Explained with ayahs 36–38
مومن کے دل سے مماثلت
مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بیہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ان ترفع کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ کعب ؒ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
سورة النُّوْر 68
بعض مفسرین نے ان " گھروں " سے مراد مساجد لی ہیں، اور ان کو بلند کرنے سے مراد ان کو تعمیر کرنا اور ان کی تعظیم و تکریم کرنا لیا ہے۔ اور بعض دوسرے مفسرین ان سے مراد اہل ایمان کے گھر لیتے ہیں اور انہیں بلند کرنے کا مطلب ان کے نزدیک انہیں اخلاقی حیثیت سے بلند کرنا ہے۔ " ان میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے "، یہ الفاظ بظاہر مسجد والی تفسیر کے زیادہ مؤید نظر آتے ہیں، مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوسری تفسیر کے بھی اتنے ہی مؤید ہیں جتنے پہلی تفسیر کے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کی شریعت کہانت زدہ مذاہب کی طرح عبادت کو صرف معبدوں تک ہی محدود نہیں رکھتے جہاں کاہن یا پوجاری…
Read the full tafseer →فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ ۙ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَال الآیة سابقہ آیت میں حق تعالیٰ نے قلب مومن میں اپنا نور ہدایت ڈال دینے کی ایک خاص مثال بیان فرمائی تھی اور آخر میں یہ فرمایا تھا کہ اس نور سے فائدہ وہ ہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ چاہتا اور توفیق دیتا ہے۔ اس آیت میں ایسے مومنین کا مستقر اور محل بیان فرمایا گیا کہ ایسے مومنین کا اصل مقام و مستقر جہاں وہ اکثر اوقات خصوصاً پانچ نمازوں کے اوقات میں دیکھے جاتے ہیں وہ بیوت یعنی مکانات ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ ان کو بلند وبالا رکھا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیات 38-36
فی بیوت کا کلام میں محل تمثیل میں معاہد کے ذکر کی وجہ
فی بیوت الآیۃ فی بیوت کا تعلق میرے نزدیک مشکوۃ سے ہے۔ اس ظرف نے واضح کردیا کہ اس تمثیل میں بت خانوں اور مے خانوں کے طاق کی مثال پیش نہیں کی گئی ہے بلکہ اللہ کے معابد کے طاقوں کی مثال پیش کی گی ہے۔ تمثیل میں ظاہر ہے کہ مشکوۃ سے مراد قلب سلیم یا بالفاظ دیگر قلب مومن ہے۔ یہ قلب ہر قالب میں نہیں پایا جاتا بلکہ خاص خاص قالیوں ہی میں پایا جاتا ہے اور یہ قولب ہر جگہ نہیں ملتے بلکہ انکے ملنے کی اصل جگہ خدا کی مساجد اور اس کے معاہد میں زمحشری نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کے نزدیک اصل تالیف کلام یوں ہے۔ ”فی بیت من بیوت اذن اللہ ان توفع…
Read the full tafseer →36-1جب اللہ تعالیٰ نے قلب مومن کو اور اس میں جو ایمان و ہدایت اور علم ہے، اس کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی جو شیشے کی قندیل میں ہو اور جو صاف اور شفاف تیل سے روشن ہو۔ تو اب اس کا محل بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ قندیل ایسے گھروں میں ہیں، جن کی بابت حکم دیا گیا ہے کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے مراد مسجدیں ہیں، جو اللہ کو زمین کے حصوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ بلندی سے مراد سنگ و خشت کی بلندی نہیں ہے بلکہ اس میں مسجدوں کو گندگی، لغویات اور غیر مناسب اقوال و افعال سے پاک رکھنا بھی شامل ہے۔ ورنہ محض مسجدوں کی عمارتوں کو عالی شان اور فلک بوس بنادینا مطلوب نہیں ہے بلکہ احادیث میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
29: اس جملے کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات کو ہدایت کا نور پہنچانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ امام غزالی نے اس آیت کی تشریح میں ایک مستقل مقالہ لکھا ہے جس میں اس فقرے کا مطلب بڑے لطیف فلسفیانہ انداز میں سمجھایا ہے، ان کی یہ پوری بحث امام رازی نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت نقل فرمائی ہے جو اہل علم کے لیے قابل دید ہے۔
30: امام رازی فرماتے ہیں کہ اگرچہ سورج کی روشنی ایک چراغ کی روشنی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت کی مثال سورج کے بجائے چراغ سے اس لیے دی گئی ہے کہ یہاں مقصود اس ہدایت کی مثال دینا ہے جو گمراہی کے اندھیروں کے عین درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83)
یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔
یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے…
Read the full tafseer →2 ان کی تعظیم و تطہیر کا حکم دیا یعنی ان کی خبر گیری کی جائے اور ہر قسم کی گندگی اور لغو افعال و اقوال سے پاک رکھا جائے۔ مساجد کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ وہاں پہنچ کردو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے۔
3 تسبیح و تہلیل اور تلاوت قرآن وغیرہ سب اذکار اس میں شامل ہیں۔
4 یعنی تمام مناسب اوقات میں خدا کو یاد کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا کہ " غدو " سے صبح کی نماز مراد ہے اور " آصال " میں باقی چاروں نمازیں داخل ہیں۔ کیونکہ اصیل زوال شمس سے صبح تک کے اوقات پر بولا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36 فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗلا ”
ان گھروں سے مراد مساجد ہیں اور انہیں بلند کرنے کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ مساجد کی تعمیر اس انداز اور ایسی جگہوں پر کی جائے کہ وہ پوری آبادی میں بہت نمایاں اور مرکزی حیثیت کی حامل ہوں اور دوسرے یہ کہ ان کے معنوی ترفعّ کو یقینی بنایا جائے اور ہر قسم کی معنوی نجاست سے انہیں پاک رکھا جائے۔
یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ”
یہ صاحب ایمان لوگ جن کے دلوں میں نور ایمان کی قندیلیں روشن ہیں وہ اللہ کے ان گھروں میں صبح و شام اس کا ذکر اور اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →62 بعض علماء نے یہاں بیوت سے مراد مساجد لی ہیں اور ترفع سے مراد انھیں تعمیر کرنا لیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور بصیرت عطا کیا ہوتا ہے اور وہ ہر وقت حق کے متلاشی رہتے ہیں۔ اور جب انھیں اللہ کی آیات سنائی جائیں تو وہ انھیں تسلیم کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہیں ایسے لوگ مساجد میں پائے جاتے ہیں۔ انھیں دیکھنا ہو تو اللہ کی مساجد میں دیکھو جہاں ہر وقت اللہ کا ذکر بلند ہوتا رہتا ہے۔ اور صبح و شام وہاں ایسے لوگ نمازوں اور تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے ہیں۔
اگرچہ یہ توجیہہ بھی درست ہے مگر یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں جس کی بنا پر بیوت کے لفظ کو صرف مساجد تک…
Read the full tafseer →83۔ یعنی یہی ہدایت پائے ہوئے اشخاص۔
84۔ مراد مسجدوں کا ہونا ظاہر ہے۔ اکثر المفسرین قالوا المراد المساجد (کبیر) قال ابن عباس ؓ ھذہ البیوتھی المساجد وکذلک قال الحسن و مجاھد (جصاص) (آیت) ” ترفع “۔ رفع کے لفظی معنی بلند کرنے کے ہیں۔ لیکن بلندی ہمیشہ مادی ہی نہیں ہوتی۔ معنوی بھی ہوتی ہے۔ الرفع قال تارۃ فی الاجسام الموضوعۃ ...... وتارۃ فی المنزلۃ اذا شرفھا (راغب) ترفع اے تشرف (راغب) اور معنوی بلندی یہی ہے کہ مسجدوں کی تعظیم وتطہیر کا اہتمام رکھا جائے۔ اے تعظم وتطھر عن الانجاس وعن اللغو من الاقوال (کبیر۔ عن الزجاج) اے تعظم بذکرہ (کبیر۔ عن مجاہد) فقہاء نے یہیں سے مسجد کی تعظیم وادب اور اس کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
آیت نمبر 35 تا 40
ترجمہ : اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے یعنی ان دونوں کو شمس و قمر کے ذریعہ منور کرنے والا ہے اور اس کے نور کی مثال یعنی اس کی صفت قلب مومن میں ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہے زُجَاجَۃٌ بمعنی قندیل اور المصباح بمعنی چراغ یعنی جلتی ہوئی بتی (شعلہ) اور المشکوٰۃ بمعنی طاق جو آرپار نہ ہو یعنی قندیل کی نلکی (پائپ) اور وہ قندیل حال یہ کہ اس میں نور ہو ایسا ہے جیسا کہ روشن ستارہ دال کے کسرہ کے ساتھ اور دال کے ضمہ کے ساتھ (اس وقت) دَرْءٌ سے مشتق ہوگا اور معنی دفع کرنے کے ہوں گے اس کے تاریکی کو دفع کرنے کی وجہ سے، اور دال کے ضمہ اور یا کی تشدید…
Read the full tafseer →فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ان گھروں میں جن کو بنانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
