اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ
— مولانا فتح محمد جالندہری
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
— مولانا محمد جوناگڑہی
اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔ اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں، اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ، یا اپنے شوہروں کے باپ کے، یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، یا ان کے جو اپنے ہاتھوں کی ملکیت میں ہیں یا ان خدمت گزاروں کے جن کے دل میں کوئی (جنسی) تقاضا نہیں ہوتا یا ان بچوں کے جو ابھی عورتوں کے چھپے ہوئے حصوں سے آشنا نہیں ہوئے اور مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ ماریں کہ انہوں نے جو زینت چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہوجائے۔ اور اے مومنو ! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،
— امام احمد رضا خان · کنز الایمان
اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ،
— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن
اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہوجائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے، یا اپنے باپوں، یا اپنے خاوندوں کے باپوں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں (کے لیے) ، یا (ان کے لیے) جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یا تابع رہنے والے مردوں کے لیے جو شہوت والے نہیں، یا ان لڑکوں کے لیے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنے پاؤں (زمین پر) نہ ماریں، تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو ! تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
— مولانا عبد السلام بھٹوی
اور مومن عورتوں سے بھی کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو از خود ظاہر ہو جائے۔ اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں اور اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : خاوند، باپ، خاوند کے باپ (سسر) بیٹے، اپنے شوہروں کے بیٹے (سوتیلے بیٹے) بھائی، بھتیجے، بھانجے ، اپنے میل جول والی عورتیں، کنیزیں جن کی وہ مالک ہوں۔ اپنے خادم مرد جو عورتوں کی حاجت نہ رکھتے ہوں اور ایسے لڑکے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا لوگوں کو علم ہوجائے اور اے ایمان والو ! تم سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو توقع ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے۔
— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن
اور مونہ عورتوں کو کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے اندیشہ کی جگہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزوں کا اظہار نہ کریں مگر جو ناگزیر طور پر ظاہر ہوجائے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھینوں کے بکل مار لیا کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپوں کے سامنے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے شوہروں کے یٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے تعلق کی عورتوں کے سامنے یا اپنے مملکوں کے سامنے یا ایسے زیر کفالت مردوں کے سامنے جو عورت کی ضرورت کی عمر سے نکل چکے ہوں یا ایسے بچوں کے سامنے جو ابھی عورتوں کی پس پردہ چیزوں سے آشنا نہ ہوں اور عورتیں اپنے پائوں زمین پر مار کے نہ چلیں کہ ان کی مخفی زینت ظاہر ہو اور اے ایمان والو، سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پائو
— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بچا کر رکھیں اپنی نگاہوں کو اور حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی اور ظاہر نہ کریں اپنی زینت کو مگر جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچلوں کو وہ اپنے سینوں پر ڈال دیا کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے سامنے یا اپنے باپوں کے سامنے یا اپنے خاوندوں کے باپوں کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھتیجوں کے سامنے یا اپنے بھانجوں کے سامنے یا اپنی دین شریک عورتوں کے سامنے یا ان مملوکوں کے سامنے جن کے مالک ہوچکے ہوں ان کے داہنے ہاتھ یا ان ماتحت مردوں کے سامنے جنہیں عورتوں کی حاجت نہ ہو یا ان لڑکوں کے سامنے جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہ ہوں اور وہ زمین پر اس طرح زور سے پاؤں مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو وہ ظاہر ہونے لگے اور تم سب توبہ کرو اللہ کے حضور ایمان والو تاکہ تم فلاح پا سکو۔
— مولانا اسحاق مدنی
اور آپ کہہ دیجیے ایمان والیوں سے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں۔ اور اپنا سنگارظاہر نہ ہونے دیں۔ مگر ہاں جو اس میں سے کھلا ہی رہتا ہے۔ اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں۔ اور اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں۔ مگر ہاں اپنے شوہر پر اور اپنے باپ پر اور اپنے شوہر کے باپ پر اور اپنے بیٹوں پر اور اپنے شوہر کے بیٹوں پر اور اپنے بھائیوں پر اور اپنے بھائیوں کے لڑکوں پر یا اپنی بہنوں کے لڑکوں پر۔ اور اپنی (ہم مذہب) عورتوں) پر۔ اور اپنی باندیوں پر۔ اور ان مردوں پر جو طفیلی ہوں (اور عورت کی طرف) انہیں ذرا توجہ نہ ہو۔ اور ان لڑکوں پر جو ابھی عورتوں کی پردہ کی بات سے واقف نہیں ہوئے ہیں۔ اور عورتیں اپنے پیر زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے۔ اور تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو اے ایمان والو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی
اور مؤمن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور وہ اپنی زینت کا اظہار نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہوجائے اور چاہیے کہ وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے ُ بکلّ مار لیا کریں اور وہ نہ ظاہر کریں اپنی زینت کو (وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں کسی پر) سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں (بھتیجوں) کے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں (بھانجوں) کے یا اپنی (جان پہچان کی) عورتوں کے یا ان کے جن کے مالک ہیں ان کے داہنے ہاتھیا ایسے زیردست مردوں کے جو اس طرح کی غرض نہیں رکھتے یا ان لڑکوں کے جو عورتوں کے مخفی معاملات سے ابھی ناواقف ہیں اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ ان کی اس زینت میں سے کچھ ظاہر ہوجائے جسے وہ چھپاتی ہیں اور اے اہل ایمان ! تم سب کے سب مل کر اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (زیور) کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہے اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھا لیا کریں۔ اپنے خاوند ‘ اپنے باپ ‘ سسر ‘ بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں (سوتیلے بیٹے) بھائیوں ‘ بھتیجوں ‘ بھانجوں ‘ اپنی ہی قسم کی عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا اور ان نوکروں کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں۔ غرض ان لوگوں کے سوا کسی پر اپنی زینت اور سنگار کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پائوں اس طرح زمین پر نہ ماریں کہ ان کا چھپا ہوا زیور ظاہر ہوجائے اور مومنو ! سب اللہ کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پائو۔
— محترمہ رفعت اعجاز
O Prophet, enjoin the Believing women to restrain their gaze and guard their private parts. and not to display their adornment except that which is displayed of itself, and to draw their veils over their bosoms and not to display their adornment except before their husbands, their fathers, the fathers of their husbands, their sons and the sons of their husbands (from other wives), their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their female associates and those in their possession and male attendants incapable of sex desire and those boys who have not yet attained knowledge of sex matters concerning women; also forbid them to stamp their feet on the ground lest their hidden ornaments should be displayed. O Believers, turn all together towards Allah: it is expected that you will attain true success.
— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran
And tell the believing women that they must lower their gazes and guard their private parts, and must not expose their adornment, except that which appears thereof, and must wrap their bosoms with their shawls, and must not expose their adornment, except to their husbands or their fathers or the fathers of their husbands, or to their sons or the sons of their husbands, or to their brothers or the sons of their brothers or the sons of their sisters, or to their women, or to those owned by their right hands, or male attendants having no (sexual) urge, or to the children who are not yet conscious of the shames of women. And let them not stamp their feet in a way that the adornment they conceal is known. And repent to Allah O believers, all of you, so that you may achieve success.
— Muhammad Taqi Usmani
And tell the believing women that they must lower their gazes and guard their private parts, and must not expose their adornment, except that which appears thereof, and must wrap their bosoms with their shawls, and must not expose their adornment, except to their husbands or their fathers or the fathers of their husbands, or to their sons or the sons of their husbands, or to their brothers or the sons of their brothers or the sons of their sisters, or to their women, or to those owned by their right hands, or male attendants having no (sexual) urge, or to the children who are not yet conscious of the shames of women. And let them not stamp their feet in a way that the adornment they conceal is known. And repent to Allah O believers, all of you, so that you may achieve success.
— Muhammad Taqi Usmani (variant)
And tell the believing women to lower their gaze, and protect their private parts and not to show off their adornment except that which is apparent, and to draw their veils all over their Juyub and not to reveal their adornment except to their husbands, or their fathers, or their husband's fathers, or their sons, or their husband's sons, or their brothers or their brother's sons, or their sister's sons, or their women, or their right hand possessions, or the Tabi`in among men who do not have desire, or children who are not aware of the nakedness of women. And let them not stamp their feet so as to reveal what they hide of their adornment. And all of you beg Allah to forgive you all, O believers, that you may be successful.
— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri
And tell the believing women to lower their gaze and be modest, and to display of their adornment only that which is apparent, and to draw their veils over their bosoms, and not to reveal their adornment save to their own husbands or fathers or husbands' fathers, or their sons or their husbands' sons, or their brothers or their brothers' sons or sisters' sons, or their women, or their slaves, or male attendants who lack vigour, or children who know naught of women's nakedness. And let them not stamp their feet so as to reveal what they hide of their adornment. And turn unto Allah together, O believers, in order that ye may succeed.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.
— Saheeh International
Tell the believing woman to cast down their eyes, guard their chastity, and not to show off their beauty except what is permitted by the law. Let them cover their breasts with their veils. They must not show off their beauty to anyone other than their husbands, father, father-in-laws, sons, step-sons, brothers, sons of brothers and sisters, women of their kind, their slaves, immature male servants, or immature boys. They must not stamp their feet to show off their hidden ornaments. All of you believers, turn to God in repentance so that perhaps you will have everlasting happiness.
— Muhammad Sarwar
And say to the believing women that they cast down their looks and guard their private parts and do not display their ornaments except what appears thereof, and let them wear their head-coverings over their bosoms, and not display their ornaments except to their husbands or their fathers, or the fathers of their husbands, or their sons, or the sons of their husbands, or their brothers, or their brothers' sons, or their sisters' sons, or their women, or those whom their right hands possess, or the male servants not having need (of women), or the children who have not attained knowledge of what is hidden of women; and let them not strike their feet so that what they hide of their ornaments may be known; and turn to Allah all of you, O believers! so that you may be successful.
— Muhammad Habib Shakir
And say thou unto the believing women that they shall lower their sights and guard their private parts and shall not disclose their adornment except that which appeareth thereof; and they shall draw their scarves over their bosoms; and shall not disclose their adornment except unto their husbands or their fathers or their husbands fathers or their sons or their husbands sons or their brothers or their brothers sons or their sisters sons or their Women or those whom their right hands own or male followers wanting in sex desire or children not acquainted with the privy parts of women; and they Shall not strike their feet so that there be known that which they hide of their adornment. And turn penitently unto Allah ye all, O ye believers, haply ye may thrive!
— Abdul Majid Daryabadi
And say to the believing women that they should lower their gaze and guard their modesty; that they should not display their beauty and ornaments except what (must ordinarily) appear thereof; that they should draw their veils over their bosoms and not display their beauty except to their husbands, their fathers, their husband's fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers or their brothers' sons, or their sisters' sons, or their women, or the slaves whom their right hands possess, or male servants free of physical needs, or small children who have no sense of the shame of sex; and that they should not strike their feet in order to draw attention to their hidden ornaments. And O ye Believers! turn ye all together towards Allah, that ye may attain Bliss.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary