An-Noor 24:29

An-Noor · from ayah 29

24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ ۟لَـيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ مَسۡكُوۡنَةٍ فِيۡهَا مَتَاعٌ لَّـكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ‏

ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو، تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

There is no blame upon you for entering houses not inhabited in which there is convenience for you. And Allah knows what you reveal and what you conceal.

— Saheeh International

Juz 18 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah An-Noor

All translations of 24:29

البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یا کام) کی کوئی چیز ہو، تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو سب کی اللہ کو خبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو، تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائده یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناه نہیں۔ تم جو کچھ بھی ﻇاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہارے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم ایسے گھروں میں (اجازت لیے بغیر) داخل ہو جن میں کوئی رہتا نہ ہو، اور ان سے تمہیں فائدہ اٹھانے کا حق ہو۔ اور تم جو کام علانیہ کرتے ہو، اور جو چھپ کر کرتے ہو، اللہ ان سب کو جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی سکونت کے نہیں اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے، اور اللہ جانتا ہے جوتم ظاہر کرتے ہو، اور جو تم چھپاتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس میں تم پر گناہ نہیں کہ تم ان مکانات (و عمارات) میں جو کسی کی مستقل رہائش گاہ نہیں ہیں (مثلاً ہوٹل، سرائے اور مسافر خانے وغیرہ میں بغیر اجازت کے) چلے جاؤ (کہ) ان میں تمہیں فائدہ اٹھانے کا حق (حاصل) ہے، اور اللہ ان (سب باتوں) کو جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں داخل ہو جن میں رہائش نہیں کی گئی، جن میں تمہارے فائدے کی کوئی چیز ہو اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

البتہ بےآباد گھروں میں داخل ہونے سے تم پر کوئی گناہ نہیں جہاں تمہارے فائدے کی کوئی چیز ہو۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان غیر رہائشیم کانوں میں داخل ہونے میں تمہارے لئے کوئی ہرج نہیں جن میں تمہارے لئے کوئی منفعت ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم ایسے مکانوں میں بلا اجازت داخل ہوجاؤ جن میں کوئی بستا نہیں اور تمہیں بھی ان کے برتنے کا حق ہے اور اللہ کو ایک برابر معلوم ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔

— مولانا اسحاق مدنی

تم پر کوئی گناہ اس میں نہیں ہے کہ تم ان مکانات میں داخل ہوجاؤ (جن میں) کوئی رہتا نہ ہو (اور) ان میں تمہارا کچھ مال ہو۔ اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم غیر رہائشی گھروں میں (بغیر اجازت) چلے جاؤ جن میں تمہارے لیے کچھ سامان ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا کچھ مال رکھا ہوا ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو اللہ کو سب معلوم ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is, however, no harm if you enter houses which are not dwelling places, but contain something useful for you; Allah knows what you disclose and what you conceal.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There is no sin on you if you enter uninhabited houses in which you have rightful benefit. Allah knows what you reveal and what you conceal.

— Muhammad Taqi Usmani

There is no sin on you if you enter uninhabited houses in which you have rightful benefit. Allah knows what you reveal and what you conceal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There is no sin on you that you enter houses uninhabited, you have any interest in them. And Allah has knowledge of what you reveal and what you conceal.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(It is) no sin for you to enter uninhabited houses wherein is comfort for you. Allah knoweth what ye proclaim and what ye hide.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

There is no blame upon you for entering houses not inhabited in which there is convenience for you. And Allah knows what you reveal and what you conceal.

— Saheeh International

There is no harm for you to enter uninhabited houses where you have some goods. God knows whatever you reveal or hide.

— Muhammad Sarwar

It is no sin in you that you enter uninhabited houses wherein you have your necessaries; and Allah knows what you do openly and what you hide.

— Muhammad Habib Shakir

No fault it is upon you that ye enter houses uninhabited wherein there is some property for you; and Allah knoweth that which you disclose and that which ye hide.

