حرام چیزوں پر نگاہ نہ ڈالو
حکم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کا دیکھنا میں نے حرام کردیا ہے ان پر نگاہیں نہ ڈالو۔ حرام چیزوں سے آنکھیں نیچی کرلو۔ اگر بالفرض نظر پڑجائے تو بھی دوبارہ یا نظر بھر کر نہ دیکھو۔ صحیح مسلم میں ہے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ نے حضور ﷺ سے اچانک نگاہ پڑجانے کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا اپنی نگاہ فورا ہٹا لو۔ نیچی نگاہ کرنا یا ادھر ادھر دیکھنے لگ جانا اللہ کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا آیت کا مقصود ہے۔ حضرت علی ؓ سے آپ نے فرمایا۔ علی ؓ نظر پر نظر نہ جماؤ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے قصدا معاف نہیں۔ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا " راستوں پر بیٹھنے سے بچو "۔ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کام…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 29
اس میں الفاظ ہیں یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ۔ غَضّ کے معنی ہیں کسی چیز کو کم کرنے، گھٹانے اور پست کرنے کے۔ غَضِّ بصر کا ترجمہ عام طور پر نگاہ نیچی کرنا یا رکھنا کیا جاتا ہے۔ لیکن دراصل اس حکم کا مطلب ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے، بلکہ پوری طرح نگاہ بھر کر نہ دیکھنا، اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزادانہ چھوڑ دینا ہے۔ یہ مفہوم " نظر بچانے " سے ٹھیک ادا ہوتا ہے، یعنی جس چیز کو دیکھنا مناسب نہ ہو اس سے نظر ہٹالی جائے، قطع نظر اس سے کہ آدمی نگاہ نیچی کرے یا کسی اور طرف اسے بچا لے جائے۔ مِنْ اَبْصَارِھِمْ میں مِنْ تبعیض کے لیے ہے، یعنی حکم تمام نظروں کو بچانے کا نہیں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حکم ششم عورتوں کے پردہ کے احکام
آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (یعنی جس عضو کی طرف مطلقاً دیکھنا ناجائز ہے اس کو بالکل نہ دیکھیں اور جس کو فی نفسہ دیکھنا جائز ہے مگر شہوت سے جائز نہیں اس کو شہوت سے نہ دیکھیں) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں جس میں زنا اور لواطت سب داخل ہے) یہ ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے (اور اس کے خلاف میں آلودگی ہے زنا یا مقدمہ زنا میں) بیشک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں (پس خلاف کرنے والے سزا یابی کے مستحق ہوں گے) اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (وہ بھی) اپنی نگاہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30۔ 31
گھر کے اندر ہونے کے بعد کی احتیاطیں
مذکورہ بالا اجازت کے بعد اگر کوئی شخص کسی کے مکان میں دخل ہو تو اس کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھے اور اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرے۔ قل للمومنین کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ عض بصر اور حفاظت فروج تقاضائے ایمان ہے اور من ابصارھم کے من سے یہ بات نکلتی ہے کہ مقصود صرف احد تک نگاہوں کو نیچی رکھنا ہے کہ گھر کی عورتوں سے اپنی نظر کو بچانے رکھے اس لئے کہ یہ ہدایت درحقیقت انہی کو پیش نظر رکھ کردی گئی ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلی کہ اسلام نے یہ اجازت جو دی ہے وہ محض رفع ہرج کے پہول سے صاحب خانہ کے اعزہ و اقرباء اور تعلق و اعتماد کے…
Read the full tafseer →30-1جب کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت لینے کو ضروری قرار دیا تو اس کے ساتھ ہی (آنکھوں کو پست رکھنے یا بند رکھنے) کا حکم دے دیا تاکہ اجازت طلب کرنے والا بھی بالخصوص اپنی نگاہوں پر کنٹرول رکھے۔
30-2یعنی ناجائز استعمال سے اس کو بچائیں یا انھیں اس طرح چھپا کر رکھیں کہ ان پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اس کے یہ دونوں مفہوم صحیح ہیں کیونکہ دونوں ہی مطلوب ہیں۔ علاوہ ازیں نظروں کی حفاظت کا ذکر کیا کیونکہ اس میں بےاحتیاطی ہی، غفلت کا سبب بنتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
