل منور اور روشن ہوجائیں۔ اور تم عفیف اور پاکدامن بن جاؤ۔ اور والذین ھم لفروجہم حافظون کے زمرہ میں داخل ہو کر اس فلاح کے مستحق ہوجاؤ جس کا اللہ تعالیٰ نے قد افلح ال مومن ون میں وعدہ کیا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے…
Read the full tafseer →40:۔ ” ولقد انزلنا الخ “۔ دوسری بار ترغیب مع تخویف دنیوی ” ایت مبینت “ دلائل توحید، اصلاح معاشرہ کے لیے احکام بیان کرنے بعد اصل مدعا کی طرف اشارہ ہے ” ومثلا من الذین الخ “ گذشتہ لوگوں کے قصص و امثال تاکہ خدا سے ڈرنے والے اور انابت کرنے والے لوگ ان سے نصیحت و عبرت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ربط آیات :
اس آیت کے پہلے حصے میں پاکدامنی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ اور اس سے پہلے نکاح کو عام کرنے کا قانون بیان کیا گیا تھا۔ فرمایا تم میں سے جو بےنکاح ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو باصلاحیت ہوں ان کے نکاح کرادو۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں مستغنی کردے گا۔ اور جو لوگ نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے ان کو پاکدامن بن کر رہنا چاہیے اور اپنے آپ پر ضبط کرنا چاہیے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے اور وہ نکاح کرنے کے قابل ہوسکیں۔
مکاتبت کی تعریف :
اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مکاتبت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے۔ مکاتبت کا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ وَّمَثَلًا مِّنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِيْنَ 34ۧ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ترکیب : الایامٰی جمع ایم وھو الضرب ذکراً کان او انثی بکراً کان اوثیبًا و ایامی مقلوب ایائم کیتامیٰ ۔ والصالحین معطوف ہے ایامی پر مفعول انکحوا کا والذین یبتغون مبتداء فکاتبوھم خبر۔ ان علمتم جملہ شرطیہ اگلا جملہ فکاتبوھم دال برجزاء۔
تفسیر : جبکہ ہر طرح سے زنا اور اس کے دواعی کی ممانعت کی تو نکاح کرنے کی بھی رغبت دلائی کس لیے کہ مجرد رہنے میں بڑا خطرہ ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے نکاح کرنے کی تاکید فرمائی یا معشر الشباب من استطاع منکم البائۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصرواحصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء (متفق علیہ) اور فرمایا کہ میرے بعد مردوں کے لیے سخت فتنہ عورتوں سے زیادہ کوئی نہیں (متفق…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَنْزَلْنَـآ اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلاً مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّـقِیْنَ ۔ (النور : 34)
(اور بیشک ہم نے تمہاری طرف صاف صاف ہدایت دینے والی آیات بھیج دی ہیں اور ان لوگوں کی عبرتناک مثالیں بھی نازل کردی ہیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بھی (ہم نے اتار دی ہے)
ایک تنبیہ
اس آیت کا تعلق اس پورے سلسلہ بیان سے ہے جو آغاز سورة سے لے کر یہاں تک چلا آرہا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانی اخلاق کی اصلاح کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر ہدایات جاری فرمائی ہیں اور پھر بدقماش لوگوں کے لیے زنا اور قذف اور لعان کا قانون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے غلاموں کے نکاح کے حوالے سے ذکر ہوا، لہٰذا ضروری سمجھا گیا کہ ان کی آزادی کا ذکر بھی کیا جائے۔
اس آیت میں آزاد کنوارے مرد اور عورت، غلام اور لونڈی کو نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ کسی شرعی عذر یا غربت کی وجہ سے ازواجی رشتہ میں منسلک نہیں ہوسکتے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے دامن کو بدکاری سے بچائے رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔ غلام کیونکہ دوسرے کا محتاج ہوتا ہے اگر وہ اپنے آقا سے مکاتبت کے ذریعے آزاد ہونا چاہے تو ان کے ساتھ مکاتبت کرنا لازم ہے اگر ان میں نیکی اور خیر کا جذبہ معلوم ہو تو حکم ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے مال سے ان کی معاونت…
