Explained with ayahs 26–29
بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی بری بات برے لوگوں کے لئے ہے۔ بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی اہل نفاق نے صدیقہ پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لئے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ صدیقہ ؓ چونکہ پاک ہیں اس لئے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔ یہ آیت بھی حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لئے ہوتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ ان تمام…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 26
یعنی کسی کے خالی گھر میں داخل ہوجانا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ صاحب خانہ نے آدمی کو خود اس بات کی اجازت دی ہو۔ مثلاً اس نے آپ سے کہہ دیا ہو کہ اگر میں موجود نہ ہوں تو آپ میرے کمرے میں بیٹھ جائیے گا، یا وہ کسی اور جگہ پر ہو اور آپ کی اطلاع ملنے پر وہ کہلا بھیجے کہ آپ تشریف رکھیے، میں ابھی آتا ہوں۔ ورنہ محض یہ بات کہ مکان میں کوئی نہیں ہے، یا اندر سے کوئی نہیں بولتا، کسی کے لیے یہ جائز نہیں کردیتی کہ وہ بلا اجازت داخل ہوجائے۔
سورة النُّوْر 27
یعنی اس پر برا نہ ماننا چاہیے۔ ایک آدمی کو حق ہے کہ وہ کسی سے نہ ملنا چاہے تو انکار کر دے، یا کوئی مشغولیت ملاقات میں مانع ہو تو معذرت کر…
Read the full tafseer →مسئلہ۔ اگر کسی شخص نے کسی شخص سے استیذان کیا اور اس نے جواب میں کہہ دیا کہ اس وقت ملاقات نہیں ہو سکتی لوٹ جایئے تو اس سے برا نہ ماننا چاہئے کیونکہ ہر شخص کے حالات اور اس کے مقتضیات مختلف ہوتے ہیں بعض وقت وہ مجبور ہوتا ہے باہر نہیں آسکتا نہ آپ کو اندر بلا سکتا ہے تو ایسی حالت میں اس کے عذر کو قبول کرنا چاہئے۔ آیت مذکورہ میں یہی ہدایت ہے وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ یعنی جب آپ سے کہا جائے کہ اس وقت لوٹ جائیں تو آپ کو خوشدلی سے لوٹ آنا چاہئے اس سے برا ماننا یا وہیں جم کر بیٹھ جانا دونوں چیزیں درست نہیں بعض حضرات سلف سے منقول ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ میں عمر بھر…
Read the full tafseer →یعنی اگر طلب اجازت کے بعد معلوم ہوجائے کہ گھر میں اس وقت اجازت دینے والا کوئی نہیں ہی تو جب تک اجازت نہ ملے گھر کے اندر داخل نہ ہو اور اگر واپس ہوجانے کے لئے کہا جائے تو واپس ہو جائو۔
ھو ازکی لکم یعنی ہرچند ہے تو یہ دل پر شاق گزرنے والی بات لیکن اخلاقی پہلو سے یہی طریقہ پاکیزہ ہے۔ معلوم نہیں کیا حالات ہیں جس کی بنا پر گھر والوں نے اجازت نہیں دی۔ اس طرح کے معاملات میں اپنے واقر سے زیادہ صاحب خانہ کے مصالح ہی کے لحاظ میں حکمت اور شیطان کے فنتوں سے امان ہے۔
خدا کی صفت علم کی بار بار یاد دہانی کی حکمت
واللہ بما تعملون علیکم یہ مضمون یہاں معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ بار بار آیا ہے۔ آگے فرمایا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27-1گزشتہ آیات میں زنا اور قذف اور ان کی حدوں کا بیان گزرا، اب اللہ تعالیٰ گھروں میں داخل ہونے کے آداب بیان فرما رہا ہے تاکہ مرد و عورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور زنا یا قذف کا سبب بنتا ہے۔ اَسْتِیْنَاس کے معنی ہیں، معلوم کرنا، یعنی جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اندر کون ہے اور اس نے تمہیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، اس وقت تک داخل نہ ہو۔ آیت میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کا ذکر پہلے اور سلام کرنے کا ذکر بعد میں ہے۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ پہلے سلام کرتے اور پھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے اسی طرح آپ ﷺ کا معمول بھی تھا کہ تین مرتبہ آپ ﷺ اجازت طلب فرماتے اگر کوئی…
Read the full tafseer →16: یعنی اگر کوئی گھر کسی اور کا ہے اور بظاہر خالی معلوم ہو رہا ہے، تب بھی اس میں بلا اجازت داخل ہونا جائز نہیں ہے، اول تو ممکن ہے کہ وہ اندر موجود ہو اور نظر نہ آ رہا ہو، اور اگر موجود نہ بھی ہو تو کسی اور کے گھر میں اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