— Abdul Majid Daryabadi

It is no fault on your part to enter houses not used for living in, which serve some (other) use for you: And Allah has knowledge of what ye reveal and what ye conceal.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 24:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–29

بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی بری بات برے لوگوں کے لئے ہے۔ بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی اہل نفاق نے صدیقہ پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لئے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ صدیقہ ؓ چونکہ پاک ہیں اس لئے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔ یہ آیت بھی حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لئے ہوتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ ان تمام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النُّوْر 28 اس سے مراد ہیں ہوٹل، سرائے، مہمان خانے، دکانیں، مسافر خانے وغیرہ جہاں لوگوں کے لیے داخلہ کی اجازت ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِيْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ، لفظ متاع کے لغوی معنی کسی چیز کے برتنے استعمال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے ہیں اور جس چیز سے فائدہ اٹھایا جائے اس کو بھی متاع کہا جاتا ہے اس آیت میں متاع کے لغوی معنی ہی مراد ہیں جس کا ترجمہ برت سے کیا گیا ہے یعنی برتنے کا استحقاق، حضرت صدیق اکبر سے روایت ہے کہ جب استیذان کی آیات مذکورہ نازل ہوئیں جن میں بغیر اجازت کے کسی مکان میں داخل ہونے کی ممانعت ہے تو صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس ممانعت کے بعد قریش کے تجارت پیشہ لوگ کیا کریں گے کیونکہ مکہ اور مدینہ سے ملک شام تک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

غیر مکونۃ سے مراد قرنیہ دلیل ہے کہ یہاں وہ مکانات ہیں جو غیر رہائشی ہیں یعنی جن میں آدمی کے بیوی بچے نے رہتے ہوں اوپر کی ہدایات سے واضح ہے کہ اجازت لینے کی یہ پابندی اصلاً بدنگاہی اور موقع تہمت سے بچانے کے لئے کی گئی ہے اس وجہ سے ان مکانوں کے لئے یہ پابندی ضروری نہیں ہے جو غیر رہائشی ہیں۔ ان میں آدمی بغیر اذن کے بھی جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ بھی فیھا متاع لکم کی قید لگی ہوئی ہے۔ یعنی کوئی منفعت اور ضرورت اس کے لئے داعی ہو متاع لکم کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ مکانات ہوں ہی عام ضرورت کے مثلاً دکانیں، سرائیں، ہوٹل وغیرہ، مردانہ نشست گاہیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں۔ واللہ یعلم ماتبدون وما…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29-1اس سے مراد کون سے گھر ہیں، جن میں بغیر اجازت لئے داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ گھر ہیں، جو بطور خاص مہمانوں کے لئے الگ تیار یا مخصوص کردیئے گئے ہوں۔ ان میں صاحب خانہ کی پہلی مرتبہ اجازت کافی ہے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سرائے ہیں جو مسافروں کے لئے ہی ہوتی ہیں یا تجارتی گھر ہیں، یعنی جن میں تمہارا فائدہ ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–30

17: اس سے مراد وہ عوامی مقامات ہیں جو کسی ایک شخص یا اشخاص کی ملکیت نہیں ہوتے، بلکہ عوام کو ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے، مثلاً عوامی مسافر خانے، ہوٹل کے بیرونی حصے، ہسپتال، ڈاک خانے، پارک، مدرسے، وغیرہ۔ اجازت طلب کرنے کے مفصل احکام کے لیے ان آیات کے تحت معارف القرآن کی طرف رجوع کیا جائے جس میں یہ اہم احکام بڑے شرح و بسط کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–29

درس نمبر 153 ایک نظر میں جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے میں صرف سخت سزائوں پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسلام سب سے پہلے جرائم کے لیے انسدادی اور امتناعی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ نیز اسلام انسان کی فطری خواہشات کو نہ دباتا ہے اور نہ ان کی بیح کئی کرتا ہے بلکہ وہ انسان کی فطری خواہشات کے لیے بھی ایک نہایت ہی پاکیزہ اور نارمل ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کوئی جعلی اکساہٹ نہ ہو۔ اس سلسلے میں اسلام کے نظام تربیت کا بنیادی اصول سدباب کا ذریعہ ہے۔ اسلام بدراہ ہونے کے دروازے ہی بند کردیتا ہے اور ان اسباب کو ختم کرتا ہے جو انسان کو بدراہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں یا فتنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جن مکانوں میں کوئی خاص آدمی نہیں رہتا، نہ کوئی روک ٹوک ہے مثلاً مسجد، مدرسہ، خانقاہ، سرائے وغیرہ۔ اگر وہاں تمہاری کوئی چیز ہے یا تم کو چندے اس کے برتنے کی ضرورت ہے تو بیشک وہاں جاسکتے ہو اور اس کے لیے استیذان کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے مسائل کی تفصیل فقہ میں دیکھی جائے۔ 7 اس نے تمہارے تمام کھلے چھپے حالات کی رعایت سے یہ احکام مشروع کیے ہیں جن سے مقصود فتنہ و فساد کے مداخل کو بند کرنا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ اپنے دل میں اسی غرض کو پیش نظر رکھ کر عمل کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 29–30

