An-Noor 24:31

An-Noor · from ayah 31

24:31

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُیُوْبِهِنَّ ۪— وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىِٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىِٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ ۪— وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ ؕ— وَتُوْبُوْۤا اِلَی اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۟وَقُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا‌ وَلۡيَـضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ‌ۖ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اٰبَآئِهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآئِهِنَّ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِى الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ‌ۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُـعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ‌ ؕ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:31

اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔ اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں، اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ، یا اپنے شوہروں کے باپ کے، یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، یا ان کے جو اپنے ہاتھوں کی ملکیت میں ہیں یا ان خدمت گزاروں کے جن کے دل میں کوئی (جنسی) تقاضا نہیں ہوتا یا ان بچوں کے جو ابھی عورتوں کے چھپے ہوئے حصوں سے آشنا نہیں ہوئے اور مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ ماریں کہ انہوں نے جو زینت چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہوجائے۔ اور اے مومنو ! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں، اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہوجائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے، یا اپنے باپوں، یا اپنے خاوندوں کے باپوں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں (کے لیے) ، یا (ان کے لیے) جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یا تابع رہنے والے مردوں کے لیے جو شہوت والے نہیں، یا ان لڑکوں کے لیے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنے پاؤں (زمین پر) نہ ماریں، تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو ! تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور مومن عورتوں سے بھی کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو از خود ظاہر ہو جائے۔ اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں اور اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : خاوند، باپ، خاوند کے باپ (سسر) بیٹے، اپنے شوہروں کے بیٹے (سوتیلے بیٹے) بھائی، بھتیجے، بھانجے ، اپنے میل جول والی عورتیں، کنیزیں جن کی وہ مالک ہوں۔ اپنے خادم مرد جو عورتوں کی حاجت نہ رکھتے ہوں اور ایسے لڑکے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا لوگوں کو علم ہوجائے اور اے ایمان والو ! تم سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو توقع ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مونہ عورتوں کو کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے اندیشہ کی جگہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزوں کا اظہار نہ کریں مگر جو ناگزیر طور پر ظاہر ہوجائے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھینوں کے بکل مار لیا کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپوں کے سامنے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے شوہروں کے یٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے تعلق کی عورتوں کے سامنے یا اپنے مملکوں کے سامنے یا ایسے زیر کفالت مردوں کے سامنے جو عورت کی ضرورت کی عمر سے نکل چکے ہوں یا ایسے بچوں کے سامنے جو ابھی عورتوں کی پس پردہ چیزوں سے آشنا نہ ہوں اور عورتیں اپنے پائوں زمین پر مار کے نہ چلیں کہ ان کی مخفی زینت ظاہر ہو اور اے ایمان والو، سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پائو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بچا کر رکھیں اپنی نگاہوں کو اور حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی اور ظاہر نہ کریں اپنی زینت کو مگر جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچلوں کو وہ اپنے سینوں پر ڈال دیا کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے سامنے یا اپنے باپوں کے سامنے یا اپنے خاوندوں کے باپوں کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھتیجوں کے سامنے یا اپنے بھانجوں کے سامنے یا اپنی دین شریک عورتوں کے سامنے یا ان مملوکوں کے سامنے جن کے مالک ہوچکے ہوں ان کے داہنے ہاتھ یا ان ماتحت مردوں کے سامنے جنہیں عورتوں کی حاجت نہ ہو یا ان لڑکوں کے سامنے جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہ ہوں اور وہ زمین پر اس طرح زور سے پاؤں مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو وہ ظاہر ہونے لگے اور تم سب توبہ کرو اللہ کے حضور ایمان والو تاکہ تم فلاح پا سکو۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کہہ دیجیے ایمان والیوں سے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں۔ اور اپنا سنگارظاہر نہ ہونے دیں۔ مگر ہاں جو اس میں سے کھلا ہی رہتا ہے۔ اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں۔ اور اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں۔ مگر ہاں اپنے شوہر پر اور اپنے باپ پر اور اپنے شوہر کے باپ پر اور اپنے بیٹوں پر اور اپنے شوہر کے بیٹوں پر اور اپنے بھائیوں پر اور اپنے بھائیوں کے لڑکوں پر یا اپنی بہنوں کے لڑکوں پر۔ اور اپنی (ہم مذہب) عورتوں) پر۔ اور اپنی باندیوں پر۔ اور ان مردوں پر جو طفیلی ہوں (اور عورت کی طرف) انہیں ذرا توجہ نہ ہو۔ اور ان لڑکوں پر جو ابھی عورتوں کی پردہ کی بات سے واقف نہیں ہوئے ہیں۔ اور عورتیں اپنے پیر زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے۔ اور تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو اے ایمان والو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مؤمن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور وہ اپنی زینت کا اظہار نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہوجائے اور چاہیے کہ وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے ُ بکلّ مار لیا کریں اور وہ نہ ظاہر کریں اپنی زینت کو (وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں کسی پر) سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں (بھتیجوں) کے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں (بھانجوں) کے یا اپنی (جان پہچان کی) عورتوں کے یا ان کے جن کے مالک ہیں ان کے داہنے ہاتھیا ایسے زیردست مردوں کے جو اس طرح کی غرض نہیں رکھتے یا ان لڑکوں کے جو عورتوں کے مخفی معاملات سے ابھی ناواقف ہیں اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ ان کی اس زینت میں سے کچھ ظاہر ہوجائے جسے وہ چھپاتی ہیں اور اے اہل ایمان ! تم سب کے سب مل کر اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (زیور) کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہے اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھا لیا کریں۔ اپنے خاوند ‘ اپنے باپ ‘ سسر ‘ بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں (سوتیلے بیٹے) بھائیوں ‘ بھتیجوں ‘ بھانجوں ‘ اپنی ہی قسم کی عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا اور ان نوکروں کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں۔ غرض ان لوگوں کے سوا کسی پر اپنی زینت اور سنگار کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پائوں اس طرح زمین پر نہ ماریں کہ ان کا چھپا ہوا زیور ظاہر ہوجائے اور مومنو ! سب اللہ کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پائو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, enjoin the Believing women to restrain their gaze and guard their private parts. and not to display their adornment except that which is displayed of itself, and to draw their veils over their bosoms and not to display their adornment except before their husbands, their fathers, the fathers of their husbands, their sons and the sons of their husbands (from other wives), their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their female associates and those in their possession and male attendants incapable of sex desire and those boys who have not yet attained knowledge of sex matters concerning women; also forbid them to stamp their feet on the ground lest their hidden ornaments should be displayed. O Believers, turn all together towards Allah: it is expected that you will attain true success.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And tell the believing women that they must lower their gazes and guard their private parts, and must not expose their adornment, except that which appears thereof, and must wrap their bosoms with their shawls, and must not expose their adornment, except to their husbands or their fathers or the fathers of their husbands, or to their sons or the sons of their husbands, or to their brothers or the sons of their brothers or the sons of their sisters, or to their women, or to those owned by their right hands, or male attendants having no (sexual) urge, or to the children who are not yet conscious of the shames of women. And let them not stamp their feet in a way that the adornment they conceal is known. And repent to Allah O believers, all of you, so that you may achieve success.

