Explained with ayahs 32–34
نکاح اور شرم وحیا کی تعلیم
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولا نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتاہو، اسے نکاح کرلینا چاہئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے (بخاری مسلم) سنن میں ہے آپ فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 50
اصل میں لفظ ایامیٰ استعمال ہوا ہے جسے عام طور پر لوگ محض بیوہ عورتوں کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ حالانکہ دراصل اس کا اطلاق ایسے تمام مردوں اور عورتوں پر ہوتا ہے جو بےزوج ہوں۔ ایامیٰ جمع ہے اَیِّم کی، اور اَیِّم ہر اس مرد کو کہتے ہیں جس کی کوئی بیوی نہ ہو، اور ہر اس عورت کو کہتے جس کا کوئی شوہر نہ ہو۔ اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ مجرد کیا ہے۔
سورة النُّوْر 51
یعنی جن کا رویہ تمہارے ساتھ بھی اچھا ہو، اور جن میں تم یہ صلاحیت بھی پاؤ کہ وہ ازدواجی زندگی نباہ لیں گے۔ مالک کے ساتھ جس غلام یا لونڈی کا رویہ ٹھیک نہ ہو اور جس کے مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ توقع بھی نہ ہو کہ شادی ہونے کے بعد اپنے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(احرار میں سے) جو بےنکاح ہوں (خواہ مرد ہوں یا عورتیں) اور بےنکاح ہونا بھی عام ہے خواہ ابھی تک نکاح ہوا ہی نہ ہو یا ہونے کے بعد بیوی کی موت یا طلاق کے سبب بےنکاح رہ گئے) تم ان کا نکاح کردیا کرو اور (اسی طرح) تمہارے غلام اور لونڈیوں میں جو اس (نکاح) کے لائق ہوں (یعنی حقوق نکاح ادا کرسکتے ہوں) ان کا بھی (نکاح کردیا کرو محض اپنی مصلحت سے ان کی خواہش نکاح کی مصلحت کو فوت نہ کیا کرو اور احرار کے نکاح پیغام دینے والے کے فقر و افلاس پر نظر کر کے انکار نہ کردیا کرو جبکہ اس میں کسب معاش کی صلاحیت موجود ہو کیونکہ) اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ (اگر چاہے گا) ان کو اپنے فضل سے غنی کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
32۔ 33
ایامی، ایم کی جمع ہے۔ ایم اس مرد لو بھی کہتے ہیں جو بیوی سے محروم ہوا اور اس عورت کو بھی کہتے ہیں جو شہر سے محروم ہو۔ یعنی رانڈ اور رنڈوے دونوں کے لئے یہ لفظاستعمال ہوتا ہے بلکہ اپنے وسیع مفہوم میں یہ ان مردوں اور عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو بن بیا ہے رہ گئے ہوں۔
لفظ صلحین سے مراد
لفظ صلحین یہاں جسمانی اور اخلاقی دونوں قسم کی صلاحیتیں رکھنے والوں کے لئیاستعمال ہوا ہے۔ عربی میں یہ لفظ اس جامع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔
رانڈوں اور رنڈوئوں کے نکاح کی ہدایت
معاشرے کے اندر اخلاقی مفاسد اور شیطان کی دراندازیوں کے لئے ایک وسیع دروازہ یہ چیز بھی کھولتی ہے کہ اس میں بہت سے مرد بیویوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32-1آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کردو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کرلو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مرد و عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی، جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اس طرح امر کے صیغے سے بعض نے ثبوت کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ اسے جائز اور پسندیدہ قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت مؤکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے بچنے کی سخت وعید ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے میری سنت سے انکار کیا، وہ مجھ سے نہیں۔
32-2یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح…
Read the full tafseer →25: اس سورت میں جہاں بےحیائی اور بدکاری کو روکنے کے لیے مختلف احکام دئیے گئے ہیں، وہاں انسان کی فطرت میں جو جنسی خواہش موجود ہے، اس کو حلال طریقے سے پورا کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے، چنانچہ اس آیت میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ جو بالغ مرد و عورت نکاح کے قابل ہوں، تمام متعلقین کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا نکاح ہوجائے، اور یہ اندیشہ نہ کرنا چاہیے کہ اگرچہ اس وقت تو وسعت موجود ہے، لیکن نکاح کے نتیجے میں بیوی بچوں کا خرچ زیادہ ہونے کی وجہ سے کہیں مفلسی نہ ہوجائے، بلکہ جب اس وقت نکاح کی وسعت موجود ہے تو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر نکاح کرلینا چاہیے۔ پاک دامنی کی نیت سے نکاح کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(وانکحوا الایامی۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم ولیستعفف الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم ) ”
جنسی میلان کی تسکین کا بہترین طریقہ شادی ہے۔ اس گہری خواہش کے اندر فطرت اور قدرت کا یہی راز ہے کہ لوگ نسل انسانی کے تسلسل کے مشکل کام کو خوشی خوشی سرانجام دیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم شادی کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کردیں تاکہ زندگی فطری انداز کے مطابق سادگی سے چلتی رہے۔ کسی خاندان کی تشکیل کے لیے پہلی رکاوٹ مالی رکاوٹ ہے اس طرح لوگ محفوظ اور قلعہ بند نہیں ہو سکتے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اس لیے وہ عفت اور پاکیزگی کو تب ہی لازم کرتا ہے جب اس کے لیے اسباب بھی فراہم کر دے اور سوسائٹی کے تمام افراد کو…
Read the full tafseer →8 اوپر استیذان، غض بصر اور تستر وغیرہ کے احکام بیان ہوئے تھے، تاکہ بےحیائی اور بدکاری کی روک تھام کی جائے۔ اس آیت میں یہ حکم دیا کہ جن کا نکاح نہیں ہوا یا ہو کر بیوہ اور رنڈوے ہوگئے تو موقع مناسب ملنے پر ان کا نکاح کردیا کرو۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ " اے علی ! تین کاموں میں دیر نہ کر، نماز فرض کا جب وقت آجائے، جنازہ جب موجود ہو، اور رانڈ عورت جب اس کا کفو مل جائے۔ " جو قومیں رانڈوں کے نکاح پر ناک بھوں چڑھاتی ہیں سمجھ لیں کہ ان کا ایمان سلامت نہیں۔
9 یعنی لونڈی غلام کو اگر اس لائق سمجھو کہ حقوق زوجیت ادا کرسکیں گے اور نکاح ہوجانے پر مغرور ہو کر تمہاری خدمت نہ چھوڑ بیٹھیں گے تو ان کا بھی…
Read the full tafseer →آیت 32 وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ ”
یہ بہت اہم حکم ہے۔ خصوصی طور پر ہمارے اس معاشرے کے لیے اس میں بہت بڑی راہنمائی ہے جہاں ہندوانہ رسم و رواج کے اثرات کے باعث بیوہ کا نکاح کرنا معیوب اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ خوشی سے کوئی شخص بھی نکاح نہیں کرنا چاہتا۔
وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآءِکُمْ ط ”
تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو سمجھ دار ہوں اور ان کے کردار کے بارے میں بھی تمہیں اعتماد ہو ان کے آپس میں نکاح کردیا کرو۔ غلاموں اور کنیزوں کے نکاح ان کے آقاؤں کی اجازت سے ہوں گے اور جب کسی کنیز کا نکاح ہوجائے گا تو پھر اس کے آقا کو اس کے ساتھ تمتعّ کی اجازت نہیں…
Read the full tafseer →50 معاشرہ کے فواحش سے طہارت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی فرد خواہ وہ مرد ہو یا عورت بےزوج نہ رہے۔ ایسے سب افراد کے نکاح کردو۔ ایامیالم کی جمع ہے اور یہ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ مرد بھی ہیں جن کی بیوی یا بیویاں فوت ہوچکی ہوں یا طلاق دے چکے ہوں اور مجرد رہتے ہوں اور وہ عورتیں بھی جو بیوہ ہوں یا مطلقہ ہوں اور مجرد رہتی ہوں۔ نیز ان میں وہ کنوارے مرد اور کنواری عورتیں بھی شامل ہیں جن کی بلوغت کے بعد تادیر شادی نہ ہوئی ہو۔ لہذا اس لفظ کا معنی مجرد رہنی ہی قریب الفہم ہے۔ ایسے ہی مجرد افراد کے اولیاء کو یہ حکم دیا جارہا ہے۔ چناچہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ…
Read the full tafseer →65۔ ایم کے معنی ہیں عورت بلاشوہر، یا شوہر بلاعورت، عام ہے ہر مرد و عورت کیلئے جس کا نکاح یا تو سرے سے ہوا ہی نہ ہو۔ یا ہوا ہو اور بہ سبب وفات و طلاق کے تجرد ہوگیا ہو۔ الایم من النساء من لازوج اوبکرا اور شیبا ومن الرجال من لاامراۃ لہ (تاج) اسم الایامی ینتطم الرجال والنساء ومن الرجال من لاامراۃ لہ (تاج) اسم الایامی ینتطم الرجال والنساء (جصاص) (آیت) ” وانکحوا “۔ حکم وجوبی نہیں استحبابی ہے۔ قد قامت الدلالۃ من اجماع السلف وفقھاء الامصار علی انہ لم یردبھا الایجاب۔ وانھا استحباب (جصاص) شریعت اسلام میں نکاح بجائے خود ایک فضیلت کی چیز ہے۔ مسیحیت کی طرح نکاح ایک ناگزیر برائی کا نام نہیں۔ ملاحظہ ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