آیت 29 لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ط ” اس سے مراد دکانیں ‘ سٹور اور گودام وغیرہ ہیں۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ” قانون کی اصل روح کو سمجھنا اور اس کے مطابق اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ دراصل گھر میں بلا اجازت داخل ہونے سے منع کرنے کا مقصد گھر میں سکونت پذیر خاندان کی privacy کے تقدس کو یقینی بنانا ہے۔ لہٰذا کسی دکان یا گودام پر اس قانون کے اطلاق کا کوئی جواز نہیں ہے کہ آدمی دکان کے دروازے پر اس لیے کھڑا رہے کہ جب تک مالک مجھے اجازت نہیں دے گا میں اندر نہیں جاؤں گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 یعنی ایسے گھر جس میں کوئی خاص آدمی نہ رہتے ہوں۔ جبکہ وہ ہر خاص و عام کے لئے کھلے ہوں۔ جیسے نمازوں کی ادائیگی کے لئے مساجد، کھانے پینے اور ہائش کے لئے ہوٹل اور سرائیں وغیرہ۔ ایسے مقامات میں داخل ہونے کے لئے کسی بھی اذن لینے کی ضرورت نہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب ایسے گھر بھی ہوسکتے ہیں جو بےآباد، ویران اور گھرے پڑے ہوں۔ ان کے مالک انھیں چھوڑ کر چلے گئے ہوں یا نہ معلوم ہوں۔ اور وہاں مثلاً گھاس وغیرہ اگ آئی ہو۔ اور کوئی شخص وہاں سے گھاس کاٹ لے۔ یا ایسا ہی دوسرا فائدہ وہاں سے ہر شخص اٹھا سکتا ہے۔ 38 یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لامحدود علم کی بنا پر اور تمام امور کی رعایت محفوظ رکھ کر یہ احکام دیئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50۔ یہ حکم ان مکانات کا ہے جس میں کسی شخص خاص کا سکونت نہ رکھنا متیقن ہو۔ اور دلالۃ وہاں جانے کی عام اجازت ہو۔ مثلا دکان، مدرسہ، حمام، کارخانہ، خانقاہ وغیرہ، ایسی عمارتوں میں جانے کے لیے اجازت خاص کی ضرورت نہیں، لیکن جن کو اجازت نہ ہو ان کو ایسی عمارتوں میں بھی جانا جائز نہ ہوگا۔ (آیت) ” متاع لکم “۔ متاع سے مراد کاروبار اور نفع کا سامان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–34

آیت نمبر 27 تا 34 ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو اور اہل خانہ کو سلام نہ کرلو پس ہر اجازت لینے والے کو چاہیے کہ کہے السلام علیکم أادخُلُ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ہے بغیر اجازت داخل ہونے سے تاکہ تم خیال رکھو اجازت کے خیر ہونے کا پھر تم اس پر عمل کرو تائے ثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے سو اگر تم گھروں میں کسی کو نہ پاؤ کہ تم کو اجازت دے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے اور اگر اجازت طلب کرنے کے بعد تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیس علیکم جناح ان تدخلوا بیوتا غیر مسکونۃ فیہا متاع لکم (اجازت طلب نہ کرنے اور سلام نہ کرنے میں) تم پر کوئی گناہ (اس وقت تک) نہیں کہ تم غیر مسکونہ مکانوں میں داخل ہو جہاں تمہارا سامان (یعنی نفع کی چیز) ہو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جن بیوت میں بلا اجازت داخلے کا حکم آیت مذکور میں دیا گیا ہے ان سے مراد کون سے مکان ہیں علماء کے اقوال اس میں مختلف آئے ہیں ‘ قتادہ نے کہا ان سے مراد وہ دکانیں ‘ کوٹھریاں اور مکان ہیں جو قافلوں کے لئے بنا دیئے جاتے تھے ‘ قافلے آتے جاتے وہاں ٹھہرتے تھے اور اپنا سامان رکھتے تھے۔ ان مکانوں میں بغیر اجازت طلبی کے داخلے کو جائز کردیا گیا ‘ اس صورت میں متاع (بمعنی منفعت) یہ ہوگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(29) اب اللہ تعالیٰ اس قسم کے گھروں میں جن میں گھر کے طور پر کوئی نہیں رہتا ہے جیسا کہ مسافر خانہ اور راستوں پر سرائے وغیرہ جانے کی اجازت مرحمت فرماتا ہے، چناچہ فرماتا ہے کہ تمہیں اس قسم کے مکانات میں خاص اجازت کے بغیر چلے جانے میں کوئی گناہ نہ ہوگا جن میں گھر کے طور پر کوئی نہ رہتا ہو، جیسا کہ مسافر خانہ اور اس میں تمہارے لیے گرمی اور سردی سے بچاؤ کا سامان بھی ہو اور تمہارا اجازت لینا اور سلام کرنا ایسے ہی سلام و اجازت کا جواب دینا ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ لیس علیکم جناح ان تدخلوا“۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم ؒ نے مقاتل بن حیان ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب گھروں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِيْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۭ۔۔ : یعنی ایسے مکان جو کسی کے رہنے کی جگہیں نہ ہوں اور ان سے تمہارا کوئی فائدہ یا کوئی ضرورت وابستہ ہو اور وہ ہر خاص و عام کے لیے کھلے ہوں تو ان کے اندر بلا اجازت داخل ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، جیسے اسٹیشن، بسوں کے اڈے، مساجد، کھانے پینے اور رہائش کے ہوٹل، مسافر خانے، دکانیں اور وہ مہمان خانے جن میں جانے کی ایک دفعہ اجازت مل چکی ہو۔ اسی طرح وہ مکانات جو بےآباد، ویران اور اجڑے پڑے ہوں ان کے اندر آرام کرلینا، سایہ حاصل کرنا اور رات گزارنا وغیرہ جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن مکانوں میں آدمی کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 29 اس میں دو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ روایت ہے کہ جب آیت استیذان نازل ہوئی تو بعض لوگ اس میں زیادہ تکلف کرنے لگے وہ کسی کھنڈر یا کسی خالی مقام پر آتے تو سلام کرتے اور اجازت طلب کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایسے گھر میں اجازت طلب کرنا اٹھا دیا جہاں کوئی رہنے والا نہ ہو کیونکہ استیذان کی علت یہ ہے کہ حرمات نہ کھلیں تو جہاں کوئی رہنے والا ہی نہیں تو علت ہی نہ پائی گئی اور حکم بھی زائل ہوگیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ان گھروں یس مراد کیا ہے ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت محمد بن حنفیہ، قتادہ اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد ہوٹل ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : ان میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–29

بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کی ممانعت 1۔ الفریابی وابن جریر من طریق عدی بن ثابت انصار کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا میں اپنے گھر میں بعض مرتبہ ایسے حال میں ہوتی ہوں کہ میں پسند نہیں کرتی کہ کوئی میرے پاس آئے نہ بیٹا اور نہ باپ میرے پاس ایک آنے والا آتا ہے اور میرے پاس اندر داخل ہوجاتا ہے اب میں کیا کروں ْ اور ابن جریر کا لفظ یوں ہے کہ میرے اہل میں کوئی مرد برابر میرے پاس آندر داخل ہوتا رہتا ہے اور میں اس حال میں ہوتی ہوں کہ میں کسی کا اندر آنا پسند نہیں کرتی ہوں تو یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنو لاتدخلو ا بیوتا غیر بیوتکم نازل ہوئی۔ 2۔ الفریابی و سعید بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] اَنْ [ کہ ] تَدْخُلُوْا [ تم لوگ داخل ہو ] بُيُوْتًا [ ایسے گھروں میں جو ] غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ [ بغیر سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں ] فِيْهَا [ ان میں ] مَتَاعٌ [ کچھ سامان ہے ] لَّكُمْ ۭ [ تمہارے لئے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُبْدُوْنَ [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تَكْتُمُوْنَ [ تم لوگ چھپاتے ہو ] نوٹ۔ 1: اس سورة کے آغاز میں آیت ۔ 26 ۔ تک جو احکام دئیے گئے ہیں وہ اس لئے ہیں کہ معاشرے میں برائی رونما ہوجائے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے۔ اب وہ احکام دئیے جا رہے ہیں جن کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا۔ (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَکُمْ ) (اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہوجاؤ جن میں کوئی رہتا نہ ہو اس میں تمہارے استعمال کرنے کی کوئی چیز ہو) (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو) اس آیت میں ان گھروں میں اجازت طلب کیے بغیر اندر جانے کی اجازت دیدی جن میں عموما سب کو آنے جانے کی اجازت ہوتی ہے اور جو کسی خاص فرد یا خاندان کی رہائش کے لیے مخصوص نہیں ہوتے جیسے رباطین اور مسافر خانے اور مدرسے خانقاہیں ہسپتال ان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–29