درس نمبر 153 ایک نظر میں
جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے میں صرف سخت سزائوں پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسلام سب سے پہلے جرائم کے لیے انسدادی اور امتناعی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ نیز اسلام انسان کی فطری خواہشات کو نہ دباتا ہے اور نہ ان کی بیح کئی کرتا ہے بلکہ وہ انسان کی فطری خواہشات کے لیے بھی ایک نہایت ہی پاکیزہ اور نارمل ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کوئی جعلی اکساہٹ نہ ہو۔
اس سلسلے میں اسلام کے نظام تربیت کا بنیادی اصول سدباب کا ذریعہ ہے۔ اسلام بدراہ ہونے کے دروازے ہی بند کردیتا ہے اور ان اسباب کو ختم کرتا ہے جو انسان کو بدراہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں یا فتنے…
Read the full tafseer →3 اگر یہ معلوم ہوا ہو کہ گھر میں کوئی موجود نہیں تب بھی دوسرے کے گھر میں بدون مالک و مختار کی اجازت کے مت جاؤ۔ کیونکہ ملک غیر میں بدون اجازت تصرف کا کوئی حق نہیں۔ نہ معلوم بےاجازت چلے جانے سے کیا جھگڑا پیش آجائے ہاں صراحتًا یا دلالۃً اجازت ہو تو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
4 یعنی ایسا کہے سے برا نہ مانو۔ بسا اوقات آدمی کی طبیعت کسی سے ملنے کو نہیں چاہتی یا حرج ہوتا ہے یا کوئی ایسی بات کر رہا ہے جس پر غیر کو مطلع کرنا پسند نہیں کرتا تو تم کو کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ اس پر بوجھ ڈالو۔ اس طرح بار خاطر بننے سے تعلقات صاف نہیں رہتے۔
5 وہ تمہارے تمام اعمال قلبیہ و قالبیہ سے باخبر ہے جیسا کچھ کرو گے…
Read the full tafseer →آیت 28 فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْہَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْہَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ ج ”
گویا خالی گھر میں بھی اس کے مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ”
آپ کسی سے ملاقات کا وقت طے کیے بغیر اس کے گھر پہنچ گئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ کو وقت دینا اس کا فرض ہے ‘ حالانکہ ممکن ہے اس وقت وہ صاحب آرام کر رہے ہوں ‘ کسی دوسرے کام میں مصروف ہوں یا کسی مجبوری کے باعث آپ سے ملاقات کرنے سے معذور ہوں۔ چناچہ اگر اندر سے اطلاع دی جائے کہ صاحب خانہ کے لیے اس وقت آپ سے ملاقات کرنا ممکن نہیں اور یہ کہ آپ پھر کسی وقت تشریف لائیں تو ایسی صورت میں آپ بغیر…
Read the full tafseer →35 یعنی جب گھر والوں میں سے کوئی شخص بھی گھر میں موجود نہ ہو اس وقت ہرگز کسی دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس طرح ایک دوسرے کے متعلق کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ الزام تراشی سے بڑھ کر معاملہ تنازعہ شکل اختیار کرسکتا ہے اس سے استثناء کی صورت بہ صورت ہے کہ صاحب خانہ خود ہی کسی ملاقاتی کو اپنے کمرہ وغیرہ میں یہ کہہ کر بٹھلا جائے کہ تھوڑی دیر انتظار کرو۔ میں ابھی واپس آتا ہوں۔ اور اس طرح کی اجازت کی بھی کئی صورتیں ممکن ہیں۔
36 ایسی اجازت لینے کی حد تین بار ہے۔ ممکن ہے پہلی بار اور دوسری بار اجازت کی بات کو صاحب خانہ سن ہی نہ پائے۔ یا وہ اپنے کسی کام میں سخت مشغول…
Read the full tafseer →47۔ (کسی ایسے شخص کی طرف سے جو اجازت دینے کا اختیار رکھتا ہے)
48۔ (نہ یہ کہ اسے ناگوار محسوس کرکے وہاں لڑنا جھگڑنا شروع کردو)
49۔ (بس اگر خلاف حکم کروگے سزا کے مستحق ہوگے) ازکی سے مراد ہے کہ بلاتکدر واپسی میں صفائی و طہارت زائد ہے۔ (آیت) ” بماتعملون علیم “۔ مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اس نے بربنائے تکبر وتحقراجازت نہیں دی تو بھی ہم ہی جانتے ہیں۔ اور اگر واقعی کوئی عذر تھا تو اس سے بھی ہم واقف ہیں۔ (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہی واپس چلا آنا۔ اے الرجوع (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
آیت نمبر 27 تا 34