آیت نمبر 27 تا 34
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو اور اہل خانہ کو سلام نہ کرلو پس ہر اجازت لینے والے کو چاہیے کہ کہے السلام علیکم أادخُلُ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ہے بغیر اجازت داخل ہونے سے تاکہ تم خیال رکھو اجازت کے خیر ہونے کا پھر تم اس پر عمل کرو تائے ثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے سو اگر تم گھروں میں کسی کو نہ پاؤ کہ تم کو اجازت دے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے اور اگر اجازت طلب کرنے کے بعد تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو…
Read the full tafseer →وانکحوا الایامی منکم جب کہ گزشتہ آیات میں اللہ نے ان باتوں کی ممانعت فرما دی جو اکثر زنا کی طرف لے
جاتی ہیں تو اب اس آیت میں نکاح کا حکم دیا (تاکہ فطرت انسانی کا تقاضا جائز طور پر پورا ہو سکے) نکاح نظروں کو نیچا رکھنے والا اور زنا سے بچانے والا ہے۔ انکحوا میں خطاب اولیا اور سرپرستوں کو ہے۔ ایامیٰ اصل میں ایایم تھا ‘ جیسے یتامیٰ کی اصل یتایم تھی اتم کی جمع ایامیٰ ہے ایم اس مرد کو بھی کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو اور اس عورت کو بھی کہتے ہیں جس کا شوہر نہ ہو۔
والصلحین من عبادکم وامآئکم اور اپنے غلاموں اور باندیوں میں سے ان کا بھی نکاح کر دو جو
صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ امر استحبابی ہے (واجب نہیں ہے)…
Read the full tafseer →(32) اور تمہاری لڑکیوں اور بہنوں میں سے یا کہ تمہارے بیٹوں اور بھائیوں میں سے جو غیر شادی شدہ ہوں ان کی تم شادی کردیا کرو اور اسی طرح تمہارے غلام اور باندیوں میں جو نکاح کے لائق ہوں ان کا بھی نکاح کردیا کرو اور اگر وہ آزاد آدمی مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ تعالیٰ آزاد و غلام کو روزی میں بہت وسعت والا اور ان کی روزی کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ : ”الْاَيَامٰى“ ”آمَ یَءِیْمُ أَیْمًا“ (بَاعَ یَبِیْعُ) سے ”أَیِّمٌ“ (بروزن فَیْعِلٌ، کَسَیِّدٍ) کی جمع ہے، یعنی وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو، کنواری ہو یا بیوہ یا مطلقہ اور وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو، کنوارا ہو یا ثیب۔ زمخشری کے مطابق ”أَیَامٰی“ کا وزن ”أَفَاعِلُ“ ہے، کیونکہ یہ ”أَیِّمٌ“ کی جمع ہے، جو ”فَیْعِلٌ“ کے وزن پر ہے اور ”فَیْعِلٌ“ کی جمع ”فَعَالٰی“ نہیں آتی۔ اس لیے ”أَیَامٰی“ کا اصل ”أَیَایِمُ“ ہے، جس میں قلب کرکے میم کو یاء کی جگہ پہلے کردیا گیا، کیونکہ الف کے بعد یاء پڑھنے میں ثقل ہے، پھر میم کو تخفیف کے لیے فتحہ دے دیا گیا اور یاء کو الف سے بدل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولیستعفف الذین یہ اسے خطاب ہے جو اپنے نفس کا خود مالک ہے نہ کہ اسے جس کی زمام دوسرے کے ہاتھ میں ہو کیونکہ وہ اسے اپنی مرضی سے چلاتا ہے جیسے محجور علیہ ہوتا ہے، یہ ایک قول ہے۔ اور جیسے لونڈی اور غلام علماء کے دوسرے قول کے مطابق۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ استعفف کا وزن استفعل ہے۔ اس کا معنی ہے اس نے پاکدامن ہونا طلب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہر شخص کو پاکدامن رہنے کا حکم دیا ہے جو نکاح نہیں کرسکتا اور کسی وجہ سے نکاح کو نہیں پاتا پھر جب نکاح کے موانع میں سے اغلب کا مال کا نہ ہونا ہے تو اپنے فضل سے غنی کرنے کا وعدہ فرمایا وہ اسے عطا فرمائے گا جس کے ساتھ وہ نکاح…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید نے قتادہ نے آیت وانکحوا الایامی منکم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا کہ جیسے کہ تم سن رہے ہو کہ ان کے نکاح کردو کیونکہ وہ جھکانے والا ہے ان کی آنکھوں کو اور ان کی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اپنے غلاموں اور اپنی باندیوں میں سے جو نیک ہوں ان کے نکاح کردیا کرو۔
3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک مردوں نیک عورتوں کا نکاح کردیا کرو اور اس کے بعد جو کوئی ان کی تابعداری کرے گا تو وہ اچھا ہے۔
4۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” وانکحوا الایامی منکم “…
Read the full tafseer →وَاَنْكِحُوا [ اور تم لوگ نکاح کر دو ] الْاَيَامٰى [ بےنگاحوں کا ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَالصّٰلِحِيْنَ [ اور نیکوں کا ] مِنْ عِبَادِكُمْ [ تمہارے غلاموں میں سے ] وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ [ اور اپنی کنیزوں میں سے ] اِنْ يَّكُوْنُوْا [ اگر وہ لوگ ہوں ] فُقَرَاۗءَ [ مفلس ] يُغْنِهِمُ [ تو غنی کردے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] وَاسِعٌ[ وسعت والا ہے ] عَلِيْمٌ[ جاننے والا ہے ]
ء ی م :
(ض) ایما مرد کار انڈیا عورت کا بیوہ ہوجانا۔
ایم ج ایامی۔ صفت ہے۔ رانڈ۔ بیوہ ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 32 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس کا بھی نکاح ہوجائے گا…
Read the full tafseer →نکاح کی ضرورت اور عفت و عصمت محفوظ رکھنے کی اہمیت
ان آیات میں ان لوگوں کا نکاح کردینے کا حکم فرمایا ہے جو بانکاح نہ ہوں جس کی دونوں صورتیں ہیں ایک یہ کہ اب تک نکاح ہوا ہی نہ ہو، دوسری یہ کہ نکاح ہو کر چھوٹ چھڑاؤ ہوگیا ہو یا میاں بیوی میں سے کسی کی وفات ہوگئی ہو۔ آیت شریفہ میں جو لفظ ایامی وارد ہوا ہے یہ ایّم کی جمع ہے۔ عربی میں ایّم اس مرد کو کہتے ہیں جس کا جوڑا نہ ہو، چونکہ نکاح ہوجانے سے مرد اور عورت کے نفسانی ابھار کا انتظام ہوجاتا ہے اور نکاح پاکدامن رہنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اس لیے شریعت اسلامیہ میں اپنا نکاح کرنے اور دوسروں کا نکاح کرا دینے کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ نکاح ہوجانے سے نفس و…
Read the full tafseer →حکم ہفتم۔ وحکم ہشتم
قال اللہ تعالی۔ وانکحوا الایامی منکم۔۔۔ الی۔۔۔ حتی یغنیہم اللہ من فضلہ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ہر طرف سے نفسانی خواہشوں اور زنا کی روک تھام کا انتظام تھا۔ اب آئندہ آیات میں نکاح کا حکم دیتے ہیں جو عفت کا سامان ہے اور زنا سے بچنے کا عمدہ ذریعہ ہے، ان آیتوں میں ناکتحذا یعنی غیر شادی شدہ مرد اور عورت کے متعلق دو حکم مذکور ہیں۔ ایک حکم تو یہ ہے کہ جن میں نکاح کی استطاعت ہو ان کا نکاح کردیا جائے۔ کما قال تعالیٰ وانکحوا الایامی منکم والصلحین من عبادکم وامائکم یہ سورت کا ساتواں حکم ہے اور دوسرا حکم یہ ہے کہ جن میں نکاح کی استطاعت نہ ہو وہ صبر کریں اور ضبط نفس سے کام لیں، یعنی روزے…
Read the full tafseer →ٖ 33:۔ ” وانکحوا الایامی الخ ” یہ چوتھا قانون ہے اس کا تعلق بھی صلاح و عفاف اور تطہیر معاشرہ سے ہے۔ ایامی ایم کی جمع ہے اور ایم غیر شادی شدہ مرد و عورت کو کہتے ہیں یا وہ مرد و زن جن کا رفیق زندگی فوت ہوچکا ہو الایم قال نضر بن شمیل کل ذکر لا انثی معہ و کل انثی لا ذکر معھا بکرا کان او ثیبا۔ وفی شرح کتاب سیبویہ لابی بکر الخفاف الایم التی لا زوج لھا واصلہھی التی کانت متزوجۃ ففقدت زوجھا برزء طرا علیھا الخ (روح ج 8 ص 147) ۔ یعنی جس عورت و مرد کا ابھی تک نکاح نہیں ہوا یا ہو کر بیوہ یا رنڈوا ہوگیا ہے تو موقع مناسب دیکھ کر ان کا نکاح کردو۔ اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کا نکاح بھی…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ آیات میں نگاہ کو پست رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور عورتوں کو پردے کی تلقین کی گئی تھی۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے گھروں میں جانے کے آداب سکھائے تھے اور فرمایا تھا کہ کسی کے گھر میں بلا اجازت اور بلا اطلاع مت جائو اور اگر کسی غیر محرم اور اجنبی پر اچانک نظر پڑجائے تو اپنی نگاہ کو فوراً پست کرلو اور ارادتاً دیکھنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ حکم اللہ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو دیا اس کے ساتھ ساتھ اپنی ناموس کی حفاظت کا حکم دیا ۔ فرمایا کہ عورتیں اپنی زیب وزینت کا اظہار سوائے اپنے خاوندوں اور محرموں کے کسی غیر محرم کے سامنے نہ کریں۔ اگر اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی واقع ہوجائے تو…