حکم پنجم استیذان قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں زنا کی تہمت کے احکام بیان کئے اب اس آیت میں کسی کے گھر میں بغیر اطلاع اور بغیر اجازت داخل ہونے کی ممانعت فرماتے ہیں تاکہ زنا اور بدگمانی اور تہمت کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ اے ایمان والو اپنے خاص رہائشی مکان کے سوا دوسرے گھروں میں جس میں دوسرے لوگ بھی رہتے ہوں داخل نہ ہو۔ یہاں تک کہ ان سے اجازت طلب کرو اور اجازت لینے سے پہلے ان گھروں کے رہنے والوں پر سلام کرو یعنی داخل ہونے سے پہلے یہ کہو۔ السلام علیکم ادخل۔ سلام ہو تم پر۔ کیا میں آسکتا ہوں۔ یہ اجازت لے کر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

28:۔ ” لیس علیکم الخ “ یہاں ان گھروں اور مکانوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں بلا اجازت داخل ہونا جائز ہے وہ یہ جگہیں ہیں جن میں کسی کے اہل و عیال سکونت پذیر نہ ہوں بلکہ وہ عوامی منافع اور کاروبار کے لیے مختص ہوں مثلاً ہوٹل دکانیں اور سرائیں وگیرہ قال محمد بن الحنفیۃ وقتادۃ و مجاھدھی الغنادق التی فی طرق السابلۃ قال مجاھد لا یسکنھا احد بلھی موقوفۃ لیاوی الیھا کل ابن السبیل (قرطبی ج 12 ص 221) ۔ ھی الخافات و المنازل المبنیۃ للسابلۃ۔ وقیل بیوت التجار وحوانیتھم (خازن ج 5 ص 68) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–29

ربط آیات : سورۃ ہذا کے ابتدائی حصہ میں اللہ تعالیٰ نے برائی ، بدکاری اور فحاشی کے انسداد کے لئے حدود کا ذکر فرمایا۔ زنا اور قذف کی حدود بیان کیں اور لعان کا مسئلہ سمجھایا پھر اللہ نے واقعہ افک کا ذکر کیا جس میں منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام لگایا تھا۔ اللہ نے آپ کی بریت کو واضح فرمایا اور اس ضمن میں بہت سی دیگر باتیں بھی سمجھائیں۔ منافقین کی مذمت اور مومنین کو تنبیہ فرمائی۔ ساتھ ساتھ ام المومنین ؓ کی فضیلت کا ذکر بھی ہوا۔ قانون انسداد بےحیائی کا یہ پہلا حصہ تھا۔ آب آمدہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قانون کا دوسرا حصہ بیان فرمایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرے سے عریانی ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَۃٍ فِيْہَا مَتَاعٌ لَّكُمْ۝ 0ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْتُمُوْنَ۝ 29 جناح وسمي الإثم المائل بالإنسان عن الحق جناحا ثم سمّي كلّ إثم جُنَاحاً ، نحو قوله تعالی: لا جُناحَ عَلَيْكُمْ «1» في غير موضع، وجوانح الصدر : الأضلاع المتصلة رؤوسها في وسط الزور، الواحدة : جَانِحَة، وذلک لما فيها من المیل اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کردے اسے جناح کہا جاتا ہے ۔ پھر عام گناہ کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں متعدد مواضع پر آیا ہے لا جُناحَ عَلَيْكُمْ پسلیاں جن کے سرے سینے کے وسط میں باہم متصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–29