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت حاصل نہ کرلو اور اہل خانہ کو سلام نہ کرلو پس ہر اجازت لینے والے کو چاہیے کہ کہے السلام علیکم أادخُلُ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے یہی تمہارے لئے بہتر ہے بغیر اجازت داخل ہونے سے تاکہ تم خیال رکھو اجازت کے خیر ہونے کا پھر تم اس پر عمل کرو تائے ثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے سو اگر تم گھروں میں کسی کو نہ پاؤ کہ تم کو اجازت دے تو ان میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے اور اگر اجازت طلب کرنے کے بعد تم سے کہہ دیا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو…
Read the full tafseer →فان لم تجدوا فیہا احدا فلا تدخلوہا حتی یوذن لکم اگر تم مکانوں کے اندر کسی کو نہ پاؤ (کہ تم
کو اجازت دے) تو جب تک اجازت نہ ملے اندر نہ جاؤ۔ یعنی جب تک گھر والا آکر تم کو اجازت نہ دے دے اندر نہ جاؤ۔ بات یہ ہے کہ بغیر اجازت اندر داخل ہوجانے کی ممانعت کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ بغیر اجازت داخلے سے ننگار کھلا آدمی سامنے آجاتا ہے اور بےپردگی ہوجاتی ہے ‘ بلکہ ایک وجہ ممانعت کی یہ بھی ہے کہ اس سے بعض ان باتوں یا چیزوں کا اظہار ہوجاتا ہے جن کو آدمی لوگوں سے چھپانا چاہتا ہے پھر ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دوسرے کی چیز میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا یوں بھی ممنوع ہے ہاں اس مکان میں بدون اجازت داخلہ…
Read the full tafseer →(28) پھر اگر ان گروہوں میں تمہیں اجازت دینے والا معلوم نہ ہو تب بھی بغیر اجازت کے مت جاؤ جب تک کہ تمہیں گھر کے مالک کی طرف سے داخلہ کی اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہہ دیا جائے کہ اس وقت لوٹ جاؤ تو تم فورا لوٹ آیا کرو اور دو دروازوں پر جمے نہ رہا کرو، یہ فورا لوٹ آنا تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم وہیں دروازوں پر کھڑے رہو اور تم جو اجازت طلب کرتے ہو اور نہیں طلب کرتے، اللہ تعالیٰ کو اس کی سب خبر ہے۔
Read the full tafseer →فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا : یعنی اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اس سے تمہارے لیے بغیر اجازت وہاں داخلہ جائز نہیں ہوجاتا۔ ہر آدمی جس طرح اپنی ذاتی حالتوں میں سے بعض حالتوں پر کسی کا مطلع ہونا پسند نہیں کرتا اسی طرح وہ اپنی بعض چیزوں پر بھی کسی کے مطلع ہونے کو پسند نہیں کرتا اور عین ممکن ہے کہ بلا اجازت گھس جانے سے تم پر چوری یا خیانت کا الزام لگ جائے اور جھگڑا پیدا ہوجائے۔ ہاں، اگر اس نے اجازت دے رکھی ہو کہ میں گھر میں نہ ہوں تو تم آجاؤ تو وہاں جانے میں کوئی حرج نہیں۔
وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا : یعنی اگر تمہیں واپس جانے کے لیے کہا جائے تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 28
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان لم تجدو فھیا احدا۔ فیھا میں ضمیر کا مرجع دوسروں کے گھر ہیں۔ صبری نے مجادہ سے حکایت کیا ہے انہوں نے کہا : فان لم تجدو فیھا احدا کا معنی یہ ہے کہ تمہارا ان کے گھروں میں سامان نہ ہو۔ طبری نے اس تاویل کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اسی طرح یہ انتہائی ضعف میں ہے گوایا مجاہد کا خیال ہے کہ وہ گھر جن میں کوئی رہنے والا نہیں تو ان میں بغیر اجازت کے داخل ہو سکتا ہے۔ جب داخل ہونے والے اس میں سامان ہو۔ انہوں نے المتاع کے لفظ سے متاع البیت مراد لیا ہے۔ جو کالین اور کپڑے وغیرہ ہیں یہ سب ضعیف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ما قبل آیت سے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کی ممانعت
1۔ الفریابی وابن جریر من طریق عدی بن ثابت انصار کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا میں اپنے گھر میں بعض مرتبہ ایسے حال میں ہوتی ہوں کہ میں پسند نہیں کرتی کہ کوئی میرے پاس آئے نہ بیٹا اور نہ باپ میرے پاس ایک آنے والا آتا ہے اور میرے پاس اندر داخل ہوجاتا ہے اب میں کیا کروں ْ اور ابن جریر کا لفظ یوں ہے کہ میرے اہل میں کوئی مرد برابر میرے پاس آندر داخل ہوتا رہتا ہے اور میں اس حال میں ہوتی ہوں کہ میں کسی کا اندر آنا پسند نہیں کرتی ہوں تو یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنو لاتدخلو ا بیوتا غیر بیوتکم نازل ہوئی۔