Read the full tafseer →وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ 0ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِہِمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ 0ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 32
نكح
أصل النِّكَاحُ للعَقْدِ ، ثم استُعِيرَ للجِماع، ومُحالٌ أن يكونَ في الأصلِ للجِمَاعِ ، ثمّ استعیر للعَقْد، لأَنَّ أسماءَ الجِمَاعِ كلَّهَا كِنَايَاتٌ لاسْتِقْبَاحِهِمْ ذكرَهُ كاسْتِقْبَاحِ تَعَاطِيهِ ، ومحال أن يَسْتَعِيرَ منَ لا يَقْصِدُ فحْشاً اسمَ ما يَسْتَفْظِعُونَهُ لما يَسْتَحْسِنُونَهُ. قال تعالی: وَأَنْكِحُوا الْأَيامی
[ النور/ 32] ، إِذا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِناتِ [ الأحزاب/ 49] ، فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ترکیب : الایامٰی جمع ایم وھو الضرب ذکراً کان او انثی بکراً کان اوثیبًا و ایامی مقلوب ایائم کیتامیٰ ۔ والصالحین معطوف ہے ایامی پر مفعول انکحوا کا والذین یبتغون مبتداء فکاتبوھم خبر۔ ان علمتم جملہ شرطیہ اگلا جملہ فکاتبوھم دال برجزاء۔
تفسیر : جبکہ ہر طرح سے زنا اور اس کے دواعی کی ممانعت کی تو نکاح کرنے کی بھی رغبت دلائی کس لیے کہ مجرد رہنے میں بڑا خطرہ ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے نکاح کرنے کی تاکید فرمائی یا معشر الشباب من استطاع منکم البائۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصرواحصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء (متفق علیہ) اور فرمایا کہ میرے بعد مردوں کے لیے سخت فتنہ عورتوں سے زیادہ کوئی نہیں (متفق…
Read the full tafseer →وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآئِکُمْ ط اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (النور : 32)
(اور نکاح کردو اپنے میں سے مجرد لوگوں کا، اور اپنے ان غلاموں اور لونڈیوں کا جو ذی صلاحیت ہوں، اگر وہ تنگدست ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے۔ )
اَیَامٰی سے مراد
الْاَیَامٰی … اَیّم کی جمع ہے۔ اہل لغت کا اس پر اتفاق ہے کہ اصل میں اس کا اطلاق اس عورت پر ہوتا ہے جس کا خاوند نہ ہو، خواہ وہ کنواری ہو یا بیوہ یا مطلقہ۔ اب اس کا اطلاق ایسے مرد پر بھی ہونے لگا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نظر اور شرمگاہ کو بچانے کے لیے نکاح کرنے کا حکم۔
اس سورة کی آیت 26 میں یہ ارشاد ہوا کہ پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لیے اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لیے ہیں یعنی انہیں ایک دوسرے سے نکاح کرنا چاہیے اب کھلے الفاظ میں حکم دیا ہے کہ جو لوگ غیر شادی شدہ ہیں انہیں اپنے میں سے یعنی مسلمانوں سے نکاح کرنا چاہیے اور جو تم میں نیک غلام اور لونڈیاں ہیں ان کے بھی ایک دوسرے کے ساتھ نکاح ہونے چاہئیں اگر وہ غریب ہوں تو انہیں نکاح کرنے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں غنی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ بہت وسعت والا اور ہر کام اور بات کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اسلام سے…
Read the full tafseer →رانڈوں کے نکاح کا حکم :
32: وَاَنْکِحُو الْاَیَامٰی مِنْکُمْ (اور تم نکاح کرو اپنے میں سے رانڈوں کا) الایامی جمع ایم کی ہے۔ جس کی بیوی نہ ہو یا جس عورت کا خاوند نہ ہو۔ خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ یہ اصل میں ایائم تھا قلب سے ایامیٰ ہوگیا۔ وَالصّٰلِحِیْنَ (نیک و صالح) پسندیدہ یا مومن مطلب یہ ہے جو آزاد رانڈ ہوجائے یا جو عورت بیوہ ہوجائے اور اس میں بھلائی ہو۔ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآ ئِکُمْ (اپنے غلاموں اور لونڈیوں میں سے) یعنی تمہارے غلاموں میں سے اور تمہاری باندیوں میں سے۔ امرندب و استحباب کیلئے ہے کیونکہ نکاح مستحب ہے۔
اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآ ئَ (اگر وہ تنگدست ہونگے) مالی لحاظ سے : یُعْنِھِمُ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