— Muhammad Taqi Usmani

And tell the believing women that they must lower their gazes and guard their private parts, and must not expose their adornment, except that which appears thereof, and must wrap their bosoms with their shawls, and must not expose their adornment, except to their husbands or their fathers or the fathers of their husbands, or to their sons or the sons of their husbands, or to their brothers or the sons of their brothers or the sons of their sisters, or to their women, or to those owned by their right hands, or male attendants having no (sexual) urge, or to the children who are not yet conscious of the shames of women. And let them not stamp their feet in a way that the adornment they conceal is known. And repent to Allah O believers, all of you, so that you may achieve success.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And tell the believing women to lower their gaze, and protect their private parts and not to show off their adornment except that which is apparent, and to draw their veils all over their Juyub and not to reveal their adornment except to their husbands, or their fathers, or their husband's fathers, or their sons, or their husband's sons, or their brothers or their brother's sons, or their sister's sons, or their women, or their right hand possessions, or the Tabi`in among men who do not have desire, or children who are not aware of the nakedness of women. And let them not stamp their feet so as to reveal what they hide of their adornment. And all of you beg Allah to forgive you all, O believers, that you may be successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And tell the believing women to lower their gaze and be modest, and to display of their adornment only that which is apparent, and to draw their veils over their bosoms, and not to reveal their adornment save to their own husbands or fathers or husbands' fathers, or their sons or their husbands' sons, or their brothers or their brothers' sons or sisters' sons, or their women, or their slaves, or male attendants who lack vigour, or children who know naught of women's nakedness. And let them not stamp their feet so as to reveal what they hide of their adornment. And turn unto Allah together, O believers, in order that ye may succeed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.

— Saheeh International

Tell the believing woman to cast down their eyes, guard their chastity, and not to show off their beauty except what is permitted by the law. Let them cover their breasts with their veils. They must not show off their beauty to anyone other than their husbands, father, father-in-laws, sons, step-sons, brothers, sons of brothers and sisters, women of their kind, their slaves, immature male servants, or immature boys. They must not stamp their feet to show off their hidden ornaments. All of you believers, turn to God in repentance so that perhaps you will have everlasting happiness.

— Muhammad Sarwar

And say to the believing women that they cast down their looks and guard their private parts and do not display their ornaments except what appears thereof, and let them wear their head-coverings over their bosoms, and not display their ornaments except to their husbands or their fathers, or the fathers of their husbands, or their sons, or the sons of their husbands, or their brothers, or their brothers' sons, or their sisters' sons, or their women, or those whom their right hands possess, or the male servants not having need (of women), or the children who have not attained knowledge of what is hidden of women; and let them not strike their feet so that what they hide of their ornaments may be known; and turn to Allah all of you, O believers! so that you may be successful.

— Muhammad Habib Shakir

And say thou unto the believing women that they shall lower their sights and guard their private parts and shall not disclose their adornment except that which appeareth thereof; and they shall draw their scarves over their bosoms; and shall not disclose their adornment except unto their husbands or their fathers or their husbands fathers or their sons or their husbands sons or their brothers or their brothers sons or their sisters sons or their Women or those whom their right hands own or male followers wanting in sex desire or children not acquainted with the privy parts of women; and they Shall not strike their feet so that there be known that which they hide of their adornment. And turn penitently unto Allah ye all, O ye believers, haply ye may thrive!

— Abdul Majid Daryabadi

And say to the believing women that they should lower their gaze and guard their modesty; that they should not display their beauty and ornaments except what (must ordinarily) appear thereof; that they should draw their veils over their bosoms and not display their beauty except to their husbands, their fathers, their husband's fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers or their brothers' sons, or their sisters' sons, or their women, or the slaves whom their right hands possess, or male servants free of physical needs, or small children who have no sense of the shame of sex; and that they should not strike their feet in order to draw attention to their hidden ornaments. And O ye Believers! turn ye all together towards Allah, that ye may attain Bliss.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مومنہ عورتوں کو تاکید یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہے کہ اسماء بنت مرثد ؓ کا مکان بنوحارثہ کے محلے میں تھا۔ ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے زیور، سینے اور بال کھولے آیا کرتی تھیں۔ حضرت اسماء نے کہا یہ کیسی بری بات ہے ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حکم ہوتا ہے کہ مسلمان عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں۔ سوا اپنے خاوند کے کسی کو بہ نظر شہوت نہ دیکھنا چاہئے۔ اجنبی مردوں کی طرف تو دیکھنا ہی حرام ہے خواہ شہوت سے ہو خواہ بغیر شہوت کے۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ہے کہ رسول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النُّوْر 30 شرمگاہوں کی حفاظت سے مراد محض ناجائز شہوت رانی سے پرہیز ہی نہیں ہے بلکہ اپنے ستر کو دوسروں کے سامنے کھولنے سے پرہیز بھی ہے۔ مرد کے لیے ستر کے حدود نبی ﷺ نے ناف سے گھٹنے تک مقرر فرمائے ہیں عورۃ الرجل ما بین سُرَّتہ الیٰ رکبتہ، " مرد کا ستر اس کی ناف سے گھٹنے تک ہے " (دارقطنی بیہقی)۔ اس حصہ جسم کو بیوی کے سوا کسی کے سامنے قصداً کھولنا حرام ہے۔ حضرت جرھَدِ اَسْلمی، جو اصحاب صُفَّہ میں سے ایک بزرگ تھے، روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ایک دفعہ میری ران کھلی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اما علمت ان الفخذ عورۃ، " کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ران چھپانے کے قابل چیز ہے " ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