ترکیب : غیر بیوتکم استثنا ہے بیوتا سے تستانسوا تستاذنوامن الاستیناس بمعنی الاستعلام۔ آنس الشیء ابصرہ و علمہ واحسن بہ (قاموس) کیونکہ مستاذن اس بات کا علم چاہتا ہے کہ اس کو اجازت ملتی ہے کہ نہیں۔ اومن الاستیناس الذی ھو خلاف الاستیحاش۔ فانہ مستوحش ان لایؤذن لہ فاذا اذن استانس۔ بیضاوی تفسیر…بغیر اطلاع کسی کے گھر میں جانے کی ممانعت : جبکہ خدا تعالیٰ نے زنا کو بند کیا اور تہمت اور بدگمانی کی بھی سخت ممانعت فرمائی تو جو چیزیں بدگمانی اور زنا کے اسباب ہیں ان کو بھی روکتا ہے منجملہ ان اسباب کے کسی کے گھر میں بغیر اذان و اطلاع کے چلا جانا بھی ہے کیونکہ نہ معلوم گھر میں عورت ننگی ہو یا سوتی ہو پھر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَمَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّـکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ۔ (النور : 29) (تم پر کوئی حرج نہیں ہے ان غیررہائشی مکانوں میں داخل ہونے میں جن میں تمہارا سامان رکھا ہے (یا کوئی منفعت ہے) اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ ) غَیْرَمَسْکُوْنَۃٍ کا مفہوم سابقہ آیات میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مکانوں میں داخلے سے پہلے استیذان کی پابندی اس لیے لگائی گئی تھی تاکہ بدنگاہی سے پیدا ہونے والے فتنوں کو روکا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسے فتنوں کا امکان صرف ایسے گھروں میں ہوسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : آداب معاشرت کے اصولوں کا بیان جا رہی ہے۔ جن گھروں میں کسی کی سکونت نہ ہو اور ان میں کسی آدمی کا سامان پڑا ہو تو اس گھر میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جو انسان چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اس آیت کے آخری الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بلاوجہ غیر آباد گھروں میں بھی داخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک طرف یہ غیر سنجیدہ حرکت ہے تو دوسری طرف اردگرد پڑوسی اس طرح داخل ہونے والے کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اس لیے تنبیہ کے الفاظ میں ارشاد ہوا کہ لوگو ! جو تم سر عام کرتے ہو یا چھپا کر اللہ تعالیٰ اس سے اچھی طرح واقف ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غیر رہائشی مکانات کا حکم : 29: لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا (تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم داخل ہو) تمہارے داخل ہونے میں بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ (ایسے گھروں میں جہاں کسی کی سکونت نہ ہو) اجازت داخلہ سے ان گھروں کو مستثنیٰ کردیا گیا جن میں رہائش نہ ہو مثلاً ہوٹل، سرائیں، منڈیاں۔ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ (ان میں تمہارے لئے سامان نفع ہو) ۔ اس میں فائدہ ہو مثلاً گرمی، سردی سے بچنے کا سامان، کجاوے اور ہتھیاروں اور ان کی خریدو فروخت کے مقامات۔ ایک قول ویران جنگل جو قضائے حاجت کیلئے استعمال ہوتے ہیں المتاعؔ سے مراد بول وبراز کیلئے جانا۔ یہ قول عطاء ہے۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29۔ لیس علیکم جناح ، ،، ، بغیر اجازت کے داخل ہونے کا حکم جن گھروں میں دیا گیا ہے وہ اس آیت میں مذکور ہیں، فیھا متاع لکم جس میں تمہارے نفع کی چیز ہے۔ غیرمسکونۃ سے کون سے گھرمراد ہیں۔ ان گھروں سے کون سے گھر مراد ہیں۔ اس بارے میں آئمہ کے مختلف اقوال ہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ ان سے مراد وہ دکانیں کوٹھریاں اور مکانات ہیں جو قافلے والوں کے لیے بنادیے جاتے تھے۔ قافلے آتے جاتے وقت وہاں ٹھہرتے تھے اور اپناسامان رکھتے تھے ان مکانوں میں بغیر اجازت طلبی کے داخلے کو جائز کردیا گیا۔ اس صورت میں متاع یہ ہوگی کہ وہاں لوگ اترتے ہیں اور سامان رکھتے ہیں اور سردی گرمی سے بچتے ہیں۔ ابن زید نے کہا کہ ان سے مراد وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–29

27۔ 29:۔ تفسیر مقاتل بن حیان ‘ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی چند روایتوں سے بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کے زنانہ میں بغیر اذن اور بغیر کھنکارنے کے چلے جاتے تھے اور بیخبر ان کے آجانے سے ننگی کھلی عورتوں کا اور ان کا آمنا سامنا ہوجاتا تھا ‘ بعض دیندار عورتوں نے آنحضرت ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–29

آیت نمبر (27 اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں ‘ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں : (i) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ “ اجازت طلبی میں خلل واقع ہوجانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔ (2) اجازت طلب کئے بغیر گھر میں داخل ہونا ‘ داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

کن مکانات میں بالا اجازت جانا جائز ہے قول باری ہے : (لیس علیکم جناح ان تدخلوا بیوتا غیر مسکونۃ فیھا متاع لکم ) البتہ تمہارے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہوجائو جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہو اور جن میں تمہارے فائدے (یا کام) کی کوئی چیز ہو۔ محمد بن الخفیہ کا قول ہے کہ ان سے راستوں پر بنے ہوئے سرائے اور مسافر خانوں نیز بازاروں کے مکانات مراد ہیں۔ ضحاک سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ حسن اور ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ لوگ بازاروں کے مکانات میں آتے اور داخل ہونے کی اجازت نہ لیتے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان سے وہ مکانات مراد ہیں جن میں لوگ اپنے سامان وغیرہ رکھتے تھے۔ ان مکانات میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