17: اس سے مراد وہ عوامی مقامات ہیں جو کسی ایک شخص یا اشخاص کی ملکیت نہیں ہوتے، بلکہ عوام کو ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے، مثلاً عوامی مسافر خانے، ہوٹل کے بیرونی حصے، ہسپتال، ڈاک خانے، پارک، مدرسے، وغیرہ۔ اجازت طلب کرنے کے مفصل احکام کے لیے ان آیات کے تحت معارف القرآن کی طرف رجوع کیا جائے جس میں یہ اہم احکام بڑے شرح و بسط کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →(قل للمئو منین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بما یصنعون) (24 : 30) ” “۔ مردوں کی طرف سے غض بصر ایک نفسیاتی ادب اور تہذیب ہے اور دوسرے انسانوں کے اندر فطری محاسن اور جسمانی محاسن اور چہرے کے محاسن کی تلاش ہر انسان کے اندر ایک فطری داعیہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک مومن اپنے اس داھیہ پر قابو پاتا ہے۔ نیز یہ غلط روی کے پہلے دریچے کی بندش کا اقدام ہے۔ اگر غض بصر سے کام نہ لیا جائے تو انسانی نظر انسان کو فتنے میں ڈال سکتی ہے۔ گویا زہریلے تیر سے بچنے کی یہ پہلی کوشش ہے۔
جب انسان اپنی نظروں پر قابو پالے تو اس کے نتیجے میں اس کی شرمگاہ خود بخود زیر کنٹرول ہوگی۔ غض بعر کے نتیجے میں بےراہ روی کے اس دوسرے مرحلے میں داخل ہونے ہی سے…
Read the full tafseer →8 بدنظری عموماً زنا کی پہلی سیڑھی ہے۔ اسی سے بڑے بڑے فواحش کا دروازہ کھلتا ہے۔ قرآن کریم نے بدکاری اور بےحیائی کا انسداد کرنے کے لیے اول اسی سوراخ کو بند کرنا چاہا۔ یعنی مسلمان مرد و عورت کو حکم دیا کہ بدنظری سے بچیں اور اپنی شہوات کو قابو میں رکھیں۔ اگر ایک مرتبہ بےساختہ مرد کی کسی اجنبی عورت پر یا عورت کی کسی اجنبی مرد پر نظر پڑجائے تو دوبارہ ارادہ سے اس طرف نظر نہ کرے۔ کیونکہ یہ دوبارہ دیکھنا اس کے اختیار سے ہوگا، جس میں وہ معذور نہیں سمجھا جاسکتا۔ اگر آدمی نگاہ نیچی رکھنے کی عادت ڈال لے اور اختیار و ارادہ سے ناجائز امور کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا کرے تو بہت جلد اس کے نفس کا تزکیہ ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت 29 لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ط ”
اس سے مراد دکانیں ‘ سٹور اور گودام وغیرہ ہیں۔
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ”
قانون کی اصل روح کو سمجھنا اور اس کے مطابق اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ دراصل گھر میں بلا اجازت داخل ہونے سے منع کرنے کا مقصد گھر میں سکونت پذیر خاندان کی privacy کے تقدس کو یقینی بنانا ہے۔ لہٰذا کسی دکان یا گودام پر اس قانون کے اطلاق کا کوئی جواز نہیں ہے کہ آدمی دکان کے دروازے پر اس لیے کھڑا رہے کہ جب تک مالک مجھے اجازت نہیں دے گا میں اندر نہیں جاؤں گا۔
Read the full tafseer →39 نگاہیں پست رکھنے کا حکم جیسے مومن مردوں کو ہے ویسے ہی مومن عورتوں کو بھی ہے۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت مذکور ہے نگاہیں نیچی رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چلتے وقت راستہ بھی پوری نظر نہ آئے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی کسی غیر عورت پر اور عورت کی کسی غیر مرد پر نگاہ نہ پڑنی چاہئے اور اگر اتفاق سے نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹا لینی چاہئے۔ جیسا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ : پہلی بار کی نظر تجھے معاف ہے (یعنی اتفاقاً پڑجائے) لیکن بعد کی معاف نہیں (ترمذی۔ ابو اب الادب۔ باب نظر الفحائۃ) یعنی اتفقاً نظر پڑجانے کے بعد پھر دیکھتے نہیں رہنا چاہئے بلکہ فوراً نظر ہٹا لینی…
Read the full tafseer →51۔ چناچہ جسم کے جن حصوں پر نظر کرنا سرے سے ناجائز ہے انہیں تو دیکھیں ہی نہ اور جنہیں دیکھنا جائز ہے انہیں بھی خواہش نفس کے ساتھ نہ دیکھیں) (آیت) ” من ابصارھم “۔ من تبعیضیہ ہے یعنی ہر نظر حرام نہیں، صرف بعض نظریں حرام ہیں اور وہ حرام نظریں، نظر اجنبی ونظر شہوت ہیں، من للتبعیض والمراد غض البصر عما یحرم والاقتصاربہ علی مایحل (مدارک) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی نظروں کا نیچا رکھنا اور حفظ ناموس۔ اے غض البصر وحفظ الفروج (مدارک)
