An-Noor 24:33

An-Noor · from ayah 33

24:33

وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰی یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ؕ— وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا ۖۗ— وَّاٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ ؕ— وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ؕ— وَمَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ الۡـكِتٰبَ مِمَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَكَاتِبُوۡهُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيۡهِمۡ خَيۡرًا ‌‌ۖ وَّاٰ تُوۡهُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِىۡۤ اٰتٰٮكُمۡ ‌ؕ وَلَا تُكۡرِهُوۡا فَتَيٰتِكُمۡ عَلَى الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّـتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ ؕ وَمَنۡ يُّكۡرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنۡۢ بَعۡدِ اِكۡرَاهِهِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But let them who find not [the means for] marriage abstain [from sexual relations] until Allah enriches them from His bounty. And those who seek a contract [for eventual emancipation] from among whom your right hands possess - then make a contract with them if you know there is within them goodness and give them from the wealth of Allah which He has given you. And do not compel your slave girls to prostitution, if they desire chastity, to seek [thereby] the temporary interests of worldly life. And if someone should compel them, then indeed, Allah is [to them], after their compulsion, Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:33

اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں ان سے مکاتبت کر لو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے، اور ان کو اُس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور اپنی لونڈیوں کو ا پنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں، اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے تو اِس جبر کے بعد اللہ اُن کے لیے غفور و رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں کو نکاح کے مواقع میسر نہ ہوں، وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے۔ اور تمہاری ملکیت کے غلام باندیوں میں سے جو مکاتبت کا معاہدہ کرنا چاہیں، اگر ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کا معاہدہ کرلیا کرو اور (مسلمانو) اللہ نے تمہیں جو مال دے رکھا ہے اس میں سے ایسے غلام باندیوں کو بھی دیا کرو، اور اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں، اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا تو ان کو مجبور کرنے کے بعد اللہ (ان باندیوں کو) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور چاہیے کہ بچے رہیں وہ جو نکاح کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ مقدور والا کردے اپنے فضل سے اور تمہارے ہاتھ کی مِلک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو تو لکھ دو اگر ان میں کچھ بھلائی جانو اور اس پر ان کی مدد کرو اللہ کے مال سے جو تم کو دیا اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر جب کہ وہ بچنا چاہیں تاکہ تم دنیوی زندگی کا کچھ مال چاہو اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ بعد اس کے کہ وہ مجبوری ہی کی حالت پر رہیں بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ایسے لوگوں کو پاک دامنی اختیار کرنا چاہئے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے، اور تمہارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (کچھ مال کما کر دینے کی شرط پر آزاد) ہونا چاہیں تو انہیں مکاتب (مذکورہ شرط پر آزاد) کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو، اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن (یا حفاطتِ نکاح میں) رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لازم ہے کہ حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو کوئی نکاح نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور وہ لوگ جو مکاتبت (آزادی کی تحریر) طلب کرتے ہیں، ان میں سے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں تو ان سے مکاتبت کرلو، اگر ان میں کچھ بھلائی معلوم کرو اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمہیں دیا ہے، اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں، تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سامان طلب کرو اور جو انھیں مجبور کرے گا تو یقینا اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ نکاح (کا سامان) نہیں پاتے انھیں (زنا وغیرہ) سے بچے رہنا چاہیئے تاآنکہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کردے اور تمہارے غلاموں میں سے جو لوگ مکاتبت کرنا چاہیں تو اگر تم ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور اس مال میں سے جو اللہ تمہیں دیا ہے انھیں بھی دے دو۔ اور تمہاری لونڈیاں اگر پاکدامن رہنا چاہیں تو انہیں اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ اور جو کوئی انھیں مجبور کرے تو ان پر جبر کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں بخش دینے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو لوگ نکاح کرنے کی مقدرت نہیں پا رہے وہ اپنے کو ضبط میں رکھیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو مکاتب ہونے کے طالب ہوں تمہارے مملکوں میں سے تو ان کو مکاتب بنا دو اگر تم ان میں صلاحیت پائو اور ان کو اس مال میں سے دو جو خدا نے تم کو دیا ہے اور اپنی لونڈیوں کو پیشہ پر مجبور نہ کرو جب کہ وہ عفت کی زندگی کی خواہشاں ہیں، محض اس لئے کہ کچھ متاع دنیا تمہیں حاصل ہوجائے اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اس اکراہ کے بعد اللہ ان کے لئے غفور رحیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو لوگ نکاح کی قدرت نہیں رکھتے ان کو چاہیے کہ وہ پاک دامن رہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو غنی اور مالدار بنا دے اپنے فضل و کرم سے اور تمہارے مملوکوں میں سے جو لوگ مکاتب ہونے کی خواہش کریں تم ان کو مکاتب بنادیا کرو اگر تم ان میں بہتری کے آثار پاؤ اور ان کو اللہ کے اس مال میں سے دیا کرو جو اس نے تم کو عطا فرما رکھا ہے اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کیا کرو، بالخصوص جب کہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں اور تم یہ ذلیل حرکت محض اس لیے کرو کہ تم دنیا کا کچھ مال حاصل کرسکو پھر یاد رکھو کہ جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد ان کی بخشش فرما دے گا کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جن لوگوں کو نکاح کا مقدور نہیں انہیں چاہیے کہ ضبط سے کام لیں یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں تو انہیں مکاتب بنا دیا کرو اگر ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ۔ اور اللہ کے اس مال میں سے بھی انہیں دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔ اور اپنی باندیوں کو مت مجبور کرو زنا پر جب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہیں۔ محض اس لئے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ تمہیں حاصل ہوجائے۔ اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا سو اللہ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور خود کو بچائے رکھیں وہ لوگ جو نکاح کی قدرت نہ پائیں یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو مکاتبت کرنا چاہیں تمہارے مملوکوں میں سے تو ان سے مکاتبت کرلیا کرو اگر تم سمجھو کہ ان میں بھلائی ہے اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کیا کرو جبکہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہیں تاکہ تم حاصل کرو دنیا کی زندگی کا سامان اور اگر کوئی انہیں مجبور کرے گا تو یقیناً اللہ ان کے جبر کے بعد بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں وہ پاکدامنی اختیار کیے رہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں صلاحیت اور نیکی پائو تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور اللہ نے جو مال تم کو دیا ہے اس میں سے ان کو بھی دو اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں تو بےشرمی سے دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرنا اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اس عمل پر ان کی پکڑ نہ ہوگی (مجبور کرنے والے کی پکڑ ہوگی) اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And those, who cannot find a match, should observe continence till Allah provides them with means out of His bounty And if those who are in your possession, ask for a deed of emancipation, execute the deed of emancipation with them, provided that you find some good in them; and give them something out of the means Allah has given you. And do not force your slave-girls into prostitution for your own worldly gains when they themselves want to keep chaste; and if anyone forces them into it, after such a compulsion Allah will be forgiving and merciful for them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those who cannot afford marriage should keep themselves chaste until Allah enriches them out of His grace. And those of your slaves who wish to enter the contract of Kitabah (emancipation by paying money), contract Kitabah with them, if you recognize some good in them. And give them out of the wealth of Allah that He has given to you. And do not compel your maids to prostitution – if they wish to observe chastity – in order that you may seek the temporary benefit of the worldly life. If one compels them, then after their being compelled, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