47 بیوت غیر مسکونہ سے مراد ؟ : یعنی ایسے مکانات جو رہائشی مقاصد کیلئے نہ بنائے گئے ہوں اور ان میں کسی کے بال بچے نہ رہتے ہوں کہ وہ ہوتے ہی سب کے لئے ہیں۔ جیسے ہوٹل، مسجد اور دکان وغیرہ کہ ایسی جگہوں میں داخلے کیلئے اذن عام ہوتا ہے۔ اس لیے ان میں داخلے کیلئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان میں آدمی بغیر اذن کے بھی جاسکتا ہے ۔ { فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ } ۔ کی قید سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ ایسے مکانات ہوں جن میں دوسروں کی طرح تمہاری بھی منفعت کا سامان ہو۔ جیسے دکانیں، سرائے اور ہوٹل وغیرہ۔ سو ایسے عمومی اور غیر رہائشی مکانوں میں داخلے کی لیے استئذان کی ضرورت نہیں۔ ان میں آدمی بغیر اذن کے بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–29

کسی کے گھر میں داخل ہونے کے آداب تشریح : جیسا کہ آداب معاشرت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اسلام ہر چھوٹی بڑی بات کو سامنے رکھ کر اخلاقیات کا ایک اور نکتہ بیان کرتا ہے وہ یہ کہ کسی دوسرے کے گھر میں بلا اجازت اچانک نہ گھس جاؤ بلکہ گھر والوں سے اجازت طلب کرو۔ اگر ایک دفعہ جواب نہ ملے تو دوسری دفعہ پھر جواب نہ آئے تو تیسری دفعہ جواب نہ آئے تو لوٹ جاؤ۔ اسی طرح باقی تمام احکامات اس سلسلے میں مندرجہ ذیل آیات میں بیان کیے گئے ہیں ان پر عمل کرنا فرض ہے۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں ان تمام احکامات میں کوئی مشکل بات نظر نہیں آتی بلکہ سب کے سب انسان کے سکون راحت اور خیر خواہی کے موجب ہیں۔ کیونکہ ان میں انسان کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–34

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یعنی جس سے تمہاری کوئی ضرورت یا فائدہ وابستہ نہ ہو اور وہ کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہو اور اس کے اندر جانے کی عام اجازت ہو، جیسے ہوٹل، سرائے، دکان، کارخانہ اور مہمان خانہ جس میں ایک مرتبہ داخل ہونے کی اجازت مل چکی ہو۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 29–30

(24:29) جناح۔ گناہ جرم۔ الجناح پرندہ کا بازو۔ قرآن مجید میں ہے ولا طائرا یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں بازوئوں پر اڑتا ہے پھر کسی چیز کے دونوں جانب کو بھی جناحینکہتے ہیں۔ مثلاً جناحا السفینۃ (سفینہ کے دونوں جانب یا جناحا الانسانانسان کے دونوں پہلو۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے واضمم یدک الی جناحک (20:22) اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے لگالو۔ پھر جنح بمعنی مائل ہونا۔ ایک جانب کو مائل ہونا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے جنحت السفینۃ۔ کشتی ایک جانب کو مائل ہوگئی۔ اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے دوسری طرف مائل کر دے اسے جناح کہا جاتا ہے پھر عام گناہ کے معنی میں استعمال ہونے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–29

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 29 : لاتدخلوا (تم داخل نہ ہو) بیوت (بیت) گھر ‘ حتی تستأ نسوا (جب تک تم اجازت نہ لے لو) ‘ حتی یئو ذن ( جب تک اجازت نہ دی گئی ہو) ‘ ارجعوا (تم لوٹ جائو۔ پلٹ جائو) ‘ ازکی (ستھرائی پاکیزگی) ‘ غیر مسکونۃ ( جہاں کوئی رہتا نہ ہو۔ جیسے ہوٹل وغیرہ) متاع (سامان) ‘ تشریح : آیت نمبر 27 تا 29 : شریعت نے ناجائز جنسی تعلق (زنا) اور اس کی سزا ‘ لعان اور حد قذف کے احکامات بیان کرنے کے بعد چند ایسے بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں جن سے معاشرہ میں فتنہ و فساد ‘ بےحیائی ‘ بےپردگی پھیلنے کے امکانات ختم کئے جاسکتے ہیں کیونکہ دین اسلام نے جہاں بد ترین گناہوں کی سخت ترین سزائیں متعین کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) شان نزول : یہ آیت ان اصحاب کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے اذن کی آیت نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ سے دریافت کیا تھا کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ اور شام کے ملک کی طرف تجارت کی غرض سے جاتے ہیں اور راستہ میں مسافر خانوں کے طور پر اکثر ایسے مکان ہیں جن میں کوئی نہیں رہتا ان میں بلا اجازت کے جاکراترجانا، یا کچھ سامان ان میں رکھ دینا جائز ہے یا نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تم پر کچھ گناہ نہیں اگر بغیر اجازت کسی ایسے گھر میں جاؤ کہ جہاں کوئی نہ بستا ہو اور ان کے برتنے کا تمہیں اختیار ہے ، اور اللہ تعالیٰ تمہاری چھپی اور ظاہری باتوں کو خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[24] یعنی جن مکانوں میں کوئی خاص آدمی نہیں رہتا نہ کوئی روک ٹوک ہے، مثلاً مدرسہ، ہوٹل، سرائے وغیرہ۔ ایسی عمارتوں میں جانے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–30