غیر محرم کی طرف نظر کرنا حرام ہے اس کی تفصیل وَقُلْ لِّلْمُؤ ْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ الایة اس طویل آیت کے ابتدائی حصہ میں تو وہی حکم ہے جو اس سے پہلی آیت میں مردوں کو دیا گیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں یعنی نگاہ پھیر لیں۔ مردوں کے حکم میں عورتیں بھی داخل تھیں مگر ان کا ذکر علیحدہ تاکید کے لئے کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو اپنے محارم کے سوا کسی مرد کو دیکھنا حرام ہے بہت سے علماء کا قول یہ ہے کہ غیر محرم مرد کو دیکھنا عورت کے لئے مطلقاً حرام ہے خواہ شہوت اور بری نیت سے دیکھے یا بغیر کسی نیت و شہوت کے، دونوں صورتیں حرام ہیں اور اس پر حضرات ام سلمہ کی حدیث سے استدلال کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

30۔ 31 گھر کے اندر ہونے کے بعد کی احتیاطیں مذکورہ بالا اجازت کے بعد اگر کوئی شخص کسی کے مکان میں دخل ہو تو اس کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھے اور اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرے۔ قل للمومنین کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ عض بصر اور حفاظت فروج تقاضائے ایمان ہے اور من ابصارھم کے من سے یہ بات نکلتی ہے کہ مقصود صرف احد تک نگاہوں کو نیچی رکھنا ہے کہ گھر کی عورتوں سے اپنی نظر کو بچانے رکھے اس لئے کہ یہ ہدایت درحقیقت انہی کو پیش نظر رکھ کردی گئی ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلی کہ اسلام نے یہ اجازت جو دی ہے وہ محض رفع ہرج کے پہول سے صاحب خانہ کے اعزہ و اقرباء اور تعلق و اعتماد کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

31-1یہاں پردے کے احکام میں توبہ کا حکم دینے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان احکام کی خلاف ورزی بھیتم کرتے رہے ہو، وہ چونکہ اسلام سے قبل کی باتیں ہیں، اس لئے اگر تم نے سچے دل سے توبہ کرلی اور ان احکام مذکورہ کے مطابق پردے کا صحیح اہتمام کرلیا تو لازمی کامیابی اور دنیا اور آخرت کی سعادت تمہارا مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

18: سجاوٹ سے مراد جسم کے وہ حصے ہیں جن پر زیور پہنا جاتا ہے، یا خوشنما کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ لہذا اس آیت کریمہ نے عورتوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کے سامنے اپنا پورا جسم کسی ایسی چادر یا برقع سے چھپائیں جو ان کے سجاوٹ کے مقامات کو چھپالے۔ البتہ ان مقامات میں سے کوئی حصہ کام کاج کے دوران بےاختیار کھل جائے، یا کسی ضرورت کی وجہ سے کھولنا پڑے تو اسے یہ کہہ کر مستثنی کردیا گیا ہے کہ سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے۔ تفسیر ابن جریر کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ چادر ہے جو عورت نے اوڑھی ہوئی ہو کہ اس کو چھپانا ممکن نہیں ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(وقل۔۔۔۔۔۔ فروجھن) (24 : 31) ” “۔ وہ اپنی بھوکی نظروں کو آزاد نہ چھوڑیں نہ وہ درد یدہ نگاہوں سے مردوں کو دیکھیں۔ نہ اچانک ان پر نگاہ ڈالیں اس طرح کہ مردوں کے خوابیدہ میلانات کے اندر اشتعال پیدا ہوجائے اور وہ اپنی شرمگاہوں اور غیر قانونی اور غیر جائز مردوں کے لیے مباح نہ کردیں۔ اپنے فطری میلانات کو جائز طریقے سے استعمال کر کے حلال بچے پیدا کریں اور یہ نہ ہو کہ حرام بچے پیدا ہوں اور عاشرے کے لیے وہ شرم کا باعث ہوں اور عاشرہ ان کے لیے شرمشار کنندہ ہو۔ (ولا۔۔۔۔۔ منھا) (24 : 31) ” “۔ زینت اور بنائو اور میک اپ عورتوں کے لیے جائز ہے کیونکہ یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ ہر عورت کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 سنگار عرف میں خارجی اور کسبی آرائش کو کہتے ہیں جو مثلاً لباس یا زیور وغیرہ سے حاصل ہو۔ احقر کے نزدیک یہاں " زینت " کا ترجمہ " سنگار " کے بجائے " زیبائش " کیا جاتا تو زیادہ جامع اور مناسب ہوتا۔ زیبائش کا لفظ ہر قسم کی خلقی اور کسبی زینت کو شامل ہے، خواہ وہ جسم کی پیدائشی ساخت سے متعلق ہو یا پوشاک وغیرہ خارجی ٹیپ ٹاپ سے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ عورت کو کسی قسم کی خلقی یا کسبی زیبائش کا اظہار بجز محارم کے جن کا ذکر آگے آتا ہے کسی کے سامنے جائز نہیں۔ ہاں جس قدر زیبائش کا ظہور ناگزیر ہے اور اس کے ظہور کو بسبب عدم قدرت یا ضرورت کے روک نہیں سکتی، اس کے بمجبوری یا بضرورت کھلا رکھنے میں مضائقہ نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّص ” اپنے معمول کے لباس کے اوپر وہ اپنی اوڑھنیوں کو اس طرح لپیٹے رکھیں کہ ان کے گریبان اور سینے ڈھکے رہیں۔ خُمُر جمع ہے ‘ اس کا واحد خمار ہے اور اس کے معنی اوڑھنی دوپٹہ کے ہیں۔ سورة الاحزاب ‘ آیت 59 میں خواتین کے لباس کے حوالے سے جلابِیب کا لفظ آیا ہے جس کی واحد جلباب ہے۔ ہمارے ہاں ”جلباب“ کا مترادف لفظ چادر ہے۔ چناچہ یوں سمجھئے کہ دوپٹہ اور چادر دونوں ہی عورت کے لباس کا لازمی حصہ ہیں۔ عرب تمدن میں اسلام سے پہلے اگرچہ عورت کے لیے چہرے کا پردہ رائج نہیں تھا مگر چادر اور اوڑھنی اس دور میں بھی عورت کے لباس کا لازمی حصہ تھیں۔ اوڑھنی وہ ہر وقت اوڑھے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 بعض علماء نے قرآن کریم کے الفاظ (اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا 31؀) 24 ۔ النور :31) سے یہ مراد لی ہے کہ حجاب سے چہرہ اور ہاتھ مستثنیٰ ہیں۔ یعنی عورتوں کو غیر مردوں سے بھی چہرہ اور ہاتھ چھپانے کی ضرورت نہں۔ یہ توجیہہ درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے : 1۔ اس آیت میں احکام حجاب کی رخصتوں کا ذکر ہے نہ کہ احکام حجاب کی پابندیوں کی۔ یعنی ذکر تو یہ چل رہا ہے کہ فلاں فلاں ابدی محرم رشتہ داروں سے بھی حجاب کی ضرورت نہیں، اپنی عورتوں سے بھی لونڈیوں سے بھی، خدام اور نابالغ بچوں سے بھی اظہار زینت اور حجاب پر کوئی پابندی نہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں کہیں عام لوگوں یا غیر مردوں کا ذکر آیا ہے کہ ان سے بھی اظہار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ غض بصر اور حفظ فروج دونوں پر حاشیے اب ابھی ابھی گزر چکے۔ اتنا جزو مومنین و مومن ات، مسلمان مردوں و مسلمان عورتوں دونوں میں مشترک ہے، عورت کے لیے حجاب کے جو احکام خصوصی ہیں وہ اب آگے آرہے ہیں۔ 54۔ (خواہ وہ جسم کا ہو یا متعلقات جسم کا) لفظ زینت عام ہے۔ الزینۃ ما زینت بہ المراۃ (مدارک) قیل المراد بالزینۃ مایعم المحاسن الخلقیۃ والزینیۃ (بیضاوی) اس کے تحت میں ہر وہ چیز آجاتی ہے جو مرد کے لیے باعث شوق ورغبت ہوسکے، خواہ خلقی ہو مثلا حسن اعضاء حسن صورت، خوش خرامی وغیرہا، خواہ کسبی ہو مثلا لباس، خوشبو، زیور، پوڈر، غازہ وغیرہ۔ 55۔ (عموما وعادۃ) یعنی جسم کے وہ حصے مستثنی ہیں جو اگرچہ زینت کے موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–34