And those who cannot afford marriage should keep themselves chaste until Allah enriches them out of His grace. And those of your slaves who wish to enter the contract of Kitabah (emancipation by paying money), contract Kitabah with them, if you recognize some good in them. And give them out of the wealth of Allah that He has given to you. And do not compel your maids to prostitution – if they wish to observe chastity – in order that you may seek the temporary benefit of the worldly life. If one compels them, then after their being compelled, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And let those who find not the financial means for marriage keep themselves chaste, until Allah enriches them of His bounty. And such of your servants as seek a writing (of emancipation), give them such writing, if you find that there is good and honesty in them. And give them something (yourselves) out of the wealth of Allah which He has bestowed upon you. And force not your slave-girls to prostitution, if they desire chastity, in order that you may make a gain in the goods of this worldly life. But if anyone compels them, then after such compulsion, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And let those who cannot find a match keep chaste till Allah give them independence by His grace. And such of your slaves as seek a writing (of emancipation), write it for them if ye are aware of aught of good in them, and bestow upon them of the wealth of Allah which He hath bestowed upon you. Force not your slave-girls to whoredom that ye may seek enjoyment of the life of the world, if they would preserve their chastity. And if one force them, then (unto them), after their compulsion, lo! Allah will be Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But let them who find not [the means for] marriage abstain [from sexual relations] until Allah enriches them from His bounty. And those who seek a contract [for eventual emancipation] from among whom your right hands possess - then make a contract with them if you know there is within them goodness and give them from the wealth of Allah which He has given you. And do not compel your slave girls to prostitution, if they desire chastity, to seek [thereby] the temporary interests of worldly life. And if someone should compel them, then indeed, Allah is [to them], after their compulsion, Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Let those who cannot find someone to marry maintain chastity until God makes them rich through His favors. Let the slaves who want to buy their freedom have an agreement with you in writing if you find them to be virtuous. Give them money out of God's property which He has given to you. Do not force your girls into prostitution to make money if they want to be chaste. If they have been compelled to do so, God will be All-merciful and All-forgiving to them.

— Muhammad Sarwar

And let those who do not find the means to marry keep chaste until Allah makes them free from want out of His grace. And (as for) those who ask for a writing from among those whom your right hands possess, give them the writing if you know any good in them, and give them of the wealth of Allah which He has given you; and do not compel your slave girls to prostitution, when they desire to keep chaste, in order to seek the frail good of this world's life; and whoever compels them, then surely after their compulsion Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And those who find not means to marry shall restrain themselves until Allah enricheth them of His grace. And from among those whom your right hands own those who seek a writing- write it for them if ye know in them any good, and vouchsafe unto them of the wealth of Allah which He hath vouchsafed unto you. And constrain not your bedmaids to harlotry if they would live chastely, in order that ye may seek the chance gain of the life of the world. And whosoever will constrain them, then verily Allah is--after their constraint--Forgiving, Mercifu1.

— Abdul Majid Daryabadi

Let those who find not the wherewithal for marriage keep themselves chaste, until Allah gives them means out of His grace. And if any of your slaves ask for a deed in writing (to enable them to earn their freedom for a certain sum), give them such a deed if ye know any good in them: yea, give them something yourselves out of the means which Allah has given to you. But force not your maids to prostitution when they desire chastity, in order that ye may make a gain in the goods of this life. But if anyone compels them, yet, after such compulsion, is Allah, Oft-Forgiving, Most Merciful (to them),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–34