52۔ بدکاری وبدنظری وغیرہ کے ارتکاب میں انسان خاص طور پر اہتمام سترواخفاء کا رکھتا ہے۔ اس لیے یہاں یاد دلادیا کہ تم چھپانے کی کتنی ہی کوشش کرڈالو۔ بہرحال اس حاضر وناظر، ہمہ بین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
آیت نمبر 27 تا 34
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو اور اہل خانہ کو سلام نہ کرلو پس ہر اجازت لینے والے کو چاہیے کہ کہے السلام علیکم أادخُلُ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ہے بغیر اجازت داخل ہونے سے تاکہ تم خیال رکھو اجازت کے خیر ہونے کا پھر تم اس پر عمل کرو تائے ثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے سو اگر تم گھروں میں کسی کو نہ پاؤ کہ تم کو اجازت دے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے اور اگر اجازت طلب کرنے کے بعد تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو…
Read the full tafseer →قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ آنکھیں نیچی رکھیں۔ یعنی جس کی
طرف دیکھنا جائز نہیں اس کو دیکھنے سے آنکھیں بند رکھیں حسن کی مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی لعنت ہے (نامحرم کو) دیکھنے والے پر اور جس عورت کو دیکھا جائے اس پر۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
یَغُضُّوْا امر کا صیغہ ہے ‘ لام محذوف ہے مِنْ اَبْصَار میں برقول اخفش مِنْ زائد ہے۔ اخفش کے نزدیک کلام مثبت میں بھی مِنْ کا زائد ہونا جائز ہے۔ سیبویہ کے نزدیک مِنْ تبعیضیہ ہے کیونکہ مؤمنوں کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ کسی کو نہ دیکھیں سب کی طرف سے آنکھیں بند رکھیں ‘ بلکہ جس کو دیکھنے کی اجازت نہیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(30) اور آپ مسلمان مردوں سے فرما دیجیے کہ وہ حرام چیزوں کے دیکھنے سے اپنی نگاہیں روکے رکھیں اور حرام کام سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ آنکھ اور شرم گاہ کی حفاظت ان کے لیے زیادہ درستگی اور نیکی کا باعث ہے اور نیکی اور بدی جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ : ”غَضَّ طَرْفَہُ ، خَفَضَہُ“ ”اس نے اپنی آنکھ نیچی کرلی۔“ دوسرا معنی ہے ”نَقَصَ وَ وَضَعَ مِنْ قَدْرِہِ“ ”اس نے فلاں کی قدر کم کی۔“ (قاموس) زنا اور بہتان سے محفوظ رکھنے کے لیے گھروں میں داخلے کے آداب بیان فرمانے کے بعد نظر کی حفاظت کا حکم دیا، کیونکہ آدمی کے دل کا دروازہ یہی ہے اور تمام شہوانی فتنوں کا آغاز عموماً یہیں سے ہوتا ہے۔ احمد شوقی نے کہا ہے : ”نَظْرَۃٌ فَابْتِسَامَۃٌ فَسَلَامٌ فَکَلَامٌ فَمَوْعِدٌ فَلِقَاءٌ“ ”نظر ملتی ہے، پھر مسکراہٹ، پھر سلام، پھر گفتگو، پھر وعدہ اور پھر ملاقات تک بات جا پہنچتی ہے۔“
3 اس سے پہلی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 30
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل للمئومنین یغضوا من ابصارھم اللہ تعالیٰ نے پردے کے ساتھ نظر کے امر کو ملایا۔ کہا جاتا ہے : غض بصرہ یغضہ غضاً ۔ شاعر نے کہا :
اغض طرفی مابداث لی جارتی حتی یواریَ جارتی ماواھا
اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا جس سے نظر کو بچانا ہے اور فرج کی حفاظت کرنی ہے لیکن یہ معلوم و معروف ہیں اس سے مراد محرم ہے محلل نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں سعید بن ابی حسن نے حسن کو کہا : عجمیوں کی عورتیں اپنے سینے اور اپنے سر کھلے رکھتی ہیں (1) ؟ تو آپ نے فرمایا : تو اپنی نظر کو پھیر لے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و…