آیت نمبر 27 تا 34 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو اور اہل خانہ کو سلام نہ کرلو پس ہر اجازت لینے والے کو چاہیے کہ کہے السلام علیکم أادخُلُ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ہے بغیر اجازت داخل ہونے سے تاکہ تم خیال رکھو اجازت کے خیر ہونے کا پھر تم اس پر عمل کرو تائے ثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے سو اگر تم گھروں میں کسی کو نہ پاؤ کہ تم کو اجازت دے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے اور اگر اجازت طلب کرنے کے بعد تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقل للمؤمنت یغضضن من ابصارہن اور مؤمن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ‘ یعنی جس کو دیکھنا جائز نہیں اس سے آنکھیں بند رکھیں۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ عورت کے لئے اجنبی مردوں کو دیکھنا مطلقاً ناجائز ہے امام شافعی (رح) : کا یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا اگر میلان صنفی کا اندیشہ نہ ہو تو عورت اجنبی مرد کا وہ حصہ دیکھ سکتی ہے جو ایک مرد دوسرے مرد کا دیکھ سکتا ہے۔ امام شافعی (رح) نے اپنے قول کے ثبوت میں یہ حدیث پیش کی ہے کہ ایک بار حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت میمونہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھیں۔ حضرت ابن ام مکتوم بھی آگئے (یہ واقعہ حکم حجاب نازل ہونے کے بعد کا ہے) رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(31) اور اسی طرح آپ مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں حرام مردوں اور مردوں کے دیکھنے سے نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع اور زیورات وغیرہ کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس کے کپڑوں میں سے غالبا کھلا رہتا ہے (جیسا کہ پیر) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں اور پٹیوں پر ڈالے رکھا کریں اور ان کو باندھ لیا کریں اور اپنی زینت کے مواقع مذکورہ کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ پر خواہ نسبی ہوں یا رضاعی یا اپنے شوہروں کے باپ پر یا اپنا بیٹوں پر خواہ نسبی ہوں یا رضاعی یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر جو دوسری بیوی سے ہوں یا اپنے نسبی یا رضاعی بھائیوں پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ۔۔ : عورتوں کو بھی اسی طرح اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم فرمایا جیسے مردوں کو یہ حکم دیا، مگر عورتوں پر مردوں کو نہ دیکھنے کی اتنی سختی نہیں جتنی مردوں پر عورتوں کے دیکھنے کے بارے میں ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”میں نے نبی ﷺ کو دیکھا آپ اپنی چادر کے ساتھ مجھے پردے میں لیے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی، وہ (برچھوں کے ساتھ) کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں ہی اکتا جاتی، تو ایک نو عمر لڑکی کا اندازہ کرلو جو کھیل دیکھنے کی شوقین ہو۔“ [ بخاري، النکاح، باب نظر المرأۃ إلی الحبش۔۔ : 5236 ] یعنی اندازہ لگا لو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل للمومنت یہاں اللہ تعالیٰ نے تاکید کے طریق پر عورتوں کو خطاب کے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ قل للمومنین کا قول کافی تھا کیونکہ وہ عام ہے مومنین میں سے مذکر و مونث سب کو شامل ہے جیسا کہ ہر خطاب جو قرآن میں عام ہے۔ یغضفن میں تضعیف ظاہر ہے جبکہ یغضوا میں ظاہر نہیں ہے کیونکہ فعل کا لام کلمہ دوسرے میں ساکن ہے اور پہلے متحرک ہے یہ دونوں فعل امر کے جواب کی وجہ سے محل جزم میں ہیں۔ فرج کے ذکر سے پہلے غض بصر کا ذکر فرمایا کیونکہ نظر دل کے لیے جاسوس ہے جیسا کہ بخار موت کے لیے جاسوس ہے یہ مفہوم ایک شاعر نے بیان کیا ہے : الم ترأن العین للقلب زائد فما تالف العینان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