پہلے اجازت طلب کرو : (ف 1) اسلام کی نگاہیں انسانی عادات وخصائل اور انسانی نفسیات و حالات سے متعلق بہت عمیق ہیں ، وہ یہ جانتا ہے کہ گناہ کا منبع کہاں ہے اور کن باتوں سے گناہ کی ترغیب ہوتی ہے ، اس لئے وہ سب سے پہلے اس گناہ کے سوتے کو بند کرتا ہے جہاں سے وہ پھوٹتا ہے ، اور اس کے بعد حفاظتی تدابیر کی تلقین کرتا ہے ۔ چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوگا ، کہ سب سے بڑی تحریک خلوت اور آزادی سے مرد اور عورت کا ملنا ہے اس لئے اسلام نے خلوت پر پابندیاں عائد کیں ، اور فرمایا دیکھو جب کسی عزیز یا دوست کے ہاں جاؤ ، جہاں کی عورتیں تم سے پردہ کرتی ہیں ، تو دھم سے ان کے ہاں نہ پہنچ جاؤ بلکہ پہلے اجازت طلب کرو تب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) تم لوگوں پر ایسے غیر مسکونہ مکانات میں بلااجازت داخل ہونے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جن میں گھر کی طرح کوئی نہ رہتا ہو اور ان میں تمہاری کوئی چیز ہو اور تمہارا کوئی نفع ان سے وابستہ ہو اور جو کچھ تم علانیہ کرتے ہو اور جو تم چھپا کر کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے یعنی ایسے مکانات جو مفادعامہ سے متعلق ہیں کہ ان میں جانے آنے کی عام اجازت ہوتی ہے مثلاً مسجد، خانقاہ، مسافر خانہ وغیرہ کہ ان مقامات پر عام لوگ آتے ہیں اور ٹھہرتے ہیں کبھی سامان بھی رکھ دیتے ہیں تم بھی ان سے نفع اٹھانا چاہو رہنا چاہو قیام کرنا چاہو سامان رکھنا چاہو تو چونکہ ایسے مکانات میں دلالۃً عام اجازت ہوتی ہے تو تم بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

ف 2۔ یہ مسئلہ استیذان کا مردانہ اور زنانہ سب گھروں کے لئے ہے، اور استیذان واجب ہے، اور تقدیم سلام سنت ہے، اور ہرچند کہ یہاں خطاب مردوں کو ہے مگر عورتوں کا حکم بھی یہی ہے مردانہ میں بھی اور زنا میں بھی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غیر مسکونہ گھروں میں داخل ہونے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے : 40۔ ہ۔ غیر مسکونہ گھروں میں داخل ہونے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہاں ! اتنا خیال رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بظاہر لوگوں کے سامنے تو غیر آباد مکان میں داخل ہوجاؤ اور وہاں کسی دوسرے مکان مسکونہ میں کود جاؤ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ پر تمہاری فریب کاری اور مکارہی نہیں چل سکتی اور وہ ہرچیز کو جانتا ہے اور ظاہر و باطن اس کے لئے یکساں ہے ، غیر مسکونہ گھر کن کو کہا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ مسافر خانے ‘ دکانیں ‘ سرائے مہمان خانے ‘ ہوٹل اور اس طرح عبادت خانے اس ضمن میں آتے ہیں کہ ان جگہوں پر جانے کے لئے اجازت طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَّيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ‌ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ There is no sin on you if you enter uninhabited houses in which you have rightful benefit - 24:29. Literal meaning of the word متاع Mata` is to use, put to use, and to benefit from something. Anything from which some benefit is drawn is also called Mata`. In this verse Mata` is used in its literal meaning and is translated as 'rightful benefit'. It is reported by Sayyidna Abu Bakr ؓ that when verses regarding isti'dhan (seeking permission) were revealed, he inquired from the Holy Prophet ﷺ "Ya Rasul…

Read the full tafseer →