Read the full tafseer →1۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں گزرا اس نے ایک عورت کی طرف دیکھا اور اس عورت نے اس کی طرف دیکھا۔ شیطان نے دونوں میں وسوسہ یعنی برے خیالات ڈال دئیے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کی طرف اس لیے دیکھا کیونکہ وہ اسے چاھ لگا ہے اسی اثناء میں کہ وہ آدمی دیوار کی جانب چل رہا تھا اور اس کی طرف دیکھ رہا تھا اچانک وہ دیوار میں جا لگا اور اس کی ناک ٹوٹ گئی اس نے کہا اللہ کی قسم میں خون صاف نہی کروں گا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آؤں گا اور ان کو اپنا معاملہ بتاؤں گا وہ آپ کی خدمت میں آیا اور ان کو اپنا ساراو اقعہ…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں سے ] يَغُضُّوْا [ تو وہ نیچی رکھیں گے ] مِنْ اَبْصَارِهِمْ [ اپنی بصارتوں کو ] وَيَحْفَظُوْا [ اور حفاظت کریں گے ] فُرُوْجَهُمْ ۭ [ اپنی شرمگاہوں کی ] ذٰلِكَ [ یہ ] اَزْكٰى [ پاکیزہ تر ہے ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لئے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] خَبِيْرٌۢ [ با خبر ہے ] بِمَا [ اس سے جو ] يَصْنَعُوْنَ [ یہ لوگ کاریگری کرتے ہیں
غ ض ض :
(ن) غضا پست کرنا۔ نیچا کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔
اغضض فعل امر ہے۔ تو پست کر۔ تو نیچا رکھ۔ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ (اور تو نیچا رکھ اپنی آواز سے) 31/19
ترکیب : (آیت ۔ 30) یغضوا اور یحفظوا فعل امر غائب نہیں ہیں۔ اگر…
Read the full tafseer →نظر کی حفاظت اور عفت و عصمت کا حکم، محارم کا بیان
ان دونوں آیتوں میں پردہ کے احکام بیان فرمائے ہیں اور اول تو مردوں اور عورتوں کو نظریں پست یعنی نیچی رکھنے کا حکم فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں یعنی زنا نہ کریں۔ دونوں باتوں کو ساتھ جوڑ کر یہ بتادیا کہ نظر کی حفاظت نہ ہوگی تو شرم گاہوں کی حفاظت بھی نہ رہے گی۔ گھروں میں جانے کے لیے جو اجازت لینے کا حکم ہے اس میں جہاں دیگر امور کی رعایت ملحوظ ہے وہاں حفاظت نظر بھی مطلوب ہے، جب نظر کی حفاظت ہوگی تو مرد عورت کا میل جول آگے نہیں بڑھے گا اور زنا تک نہ پہنچیں گے۔ چونکہ نظر کو بھی مزہ آتا ہے اور نظر بازی سے دواعی زنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
حکم ششم متعلق بہ نظر وبصر
قال اللہ تعالی۔ قل لل مومنین یغضوا من ابصارہم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تفلحون۔
(ربط) یہ چھٹا حکم ہے جو مرد کا عورت کو دیکھنے سے اور عورت کا مرد کو دیکھنے سے متعلق ہے اور نگاہ کی حفاظت کا حکم۔ عفت اور پاکدامنی کی حفاظت کا بےمثال سامان ہے۔ گزشتہ آیات میں زنا کی سزا اور زنا کی تہمت لگانے کے احکام کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں اسباب زنا کے احکام بیان کرتے ہیں۔ یعنی ان چیزوں کی ممانعت کرتے ہیں کہ جو زنا کا سبب اور ذریعہ بنتی ہیں تاکہ ان پر عمل کرنے سے خود زنا سے محفوظ رہ سکے اور بندوں کے اتہام اور اشتباہ سے محفوظ رہ سکے مثلا مرد کا عورت کو دیکھنا اور عورت کا مرد کو دیکھنا ایک عظیم…
Read the full tafseer →29:۔ ” قل للمومنین الخ “ یہ دوسرا قانون ہے ایمان والوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ نظریں جھکا کر چلا کریں تاکہ اجنبی عورتوں سے ان کی نگاہیں محفوظ رہیں نیز فرمایا وہ اپنی شرمگاہوں کو بدکاری سے محفوظ رکھیں۔ یہ ان کے لیے طہارت و عفاف کا باعث غیر محرم عورت کی طرف دیکھنا دواعی زنا میں سے ہے اس لیے پہلے اس سے منع فرمایا کیونکہ جب آدمی اس کے اسباب و محرکات سے دور رہے گا تو اس سے بھی محفوظ رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں دوسروں کے گھروں میں جانے کے مسائل بیان ہوئے کہ کوئی شخص اپنے گھروں میں بلا اجازت جاسکتا ہے البتہ بہتر یہی ہے کہ اطلاع کرے۔ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے گھروں میں یا جن گھروں میں سامان پڑا ہوا ہے ، وہاں بھی اجازت کے بغیر نہیں جانا چاہیے۔ البتہ مفاد عامہ کے ایسے مقامات جن میں کسی کی انفرادی رہائش نہ ہو وہاں بلا اجازت داخل ہوسکتا ہے۔ البتہ ان کے مخصوص حصوں میں بھی بلا اجازت داخل ہونا جائز نہیں۔ دراصل یہ پابندی برائی ، زنا اور بدکاری کی روک تھام کے لئے لگائی گئی ہے کیونکہ برائی تحریک بلا تکلف میل جول کے ذریعے ہی پیدا ہوتی ہے۔
اب آج کی آیات بھی اسی قانون کا تتمہ ہیں۔ اگر…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ 0ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَہُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ 30