نکاح اور شرم وحیا کی تعلیم اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولا نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتاہو، اسے نکاح کرلینا چاہئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے (بخاری مسلم) سنن میں ہے آپ فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة النُّوْر 54 ان آیات کی بہترین تفسیر وہ احادیث ہیں جو اس سلسلہ میں نبی ﷺ سے مروی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا یا معشر الشباب، من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر و احصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء، " نوجوانو، تم میں سے جو شخص شادی کرسکتا ہو اسے کر لینی چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو بد نظری سے بچانے اور آدمی کی عفت قائم رکھنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے، کیونکہ روزے آدمی کی طبیعت کا جوش ٹھنڈا کردیتے ہیں "۔ (بخاری و مسلم)۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا ثلٰثۃ حق علی اللہ عونہم، الناکح یرید العفاف،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ یعنی جو لوگ مال و اسباب کے لحاظ سے نکاح پر قدرت نہیں رکھتے اور نکاح کرنے میں یہ خطرہ ہے کہ بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوجائیں گے ان کو چاہئے کہ عفت اور صبر کے ساتھ اس کا انتظار کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے اور اس صبر کے لئے ایک تدبیر بھی حدیث میں یہ بتلا دی گئی ہے کہ کثرت سے روزے رکھا کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اتنے مالی وسائل عطا فرمائیں گے جن سے نکاح پر قدرت ہوجائے۔ خلاصہ تفسیر اور تمہارے مملوکوں میں سے (غلام ہوں یا لونڈیاں) جو مکاتب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 32–33

32۔ 33 ایامی، ایم کی جمع ہے۔ ایم اس مرد لو بھی کہتے ہیں جو بیوی سے محروم ہوا اور اس عورت کو بھی کہتے ہیں جو شہر سے محروم ہو۔ یعنی رانڈ اور رنڈوے دونوں کے لئے یہ لفظاستعمال ہوتا ہے بلکہ اپنے وسیع مفہوم میں یہ ان مردوں اور عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو بن بیا ہے رہ گئے ہوں۔ لفظ صلحین سے مراد لفظ صلحین یہاں جسمانی اور اخلاقی دونوں قسم کی صلاحیتیں رکھنے والوں کے لئیاستعمال ہوا ہے۔ عربی میں یہ لفظ اس جامع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ رانڈوں اور رنڈوئوں کے نکاح کی ہدایت معاشرے کے اندر اخلاقی مفاسد اور شیطان کی دراندازیوں کے لئے ایک وسیع دروازہ یہ چیز بھی کھولتی ہے کہ اس میں بہت سے مرد بیویوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 32–34

32-1آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کردو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کرلو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مرد و عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی، جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اس طرح امر کے صیغے سے بعض نے ثبوت کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ اسے جائز اور پسندیدہ قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت مؤکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے بچنے کی سخت وعید ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے میری سنت سے انکار کیا، وہ مجھ سے نہیں۔ 32-2یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–34

26: جب غلاموں اور باندیوں کا رواج تھا، اس وقت وہ اپنے آقاؤں سے یہ معاملہ کرلیتے تھے کہ وہ ایک طے شدہ رقم کما کر اپنے آقاؤں کو دیں گے جس کے بعد وہ آزاد ہوجائیں گے۔ یہ معاملہ مکاتبت کہلاتا ہے۔ اس آیت نے آقاؤں کو یہ ترغیب دی ہے کہ جب ان کے غلام یا باندیاں ان سے یہ معاملہ کرنا چاہیں تو انہیں قبول کرلینا چاہیے، اور دوسرے مسلمانوں کو یہ ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے غلاموں اور باندیوں کی مالی مدد کریں، تاکہ وہ آزادی حاصل کرسکیں۔ 27 جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ لوگ اپنی کنیزوں سے عصمت فروشی کراتے، اور اس طرح ان کو بدکاری پر مجبور کر کے پیشہ کماتے تھے۔ اس آیت نے اس گھناؤنی رسم کو شدید گناہ قرار دے کر اسے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–33

(وانکحوا الایامی۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم ولیستعفف الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم ) ” جنسی میلان کی تسکین کا بہترین طریقہ شادی ہے۔ اس گہری خواہش کے اندر فطرت اور قدرت کا یہی راز ہے کہ لوگ نسل انسانی کے تسلسل کے مشکل کام کو خوشی خوشی سرانجام دیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم شادی کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کردیں تاکہ زندگی فطری انداز کے مطابق سادگی سے چلتی رہے۔ کسی خاندان کی تشکیل کے لیے پہلی رکاوٹ مالی رکاوٹ ہے اس طرح لوگ محفوظ اور قلعہ بند نہیں ہو سکتے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اس لیے وہ عفت اور پاکیزگی کو تب ہی لازم کرتا ہے جب اس کے لیے اسباب بھی فراہم کر دے اور سوسائٹی کے تمام افراد کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی جن کو فی الحال اتنا بھی مقدور نہیں کہ کسی عورت کو نکاح میں لاسکیں تو جب تک خدا تعالیٰ مقدور دے چاہیے کہ اپنے نفس کو قابو میں رکھیں۔ اور عفیف رہنے کی کوشش کریں۔ کچھ بعید نہیں کہ اسی ضبط نفس اور عفت کی برکت سے حق تعالیٰ ان کو غنی کر دے اور نکاح کے بہترین مواقع مہیا فرما دے۔ 1 یعنی کسی کا غلام یا لونڈی کہے یا مزید توثیق کے لیے لکھوانا چاہے کہ میں اتنی مدت میں اس قدر مال تجھ کو کما دوں تو مجھے آزاد کر دے، تو مالک کو چاہیے کہ قبول کرلے اور لکھ دے (اس معاملہ کو " مکاتبت " کہتے ہیں اور یہ غلاموں کے آزاد کرانے کی ایک خاص صورت ہے) لیکن یہ مالک کو اس وقت قبول کرنا چاہیے جبکہ وہ سمجھے کہ واقعی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحًا ” جو لوگ نکاح کرنے کی بالکل استطاعت نہ رکھتے ہوں ‘ یعنی ان کے پاس نہ تو مہر ادا کرنے کے لیے کچھ ہو ‘ نہ نان نفقہ کے لیے کوئی ذریعہ معاش ہو اور نہ ہی سر چھپانے کے لیے کسی قسم کی چھت کا بندوبست ‘ تو ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرتے رہیں اور اپنی خواہشات کو اپنے قابو میں رکھیں۔ وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ” آقا اور غلام کے درمیان آزادی کے معاہدے کو مکاتبت کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ غلام کی خواہش اور آقا کی رضا مندی سے طے پاتا تھا کہ آقا اگر اپنے غلام کو آزاد کر دے تو وہ ایک مقررہ مدت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 اس آیت سے پہلی آیت کے حاشیہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ جو جوان مرد نکاح اور خانہ داری کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے روزے رکھنے کی تلقین فرمائی اور واضح فرما دیا کہ روزے رکھنا تمہارے عفیف اور پاکیزہ رہنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی فیط نفس اور عفت کی برکت سے انھیں نکاح کا بہترین موقع مہیا فرما دے اور انھیں غنی بھی کردے۔ کہ معاشرہ میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تو غنی ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بیٹیوں کے رشتہ کے سلسلہ میں ایسا جوڑ چاہتے ہیں۔ جو شریف، نیک اور پاکیزہ سیرت انسان ہو۔ اور وہ اپنی بیٹی کی غربت کا خیال اس لئے نہیں کرتے کہ اس جوڑے کی غربت کا علاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ (جسے چاہے غنی کرسکتا ہے۔ خوشحالی سے نواز سکتا ہے، اس کے ہاں کوئی تنگی، کمی تو ہے نہیں اور پھر ہر ایک کی اہلیت وصلاحیت، ظرف و بساط سے خوب واقف جسے کفر کا اہل دیکھے گا اسے کافر ہی رکھے گا) معاشیات کو مسائل معاش کو ربوبیت الہی کے عام قانون سے عملا خارج سمجھ لینا، عصر حاضر کی سب سے بڑی گمراہیوں میں سے ہے۔ قرآن نے بار بار اس گمراہی پر ضرب لگائی ہے۔ اور بار بار اعلان کیا ہے کہ جسمانیات وروحانیات کے سارے دوسرے مسائل کی طرح معاشیات بھی اسی کی مشیت کے محکوم وتابع ہیں۔ 69۔ (اور پھر نکاح کرلیں) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی نکاح کے سامان سے محروم ومعری ہو تو اس کے لئے ہدایت یہی ہے کہ وہ صبر وعفت سے کام لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–34