نظر اور شرمگاہ کی حفاظت بہت ضروری ہے ؛ 1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے روایت کیا کہ اسماء بنت مرثد اپنے کھجور کے باغ میں رہتی تھیں جو بنو حارثہ میں تھا عورتوں نے وہاں تہہ بندوں کے بغیر داخل ہونا شروع کردیا ان کے پازیب ظاہر ہوتے اور ان کے سینے اور زلفیں بھی ننگی ہوتیں اسماء ؓ نے یہ دیکھ کر کہا یہ کتنی بری صورت ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا آیت ” وقل للمومنت یغضضن من ابصارہن “ الایۃ 2۔ عبدالرزق والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقُلْ [ آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّلْمُؤْمِنٰتِ [ مومنات سے ] يَغْضُضْنَ [ تو وہ نیچی رکھیں گی ] مِنْ اَبْصَارِهِنَّ [ اپنی بصارتوں کو ] وَيَحْفَظْنَ [ اور حفاظت کریں گے ] فُرُوْجَهُنَّ [ اپنی شرمگاہوں کی ] وَلَا يُبْدِيْنَ [ اور (یہ کہ) وہ ظاہر مت کریں ] زِيْنَتَهُنَّ [ اپنے بناؤ سنگھار کو ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] ظَهَرَ [ (خود ہی) ظاہر ہوا ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَلْيَضْرِبْنَ [ اور چاہیے کہ وہ لپیٹ لیں ] بِخُمُرِهِنَّ [ اپنی اوڑھنیوں کو ] عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠ [ اپنے گریباں پر ] وَلَا يُبْدِيْنَ [ اور ظاہر مت کریں ] زِيْنَتَهُنَّ [ اپنے بناؤ سنگھار کو ] اِلَّا [ مگر ] لِبُعُوْلَتِهِنَّ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حفاظت نظر اور حفاظت شرمگاہ کا حکم دینے کے بعد ارشاد فرمایا (وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا) (اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہوجائے) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اس سے اوپر کی چادر مراد ہے۔ جب عورت اچھی طرح کپڑوں میں لپٹ کر چوڑی چکلی چادر اوڑھ کر منہ چھپا کر کسی ضرورت سے باہر نکلے گی تو اوپر کی چادر پر مردوں کی نظر پڑے گی، چونکہ عورت مجبوری سے نکلی ہے اور اوپر کی چادر پر شہوت کی نظر بھی نہیں پڑتی اس لیے اس طرح کا نکلنا ممنوع نہیں ہے۔ اس پر نظر پڑجائے تو یہ اس اظہار میں شامل نہیں ہے جو ممنوع ہے۔ اظہار زینت کی ممانعت کے بعد فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–31

حکم ششم متعلق بہ نظر وبصر قال اللہ تعالی۔ قل لل مومنین یغضوا من ابصارہم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔ (ربط) یہ چھٹا حکم ہے جو مرد کا عورت کو دیکھنے سے اور عورت کا مرد کو دیکھنے سے متعلق ہے اور نگاہ کی حفاظت کا حکم۔ عفت اور پاکدامنی کی حفاظت کا بےمثال سامان ہے۔ گزشتہ آیات میں زنا کی سزا اور زنا کی تہمت لگانے کے احکام کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں اسباب زنا کے احکام بیان کرتے ہیں۔ یعنی ان چیزوں کی ممانعت کرتے ہیں کہ جو زنا کا سبب اور ذریعہ بنتی ہیں تاکہ ان پر عمل کرنے سے خود زنا سے محفوظ رہ سکے اور بندوں کے اتہام اور اشتباہ سے محفوظ رہ سکے مثلا مرد کا عورت کو دیکھنا اور عورت کا مرد کو دیکھنا ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

30:۔ ” وقل للمومنات الخ “: یہ تیسرا قانون ہے اس میں عورتوں کو غض بصر اور حفظ فرج کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد عورتوں کو مزید ہدایات دی گئی ہیں۔ ” ولا یبدین زینتھن الخ “ زینت سے نفس زینت یا اعضاء زینت مراد ہیں۔ عورتیں اپنی زینت و آرائش کو یا ان اعضاء کو جو محل زینت و آرئش ہیں اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر ہی نہ کریں البتہ جن اعضاء کے ڈھانپنے میں حرج اور ان کے ظاہر کرنے میں مجبوری ہو ان کو ظاہر کرسکتی ہیں جو عورتیں باقاعدہ حجاب میں نہیں رہتیں بلکہ اپنے کام کاج کے لیے انہیں گھر سے نکلنا پڑتا ہے انہیں ہاتھ ظاہر کرنے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ خوف فتنہ نہ ہو لیکن آج کل جو فیشن ایبل لڑکیاں ہاتھوں اور چہروں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–31