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته…
Read the full tafseer →ترکیب : من ابصارھم من ھھنا للتبعیض لانہ لایلزم غض البصربالکلیۃ وقلیل زائدۃ وقیل لبیان الجنس، غیراولی الاربۃ ای الحاجۃ بالجر علی الصفۃ اوالبدل۔
تفسیر : منجملہ اساب زنا کے مرد کا عورت کو اور عورت کا مرد کو دیکھنا بھی ہے۔ یہ نظر زنا کا بڑا سبب ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ ع برق نگاہ یار میرا کام کرگئی۔ اس لیے ایمانداروں کو ادب سکھاتا ہے۔ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم الخ یہ پانچواں حکم ہے کہ اے نبی ایمانداروں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ کو بند رکھیں جس کا دیکھنا انہیں حلال نہیں اس کو نہ دیکھیں اپنی بیوی اور لونڈی کے سوا اجنبی عورت کا بضرورت منہ اور ہاتھ دیکھنا تو درست ہے اور باقی چیزوں پر نظر کرنا حرام ہے…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ط ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا یَصْنَعُوْنَ ۔ (النور : 30)
(اے پیغمبر ! مومنوں کو ہدایت کیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے، بیشک اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں۔ )
اسلام اور دیگر نظام ہائے زندگی میں فرق
ہم پہلے بھی یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ اسلام اور دیگر نظام ہائے زندگی کا بنیادی فرق یہ ہے کہ اولاً تو ان کے نزدیک گناہ کا تصور ہی غلط یا مبہم ہے۔ اور اگر وہ کسی چیز کو گناہ یا جرم قرار دیتے بھی ہیں تو ان کے نزدیک اس جرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی آداب سکھلانے کے بعد ذاتی اور انفرادی شرم و حیا کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
اسلام جرائم کے قلع قمع کے لیے خارجی اور داخلی محرکات کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ برائی اور بےحیائی اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک خارجی اسباب اور داخلی محرکات پر قابو نہ پایاجائے۔ داخلی محرکات میں انسان کے مثبت اور منفی جذبات کا اثر اس کے فکر وعمل پر ہوتا ہے۔ دل میں کسی کے بارے میں احترام ہو تو آنکھوں میں عقیدت واحترام کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ دل میں کسی کے بارے میں غصہ یا بےحیائی ہو تو آنکھیں اس کی چغلی کھاتی ہیں گویا کہ اچھے برے جذبات کی ترجمانی کرنا انسان کے چہرے اور آنکھوں کا فطری…
Read the full tafseer →غض بصر کا حکم :
30: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ (ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں) ۔
نحو : منؔ یہاں تبعضیہ ہے یہاں مراد نامحرم سے نگاہ کا نیچا رکھنا ہے اور اس پر اکتفائے نظر کرنا جن کو دیکھنا حلال ہے۔
وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ (اور وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں) ۔ زنا سے۔
نکتہ : یہاں منؔ نہیں لایا گیا۔ کیونکہ زنا کی کسی طور پر بھی رخصت نہیں۔ البتہ بعض حالات مخصوصہ میں اجنبیہ کے چہرے پر نظر درست ہے اسی طرح اس کے ہاتھوں اور قدمین کا بھی حکم ہے۔ ایک روایت اور محارم کے سر، سینہ، پنڈلیاں اور عضوین پر ضرورت کے وقت نظر درست ہے۔ ذٰلِکَ (یہ) یعنی نگاہ کا…
Read the full tafseer →30۔ قل للمومنین یغضوا من ابصارھم، جن عورتوں کی طرف دیکھناجائز نہیں ہے ان سے اپنی نظروں کو جھکانا، من صلہ ہے یعنی اپنی نظروں کو جھکائے رکھو۔ بعض نے کہا کہ ، من تبعیضیہ ہے، کیونکہ مومنین کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ کسی کونہ دیکھیں سب کی طرف سے آنکھیں بند رکھیں بلکہ جس کو دیکھنے کی اجازت نہیں اس کی طرف نظر اٹھانے کی ممانعت ہے بلکہ نامحرم کی طرف بالا ارادہ دوسری بار دیکھنے کی بندش ہے پہلی مرتبہ جو بلا ارادہ نظر پڑجائے اس کا گناہ نہیں۔ ویحفظوا فروجھم، جو عورتیں ان پر حلال نہیں ان سے پانی شرمگاہ کی حفاظت کریں۔