آیت نمبر 27 تا 34 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو اور اہل خانہ کو سلام نہ کرلو پس ہر اجازت لینے والے کو چاہیے کہ کہے السلام علیکم أادخُلُ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ہے بغیر اجازت داخل ہونے سے تاکہ تم خیال رکھو اجازت کے خیر ہونے کا پھر تم اس پر عمل کرو تائے ثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے سو اگر تم گھروں میں کسی کو نہ پاؤ کہ تم کو اجازت دے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے اور اگر اجازت طلب کرنے کے بعد تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحا حتی یغنیہم اللہ من فضلہ اور جن لوگوں کو نکاح میسر نہ ہو وہ پاک دامن رہیں ‘ یہاں تک اللہ ان کو اپنے فضل سے صاحب مقدرت کر دے۔ نکاح سے مراد ہے نکاح کا سامان اور وہ چیزیں جن کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ‘ مثلاً مہر معجل (اگر اس کی ضرورت ہو) اور خرچ۔ بیوی کا نان نفقہ۔ ناداری کی وجہ سے اس کو ڈر ہو کہ بیوی کا خرچ کہاں سے دوں گا ‘ میری وجہ سے غریب کی حق تلفی ہوگی ‘ ایسے شخص پر لازم ہے کہ عفت قائم رکھنے کی کوشش کرے۔ کم کھائے زیادہ روزے رکھے۔ روزے رکھنے سے جوش شہوانی ٹوٹ جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس میں استطاعت (یعنی نکاح کرنے کی استطاعت) نہ ہو اس پر روزے رکھنے لازم ہیں ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) اور ایسے لوگ جن کے پاس نکاح کرنے کی گنجائش نہیں ان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو زنا سے بچائیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولیستعفف الذین لایجدون“۔ (الخ) اگلی آیت کریمہ جو یطب بن عبد العزی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان کا ایک غلام تھا، اس نے ان سے مکاتب (غلام جس سے معاوضہ لے کر آزاد کیا جائے) ہونے کی درخواست کی تھی تو انہوں نے اس کو مکاتب نہیں کیا تھا۔ اور تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں ان کو مکاتب بنادیا کرو، اگر ان میں بہترائی اور وفا عہد کے آثار پاؤ اور اللہ تعالیٰ کے دیے مال میں سے جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے ان کو بھی دو ،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا : ”عَفَّ یَعِفُّ عَفَافًا وَ عِفَّۃً“ اس چیز سے باز رہنا جو حلال نہ ہو یا جمیل نہ ہو۔ ”اِسْتَعَفَّ“ اور ”تَعَفَّفَ“ کا بھی یہی معنی ہے۔ (القاموس) ”وَلْيَسْتَعْفِفِ“ میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور حرام سے بہت بچیں۔“ یعنی جو لوگ کسی وجہ سے نکاح نہ کرسکیں، مثلاً رشتہ نہ ملے، یا مہر میسر نہ ہو، یا غلام کو اس کا مالک نکاح کی اجازت نہ دے، یا کسی اور وجہ سے حالات سازگار نہ ہوں تو وہ حرام سے بچنے کی بہت زیادہ کوشش کریں، یعنی زنا، قوم لوط کے عمل اور استمنا بالید وغیرہ سے باز رہیں۔ اس کوشش میں نگاہ نیچی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–33

مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولیستعفف الذین یہ اسے خطاب ہے جو اپنے نفس کا خود مالک ہے نہ کہ اسے جس کی زمام دوسرے کے ہاتھ میں ہو کیونکہ وہ اسے اپنی مرضی سے چلاتا ہے جیسے محجور علیہ ہوتا ہے، یہ ایک قول ہے۔ اور جیسے لونڈی اور غلام علماء کے دوسرے قول کے مطابق۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ استعفف کا وزن استفعل ہے۔ اس کا معنی ہے اس نے پاکدامن ہونا طلب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہر شخص کو پاکدامن رہنے کا حکم دیا ہے جو نکاح نہیں کرسکتا اور کسی وجہ سے نکاح کو نہیں پاتا پھر جب نکاح کے موانع میں سے اغلب کا مال کا نہ ہونا ہے تو اپنے فضل سے غنی کرنے کا وعدہ فرمایا وہ اسے عطا فرمائے گا جس کے ساتھ وہ نکاح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا “ سے مراد وہ آدمی ہے جو عورت کو دیکھتا ہے گویا اس میں خواہش پیدا ہوجاتی ہے اگر اس کی بیوی ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس سے اپنی خواہش پوری کرے اگر اس کی بیوی نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ آسمان و زمین پیدائش میں غور وفکر کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو غنی کردے۔ 2۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ نے نے آیت ” ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحا “ کے بارے میں فرمایا چاہیے کہ وہ نکاح کرے جو استطاعت نہیں پاتا اللہ تعالیٰ عنقریب مالدار کردیں گے۔ 4۔ ابن السکن نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلْيَسْتَعْفِفِ [ اور چاہیے کہ (برائیوں سے) بچے رہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] لَا يَجِدُوْنَ [ نہیں پاتے ] نِكَاحًا [ نکاح (کے سامان) کو ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يُغْنِيَهُمُ [ غنی کر دے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَبْتَغُوْنَ [ چاہتے ہیں ] الْكِتٰبَ [ (آزادی کی) لکھت پڑھت ] مِمَّا [ ان میں سے جن کو ] مَلَكَتْ [ مالک ہوئے ] اَيْمَانُكُمْ [ تمہارے داہنے ہاتھ ] فَكَاتِبُوْهُمْ [ تو لکھ کر دوان کو ] اِنْ عَلِمْتُمْ [ اگر تم جانتے ہو ] فِيْهِمْ [ ان میں ] خَيْرًا ڰ [ کوئی بھلائی ] وَّاٰتُوْهُمْ [ اور تم لوگ دوان کو ] مِّنْ مَّالِ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غلاموں اور باندیوں کا مکاتب بنانے کا حکم غلام اور باندیوں کے بارے میں شریعت مطہرہ میں بہت سے احکام ہیں جو حدیث وفقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں انہی احکام میں سے ایک مکاتبت بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آقا اپنے غلام یا باندی سے کہے کہ اگر تو مجھے اتنی رقم دے دے تو آزاد ہے اگر غلام یا باندی اسے منظور کرلے تو پھر وہ آقا کی خدمت سے آزاد ہوجاتا ہے غلام تو رہتا ہے لیکن اپنی کسب میں آزاد ہوجاتا ہے۔ جب بھی مقررہ پوری رقم دے دے آزاد ہوجائے گا۔ جب غلام کا آقا سے مکاتبت کا معاملہ ہوجائے جسے کتابت بھی کہتے ہیں تو غلام مکاتب ہوگیا اگر غلام سے یہ طے ہوا ہے کہ ابھی نقد لا کر رقم دے دے تو آزاد ہے اور وہ کسی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم نہم۔ مکاتبت واعانت مملوک قال اللہ تعالی۔ والذین یبتغون الکتب مما ملکت ایمانکم۔۔۔ الی۔۔۔ مال اللہ الذی اتکم۔ (ربط) یہ نواں حکم ہے کہ جن غلاموں میں تم کسب معاش اور تجارت کی صلاحیت دیکھو تو ان کو مکاتب بنا دو اور ان کی مدد کرو۔ تاکہ آزاد ہو کر وہ اپنی حسب منشاء نکاح کرسکیں اور اپنا گھر آباد کرسکیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جو تمہارے مملوک ہیں خواہ غلام ہوں یا باندیاں اگر وہ تم سے مکاتبت چاہیں یعنی مال دے کر تم سے اپنی آزادی کی تحریر لکھوانا چاہیں تو ان کو مکاتب بنا دو یعنی ان کو تحریر دے دو اگر کوئی لونڈی یا غلام اپنے مالک سے یہ کہے کہ میں تم کو محنت اور مزدوری کر کے اتنی قسطوں میں اتنا روپیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ ” ویستعفف الخ “: نکاح سے یہاں اسباب نکاح مراد ہیں۔ (لایجدون نکاحا) استطاعۃ تزوج من المہر والنفقۃ (مدارک ج 3 ص 109) ۔ یعنی جو لوگ اس قدر محتاج ہیں کہ بیوی کے مہر اور اس کے نان و نفقہ کا بھی انتظام کرنے سے عاجز ہیں وہ صبر و ضبط سے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید رکھیں جب اللہ تعالیٰ ان کے لیے نکاح کے اسباب مہیا کردے تو نکاح کرلیں۔ 36:۔ ” والذین یبتغون الخ “ یہ پانچواں قانون ہے نکاح کی صلاحیت رکھنے والے غلاموں اور لونڈیوں کی تزویج کا حکم دینے کے بعد مستحق کتابت غلاموں کو مکاتب کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ بدل کتابت ادا کر کے آزاد ہوجائیں اور اپنے تصرفات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–34