Read the full tafseer →34: وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ (تحقیق ہم نے تمہاری طرف واضح آیات اتاریں) ۔
قراءت : حجازی اور بصری اور ابوبکر اور حماد نے مبیِّنَاتٍ پڑھا ہے۔ یاء کے فتحہ کے ساتھ۔ آیات سے مرادوہ آیات ہیں جو اس سورة میں واضح کردی گئی۔ احکام و حدود کے معانی میں ان کو کھول دیا گیا۔
نحو : یہ بھی درست ہے کہ مبیَّنًا ہو اور ظرف میں وسعت ہے۔
دیگر قراء نے کسرہ سے پڑھا ہے۔ یعنی احکام و حدود ہی وضاحت شدہ ہیں اور فعل کو اس کا مجاز قرار دیا۔ بین بمعنی تبین ہے۔ مثال مشہور ہے قدبین الصبح لذی عینین، وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ (اور مثال ان لوگوں کی جو تم سے پہلے ہو گزرے)…
Read the full tafseer →تفسیر۔
34۔ ولقد انزلنا الیکم آیات مبینت، ،، اس سے مراد حلال و حرام ہیں ، ومثلا من الذین خلوا من قبلکم، ان لوگوں کا حال مقابل گزری ہوئی قوموں کے حال کے مشابہ ہے جنہوں نے انبیاء کرام کو اور ان کے احکام کو جھٹلایا، یہ ان کے لیے ڈرانامقصود ہے کہ اگر تم نے تکذیب کی تو تو تمہیں بھی ماقبل اقوام کے ساتھ ملایاجائے گا، جو نتیجہ ان کا ہوا وہی تمہارا ہوگا ، وموعظۃ المتقین ، اس سے مراد مومنین جو شرک اور کبائر سے بچتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
33۔ 34:۔ صحیح مسلم ‘ نسائی ‘ مستدرک حاکم ‘ مسند بزار ‘ طبرانی وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی چند روایتوں 1 ؎ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ نو عمر چھوکریاں پال لیتے تھے اور کمائی کے طور پر پھر ان سے بدکاری کراتے تھے چناچہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسلام پھیل گیا تو عبداللہ بن ابی منافقوں کے سردار کے پاس دو چھوکریاں تھیں انہوں نے اسلام کی صحبت پاکر بدکاری سے انکار کیا اور عبد اللہ بن ابی نے ان کو بدکاری پر مجبور کیا ‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ترس کھا کر اس لونڈی کو اپنے گھر میں چھپا دیا ‘ عبداللہ بن ابی نے بہت غل مچایا کہ اب ہماری لونڈیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(آیت نمبر (32
اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں۔ (ایامیٰ ) سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردو زن لہذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردو زن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ‘ یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست میں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولٰی ہے۔
(والصلحین من عباد کم وا امائکم) ” اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ “ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
مکاتبت کا بیان
قول باری ہے : (والذین یبتغون الکتاب مما ملکت ایمانکم فکا تبوھم ان علمتم فیھم خیرا۔ ) اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں ان سے مکاتبت کرلو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے۔ عطاء سے مروی ہے کہ اس حکم میں وجوب مراد ہے عمروبن دینار کا یہی قول ہے۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انس ؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ محمد بن سیرین کے والد سیرین کو مکاتب بنالیں لیکن ان کے انکار پر حضرت عمر ؓ ان پر درہ لے کر پل پڑے تھے اور کہا تھا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ حضرت عمر ؓ کا ارشاد درج بالا آیت کے مضمون کی طرف تھا۔ پھر آپ نے قسم کھائی تھی کہ انس ؓ انہیں ضرور بالضرور مکاتب…
Read the full tafseer →69 قرآن حکیم کی واضح ہدایات کو اپنانے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے اتارے تمہارے لیے کھلے کھلے احکام "۔ تاکہ ان پر عمل کر کے تم لوگ پاکیزہ زندگی گزار سکو۔ اور دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکو کہ ان کھلے اور واضح احکام کے ذریعے تم لوگ اپنے خالق ومالک کا حق پہچان سکو گے۔ صحیح اور غلط اور طیب و خبیث کے درمیان فرق وتمیز کرسکو گے اور اس کے نتیجے میں تم خبیث اور غلط سے بچ کر صحیح اور طیب کو اپنا سکو گے۔ اور اس طرح تم لوگ طیب اور پاکیزہ انسان بن کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکو گے۔ سو اس ارشاد میں احسان و امتنان کا پہلو بھی ہے کہ تم کو ایسی عظیم الشان نعمت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