2۔ الفریابی و سعید بن…
Read the full tafseer →فَاِنْ [ پھر اگر ] لَّمْ تَجِدُوْا [ تم لوگ نہ پاؤ] فِيْهَآ [ اس (گھر) میں ] اَحَدًا [ کسی ایک کو ] فَلَا تَدْخُلُوْهَا [ تو مت داخل ہو اس میں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يُؤْذَنَ [ اجازت دی جائے ] لَكُمْ ۚ [ تمہیں ] وَاِنْ [ اور اگر ] قِيْلَ [ کہا جائے ] لَكُمُ [ تم لوگوں سے ] ارْجِعُوْا [ کہ واپس جاؤ] فَارْجِعُوْا [ تو واپس ہو جاؤ] هُوَ [ یہ ] اَزْكٰى [ زیادہ پاکیزہ ہے ] لَكُمْ ۭ [ تمہارے لئے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بِمَا [ اس کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ] عَلِيْمٌ [ ہمیشہ جاننے والا ہے
Read the full tafseer →(فَاِِنْ لَمْ تَجِدُوْا فِیْہَا اَحَدًا فَلاَ تَدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ ) (سو اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے) خالی گھر دیکھ کر اندر نہ چلے جاؤ کیونکہ اولا تو یہ احتمال ہے کہ اس میں اندر کوئی آدمی موجود ہو لیکن تمہیں پتہ نہ چلا ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر مکان خالی ہی ہو تو تب بھی بلا اجازت اندر چلا جانا درست نہیں ہے کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں ایک طرح کا بلا اجازت تصرف کرنا ہوگا، جس گھر میں یہ احتمال ہے کہ کوئی شخص اندر نہیں ہے جب اس میں بلا اجازت اندر جانا ممنوع ہے تو جس مکان میں کسی مرد یا عورت کے موجود ہونے کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
حکم پنجم استیذان
قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں زنا کی تہمت کے احکام بیان کئے اب اس آیت میں کسی کے گھر میں بغیر اطلاع اور بغیر اجازت داخل ہونے کی ممانعت فرماتے ہیں تاکہ زنا اور بدگمانی اور تہمت کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ اے ایمان والو اپنے خاص رہائشی مکان کے سوا دوسرے گھروں میں جس میں دوسرے لوگ بھی رہتے ہوں داخل نہ ہو۔ یہاں تک کہ ان سے اجازت طلب کرو اور اجازت لینے سے پہلے ان گھروں کے رہنے والوں پر سلام کرو یعنی داخل ہونے سے پہلے یہ کہو۔ السلام علیکم ادخل۔ سلام ہو تم پر۔ کیا میں آسکتا ہوں۔ یہ اجازت لے کر…
Read the full tafseer →27:۔ ” فان لم تجدوا الخ “ لیکن اگر گھر میں کوئی بھی موجود نہ یا گھر میں صرف مستورات اور بچے ہی ہو تو جب تک صاحب خانہ آکر اجازت دے اس وقت تک گھر میں مت گھسو۔
” وان قیل لکم ارجعوا الخ “ ان سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملے تو واپس چلے آؤ۔ ” ھو ازکی لکم “۔ اجازت نہ ملنے کی صورت میں تمہارا واپس آجانا ہی بہتر ہے اس میں تمہارے دین کا بھی فائدہ ہے اور دنیا کا بھی۔ کیونکہ اس طرح تم لوگوں کے شکوک و شبہات سے بالا رہو گے اب دروازے پر چمٹ کر کھڑے رہنا مناسب نہیں۔ لما فیہ من سلامۃ الصدور والبعد عن الریبۃ (مدارک ج 3 ص 107)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ربط آیات :
سورۃ ہذا کے ابتدائی حصہ میں اللہ تعالیٰ نے برائی ، بدکاری اور فحاشی کے انسداد کے لئے حدود کا ذکر فرمایا۔ زنا اور قذف کی حدود بیان کیں اور لعان کا مسئلہ سمجھایا پھر اللہ نے واقعہ افک کا ذکر کیا جس میں منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام لگایا تھا۔ اللہ نے آپ کی بریت کو واضح فرمایا اور اس ضمن میں بہت سی دیگر باتیں بھی سمجھائیں۔ منافقین کی مذمت اور مومنین کو تنبیہ فرمائی۔ ساتھ ساتھ ام المومنین ؓ کی فضیلت کا ذکر بھی ہوا۔
قانون انسداد بےحیائی کا یہ پہلا حصہ تھا۔ آب آمدہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قانون کا دوسرا حصہ بیان فرمایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرے سے عریانی ،…
Read the full tafseer →فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْہَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْہَا حَتّٰى يُؤْذَنَ لَكُمْ 0ۚ وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ہُوَاَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 28
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه .
ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ترکیب : غیر بیوتکم استثنا ہے بیوتا سے تستانسوا تستاذنوامن الاستیناس بمعنی الاستعلام۔ آنس الشیء ابصرہ و علمہ واحسن بہ (قاموس) کیونکہ مستاذن اس بات کا علم چاہتا ہے کہ اس کو اجازت ملتی ہے کہ نہیں۔ اومن الاستیناس الذی ھو خلاف الاستیحاش۔ فانہ مستوحش ان لایؤذن لہ فاذا اذن استانس۔ بیضاوی
تفسیر…بغیر اطلاع کسی کے گھر میں جانے کی ممانعت : جبکہ خدا تعالیٰ نے زنا کو بند کیا اور تہمت اور بدگمانی کی بھی سخت ممانعت فرمائی تو جو چیزیں بدگمانی اور زنا کے اسباب ہیں ان کو بھی روکتا ہے منجملہ ان اسباب کے کسی کے گھر میں بغیر اذان و اطلاع کے چلا جانا بھی ہے کیونکہ نہ معلوم گھر میں عورت ننگی ہو یا سوتی ہو پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَبُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسْلِّمُوْا عَلٰٓی اَھْلِھَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ لَعَلَّـکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْھَآ اَحَدًا فَلاَ تَدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَـکُمْ ج وَاِنْ قِیْلَ لَـکُمُ ارجِعُوْا فَارْجِعُوْا ھُوَاَزْکٰی لَـکُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔ (النور : 27، 28)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک تعارف نہ پیدا کرلو، اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم اس کی حکمتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : تہمت اور ہر قسم کی برائی سے بچانے کے لیے مسلمانوں کو معاشرتی اصول بتلائے گئے ہیں۔
اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں ایک دوسرے کے گھر بلا اجازت جانا عیب تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن اسلام نے معاشرے کو بےحیائی اور بدگمانیوں سے پاک رکھنے کے لیے ایسے اصول جاری فرمائے کہ اگر مسلمان ان اصول کی پاسداری کریں تو مسلمان معاشرہ بیشمار برائیوں اور ہر قسم کی بےحیائی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس سے پہلے زبان، ہاتھ اور پاؤں کے حوالہ سے بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ گواہی دیں گے کہ انسان ان سے کیا کیا کام لیتا رہا۔ اب یہ حکم ہوا ہے کہ اے مسلمانوں اپنے گھروں میں بلا اجازت نہ جایا کرو اجازت…
Read the full tafseer →28: فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْھَآ (اگر تم ان میں نہ پائو) یعنی گھروں میں اَحَدًا (کسی کو) اجازت دینے والوں میں سے فَلاَ تدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ (تو ان میں داخل نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے) یہاں تک کہ تم اجازت دینے والے کو پالو۔ یا نمبر 2۔ اگر تم وہاں کسی کو نہ پائو اور تمہیں داخل ہونے کی ضرورت ہے تو اس میں داخل نہ ہو۔ جب تک گھر والوں کی طرف سے اجازت نہ مل جائے کیونکہ غیر کی ملک پر تصرف بلا اجازت درست نہیں ہے۔
وَاِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا (اور اگر تمہیں لوٹنے کو کہا جائے) یعنی جب وہاں کچھ لوگ موجود ہوں اور وہ کہیں کہ واپس لوٹ جائو تو تم واپس آجائو۔ اور اذن عام کیلئے…
Read the full tafseer →28۔ فان لم تجدوا فیھا احدا فلاتدخلوھا، اگر تم میں سے کوئی بھی گھر میں موجود نہ ہو تو اس میں داخل ہونے لیے اجازت طلب کرے۔ اگر اجازت نہ ملے تو اس میں داخل نہ ہو۔ حتی یوذن لکم وان قیل لکم ارجعوا فارجعوا، ، جب کوئی گھر میں موجود ہو تو اگر وہ کہیں کہ واپس لوٹ جاؤ تو واپس لوٹ جانا چاہیے، دروازے پر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ ھو ازکی لکم، وہیں سے واپس لوٹ جانا بہتر ہے اور تمہارے لیے فائدہ مند ہے۔