ربط آیات : اس آیت کے پہلے حصے میں پاکدامنی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ اور اس سے پہلے نکاح کو عام کرنے کا قانون بیان کیا گیا تھا۔ فرمایا تم میں سے جو بےنکاح ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو باصلاحیت ہوں ان کے نکاح کرادو۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں مستغنی کردے گا۔ اور جو لوگ نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے ان کو پاکدامن بن کر رہنا چاہیے اور اپنے آپ پر ضبط کرنا چاہیے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے اور وہ نکاح کرنے کے قابل ہوسکیں۔ مکاتبت کی تعریف : اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مکاتبت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے۔ مکاتبت کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغْنِيَہُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ ۝ 0ۭ وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْہِمْ خَيْرًا۝ 0 ۤۖ وَّاٰتُوْہُمْ مِّنْ مَّالِ اللہِ الَّذِيْٓ اٰتٰىكُمْ۝ 0ۭ وَلَا تُكْرِہُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ 0ۭ وَمَنْ يُّكْرِھْہُّنَّ فَاِنَّ اللہَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاہِہِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 33 عف العِفَّةُ : حصول حالة للنّفس تمتنع بها عن غلبة الشّهوة، والمُتَعَفِّفُ : المتعاطي لذلک بضرب من الممارسة والقهر،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–34

ترکیب : الایامٰی جمع ایم وھو الضرب ذکراً کان او انثی بکراً کان اوثیبًا و ایامی مقلوب ایائم کیتامیٰ ۔ والصالحین معطوف ہے ایامی پر مفعول انکحوا کا والذین یبتغون مبتداء فکاتبوھم خبر۔ ان علمتم جملہ شرطیہ اگلا جملہ فکاتبوھم دال برجزاء۔ تفسیر : جبکہ ہر طرح سے زنا اور اس کے دواعی کی ممانعت کی تو نکاح کرنے کی بھی رغبت دلائی کس لیے کہ مجرد رہنے میں بڑا خطرہ ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے نکاح کرنے کی تاکید فرمائی یا معشر الشباب من استطاع منکم البائۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصرواحصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء (متفق علیہ) اور فرمایا کہ میرے بعد مردوں کے لیے سخت فتنہ عورتوں سے زیادہ کوئی نہیں (متفق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوْنَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغْنِیَھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوْھُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا صلے ق وَّاٰ تُوْھُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اٰ تٰـکُمْ ط وَلاَ تُکْرِھُوْا فـَتَیٰـتِکُمْ عَلَی الْبِغَـآئِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّـتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط وَمَنْ یُّکْرِھْھُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْ م بَعْدِ اِکْرَاھِھِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 33) (اور جو لوگ نکاح کی مقدرت نہ پائیں انھیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–34

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے غلاموں کے نکاح کے حوالے سے ذکر ہوا، لہٰذا ضروری سمجھا گیا کہ ان کی آزادی کا ذکر بھی کیا جائے۔ اس آیت میں آزاد کنوارے مرد اور عورت، غلام اور لونڈی کو نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ کسی شرعی عذر یا غربت کی وجہ سے ازواجی رشتہ میں منسلک نہیں ہوسکتے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے دامن کو بدکاری سے بچائے رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔ غلام کیونکہ دوسرے کا محتاج ہوتا ہے اگر وہ اپنے آقا سے مکاتبت کے ذریعے آزاد ہونا چاہے تو ان کے ساتھ مکاتبت کرنا لازم ہے اگر ان میں نیکی اور خیر کا جذبہ معلوم ہو تو حکم ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے مال سے ان کی معاونت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33: وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ (چاہیے کہ پاکدامنی اختیار کریں وہ لوگ) پاکدامنی کی خوب کوشش کریں گویا کہ مستعف خود عفاف و پاکدامنی کا طالب ہے۔ لَایَجِدُوْنَ نِکَاحًا (جو نکاح نہیں پاتے) مہر کے ساتھ شادی کی وسعت نہیں رکھتے اور خرچہ کی طاقت نہیں رکھتی : حَتّٰی یُغْنِیَہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے بےنیاز کر دے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو مہر و نفقہ کی قدرت عنایت فرمائیں گے۔حضور ﷺ کا ارشاد ہے : یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء۔ ] بخاری، مسلم، احمد [ اے نوجوانو ! جو تم میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 33۔ ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا، ، تاکہ وہ حرام کاری سے بچتے رہیں اور زنا سے بچتے رہیں جو لوگ نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے خواہ مہر کے نہ ہونے کی وجہ سے خواہ نان نفقہ نہ ہونے کی وجہ سے ہو۔ حتی یغنیھم اللہ من فضلہ، اس پر اللہ رزق وسیع کردیتے ہیں۔ والذین یبتغون الکتاب، وہ مکاتبت کو طلب کرتے ہیں ۔ مماملکت ایمانکم فکاتبوھم۔ آیت کا شان نزول۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ روایت میں آتا ہے کہ حویطب بن عبدالعزیز کے غلام نے اپنے آقا سے سوال کیا کہ مجھے مکاتب بنادیجئے۔ انہوں نے اس سے انکار کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی توحویطب نے اپنے گلام کو سودینار ادا کرنے کی شرط پر مکاتب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–34

33۔ 34:۔ صحیح مسلم ‘ نسائی ‘ مستدرک حاکم ‘ مسند بزار ‘ طبرانی وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی چند روایتوں 1 ؎ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ نو عمر چھوکریاں پال لیتے تھے اور کمائی کے طور پر پھر ان سے بدکاری کراتے تھے چناچہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسلام پھیل گیا تو عبداللہ بن ابی منافقوں کے سردار کے پاس دو چھوکریاں تھیں انہوں نے اسلام کی صحبت پاکر بدکاری سے انکار کیا اور عبد اللہ بن ابی نے ان کو بدکاری پر مجبور کیا ‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ترس کھا کر اس لونڈی کو اپنے گھر میں چھپا دیا ‘ عبداللہ بن ابی نے بہت غل مچایا کہ اب ہماری لونڈیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–34