ربط آیات : گزشتہ آیات میں دوسروں کے گھروں میں جانے کے مسائل بیان ہوئے کہ کوئی شخص اپنے گھروں میں بلا اجازت جاسکتا ہے البتہ بہتر یہی ہے کہ اطلاع کرے۔ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے گھروں میں یا جن گھروں میں سامان پڑا ہوا ہے ، وہاں بھی اجازت کے بغیر نہیں جانا چاہیے۔ البتہ مفاد عامہ کے ایسے مقامات جن میں کسی کی انفرادی رہائش نہ ہو وہاں بلا اجازت داخل ہوسکتا ہے۔ البتہ ان کے مخصوص حصوں میں بھی بلا اجازت داخل ہونا جائز نہیں۔ دراصل یہ پابندی برائی ، زنا اور بدکاری کی روک تھام کے لئے لگائی گئی ہے کیونکہ برائی تحریک بلا تکلف میل جول کے ذریعے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اب آج کی آیات بھی اسی قانون کا تتمہ ہیں۔ اگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ۝ 0۠ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَاۗىِٕہِنَّ اَوْ اٰبَاۗءِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَاۗىِٕہِنَّ اَوْ اَبْنَاۗءِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِيْٓ اَخَوٰتِہِنَّ اَوْ نِسَاۗىِٕہِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْہَرُوْا عَلٰي عَوْرٰتِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ الاربتا الفعاد من الارب کا لجلستہ من الجلوس والا رب الحاجۃ و النفل و منہ الاریب والمرادھھنا الحاجۃ ابی النساء۔ 12 منہ۔ 2 ؎ پائوں کو زمین پر اس طرح سے نہ مارنا چاہیے جس سے پازیب وغیرہ زیور کی آواز سنائی دے اور اسی طرح آواز بھی بلند نہ کرے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلاَّ مَاظَھَرَمِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ ص وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلاَّ لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِھِنَّ اَوْاٰبَـآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاَبْنَـآئِھِنَّ اَوْ اَبْنَـآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْٓ اَخَوٰ تِھِنَّ اَوْنِسَآئِھِنَّ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِاُوْلِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ ص…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–31

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی آداب سکھلانے کے بعد ذاتی اور انفرادی شرم و حیا کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام جرائم کے قلع قمع کے لیے خارجی اور داخلی محرکات کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ برائی اور بےحیائی اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک خارجی اسباب اور داخلی محرکات پر قابو نہ پایاجائے۔ داخلی محرکات میں انسان کے مثبت اور منفی جذبات کا اثر اس کے فکر وعمل پر ہوتا ہے۔ دل میں کسی کے بارے میں احترام ہو تو آنکھوں میں عقیدت واحترام کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ دل میں کسی کے بارے میں غصہ یا بےحیائی ہو تو آنکھیں اس کی چغلی کھاتی ہیں گویا کہ اچھے برے جذبات کی ترجمانی کرنا انسان کے چہرے اور آنکھوں کا فطری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غض بصر کا حکم عورتوں کو : 31: وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ (اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں) ۔ عورتوں کو غض بصر کا حکم دیا گیا ہے عورت کو جائز نہیں کہ اجنبی مرد کے ناف سے لے کر گھٹنوں کے نچلے حصہ پر نگاہ ڈالے اور اگر دل کے اندر خواہش پیدا ہو تو سرے سے عورت اپنی نگاہ کو بند کرلے۔ اور عورت اجنبی مرد کے اس جسمانی حصہ پر نگاہ ڈال سکتی ہے۔ جتنے حصہ پر اجنبی مرد دوسرے مرد کے جسم پر ڈال سکتا ہے۔ اجنبیوں سے نگاہ کا نیچا کرلینا ہی اولیٰ ہے۔ تاکہ فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔ آیت میں غضِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 31۔ وقل للمومنات یغضض من ابصارھن، جن کودیکھناجائز نہیں اس سے آنکھیں بند رکھیں۔ ویحفظن فروجھن، ان مردوں کے سامنے جوان کے لیے حلال نہیں۔ بعض نے کہا ، یحفظن فروجھن، یعنی اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں تاکہ ا ن میں سے کوئی ان کونہ دیکھے۔ حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ میں اور حضرت میمونہ آپ کے پاس موجود تھیں، جب حضرت ابن مکتوم ان کے بعد آئے۔ یہ واقعہ حجاب کے نزول کے بعد کا ہے۔ آپ نے ہم دونوں کو ارشاد فرمایا کہ ان سے پردہ کریں، میں نے کہا اے اللہ کے رسول ، کیا وہ اندھے نہیں ہیں وہ توہ میں نہیں دیکھ رہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں اندھی ہوگئی ہوں اور تم دونوں دیکھ نہیں رہی۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–32

30:۔ اوپر ذکر تھا کہ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے گھر میں بےکھنکارے ‘ بیخبر ی کی حالت میں نہ جاوے کیونکہ بیخبر ی کی حالت میں چلے جانے سے ننگی کھلی اجنبی عورتوں کے سامنے آجانے کا اندیشہ ہے ‘ اس آیت میں فرمایا ‘ اجازت کے بعد دوسرے رشتہ دار کے گھر میں جانے سے یا بازار وغیرہ میں اجنبی عورت نظر پڑجاوے تو ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اپنی نگاہ نیچی کرے مرد کے نیچی نگاہ کرلینے کی حالت عورت مرد کی صورت دیکھ سکتی ہے ‘ اس واسطے اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے آیت کو پوری تعمیل ہونے کی غرض سے ایسے موقع پر حکم دیا کہ ایماندار شخص اجنبی عورت کی طرف سے اپنا منہ پھیر لے ‘ چناچہ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم ‘ ترمذی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت نمبر (31 اللہ تعالیٰ نے مومنین کو نظریں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تو مومنات کو بھی نظر جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ فرمایا : (وقل للمومنت یغضضن من ابصار ھن) ” اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے ! کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ “ یعنی وہ ستر کی جگہوں اور مردوں پر شہوت کی نظر ڈالنے سے اپنی آنکھوں کو بچائے رکھیں (ویحفظنٰ فروجھن) اور جماع حرام سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ‘ نیز شرم گاہوں کو چھونے اور ان کی طرف حرام نظر سے ان کی حفاظت کریں۔ (ولا یبدین زینتھن) ” اور اپنی زیب وزینت کی نمائش نہ کریں “ مثلاً خوبصورت لباس ‘ زیورات اور تمام بدن زینت میں شمار…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