قتادہ کا قول ہے کہ اگر گھر میں داخلے کی اجازت نہ ملے تو گھر کے دروازے پر بیٹھ جانا نہیں چاہیے، کیونکہ گھرکے دروازوں پر عام طور پر حاجت مند لوگ بیٹھتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی میں موجود نہ ہو تو پھر اس کے انتظار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27۔ 29:۔ تفسیر مقاتل بن حیان ‘ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی چند روایتوں سے بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کے زنانہ میں بغیر اذن اور بغیر کھنکارنے کے چلے جاتے تھے اور بیخبر ان کے آجانے سے ننگی کھلی عورتوں کا اور ان کا آمنا سامنا ہوجاتا تھا ‘ بعض دیندار عورتوں نے آنحضرت ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیت نمبر (27
اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں ‘ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں :
(i) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ “ اجازت طلبی میں خلل واقع ہوجانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔
(2) اجازت طلب کئے بغیر گھر میں داخل ہونا ‘ داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا…
Read the full tafseer →قول باری ہے : (فان لم تجدوا فیھا احدا فلا تدخلوھا حتی یوذن لکم۔ اگر تم اس گھر میں کسی کو نہ پائو تو جب تک تمہیں اجازت نہ ملے اس وقت تک اس گھر میں داخل نہ ہو) یہ آیت دو معنوں کو متضمن ہے ایک تو یہ ہے کہ ہم غیروں کے ھگروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ جب ہمیں اجازت مل جائے تو ہمارا وہاں داخل ہونا جائز ہوگا۔ یہ آیت اس امر کی بھی مقتضی ہے کہ اجازت دینے والے کی اجازت کو قبول کرلینا جائز ہے خواہ وہ بچہ ہو یا عورت ہو یا غلام یا ذمی ہو کیونکہ آیت نے ان میں کوئی تفریق نہیں کی ہے۔ مذکورہ افراد سے معاملات کے متعلق خبر قبول کرلینے کے جواز کی یہی اصل ہے۔ نیز یہ کہ اس سلسلے میں صفت عدالت…
Read the full tafseer →45 اجازت نہ ملنے کی صورت میں واپسی کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم کو ان گھروں کے اندر کوئی نہ ملیجو تمہیں داخلے کی اجازت دے سکے کہ یا تو ان میں سرے سے کوئی موجود ہی نہ ہو یا اجازت دینے کے قابل نہ ہو۔ جیسے کوئی بچہ وغیرہ تو تم ان گھروں کے اندر داخل نہ ہوا کرو۔ یہاں تک کہ تم کو اجازت دی جائے۔ اور اگر کبھی کوئی کہے کہ واپس ہوجاؤ تو تم واپس ہوجایا کرو۔ اس کے بعد خواہ مخواہ دروازوں کے اوپر جم کے بیٹھ جانا اور اجازت کی انتظار کرنا یا دروازوں کے سوراخوں سے جھانک جھانک کر دیکھنا سب غلط اور تہذیب کے خلاف ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی کیسی باریکیاں اور نزاکتیں ہیں اسلام کی ان مقدس تعلیمات میں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
کسی کے گھر میں داخل ہونے کے آداب
تشریح : جیسا کہ آداب معاشرت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اسلام ہر چھوٹی بڑی بات کو سامنے رکھ کر اخلاقیات کا ایک اور نکتہ بیان کرتا ہے وہ یہ کہ کسی دوسرے کے گھر میں بلا اجازت اچانک نہ گھس جاؤ بلکہ گھر والوں سے اجازت طلب کرو۔ اگر ایک دفعہ جواب نہ ملے تو دوسری دفعہ پھر جواب نہ آئے تو تیسری دفعہ جواب نہ آئے تو لوٹ جاؤ۔ اسی طرح باقی تمام احکامات اس سلسلے میں مندرجہ ذیل آیات میں بیان کیے گئے ہیں ان پر عمل کرنا فرض ہے۔ جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں ان تمام احکامات میں کوئی مشکل بات نظر نہیں آتی بلکہ سب کے سب انسان کے سکون راحت اور خیر خواہی کے موجب ہیں۔ کیونکہ ان میں انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب معاشرے میں ایسے امکانات ہی کو روکنے کا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جن سے بےحیائی پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان دوسرے کے گھر جائے تو بغیر اطلاع اور اجازت کے اندر داخل نہ ہو سوائے اپنے گھر کے مگر اپنے گھر میں جہاں اس کی بیوی یا والدہ ہی رہتی ہو وہاں اجازت حاصل کرنا واجب نہیں مگر مستحب ہے کہ اپنے آنے کی اطلاع کرے خواہ کھانس کر یا اجازت حاصل کرکے اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے لیے تو اجازت حاصل کرنا واجب ہے ، اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آواز دے کر اجازت حاصل کرے اور اپنے نام بتائے یا اگر دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ گھر والے…