32۔ وانکحوالایامی منکم، ،، ، الایامی جمع ایم کی، اس مرد کو کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو اس عورت کو کہتے ہیں جس کا خاوند نہ ہو جیسا کہ کہاجاتا ہے رجل، ایم وامراۃ ایمہ، آیت کا معنی ہے اے مومنین کی جماعت، تم آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح کرو۔ والصالحین من عبادکم وامائکم، یہ امر مندوب اور استحباب کے لیے ہے۔ اس شخص کے لیے مستحب ہے جو شخص نکاح کی طاقت رکھے اور وہ اپنے لیے نکاح والی عورت بھی پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ شادی کرے اور اگر نکاح کرنے کی طاقت نہ ہوتوپھرشہوت کو روزں کے ذریعے توڑے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ اے جو انوا کی جماعت تم میں سے جو لوگ نکاح کی طاقت رکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30:۔ اوپر ذکر تھا کہ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے گھر میں بےکھنکارے ‘ بیخبر ی کی حالت میں نہ جاوے کیونکہ بیخبر ی کی حالت میں چلے جانے سے ننگی کھلی اجنبی عورتوں کے سامنے آجانے کا اندیشہ ہے ‘ اس آیت میں فرمایا ‘ اجازت کے بعد دوسرے رشتہ دار کے گھر میں جانے سے یا بازار وغیرہ میں اجنبی عورت نظر پڑجاوے تو ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اپنی نگاہ نیچی کرے مرد کے نیچی نگاہ کرلینے کی حالت عورت مرد کی صورت دیکھ سکتی ہے ‘ اس واسطے اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے آیت کو پوری تعمیل ہونے کی غرض سے ایسے موقع پر حکم دیا کہ ایماندار شخص اجنبی عورت کی طرف سے اپنا منہ پھیر لے ‘ چناچہ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم ‘ ترمذی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(آیت نمبر (32
اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں۔ (ایامیٰ ) سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردو زن لہذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردو زن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ‘ یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست میں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولٰی ہے۔
(والصلحین من عباد کم وا امائکم) ” اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔ “ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے…
Read the full tafseer →نکاح کی ترغیب کا بیان
قول باری ہے : (وانکحوا الایامی منکم والصالحین من عبادکم واما ئکم اور تم میں سے جو مجردہوں اور تمہاری لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو) تاآخر آیت ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت ایجاب کا مقتضی ہے۔ تاہم سلف اور فقہائے امصار کے اجماع کی دلالت اس بات پر قائم ہوچکی ہے کہ یہاں ایجاب مراد نہیں ہے بلکہ استحیاب مراد ہے۔ اگر یہ بات واجب ہوتی تو حضور ﷺ اور سلف سے اس کے متعلق روایات بہت وسیع پیمانے پر استفاضہ کی صورت میں منقول ہوتیں۔ کیونکہ عمومی طور پر اس کی ضرورت تھی۔ لیکن جب ہمحضور ﷺ کے زمانے اور آپ کے بعد کے زمانوں میں بہت سے مردوں اور عورتوں کو نکاح کے بغیر…
Read the full tafseer →60 بےنکاحوں کو نکاح کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نکاح کرا دیا کرو تم اپنے میں سے بےنکاحوں کے "۔ " اَیَامٰی " جمع ہے " ایم " کی جس کے معنیٰ بےنکاح کے آتے ہیں۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ چناچہ " ایم " اس مرد کو بھی کہا جاتا ہے جس کی بیوی نہ ہو اور اس عورت کو بھی جس کا شوہر نہ ہو۔ اور خواہ اس نے سرے سے نکاح کیا ہی نہ ہو یا ہونے کے بعد کسی وجہ سے ختم ہوگیا ہو۔ (روح، ابن جریر، قرطبی، مراغی اور محاسن وغیرہ) ۔ سو اس سے اسلام کی تعلیمات مقدسہ کا مزاج واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کی روشنی میں مسلم معاشرے میں کسی مرد یا عورت کا بےنکاح رہنا ایک معیوب امر ہے۔ کیونکہ اس سے آگے طرح طرح کے مفاسد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
بدی کو روکنے کے لیے مزید احکامات