خواتین بھی نظر بچا کر رکھیں قول باری ہے : (وقل للمومنات یغضضن من ابصارھن) اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ان چیزوں سے اپنی نظریں بچا کر رکھیں جن پر نظر ڈالنا حرام ہے۔ عورتوں کو بھی نظر ڈالنے کے سلسلے میں یہی حکم ہے۔ قول باری : (و یحفظوا فروجھم) نیز (ویحفظن فروجھن) کی تفسیر میں ابوالعالیہ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ قرآن مجید میں جس جگہ بھی یہ حکم مذکور ہے اس سے مراد زنا سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت ہے۔ سوائے سورة نور کے درج بالا آیتوں کے، یہاں ایسی حفاظت مراد ہے کہ کوئی شخص ان شرمگاہوں پر نظر نہ ڈال سکے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

51 مومن عورتوں کو بھی اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہو ایماندار عورتوں سے کہ وہ حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی "۔ ہر طرح کی غلط کاری سے۔ نیز اس طرح کہ ان کو مستور و محفوظ رکھیں تاکہ کسی دوسرے کی نظر بھی ان پر نہ پڑنے پائے۔ سو اس ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا کہ صرف یہی بات کافی نہیں کہ مرد اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، بلکہ مردوں کی طرح عورتوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، تاکہ ان کی نگاہ کسی اجنبی اور غیر محرم شخص پر نہ پڑے۔ اور وہ بھی اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ہر طرح کی بدکاری سے۔ سنن ابوداؤد اور ترمذی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–31

کچھ اور اخلاقی آداب تشریح : معاشرے کی اخلاقی معاشرتی اور تمدنی برائیوں سے بچانے کے لیے چند اور اصول بتائے جا رہے ہیں جو کہ شرم و حیا قائم کرنے اور برے راستوں کو بند کرنے کا موجب ہیں۔ نگاہیں اللہ کی دی ہوئی ایسی نعمت ہے کہ اگر اس کو ٹھیک استعمال کیا جائے تو نعمت ورنہ زحمت کیونکہ ہر چیز آنکھوں کے ذریعے ہی دل میں اتر جاتی ہے اور اسی کے مطابق انسان کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے حکم ہوا کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یعنی پردہ اور ستر پوشی کا سخت حکم دیا گیا ہے یہاں عورتوں کے لیے زیادہ تاکید اور بڑی وضاحت سے ان رشتہ داروں کے نام بتا کر وضاحت کردی گئی ہے کہ سوائے ان خاص…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–34

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے بھی نگاہیں نیچی رھنے کا ویسا ہی حکم ہے جیسا مردوں کیلئے۔ انہیں بھی کسی ایسی چیز کی طرف دیکھنا نہیں چاہیے جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جس طرح مردوں کو ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے منع فرمایا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے منع فرمایا ہے : لاینظر الرجل الی عورۃ الرجل …ولا تنظر المرء ۃ الی عورۃ المرۃ (مسلم، ابو دائود) 9 ۔ ہاتھوں اور چہرہ کے سوا عورت کا ساراجسم شرمگاہ ہے جسے شوہر کے سوا کسی مرد حتیٰ کہ باپ اور بھائی کے سامنے کھولنا بھی جائز نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت اسما ؓ سے فرمایا : اسماء جب عورت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(24:31) لا یبدین۔ فعل نہی جمع مؤنث غائب ابداء (افعال) مصدر وہ ظاہر نہ کریں۔ ما ظھر منھا۔ ما موصولہ ہے منھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع زینۃ ہے وہ اپنی آرائش وزیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے زینت کے اس حصہ کے (جو اکثر وعادۃ یا جبلۃ) کھلا ہی رہتا ہے (مثلاً چہرہ، ہتھیلیاں، پائوں) ۔ ولیضربن۔ لیضربن فعل امر جمع مؤنث غائب ضرب مصدر ۔ یہاں ضرب بمعنی وضع ہے بمعنی رکھنا۔ جیسے ضربت بیدی علی الحائط۔ ای وضعتھا علیہ۔ میں نے دیوار پر ہاتھ رکھا۔ لیضربن چاہیے کہ وہ عورتیں ڈال لیں۔ خمرھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی اوڑھنیاں۔ ان کی چادریں۔ خمار کی جمع۔ جیوبہن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے گریبان۔ جیب کی جمع۔ لیضربن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 31 : یغضوا (نیچے رکھیں) فروج (فرج) شرم گاہیں) ‘ لایبدین (ظاہر نہ کرے) ‘ ظھر (کھلا رہتا ہے) ‘ خمر (دوپٹے۔ اوڑھنیاں) ‘ جیوب (سینے) بعولۃ (شوہر) ابنائ (بیٹے) اخوان (اخ) بھائی ‘ نسائ (عورتیں) ملکت ایمان (دائیں ہاتھ کی ملکیت ۔ باندیاں) ‘ تابعین (پیچھے چلنے والے) ‘ غیر اولی الاربۃ (جوعورتوں سے کام نہیں رکھتے) ‘ لم یظھروا ( واقف نہیں ہوئے) عورت (چھپانے کی چیز) لا یضربن (نہ مارے) ‘ تو بوا (توبہ کرو) ‘ تشریح : آیت نمبر 30 تا 31 : دین اسلام نے ایک ایسے صاف ستھرے ‘ پاکیزہ اور تقویٰ سے بھر پور معاشرہ کا تصور عطا فرمایا ہے۔ جس میں ہر شخص ایک دوسرے کی جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ اے محبوب مسلمان عورتوں سے بھی فرمایا کہ وہ ناجائز چیزوں کے دیکھنے سے بچیں اور اپنی عصمت کی محافظت رکھیں اور اپنے بدن کی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے منہ اور ہاتھ کے ، اس لیے اگر ہاتھ اور منہ کا بھی چھپانا فرض کیا جاتا تو مخلوق کے لیے ہرج عظیم تھا اور چاہیے کہ اپنی اوڑھنیوں کو اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں، اس سے ثابت ہوا کہ عورت کا سینہ وغیرہ ڈھانکنا فرض ہے اور غیر مرد کو اس کی طرف نظر کرنا جائز نہیں، اور کسی مرد کو اپنا سنگار نہ دکھائیں سوائے اپنے شوہروں کے ، اور اپنے باپوں کو یا اپنے خاوند کے باپوں یعنی سسر کو، یا اپنے بیٹوں کو، یا خاوند کے بیٹوں کو جو دوسری بیویوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–32