(آیت نمبر (32 اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں۔ (ایامیٰ ) سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردو زن لہذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردو زن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ‘ یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست میں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولٰی ہے۔ (والصلحین من عباد کم وا امائکم) ” اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ “ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 33–34

مکاتبت کا بیان قول باری ہے : (والذین یبتغون الکتاب مما ملکت ایمانکم فکا تبوھم ان علمتم فیھم خیرا۔ ) اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں ان سے مکاتبت کرلو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے۔ عطاء سے مروی ہے کہ اس حکم میں وجوب مراد ہے عمروبن دینار کا یہی قول ہے۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت انس ؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ محمد بن سیرین کے والد سیرین کو مکاتب بنالیں لیکن ان کے انکار پر حضرت عمر ؓ ان پر درہ لے کر پل پڑے تھے اور کہا تھا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ حضرت عمر ؓ کا ارشاد درج بالا آیت کے مضمون کی طرف تھا۔ پھر آپ نے قسم کھائی تھی کہ انس ؓ انہیں ضرور بالضرور مکاتب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

63 بےنکاحوں کو پاکدامن رہنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو لوگ نکاح کی قدرت نہیں رکھتے ان کو چاہیئے کہ وہ پاکدامن رہیں۔ یہاں تک کہ اللہ انکو غنی بنادے اپنے فضل سے اور وہ شادی کرنے کے قابل ہوجائیں۔ واضح رہے کہ یہاں پر قدرت نہ رکھنے سے مراد ہے مالی اعتبار سے قدرت و طاقت نہ رکھنا ہے۔ جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے۔ اور اکثر حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ غنی اور مالدار بنادینا بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کی شان اور اسی کا کام ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَنَّہ ھُوَ اَغْنٰی وَ اَقْنٰی } ۔ (النجم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–33

بدی کو روکنے کے لیے مزید احکامات تشریح : ان آیات میں شرم و حیا اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے نکاح کی تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ نکاح انسان کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا جائز اور حلال طریقہ ہے۔ اور اس طرح فحاشی بدکاری ‘ گمراہی اور فتنہ فساد کی روک تھام ہوجاتی ہے۔ پھر جیسا کہ اس وقت لونڈی غلام کا دور دورہ تھا کیونکہ یہ رسم رومن ائمپائر کے زمانے سے چلی آرہی تھی جو کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے تک تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ اس کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑا طریقہ مکاتبت کا شروع کیا گیا۔ مکاتبت کا مطلب ہے غلام اپنے آقا سے معاہدہ کرتا کہ اتنے عرصہ میں اتنا پیسہ میں ادا کر دوں گا تو آپ مجھے آزاد کریں گے۔ یہ لکھت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–34

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے کہتا ہے، اگر تم اتنا مال اتنی قسطوں میں ادا کردو گے تو میں تمہیں آزاد کر دونگا۔ 7 ۔ یعنی اپنی زکوٰۃ و صدقات سے ان کی مدد کرو تاکہ وہ آزادی حاصل کرسکیں۔ 8 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر لونڈیاں خود پاکدامن نہ رہنا چاہیں تو ان سے حرام کاری کرائی جاسکتی ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنی مرضی سے حرامکاری کریں گی تو اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی اور وہ خود مجرم ہوں گی، لیکن اگر مالک ان سے زبردستی حرامکاری کرائے گا تو اللہ کے ہاں بھی اور قانون کی نظر میں بھی مجرم ان کا مالک ہوگا۔ خود ان پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:33) لیستعفف۔ فعل امر، واحد مذکر غائب استعفاف (استفعال) مصدر وہ بچتا رہے۔ وہ پاکدامن رہے۔ العفۃ نفس میں ایسی حالت کا پیدا ہوجانا جس کے ذریعہ وہ غلبہ شہوت سے محفوظ رہے۔ اصل میں اس کے معنی تھوڑی سی چیز پر قناعت کرنے کے ہیں جو بمنزلہ عفافت یعنی بچی کچھی چیز کے ہو۔ والذین مما ملکت ایمانکم۔ تمہارے غلاموں میں سے وہ لوگ جو۔۔ یبتغون الکتب۔ ای یطلبون المکاتبۃ (جو ) مکاتبت کے خواہاں ہوں۔ یبتغون مضارع معروف جمع مذکر غائب۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ وہ طلب کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں۔ وہ ڈھونڈھتے ہیں۔ مکاتبت اصطلاح شریعت میں غلام اور آقا کے مابین اس معاہدہ کو کہتے ہیں جس میں غلام اپنے آقا سے کہے کہ میں اتنی مدت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–34

لغات القرآن : آیت نمبر 32 تا 34 : انکحوا (نکاح کردو) ‘ الایامی (ایم) بےنکاح مرد یا عورت ‘ عباد (عبد) غلام ‘ امائ (امۃ) لونڈیاں۔ غلام عورتیں ‘ یستعفف (وہ بچتا ہے) ‘ اتو (تم دو ) ‘ لاتکرھوا (تم زبردستی نہ کرو) ‘ فتیت (جوان۔ (جوان لونڈیاں) ‘ البغاء (بدکاری) تحصنا (پاکدامنی) ‘ مثلا (کچھ حالات واقعات) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 : قرآن کریم اور متعدد و احادیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر شخص نکاح کے ذریعہ اپنا گھر بسا کر صحیح راستہ اختیار کرے جو نسل انسانی کی بقا کا سبب بن سکے۔ بےنکاحی کی زندگی گذارنا ایک غلط طریقہ زندگی ہے جس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–34