اللہ کے نور مثال اور مرد لوگوں کی تعریف
تشریح : ان آیات میں اللہ کے اس صفاتی نام نور کی مثال دی گئی ہے ایک ایسے روشن، خوبصورت ترین چراغ کے ساتھ جس میں تیل بھی بہترین زیتون کے درخت کا پڑتا ہے۔ زیتون کے درخت کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر بہترین درخت وہ ہوتا ہے جو کھلی فضا اور کھلی جگہ میں ہوتا ہے۔ اس کا تیل کھانے کے لیے اور جلانے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ زیتون کا درخت اس کا پھل اور اس کا تیل انسان کے لیے بےحد مفید شفاف اور صحت کے لیے بہترین غذائیت رکھتا ہے۔
اللہ کے نور کی تعریف کرنا بڑی مشکل بات ہے بہرحال اس وقت کے بہترین چراغ سے اللہ نے خود اپنے نور کو تشبیہ دی ہے۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
1 ۔” نور “ کے لفظی معنی روشنی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر لفظ معنی روشنی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر لفظ ” نور “ کا اطلاق بطور مدح و ستائش کیا گیا ہے کیونکہ وہی ایک ذات ہے جس نے روشنی دینے والی تمام چیزوں کو اور ان کی روشنی کو پیدا کیا اور انہیں روشن بنایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے نور ہونے کے اس معنی کی تائید زید بن علی اور عبد العزیز المکی کی قرأت سے بھی ہوتی ہے یعنی ” اللہ نور السموت والارض “ (اللہ نے زمین اور آسمان کو روشن بنایا) مطلب یہ ہے کہ اس ساری کائنات کی رونق اللہ تعالیٰ ہی کی تدبیر و انتظام سے ہے۔ (شوکانی) 2 ۔ سب جانتے ہیں کہ شیشے میں رکھنے سے آگ کی روشنی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ 3 ۔ مبارک…
Read the full tafseer →(24:34) انزلنا الیکم۔ کے مندرجہ ذیل چار مفعول ہیں۔
(1) کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (2) ایت مبینت احکام و ہدایات کو واضح طور پر بیان کرنے والی آیات۔
(3) ان قوموں کی عبرتناک مثالیں جو تم سے پہلے گذر چکی ہیں۔ (4) متقیوں کے لئے نصیحت کی باتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
لغات القرآن : آیت نمبر 32 تا 34 :
انکحوا (نکاح کردو) ‘ الایامی (ایم) بےنکاح مرد یا عورت ‘ عباد (عبد) غلام ‘ امائ (امۃ) لونڈیاں۔ غلام عورتیں ‘ یستعفف (وہ بچتا ہے) ‘ اتو (تم دو ) ‘ لاتکرھوا (تم زبردستی نہ کرو) ‘ فتیت (جوان۔ (جوان لونڈیاں) ‘ البغاء (بدکاری) تحصنا (پاکدامنی) ‘ مثلا (کچھ حالات واقعات) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 :
قرآن کریم اور متعدد و احادیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر شخص نکاح کے ذریعہ اپنا گھر بسا کر صحیح راستہ اختیار کرے جو نسل انسانی کی بقا کا سبب بن سکے۔ بےنکاحی کی زندگی گذارنا ایک غلط طریقہ زندگی ہے جس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
کتابت کا حکم۔
(ف 2) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حویطب بن عبدالعزی کے غلام صبح نے اپنے آقا سے کتابت کی درخواست کی، آقا نے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جو تمہارے ہاتھ کی ملک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو ، اگر تمہیں ان میں کتابت کی رقم کمانے کی قابلیت نظر آوے تو ان سے کتابت کا معاملہ کرلیا کرو پھر فرمایا جب یہ کتابت کا معاملہ ٹھہرجاوے تو ہر ایک مسلمان صدقہ و خیرات زکوۃ کی رقم میں سے ایسے غلام کو کچھ مدد دیوے جس سے وہ بیچارہ جلدی سے اپنے ذمہ کی رقم ادا کرکے آزاد ہوجائے جب یہ آیت نازل ہوئی تو حویطب نے اس سے سودینار پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
[39] مکاتبت اصطلاح شریعت میں غلام و آقا کے درمیان معاہدے کا نام ہے۔ غلام اپنے آقا سے یہ کہے کہ میں کما کر اتنا مال تجھے دے دوں تو آزاد ہوجاؤں اور مالک اسے منظور کرے۔ یہ مکاتب اگرچہ ابھی غلام رہے گا۔ لیکن پیشہ یا تجارت اختیار کرنے کے باب میں خود مختار ہوجائے گا۔ پھر اگر شرط پوری ہوگئی تو آزاد ہوجائے گا۔ نہ پوری ہونے کی صورت میں غلام یا تو خود ہی مکاتبت فسخ کرا لے ورنہ قاضی کرا دے گا۔
[40] بہتری کے آثار سے مراد ہے کمانے کا سلیقہ اور غلامی سے آزاد ہو کر بدکاری، چوری یا اور طرح کی بدمعاشیوں کا ارتکاب نہ کرنا۔
[41] تاکہ وہ جلد آزادی حاصل کرلیں۔
[42] زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اپنی لونڈیوں کو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
غیر شادی شدہ لوگوں کے لیے ایک نسخہ :
(ف 2) یعنی جو لوگ شادی شدہ کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ جذبات پر قابو رکھیں حضور نے فرمایا یا معشر الشباب من استطاء منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض البصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فان الصوم لہ وجاء ۔ (ترجمہ : نوجوانو ! تم میں جو لوگ شادی کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ ضرور شادی کریں کیونکہ اس طرح انسان کا کرکٹر محفوظ ہوجاتا ہے ۔ اور جو شادی کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ روزے رکھیں ، کیونکہ اس طریق سے ضبط نفس کا سامان پیدا ہوجاتا ہے ۔
غلامی اور مکاتبت :
(ف 1) اسلام غلامی کو طبعا ناپسند کرتا ہے اس لیے اس نے غلامی کے متعلق ایسی شروط وقیود کا اضافہ کردیا ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →(34) اور بلاشبہ ! ہم نے تمہارے لئے کھلے اور واضح احکام اور جو لوگ تم سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کے کچھ واقعات و حالات اور ڈرنے والوں کے لئے موعظت و نصیحت کی باتیں نازل فرمائی ہیں یعنی اس قرآن کریم میں علمی اور عملی احکام بھی نازل فرمائے گزشتہ اقوام کے عبرت ناک حالات بھی مذکور فرمائے اور خدا سے ڈرنے والوں کے لئے موعظت و نصیحت اور عبرت بھی نازل فرمائی اور ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت اور ان کی برات کی جانب اشارہ ہو کہ پہلی امتوں میں بھی اچھے لوگوں کو مطعون کیا گیا ہے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم ؓ وغیرہ پر جھوٹے الزام لگائے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 2۔ مکاتبت شرع میں ایک معاہدہ ہے درمیان غلام اور آقا کے، آقا اس سے یہ کہے کہ تو مجھ کو اس قدر مال کما کر دے دے تو آزاد ہے، اور غلام قبول کرلے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ہم نے تم پر اپنی واضح آیتیں نازل کردی ہیں :
54۔ فرمایا ہم نے تمہاری طرف نہایت ہی صاف اور صریح احکام نازل کئے ہیں جن کا مقصد معاشرہ اسلامی کو ہر قسم کی برائیوں ‘ بےحیائیوں اور بدکاریوں سے پاک کرنا ہے اور پاک رکھنا ہے یہ احکامات اتنے واضح ہیں کہ ان کے متعلق یہ کہنے کی کوئی شخص بھی جسارت نہیں کرسکتا کہ وہ انہیں سمجھ نہیں سکا پھر جرم کی سزا اور آئندہ اس کو روک دینے کا قانون بھی بتا دیا ۔
گزشتہ قوموں کے واقعات بھی نصیحت کی باتیں ہیں اگر کوئی نصیحت قبول کرنا چاہے :
55۔ فرمایا گزشتہ قوموں کی عبرت ناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کرچکے ہیں جو تم سے پہلے گزری ہیں اور تم کو وہ نصیحتیں بھی کردی…
Read the full tafseer →Commentary
The scholars call this verse as the ` Verse of Radiance', because it describes in great detail the radiance of faith and the darkness of disbelief.
Read the full tafseer →60. This verse is not only connected with the verse immediately preceding it but with the entire discourse right from the beginning. Revelations giving clear guidance are those verses which: (1) State the law concerning zina, qazf and lian. (2) Forbid the believers to marry impure men or women. (3) Prohibit the slandering of chaste people and propagating indecencies in society. (4) Lay stress on men and women to restrain their gaze and guard their private parts. (5) Prescribe the limits of Hijab for women. (6) Disapprove of the marriageable people’s remaining unmarried. (7) Lay down the rule…
Read the full tafseer →