[26] یعنی انھیں قصداً غیر مردوں کو نہ دیکھنا چاہئے، نگاہ پڑجائے تو ہٹا لینی چاہئے اور دوسروں کے ستر پر بھی نگاہ نہ ڈالنی چاہئے۔ [27] یعنی ناجائز جنسی تعلقات سے پرہیز کریں اور اپنا ستر بھی دوسروں کے سامنے نہ کھولیں۔ عورت کا ستر ہاتھ اور منہ کے سوا اس کا سارا جسم ہے جسے تمام لوگوں سے چھپانے کا حکم ہے۔ اس حکم میں باپ، بھائی اور تمام رشتہ دار شامل ہیں اور شوہر کے سوا کوئی مرد اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ نیز عورت کو ایسا باریک یا چست لباس بھی نہ پہننا چاہئے جس سے بدن اندر سے جھلکے یا بدن کی ساخت نمایاں ہو۔ [28] یعنی جس قدر زینت کا ظاہر کرنا ناگزیر ہے۔ احادیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرے کی ٹکیا،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

آنکھوں کا زنا : (ف 1) گناہ کے اصل منبع اور حقیقی محرک سے روک دینے کے بعد ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ اس کا وسیلہ اور ذریعہ آنکھیں ہیں ، چناچہ تورات میں لکھا ہے کہ النظر تزرع فی القلب الشھوۃ ۔ یعنی دل میں برائی کے بیج نظریں بوتی ہیں ، اور پھر یہی بیج بڑھ کر بدی کا تناور درخت ہوجاتا ہے سردار دوجہاں کا ارشاد ہے ” العیضان تزنیان “۔ کہ آنکھیں بھی ایک قسم کے زنا کا ارتکاب کرتی ہیں ۔ فرماتے ہیں مرمن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کو قصد اور عمدا نہ دیکھیں بلکہ اس درجہ نگاہوں پر ضبط واختیار رکھیں ، کہ جہاں آنکھیں ایک دوسرے سے دو چار ہوں فورا خود بخود جھک جائیں ، کیونکہ مسلمان بجائے خود پاکبازی اور عفاف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) اور اے پیغمبر ! آپ مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو پست اور نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنے سنگار اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں مگر ہاں اس میں سے جو مجبوراً کھلا رہتا ہے اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں اور اپنے سنگار اور اپنی زیبائش کو کسی پر ظاہر نہ کریں مگر ہاں اپنے خاوندوں پر یا اپنے شوہر کے باپوں پر یعنی خسر یا دو یا خسر یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہر کے بیٹوں۔ یا اپنے بھائیوں پر خواہ وہ حقیقی ہوں یا علاتی ہوں یا اخیانی یا مذکورہ بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر یہ بہنیں خواہ حقیقی ہوں یا علاتی یا اخیانی ہوں یا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ زینت سے مراد زیور اور ان کے مواقع سے مراد ہاتھ، پنڈلی، بازو، گردن، سر، سینہ، کان، یعنی ان سب مواقع کو سب سے چھپائے رکھیں، بلحاظ ان دو استثناوں کے جو آگے آتے ہیں، اور جب ان مواقع کو اجانب سے پوشیدہ رکھنا واجب ہے جن کا ظاہر کرنا محارم کے روبرو جائز ہے تو اور مواقع و اعضاء جی سے پشت و شکم وغیرہ جن کا کھولنا محارم کے روبرو بھی جائز نہیں ان کا پوشیدہ رکھنا بدلالة النص واجب ہوگیا۔ حاصل یہ ہوا کہ سر سے پاوں تک تمام بدن اپنا پوشیدہ رکھیں۔ 6۔ نہ کہ چچا زاد ماموں زاد وغیرہ پر۔ 7۔ مطلب یہ کہ مسلمان عورتوں پر کیونکہ کافر عورت کا حکم مثل اجنبی مرد کے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والی عورتوں کے لئے بھی نظریں نیچی رکھنے اور ستروں کی حفاظت کا حکم : 42۔ عورتوں کے لئے اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لئے ہے لیکن اس وقت عورتوں کے لئے اس طرح کے پردے کا رواج ہے جس میں وہ نظریں نیچی رکھنے کی بجائے یک طرفہ اس سے آزاد ہوچکی ہیں کہ وہ جس کو چاہیں نظریں پھاڑ پھاڑ کر دیکھیں حالانکہ اس میں جو حکم مردوں کے لئے ہے وہی عورتوں کے لئے بھی ہے مزید وضاحت آگے آرہی ہے ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ نے بڑی سختی سے نامحرم کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا ہے چناچہ حدیث میں ہے کہ : عن ابی امامۃ یقول سمعت رسول اللہ ﷺ اکفلوا لی بست اکفل لکم بالجنۃ اذا حدث احدکم فلا یکذب واذا ائتمن فلا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Looking at non-Mahram is forbidden وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِ‌هِنَّ And say to the believing women that they must lower their gazes - 24:31. In the initial part of this long verse the injunction is the same which has been enjoined on men-folk in the preceding verse, that is, keep the eyes down or turn away the eyes. Women-folk are also included in the injunction along with men, but in the next verse there is a separate injunction for them for laying more emphasis. Hence, it is clear that for women it is forbidden to look at any man except their mahrams. Many scholars…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31. The commandments of restraining the gaze for women are the same as for men. They should not glance intentionally at the other men, and if they happen to cast a chance look, they should turn their eyes away; and they should abstain from looking at the satar of others. However, the commandments relating to the men's looking at women are a little different from those relating to the women’s looking at men. On the one hand, there is an incident related in a tradition saying that Umm Salamah and Umm Maimunah, wives of the Prophet (peace be upon him), were sitting with him when lbn Umm Maktum,…

Read the full tafseer →