کتابت کا حکم۔ (ف 2) شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حویطب بن عبدالعزی کے غلام صبح نے اپنے آقا سے کتابت کی درخواست کی، آقا نے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جو تمہارے ہاتھ کی ملک باندی غلاموں میں سے جو یہ چاہیں کہ کچھ مال کمانے کی شرط پر انہیں آزادی لکھ دو ، اگر تمہیں ان میں کتابت کی رقم کمانے کی قابلیت نظر آوے تو ان سے کتابت کا معاملہ کرلیا کرو پھر فرمایا جب یہ کتابت کا معاملہ ٹھہرجاوے تو ہر ایک مسلمان صدقہ و خیرات زکوۃ کی رقم میں سے ایسے غلام کو کچھ مدد دیوے جس سے وہ بیچارہ جلدی سے اپنے ذمہ کی رقم ادا کرکے آزاد ہوجائے جب یہ آیت نازل ہوئی تو حویطب نے اس سے سودینار پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–34

[39] مکاتبت اصطلاح شریعت میں غلام و آقا کے درمیان معاہدے کا نام ہے۔ غلام اپنے آقا سے یہ کہے کہ میں کما کر اتنا مال تجھے دے دوں تو آزاد ہوجاؤں اور مالک اسے منظور کرے۔ یہ مکاتب اگرچہ ابھی غلام رہے گا۔ لیکن پیشہ یا تجارت اختیار کرنے کے باب میں خود مختار ہوجائے گا۔ پھر اگر شرط پوری ہوگئی تو آزاد ہوجائے گا۔ نہ پوری ہونے کی صورت میں غلام یا تو خود ہی مکاتبت فسخ کرا لے ورنہ قاضی کرا دے گا۔ [40] بہتری کے آثار سے مراد ہے کمانے کا سلیقہ اور غلامی سے آزاد ہو کر بدکاری، چوری یا اور طرح کی بدمعاشیوں کا ارتکاب نہ کرنا۔ [41] تاکہ وہ جلد آزادی حاصل کرلیں۔ [42] زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اپنی لونڈیوں کو ان کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–34

غیر شادی شدہ لوگوں کے لیے ایک نسخہ : (ف 2) یعنی جو لوگ شادی شدہ کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ جذبات پر قابو رکھیں حضور نے فرمایا یا معشر الشباب من استطاء منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض البصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فان الصوم لہ وجاء ۔ (ترجمہ : نوجوانو ! تم میں جو لوگ شادی کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ ضرور شادی کریں کیونکہ اس طرح انسان کا کرکٹر محفوظ ہوجاتا ہے ۔ اور جو شادی کا مقدور نہ رکھتے ہوں وہ روزے رکھیں ، کیونکہ اس طریق سے ضبط نفس کا سامان پیدا ہوجاتا ہے ۔ غلامی اور مکاتبت : (ف 1) اسلام غلامی کو طبعا ناپسند کرتا ہے اس لیے اس نے غلامی کے متعلق ایسی شروط وقیود کا اضافہ کردیا ہے کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اور وہ لوگ جو نکاح کا سامان نہ پائیں اور ان کو نکاح کا مقدورنہ ہو ان کو چاہئے کہ وہ بچتے رہیں اور ضبط کرتے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو غنی اور صاحب مقدور کردے اور اپنے فضل اور مہربانی سے ان کو مالدار بنادے اور تمہارے مملوک خواہ وہ غلام ہوں یا لونڈیاں ان میں سے جو مملوک لکھا دینے کی خواہش کریں اور مکاتب بننا چاہیں تو تم ان کو مکاتب بنادیا کرو۔ اگر تم ان میں بہتری اور بھلائی پائو اور جانو اور اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے ان کو بھی کچھ دو یعنی اپنے مکاتبوں کو اور اپنی باندیوں کو محض اس غرض سے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ حاصل کرو اور دنیوی زندگی کا سامان ان سے حاصل کرو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–34

ف 2۔ مکاتبت شرع میں ایک معاہدہ ہے درمیان غلام اور آقا کے، آقا اس سے یہ کہے کہ تو مجھ کو اس قدر مال کما کر دے دے تو آزاد ہے، اور غلام قبول کرلے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں میں نکاح کا مقدور نہ ہو ان کو کیا کرنا چاہئے ؟ ۔ 50۔ زیر نظر آیت نے ہمارے مفسرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ کیا تحریر کریں اس لئے انہوں نے دبی زبان سے جو کچھ کہا ہے اس نے لوگوں کو سیدھا کرنے کی بجائے مزید ٹیڑھا کردیا ہے ۔ آیت میں مختلف احکامات دیئے گئے ہیں جن کا تعلق گزشتہ بیان کی گئی آیات کے ساتھ ہے بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ آیت گزشتہ آیات کا خلاصہ ہے ، اس میں پہلا حکم جو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ” جن لوگوں کو نکاح کا مقدور نہ ہو اس کو چاہئے کہ وہ ضبط کریں “ معلوم ہوا کہ اسلام کی نظر میں نکاح اگرچہ ایک فطری تقاضا ہے لیکن یہ تقاضا اس طرح کا نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Warning It is commented in Tafsir Mazhari that it should, however, be noted that Allah Ta’ ala's promise to grant riches to the one who will marry is only on the condition that his intention is to safeguard his chastity and to follow the sunnah. After that he should have trust and faith in Allah Ta’ ala, for which the confirmation is available in the next verse, which reads: وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ (And those who cannot afford marriage should keep chaste until Allah enriches them out of His grace - 24:33). ` It means that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

54. The best commentary on these verses are the traditions which have been reported from the Prophet (peace be upon him) in this connection. Abdullah bin Masud has related that the Prophet (peace be upon him) once said: O young men, whoso among you can afford to marry, he should marry, because this will be a means of restraining the eyes from casting the evil look and of keeping one pure and chaste, and the one who cannot afford, should fast, because fasting helps cool down the passions. (Bukhari, Muslim). According to Abu Hurairah, the Prophet (peace be upon him) said: Allah has taken upon…

Read the full tafseer →