Read the full tafseer →4 ۔ ایک صحابی کہا کرتے کہ مجھے ساری عمر یہی آرزو رہی ہے کہ میں کسی کے گھر جائوں اور اندر سے مجھے یہ جواب ملے کہ واپس چلے جائو اور میں واپس چلا آئوں تاکہ مجھے اس آیت پر کم از کم ایک مرتبہ تو عمل کرنے کی سعادت نصیب ہوجائے۔ (ابن کثیر، ابن جریر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(24:27) تستانسوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر استیناس (استفعال) جس کے معنی انس پکڑنے کے ہیں۔ یعنی جب تک تم (اہل خانہ سے انس (نہ ) پیدا کرلو۔ تم ان سے اجازت نہ لے لو۔ تم ان سے اذن نہ لے لو۔
تسلموا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم سلام (نہ) کرلو۔ تسلیم (تفعیل) سے بمعنی سلام کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 29 :
لاتدخلوا (تم داخل نہ ہو) بیوت (بیت) گھر ‘ حتی تستأ نسوا (جب تک تم اجازت نہ لے لو) ‘ حتی یئو ذن ( جب تک اجازت نہ دی گئی ہو) ‘ ارجعوا (تم لوٹ جائو۔ پلٹ جائو) ‘ ازکی (ستھرائی پاکیزگی) ‘ غیر مسکونۃ ( جہاں کوئی رہتا نہ ہو۔ جیسے ہوٹل وغیرہ) متاع (سامان) ‘
تشریح : آیت نمبر 27 تا 29 :
شریعت نے ناجائز جنسی تعلق (زنا) اور اس کی سزا ‘ لعان اور حد قذف کے احکامات بیان کرنے کے بعد چند ایسے بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں جن سے معاشرہ میں فتنہ و فساد ‘ بےحیائی ‘ بےپردگی پھیلنے کے امکانات ختم کئے جاسکتے ہیں کیونکہ دین اسلام نے جہاں بد ترین گناہوں کی سخت ترین سزائیں متعین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
بغیر اجازت دوسروں کے گھروں میں نہ جانے کا حکم آداب معاشرت۔
(ف 1) شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ بعضے رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کے زنانہ مکانوں میں بغیر اجازت اور بغیر کھنکار نے کے چلے جاتے تھے اور بیخبر ان کے جانے سے ننگی کھلی عورتوں کا، اور ان کا آمناسامنا ہوجاتا تھا، بعض دین دار عورتوں نے نبی ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں۔
مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اپنے گھر کے سوا کسی اور کے گھروں میں بےاجازت داخل نہیں ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
[23] یعنی خبیثوں کا جوڑ خبیثوں سے لگتا ہے اور پاکیزہ لوگوں کا جوڑ پاکیزہ لوگوں سے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک
بدکار آدمی سوائے بدکاری کے ہر عیب سے پاک ہو اور اس کے چال چلن اور رنگ ڈھنگ میں بدکاری کی کوئی علامت نہ پائی جاتی ہو۔ پھر یہ بات کس طرح تمہاری سمجھ میں آتی ہے کہ ایک پاکیزہ انسان برسوں اسی عورت سے نباہ کئے جا رہا ہو جو صرف زناکار ہو اور جس میں اور کوئی عیب نہ ہو لہذا جب کسی پر بدکاری کا الزام لگایا جائے تو لوگوں کو چاہئے کہ بس اسے سنتے ہی نہ مان لیا کریں بلکہ دیکھیں کہ جس پر الزام لگایا جارہا ہے وہ اس پر چسپاں بھی ہوتا ہے یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
پہلے اجازت طلب کرو :
(ف 1) اسلام کی نگاہیں انسانی عادات وخصائل اور انسانی نفسیات و حالات سے متعلق بہت عمیق ہیں ، وہ یہ جانتا ہے کہ گناہ کا منبع کہاں ہے اور کن باتوں سے گناہ کی ترغیب ہوتی ہے ، اس لئے وہ سب سے پہلے اس گناہ کے سوتے کو بند کرتا ہے جہاں سے وہ پھوٹتا ہے ، اور اس کے بعد حفاظتی تدابیر کی تلقین کرتا ہے ۔