ابوالعالیہ کا بیان ہے کہ قرآن پاک میں جس جگہ بھی شرمگاہ کی حفاظت کرنے کا حکم آیا ہے وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30:۔ اوپر ذکر تھا کہ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے گھر میں بےکھنکارے ‘ بیخبر ی کی حالت میں نہ جاوے کیونکہ بیخبر ی کی حالت میں چلے جانے سے ننگی کھلی اجنبی عورتوں کے سامنے آجانے کا اندیشہ ہے ‘ اس آیت میں فرمایا ‘ اجازت کے بعد دوسرے رشتہ دار کے گھر میں جانے سے یا بازار وغیرہ میں اجنبی عورت نظر پڑجاوے تو ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اپنی نگاہ نیچی کرے مرد کے نیچی نگاہ کرلینے کی حالت عورت مرد کی صورت دیکھ سکتی ہے ‘ اس واسطے اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے آیت کو پوری تعمیل ہونے کی غرض سے ایسے موقع پر حکم دیا کہ ایماندار شخص اجنبی عورت کی طرف سے اپنا منہ پھیر لے ‘ چناچہ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم ‘ ترمذی اور…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 30)
(قل للمومنین) مومنوں سے فرمائیے اور ان لوگوں سے کہ دیجیے جن کے پاس کچھ ایمان ہے جو انہیں ایسے امور میں پڑنے سے روکتا ہے جو ایمان میں خلل ڈالتے ہیں۔ ( یغضوا من ابصارر ھم ) ” وہ اپنی نظروں کو پست رکھیں۔ “ یعنی قابل ستر اور اجنبی عورتوں کی طرف سے اپنی نظروں کو ہٹا لیا کریں ‘ ان بےریش لڑکوں پر سے بھی نظر ہٹا لیں جن کو دیکھنے سے فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو ‘ نیز دنیا کی زیب وزینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو ‘ نیز دنیا کی زیب وزینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو اور جو حرام میں مبتلا کردیتی ہیں۔
(وٰیحفظوا فروجھم) یعنی عورتوں یا…
Read the full tafseer →محرمات سے غض بصر کے وجوب کا بیان
قول باری ہے : (قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظو افرجھم) مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ ہمیں ان تمام چیزوں سے نظریں بچا کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جن پر نظر ڈالنا حرام ہے۔ آیت کی عبارت میں اسے مخذوف رکھا گیا ہے اور اس کی مراد سے مخاطبین کے علم پر اکتفا کرلیا گیا ہے۔ محمد بن اسحاق نے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے، انہوں نے سلمہ بن ابی الطفیل سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے کہ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا : ” علی ! تمہارے لئے جنت میں ایک بڑا…
Read the full tafseer →49 حفظ نظر اور غضِّ بصر کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایماندار مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں کہ کہیں وہ غلط جگہ پڑ کر ان کے لئے لغزش اور گناہ کا باعث نہ بن جائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حفظ نظر اور غضِّ بصر کی یہ ہدایت بڑی اہم ہدایت ہے۔ کیونکہ نگاہ ہی درحقیت مرد اور عورت کے درمیان اولین قاصد اور بنیادی رابطے کا کام دیتی ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا اور خوب کہا ۔ برق نگاہ یار میرا کام کرگئی ۔ اور حدیث میں اس کو ابلیس کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے دین حنیف نے اس کی حفاظت کیلئے بڑی اہم اور پاکیزہ تعلیمات دی ہیں۔ اور ایسی کہ اگر صدق دل سے ان پر عمل کیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
کچھ اور اخلاقی آداب
تشریح : معاشرے کی اخلاقی معاشرتی اور تمدنی برائیوں سے بچانے کے لیے چند اور اصول بتائے جا رہے ہیں جو کہ شرم و حیا قائم کرنے اور برے راستوں کو بند کرنے کا موجب ہیں۔ نگاہیں اللہ کی دی ہوئی ایسی نعمت ہے کہ اگر اس کو ٹھیک استعمال کیا جائے تو نعمت ورنہ زحمت کیونکہ ہر چیز آنکھوں کے ذریعے ہی دل میں اتر جاتی ہے اور اسی کے مطابق انسان کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے حکم ہوا کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یعنی پردہ اور ستر پوشی کا سخت حکم دیا گیا ہے یہاں عورتوں کے لیے زیادہ تاکید اور بڑی وضاحت سے ان رشتہ داروں کے نام بتا کر وضاحت کردی گئی ہے کہ سوائے ان خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی کسی ایسی چیز کی طرف نہ دیکھیں جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں کیونکہ اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ سلف (رح) کا قول ہے کہ نظر ایک زہریلا تیر ہے جس کا نشانہ انسان ہی بنتا ہے اور اگر بلا ارادہ کسی پر نگاہ پڑجائے تو نگاہ پھیر لیں۔ صحیحین میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :”……دیکھنا (یعنی کسی اجنبی عورت کی طرف دیکھنا) آنکھ کا زنا ہے۔ نفس تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی (عملاً ) تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “ نیز سنن میں حضرت بریدہ ؓ سے سروایت ہے کہ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈال۔ پہلی نظر تو معاف ہے اور دوسری معاف نہیں۔ (شوکانی) 7 ۔ یعنی زنا سے حفاظت کریں اور نہ اپنا ستر ہی اس شخص پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(24:29) جناح۔ گناہ جرم۔ الجناح پرندہ کا بازو۔ قرآن مجید میں ہے ولا طائرا یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں بازوئوں پر اڑتا ہے پھر کسی چیز کے دونوں جانب کو بھی جناحینکہتے ہیں۔ مثلاً جناحا السفینۃ (سفینہ کے دونوں جانب یا جناحا الانسانانسان کے دونوں پہلو۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے واضمم یدک الی جناحک (20:22) اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے لگالو۔
پھر جنح بمعنی مائل ہونا۔ ایک جانب کو مائل ہونا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے جنحت السفینۃ۔ کشتی ایک جانب کو مائل ہوگئی۔ اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے دوسری طرف مائل کر دے اسے جناح کہا جاتا ہے پھر عام گناہ کے معنی میں استعمال ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 31 :
یغضوا (نیچے رکھیں) فروج (فرج) شرم گاہیں) ‘ لایبدین (ظاہر نہ کرے) ‘ ظھر (کھلا رہتا ہے) ‘ خمر (دوپٹے۔ اوڑھنیاں) ‘ جیوب (سینے) بعولۃ (شوہر) ابنائ (بیٹے) اخوان (اخ) بھائی ‘ نسائ (عورتیں) ملکت ایمان (دائیں ہاتھ کی ملکیت ۔ باندیاں) ‘ تابعین (پیچھے چلنے والے) ‘ غیر اولی الاربۃ (جوعورتوں سے کام نہیں رکھتے) ‘ لم یظھروا ( واقف نہیں ہوئے) عورت (چھپانے کی چیز) لا یضربن (نہ مارے) ‘ تو بوا (توبہ کرو) ‘
تشریح : آیت نمبر 30 تا 31 :
دین اسلام نے ایک ایسے صاف ستھرے ‘ پاکیزہ اور تقویٰ سے بھر پور معاشرہ کا تصور عطا فرمایا ہے۔ جس میں ہر شخص ایک دوسرے کی جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا…
Read the full tafseer →عورتوں کے پردہ کا حکم، مسلم خاتون کا اصل زیور۔
(ف 1) حاصل مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ایماندار لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ ان کے حق میں ناجائز چیزوں کے دیکھنے سے بچنے اور اپنی شرمگاہوں کو قابوں میں رکھنے میں بڑی ستھرائی ہے آخر کو ناجائز کاموں سے بچنے اور جائز کاموں کے کرنے کی تاکید کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے اچھے برے کاموں سب کی خبر ہے۔
مسئلہ : جس شخص کا ارادہ کسی عورت سے نکاح کرنے کا ہو تو وہ شخص اس عورت کو دیکھ سکتا ہے لیکن کسی عورت کے ذریعہ سے حال معلوم ہوسکتا ہو تو نہ دیکھے، اور طبیب کو بھی مرض کی جگہ بقدر ضرورت دیکھنا جائز ہے۔
Read the full tafseer →[25] مراد ہے مردوں کا عورتوں کو دیکھنا یا دوسرے لوگوں کے ستر پر نگاہ ڈالنا جیسا کہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے۔ اصطلاح شرعی میں ستر جسم کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے ڈھانکنا فرض ہے۔ مردوں کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے (اس میں ناف اور گھٹنے شامل ہیں) اور اس کو سوائے بیوی کے کسی اور کے سامنے قصداً کھولنا حرام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
پہلے اجازت طلب کرو :