تشریح : ان آیات میں شرم و حیا اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے نکاح کی تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ نکاح انسان کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا جائز اور حلال طریقہ ہے۔ اور اس طرح فحاشی بدکاری ‘ گمراہی اور فتنہ فساد کی روک تھام ہوجاتی ہے۔ پھر جیسا کہ اس وقت لونڈی غلام کا دور دورہ تھا کیونکہ یہ رسم رومن ائمپائر کے زمانے سے چلی آرہی تھی جو کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے تک تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ اس کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑا طریقہ مکاتبت کا شروع کیا گیا۔ مکاتبت کا مطلب ہے غلام اپنے آقا سے معاہدہ کرتا کہ اتنے عرصہ میں اتنا پیسہ میں ادا کر دوں گا تو آپ مجھے آزاد کریں گے۔ یہ لکھت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے…
Read the full tafseer →4 ۔ اسی طرح جو مرد بےبیوی کے ہوں ان کا بھی نکاح پڑھا دو “ ایامی “ جمع ہے ایم کی اور ایم کا لفظ اس مرد پر بولا جاتا ہے جس کی کوئی بیوی نہ ہو اور عورت پر بھی جس کا کوئی شوہر نہ ہو۔ (شوکانی) 5 ۔ ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : نوجوانو ! تم میں سے جو شخص شادی کرسکتا ہے اسے کر لینی چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو نیچا رھنے والی اور شرمگاہ کو بدی سے بچانے والی چیز ہے اور جسے اس کی استطاعت نہ ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ شہوت کے جوش کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ (بخاری، مسلم)
Read the full tafseer →(24:32) الایامی۔ بغیر بیوی والے مرد۔ بغیر شوہر والی عورتیں اس کا واحد ایم ہے یعنی بےنکاحوں کا نکاح کرو۔ امائکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری لونڈیاں۔ اماء امۃ کی جمع ہے اس کا عطف عبادکم پر ہے۔
الصلحین۔ یہاں صالحین سے مراد نیک اور مومن غلام وکنیزیں بھی ہوسکتا ہے اور ایسے غلام اور لونڈیاں جو خانہ داری کا بوجھ اٹھانے اور ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یکونوا۔ فعل مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ جمع مذکر غائب۔ اس میں تمام بغیر بیوی کے مرد بغیر خاوند کی عورتیں۔ صالحین غلام ولونڈیاں آئیں ۔ یعنی فقرہ غربت ان کے نکاح میں حائل نہ ہو کیونکہ فقرو غنا مشیت ایزدی پر منحصر ہے نکاح اس کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
لغات القرآن : آیت نمبر 32 تا 34 :
انکحوا (نکاح کردو) ‘ الایامی (ایم) بےنکاح مرد یا عورت ‘ عباد (عبد) غلام ‘ امائ (امۃ) لونڈیاں۔ غلام عورتیں ‘ یستعفف (وہ بچتا ہے) ‘ اتو (تم دو ) ‘ لاتکرھوا (تم زبردستی نہ کرو) ‘ فتیت (جوان۔ (جوان لونڈیاں) ‘ البغاء (بدکاری) تحصنا (پاکدامنی) ‘ مثلا (کچھ حالات واقعات) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 :
قرآن کریم اور متعدد و احادیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر شخص نکاح کے ذریعہ اپنا گھر بسا کر صحیح راستہ اختیار کرے جو نسل انسانی کی بقا کا سبب بن سکے۔ بےنکاحی کی زندگی گذارنا ایک غلط طریقہ زندگی ہے جس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →بیوہ عورتوں کا نکاح۔
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانوں تم کو چاہیے کہ اپنے گروہ کی رانڈ عورتوں اور رنڈوے مردوں کو بغیر نکاح کے بیٹھانہ رہنے دو ، بلکہ سمجھا بجھا کر ان کا اور اپنے نیک غلام اور لونڈیوں کا نکاح کرادو، پھر فرمایا کہ نکاح سے پہلے اگر ان میں کوئی تنگ دست ہو تو تنگ دستی کے عذر سے نکاح کو نہ روکا جائے ، نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی تنگ دستی کو رفع کرکے انہیں خوشحال کردے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا خزانہ بہت بڑا ہے ۔ وہ اپنی بندوں کی ضرورتوں سے خوب واقف ہے آگے فرمایا جو لوگ بالکل ایسے تنگ دست ہیں کہ کسی طرح نکاح کا بار نہ اٹھا سکتے ہون تو جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[26] یعنی انھیں قصداً غیر مردوں کو نہ دیکھنا چاہئے، نگاہ پڑجائے تو ہٹا لینی چاہئے اور دوسروں کے ستر پر بھی نگاہ نہ ڈالنی چاہئے۔
[27] یعنی ناجائز جنسی تعلقات سے پرہیز کریں اور اپنا ستر بھی دوسروں کے سامنے نہ کھولیں۔ عورت کا ستر ہاتھ اور منہ کے سوا اس کا سارا جسم ہے جسے تمام لوگوں سے چھپانے کا حکم ہے۔ اس حکم میں باپ، بھائی اور تمام رشتہ دار شامل ہیں اور شوہر کے سوا کوئی مرد اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ نیز عورت کو ایسا باریک یا چست لباس بھی نہ پہننا چاہئے جس سے بدن اندر سے جھلکے یا بدن کی ساخت نمایاں ہو۔