چنانچہ غور کرنے پر معلوم ہوگا ، کہ سب سے بڑی تحریک خلوت اور آزادی سے مرد اور عورت کا ملنا ہے اس لئے اسلام نے خلوت پر پابندیاں عائد کیں ، اور فرمایا دیکھو جب کسی عزیز یا دوست کے ہاں جاؤ ، جہاں کی عورتیں تم سے پردہ کرتی ہیں ، تو دھم سے ان کے ہاں نہ پہنچ جاؤ بلکہ پہلے اجازت طلب کرو تب…
Read the full tafseer →(28) پھر اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پائو تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تم کو اجازت نہ دے دی جائے اور اگر اجازت حاصل کرتے وقت تم کو کہا جائے کہ لوٹ جائو اور تشریف لے جائو تو تم لوٹ آئو یہ واپس لوٹ آنا تمہارے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے اور تمہارے لئے بہتر ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے یعنی جس مکان میں تم داخل ہونا چاہتے ہو اس میں کوئی نہ ہو یا ہو اور وہ جواب دینے کی اہلیت اور صلاحیت نہ رکھتا ہو تب بھی جب تک اجازت نہ مل جائے داخل نہ ہو تاکہ تصرف فی ملک الغیر لازم نہ آئے۔ پھر اگر اجازت حاصل کرتے وقت بجائے اجازت کے یہ کہا جائے کہ اس وقت موقعہ نہیں ہے واپس جائو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 2۔ یہ مسئلہ استیذان کا مردانہ اور زنانہ سب گھروں کے لئے ہے، اور استیذان واجب ہے، اور تقدیم سلام سنت ہے، اور ہرچند کہ یہاں خطاب مردوں کو ہے مگر عورتوں کا حکم بھی یہی ہے مردانہ میں بھی اور زنا میں بھی۔
Read the full tafseer →دوسروں کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملے تو داخل مت ہو :
38۔ اجازت نہ ملنے کی دو صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ اندر سے کوئی جواب ہی نہ آئے اور دوسری صورت یہ ہے کہ آواز آئے لیکن یہ کہ اس وقت ہم فارغ نہیں ہیں یا یہ کہ صاحب خانہ گھر پر نہیں ہے ۔
ج : حکم یہ دیا گیا ہے کہ تین بار دستک دو ‘ گھنٹی پر ہاتھ رکھو اگر اندر سے آواز نہ آئے تو چلے جاؤ پھر سہی ‘ سمجھ لو کہ اندر جواب دینے والا کوئی آدمی نہیں ہے ۔
اگر تم کو واپس چلے جانے کا حکم ملے تو واپس چلے آیا کرو :
39۔ د۔ اگر اندر سے اطلاع آئے کہ اس وقت نہیں یا اس طرح کی کوئی دوسری بات تو بغیر غصہ کئے واپس چلے آؤ ۔
یہ باتیں تمہاری پاکیزگی کے لئے کی گئی…
Read the full tafseer →Ruling
If a person asks permission from someone and he replies in the negative that he cannot meet at that time, then the caller should go back and not feel offended. He should realize that every one's needs and circumstances are different, and at times it is beyond the control of persons to call in the visitor or to go out and meet him. Hence, his refusal to meet should be accepted with good grace. In the present verse the same thing is emphasized وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ that is, ` If it is said to you, "Go back" just go back, it is more decent for you…
Read the full tafseer →26. Entry into an empty house is not allowed unless permitted as such by the master of the house. One may, for instance, have told a visitor or sent him a message to wait in his room till his arrival. The mere fact that there is nobody in the house, or the call is not answered does not entitle anybody to enter without permission.
27. That is nobody should mind if entry is refused, for everybody has a right to refuse to meet another person, or offer a plea if otherwise busy. The command“Go back”, according to the jurists, means going back in the literal sense and moving away from the door.…
Read the full tafseer →