(ف 1) اسلام کی نگاہیں انسانی عادات وخصائل اور انسانی نفسیات و حالات سے متعلق بہت عمیق ہیں ، وہ یہ جانتا ہے کہ گناہ کا منبع کہاں ہے اور کن باتوں سے گناہ کی ترغیب ہوتی ہے ، اس لئے وہ سب سے پہلے اس گناہ کے سوتے کو بند کرتا ہے جہاں سے وہ پھوٹتا ہے ، اور اس کے بعد حفاظتی تدابیر کی تلقین کرتا ہے ۔
چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوگا ، کہ سب سے بڑی تحریک خلوت اور آزادی سے مرد اور عورت کا ملنا ہے اس لئے اسلام نے خلوت پر پابندیاں عائد کیں ، اور فرمایا دیکھو جب کسی عزیز یا دوست کے ہاں جاؤ ، جہاں کی عورتیں تم سے پردہ کرتی ہیں ، تو دھم سے ان کے ہاں نہ پہنچ جاؤ بلکہ پہلے اجازت طلب کرو تب…
Read the full tafseer →(30) اے پیغمبر ! آپ مسلمان مردوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو پست اور نیچا رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ نگاہوں کا نیچا رکھنا اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنا ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ بلاشبہ جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سب سے باخبر ہے۔
اوپر کی آیتوں میں زنا کی برائی بیان فرمائی تھی پھر زنا کی تہمت لگانے کی برائی مذکور ہوئی اب دواعی زنا کی برائی اور مقتضائے احتیاط کا بیان ہے تاکہ زنا کی نوبت نہ آئے اسی احتیاط کی بنا پر گھروں میں بےروک ٹوک جانے کی ممانعت فرمائی اب نگاہ نیچی رکھنے کی تعلیم دی یعنی جس عضو کو دیکھنے کی اجازت نہیں اس کو نہ دیکھیں اور جس عضو کو…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی جس عضو کی طرف مطلقا دیکھنا ناجائز ہے اس کو بالکل نہ دیکھیں اور جس کو فی نفسہ دیکھنا جائز ہے مگر شہوت سے دیکھنا جائز نہیں اس کو شہوت سے نہ دیکھیں۔
4۔ یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں، جس میں زنا اور لواطت سب داخل ہے۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو حکم کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنے ستروں کی حفاظت کریں :
41۔ (یغضوا) کی اصل غ ض ض ہے اور (غض) نظر اور آواز میں کمی کرنے کے معنوں میں استعمال ہے چناچہ قرآن کریم میں بھی دونوں باتوں میں استعمال ہوا ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (واغضض من صوتک) (لقمن 31 : 19) اور (آیت) ” یغضوا من ابصارھم “۔ کے الفاظ اس جگہ استعمال ہوئے ہیں یعنی اپنی نظروں کو نیچا رکھو ۔ اسلام ہم کو صرف گناہوں ہی سے نہیں روکتا اور ان کے ارتکاب پر ہی سزا نہیں دیتا بلکہ وہ ان تمام وسائل اور ذرائع پر پابندی عائد کرتا ہے اور انہیں ممنوع قرار دیتا ہے جو انسانوں کو گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں کیونکہ جب گناہوں کی طرف لے جانے…
Read the full tafseer →Commentary
An important chapter for the prevention of obscenity and security of chastity: Hijab for women
The very first verses on the subject of hijab for women are the ones which were revealed in Surah Ahzab at the time of marriage of the mother of the believers Sayyidah Zainab bint Jahash ؓ with the Holy Prophet ﷺ . Some have given the date of revelation of these verses as 3rd Hijra while others say it was 5th Hijra. Tafsir Ibn Kathir and Nail Al-Autar have given preference to the latter date, while Ruh ul-Mani has reported on the authority of Sayyidna Anas ؓ that this marriage was…
Read the full tafseer →29. The word ghadd means to reduce, shorten or lower down something. Accordingly, ghadd basar is generally translated as lowering the gaze or keeping it lowered. But the command of ghadd basar does not imply that the gaze should always be kept lowered. It only means to imply that one should restrain his gaze and avoid casting of looks freely. That is, if it is not desirable to see a thing, one should turn the eyes away and avoid having a look at it. The restriction of a restrained gaze is applicable only in a limited sphere. The context in which the words occur shows that this restriction…
Read the full tafseer →