[28] یعنی جس قدر زینت کا ظاہر کرنا ناگزیر ہے۔ احادیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرے کی ٹکیا،…
Read the full tafseer →نکاح ایک مدنی ضرورت ہے :
(ف 1) الا یای کا لفظ عام ہے ہر اس مرد کو کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو ، اس طرح ہر اس عورت کو کہتے جس کے خاوند نہ ہو ، یہ ایم کی جمع ہے حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے زوجوا ایامکم “۔ ایک شاعر کہتا ہے ۔
فان تنکحوا الکم وان تتایمی وان کنت امتی منکم اتائم :
یعنی اگر تم شادی میرے ساتھ منظور کرلو گی تو میں بھی منظور کرلوں گا ورنہ باوجود تم سب سے زیادہ طاقتور ہونے کے میں کنوار رہوں گا ، آیت کا مقصد ہے کہ نکاح چونکہ شرعی واخلاقی لحاظ سے سوسائٹی کی بہت بڑی خدمت ہے اس لئے ہر مسلمان اور ہر عورت کو شادی شدہ ہونا چاہئے خطاب اولیاء سے ہے ، ان یکونوا فقرآئ “۔ سے غرض یہ نہیں کہ نکاح یہ شادی…
Read the full tafseer →(32) اور تم میں سے جو مرد وعورت بےنکاح کے ہوں ان کے نکاح کردیا کرو اور تمہارے غلام اور باندیوں میں سے جو نکاح کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہوں اور نکاح کے لائق ہوں ان کا بھی نکاح کردیا کرو اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی کشائش والا بڑا فیاض اور سب کی حالت جاننے والا ہے۔
آیت کے پہلے حصہ میں آزاد مرد و عورت کے لئے حکم دیا کہ ان کے نکاح کردو۔ نکاح کے مختلف احوال ہیں بعض حالات میں مستحب یا سنت اور بعض حالات میں واجب ہے پھر اپنے غلام اور باندیوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ حقوق زوجیت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نکاح کے بعد ان کے مغرور…
Read the full tafseer →ف 1۔ پس نہ عدم غنا کو مانع نکاح سمجھیں اور نہ نکاح کا مانع غنا، اس کا دارومدار مشیت پر ہے۔
Read the full tafseer →اپنے بےنکاح لوگوں کا نکاح کر دو تاکہ انسانیت کی تکمیل ہو سکے :
48۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ہر ایک مرد کے لئے خواہ وہ کوئی ہو عورت ایک ضرورت ہے اور ہر ایک عورت کے لئے خواہ وہ کوئی ہو مرد ایک ضرورت ہے کیونکہ دونوں ایک جنس کی دو اصناف ہیں اور جنس انسانیت کی تکمیل کے لئے دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں اس لئے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اپنے بےنکاح لوگوں کا نکاح کردیا دیا کرو “ (ایامی) جمع ہے ” ایم “ کی اور ایم ہر وہ مرد ہے جس کی بیوی نہ ہو اور ہر وہ عورت ہے جس کا خاوند نہ ہو ۔ کسی نے پہلے شادی کی ہو یا نہ کی ہو شادی کر چکنے کی صورت میں دوسرا فریق وفات پا جائے یا مرد نے…
Read the full tafseer →Commentary
Some injunctions regarding marriage
It has been pointed out earlier that Surah an-Nur contains mostly the injunctions relating to protection of chastity and continence, and prevention of obscenity and shamelessness. In this connection severe punishments against adultery and related matters are mentioned, then istidhan is highlighted, and after that hijab for women is described. Since Islamic jurisprudence is based on the precept of moderation, all its injunctions are moderate, and have affinity with natural human emotions and desires. It is also based on the principle to control…
Read the full tafseer →50. The word ayama is the plural of ayyim which means a single person, and is applicable to every man who is without a wife and to every woman who is without a husband.
51. That is, those who show the right attitude in their dealings with you and in whom you find the capability of discharging the responsibilities of married life. The owner whose slave does not show the right attitude nor seems to possess the necessary capability and temper to lead a reasonably happy married life, has not been required to arrange his or her marriage. For in that case he would become the cause of ruining…
Read the full tafseer →