بیوت سے مراد ہیں مسجدیں۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ مسجدیں زمین پر اللہ کے گھر ہیں یہ آسمان والوں کی نظر میں ایسی چمکیلی دکھائی دیتی ہیں جیسے زمین والوں کے لئے ستارے۔ مسجدیں بلند کرنے سے مراد ہے مسجدوں کا بنایا جانا ‘ کذا قال مجاہد۔ رفع بمعنی تعمیر آیت وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُمیں بھی آیا ہے (جب ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل ( علیہ السلام) بیت اللہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے ‘ یعنی بنا رہے تھے) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے (ذکر) کے لئے مسجد…
Read the full tafseer →(36) اور وہ نور معرفت کی قندیلیں ایسے گھروں یعنی مساجد میں لٹکی ہوئی ہیں کہ جن کے بنانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ان مساجد میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی جاتی ہے اور ان مسجدوں میں ایسے لوگ صبح وشام نمازوں میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں یعنی فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھتے ہیں۔
Read the full tafseer →فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ : ”بُيُوْتٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”ان عظیم گھروں میں“ کیا گیا ہے۔ ”اَذِنَ“ کا لفظ اجازت اور حکم دونوں معنوں میں آتا ہے، یہاں مراد حکم ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ) [ النساء : 64 ] ”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی فرماں برداری کی جائے۔“
”فِيْ بُيُوْتٍ“ جار مجرور کس کے متعلق ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں کئی الفاظ ہیں جن میں سے کسی کے بھی متعلق کردیں تو معنی درست ہوتا ہے، مثلاً ”نورٌ، کَمشکٰوۃ، مِصْباح، الزُّجاجۃ“ اور ”یوقد“ یعنی وہ نور…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فی بیوت اذن اللہ ترفع، بیوت کی باء کو ضمہ اور کسرہ دیا جاتا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے اور فی کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ مصباح کے متعلق ہے۔ بعض نے کہا : یسبح کے متعلق ہے۔ اس تاویل پر علیم پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : میں نے ابو العباس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ مصباح، الزجاجۃ اور الکوکب سے حال ہے گویا فرمایا : وھی بیوت۔ ترمذی حکیم محمد بن علی نے کہا : فی بیوت منفصل ہے۔ گویا فرمایا : اللہ فی بیوت أذن اللہ ترفع، اللہ ان گھروں میں ہے اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے۔ اسی وجہ سے اخبار وارد ہیں کہ جو مسجد میں بیٹھا تو وہ اپنے رب…
Read the full tafseer →1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع سے مراد یہ مسجدیں ہیں جن کا اکرام کیا جاتا ہے اور ان میں لغو باتوں سے روکا جاتا ہے آیت ” ویذکر فیہا اسمہ “ یعنی ان مسجدوں میں اس کی کتاب تلاوت کی جاتی ہے آیت ” یسبح “ یعنی ان میں اللہ کے لیے نماز پڑھی جاتی ہے۔ آیت ” بالغدو “ یعنی صبح کی نماز۔ آیت ” والاٰصال “ یعنی عصر کی نماز سب سے پہلی نمازیں فرض کی گئیں اور اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ ان دونوں کا ذکر کرے۔ اور اپنے بندوں میں ان کو یاد دلائے۔
2۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا…
Read the full tafseer →فِيْ بُيُوْتٍ [ کچھ ایسے گھروں میں ] اَذِنَ [ اجازت دی ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] اَنْ [ کہ ] تُرْفَعَ [ جن کو بلند کیا جائے ] وَيُذْكَرَ [ اور یاد کیا جائے ] فِيْهَا [ جن میں ] اسْمُهٗ ۙ [ اس کا نام ] يُسَبِّحُ [ تسبیح کرتے ہیں ] لَهٗ [ اس کی ] فِيْهَا [ ان میں ] بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ [ صبح اور شام کو ]
Read the full tafseer →نیک بندے قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں، بیع اور تجارت کے اشغال انہیں اللہ کے ذکر سے اور اقامت صلوٰۃ و ادائیگی زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتے
ان آیات میں مساجد اور اہل مساجد کی فضیلت بیان فرمائی ہے لفظ (فِیْ بُیُوتٍ ) جو جار مجرور ہے کس سے متعلق ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں تفسیر جلالین میں ہے کہ یہ یُسَبّح سے متعلق ہے جو اس سے متاخر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ جنہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے تجارت اور مال کی فروختگی غفلت میں نہیں ڈالتی ایسے گھروں میں صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے ان کا ادب کیا جائے اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت نور دربارہ تمثیل نور ہدایت وظلمت فسق وفجور
وانوار قلوب اہل ہدایت وظلمت قلوب اہل ضلالت
قال اللہ تعالی۔ اللہ نور السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ من یشاء بغیر حساب۔
(ربط) ابتداء سورت سے یہاں تک احکام ہدایت اور کلمات حکمت وموعظت کا ذکر ہوا اور گزشتہ آیات میں یہ فرمایا کہ ہم نے روشن آیتیں نازل کیں جس سے مقصود یہ تھا کہ لوگ گمراہی کی ظلمت سے نکل کر نور ہدایت میں آجائیں۔ اس لئے ان آیات میں اول نور ہدایت اور ظلمت ضلالت کی مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اہل ہدایت اور اہل ضلالت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ دلائل ایمان و ہدایت نور مبین کی طرح روشن ہیں اور ادیان کفر انتہائی ظلمت اور تاریکی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
43:۔ ” فی بیوت الخ “: دعوی توحید پر ان لوگوں سے دلیل نقلی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مدبر عالم، متصرف و مکتار اور کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں اور ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس کرتے ہیں۔ ” فی بیوت “ ظرف ” یسبح “ کے متعلق ہے۔ ” بیوت “ موصوف ” اذن اللہ الخ “ جملہ صفت، ” رجال “ ” یسبح “ کا فاعل ہے۔ ” فیھا “ ، ” فی بیوت “ کا تکرار ہے برائے تاکید، ای یسبح لہ رجال فی بیوت و فیھا تکریر کقولک زید فی الدار جالس فیھا (بحر ج 6 ص 458) ۔ یا ” فی بیوت “ جز مقدم ہے۔ ” رجال “ نکرہ موصوفہ مبتداء موخر ہے۔ ” رجال “ سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین مراد ہیں۔ ” اذن “ سے امر اور ” رفع “ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ربط آیات : قرآن پاک کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے نور کا ذکر کیا گیا اور اس کی مثال بھی اللہ نے بیان فرمائی۔ اس نور کے متعلق مختلف مفسرین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ میں ان آیات کا سابقہ آیت کے ساتھ ربط یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس نور کا ذکر فرمایا ہے وہ زیادہ تر اللہ کی مساجد میں عبادت وذکر کی وجہ سے مومن کے قلب میں جاگزیں ہوتا ہے۔
مساجد میں ذکر الٰہی :
ارشاد ہوتا ہے فی بیوت وہ روشنی اللہ تعالیٰ کے گھروں میں پائی جاتی ہے اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان گھروں کو بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے۔ ان گھروں سے مراد…
Read the full tafseer →فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ 0ۙ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ 36ۙ
بيت
أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ،
( ب ی ت ) البیت
اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔
وأَذِنَ :
استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ترکیب : : فی بیوت یا تو صفت ہے زجاجہ کی المصباح زجاجۃ وبیوت۔ یا یوقد سے متعلق ہے ای تو قدفی المساجد یا یسبح سے متعلق ہے وھو القویٰ ، رجال یسبح کا فاعل یا مفعول مالم یسم فاعلہ لاتلہیھم رجال کی صفت یخافون صفت ثانیہ لیجزیہم یسبح سے متعلق۔
تفسیر : فی بیوت کو جمہور مفسرین نے کلام سابق کا تتمہ قرار دیکر تشبیہ میں شامل کیا ہے یعنی وہ چراغ جو آئینہ میں ہو اور صاف تیل سے روشن کیا ہو کسی گندہ اور ناپاک مکان میں نہ ہو کہ جس کی روشنی صاف باطنوں کی آنکھوں میں بےقدر معلوم ہوتی ہو بلکہ ان مکانوں میں ہو کہ جن کے بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یعنی مساجد خانہ کعبہ، مسجد نبوی، بیت المقدس مسجد قبایا عام مساجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَفِیْھَا اسْمُہٗ لا یُسَبِّحُ لَـہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۔ رِجَالٌ لا لاَّ تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَـآئِ الزَّکٰوۃِ ص لا یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ ۔ لِیَجْزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَیَزِیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَـآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔
(النور : 63، 37، 38)
(اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ وہ تعمیر (اور بلند) کیے جائیں اور ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں کو ” اللہ “ اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو مساجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر و اذکار کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو ہدایت سے نوازا ہے انہیں حکم دیا کہ وہ مساجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بلند کریں اور مساجد کو آباد رکھیں اور صبح شام ان میں اللہ کا ذکر کرتے رہیں۔ ” فی بیوت “ سے مراد کسی حد تک مومنوں کے اپنے گھر بھی لیے جاسکتے ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ لوگو اپنے گھروں کو قبرستان بنانے کی بجائے وہاں ذکر و اذکار، قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل ادا کیا کرو۔[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی فضل سورة البقرۃ واٰیۃ الکرسی ]
مسجدیں سکون و…
Read the full tafseer →فی بیوت کا تعلق مشکاۃ سے ہے :
36: فِیْ بُیُوْتٍ (ایسے گھروں میں) یہ مشکوٰۃ سے متعلق ہے یعنی جیسا کہ طاقچہ جو کسی مسجد میں ہو۔ گویا اس طرح فرمایا : مثل نورہٖ کماتری فی المسجد نور المشکاۃ التی من صف تھا کیت و کیت اس کے نور کی مثال اس طرح ہے جیسا کہ تم مسجد میں اس طاقچے کی روشنی دیکھتے ہو جو طاقچہ ان ان صفات سے متصف ہے۔ یا نمبر 2۔ تو قد سے متعلق ہے ای توقد فی بیوت وہ دیا گھروں میں جلایا جاتا ہے۔
نمبر 3۔ یسبح سے متعلق ہے ای یسبح لہ رجال فی بیوت اس کی تسبیح کچھ لوگ کرتے ہیں ایسے گھروں میں اور نمبر 1۔ فیھا کا لفظ بار دیگر لایا گیا ہے اس سے تاکید مقصود ہے۔ مثلاً زید فی الدار جالس فیھا۔ نمبر 2۔ محذوف…
Read the full tafseer →36۔ فی بیوت اذن اللہ، ان گھروں میں چراغ ہیں، بعض نے کہا کہ ان گھروں میں چراغ کے ساتھ روشنی کروبیوت سے مراد مساجد ہیں ، سعید بن جبیر اور حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے، کہ مسجدیں زمین پر اللہ کے گھر ہیں۔ یہ آسمان والوں کی نظر میں ایسی چمکیلی دکھائی دیتی ہیں جیسے زمین والوں کے لیے ستارے۔
صالح بن حبان نے بریدہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ صرف چار مساجد ہیں جنکو پیغمبر نے بنایا ہے۔ کعبہ کو حضرت ابراہیم نے ا اور حضرت اسماعیل نے اور حضرت اسماعیل نے بیت المقدس کو حضرت داؤد اور حضر ت سلیمان نے بنایا اور مسجد مدینہ اور مسجد قبا کو نبی کریم نے بنایا۔ مسجد قبا وہی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے ہی تقوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
36۔ 38:۔ عمرو بن میمون کوفی ثقہ تابعیوں میں ہیں ‘ حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے ‘ یہ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ اکثر صحابہ ؓ بیت کی تفسیر مساجد کی بیان کیا کرتے تھے ‘ صحابہ ؓ کی اس تفسیر کے موافق حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ عالم ارواح کے نور ہدایت کی جو روشنی ہر ایک ایماندار شخص کے دل میں ہے ‘ اس کا حال تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کیونکہ آدمی کے دل کا حال سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا ‘ ہاں جو لوگ قیامت کے دن کی آفتوں سے ڈر کر مسجدوں میں نماز کے لیے اس طرح وقت پر حاضر ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی سوداگری ان کو اس حاضری سے باز نہیں رکھ سکتی اور زکوٰۃ کے وقت شریعت کے حکم کے موافق یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
(آیت نمبر (36
یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے (فی بیوت) ” گھروں میں “ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں۔ (اذن اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے (ان ترفع ویذ کر فیھا اسمہ) ” کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔ “ ان دو امو میں مساجد کے احکام جمع کردیے گئے ہیں۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر ‘ ان میں جھاڑ و دینا ‘ ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا ‘ ان کو بچوں اور فاتراعقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے ‘ کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغو یات اور ذکر الہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
بلندی ذکر کی تشریح
قول باری ہے : (فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو والاصال رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیح عن ذکراللہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ) اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے، ان میں ایسے لوگ صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز وادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی ۔ ایک قول کے مطابق آیت کے معنی ہیں ” وہ چراغ جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن…
Read the full tafseer →82 نور ایمان سے سرفرازی کے مواقع کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین کا یہ نور ملتا ہے ایسے گھروں میں جنکی تعظیم کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں جن کو حدیث میں " اَحَبُّ الْبُقَاعِ اِلَی اللّٰہِ " ۔ " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور مقدس جگہیں " فرمایا گیا ہے۔ اور جن کے بارے میں حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ فرماتے ہیں کہ وہ آسمان والوں کے لئے اس طرح چمکتی ہیں جس طرح کہ زمین والوں کے لئے آسمان کے ستارے۔ (ابن کثیر، صفوۃ اور مراغی وغیرہ) ۔ یعنی ایمان کا یہ نور ہر قلب میں نہیں بلکہ قلوب سلیمہ میں پایا جاتا ہے۔ اور قلب سلیم قلب مومن ہی ہوسکتا ہے جو نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
اللہ کے نور مثال اور مرد لوگوں کی تعریف
تشریح : ان آیات میں اللہ کے اس صفاتی نام نور کی مثال دی گئی ہے ایک ایسے روشن، خوبصورت ترین چراغ کے ساتھ جس میں تیل بھی بہترین زیتون کے درخت کا پڑتا ہے۔ زیتون کے درخت کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر بہترین درخت وہ ہوتا ہے جو کھلی فضا اور کھلی جگہ میں ہوتا ہے۔ اس کا تیل کھانے کے لیے اور جلانے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ زیتون کا درخت اس کا پھل اور اس کا تیل انسان کے لیے بےحد مفید شفاف اور صحت کے لیے بہترین غذائیت رکھتا ہے۔
اللہ کے نور کی تعریف کرنا بڑی مشکل بات ہے بہرحال اس وقت کے بہترین چراغ سے اللہ نے خود اپنے نور کو تشبیہ دی ہے۔ ہم تو صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، نور کا معنی ایسی چیز ہے جو از خود ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرنے والی ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ تمام جہانوں میں حقیقی ذاتی اللہ کی ہے جو ہر ہر شے سے ظاہر ہے اور دوسری چیزوں کی روشن اور ظاہر کرنے والی ہے تو یہ نور جو شئے کے معنوں میں آئے گا اس کا اطلاق اللہ کی ذات پر نہ ہوگا بلکہ اس کی طرف سے عطا کی جانے والی روشنی پر ہوگا کہ اصل سارے نور اور روشنی کا مالک اللہ ہے پھر اس کے نور کی اور روشنی بخشنے کی مثال ایسی کہ جیسے کسی طاق میں ایک روشن چراغ اور وہ چراغ ایک قندیل میں ہو جو شفاف اور ستاروں جیسے چمکدار شیشے کی بنی…
Read the full tafseer →9 ۔ اوپر کی آیت میں مومن کے قلب اور اس میں جو علم و ہدایت کی روشنی ہے اسے مصباح سے تشبیہ دے کر سمجھایا کہ اس کی مثال قندیل کی ہے اب اس قندیل کا محل ذکر کیا۔ یعنی مساجد جو اللہ تعالیٰ کو تمام زمین سے زیادہ محبوب ہیں۔ پس ان مساجد کے آداب یہ ہیں کہ ان کو پاک صاف رکھا جائے اور ان میں بیہودہ باتیں نہ کی جائیں اور نہ نازیبا حرکت ہی کی جائے۔ عموماً مفسرین (رح) نے ” ان ترفع “ کے یہی معنی کئے ہیں۔ مسجدوں کو پاک و صاف رکھنے اور ان کے احترام کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں۔ یعنی یہ کہ مسجدوں میں اللہ کا نام لیا جائے۔ ان میں اشعار نہ پڑھے جائیں اور نہ ان میں خریدو فروخت کی جائے۔ گمشدہ چیزوں کے اعلانات…
Read the full tafseer →(24:36) فی بیوت۔ ای ذلک المصباح یوقد فی بیوت۔ چراغ روشن کیا جاتا ہے (ان ) گھروں میں۔ یہاں بیوت سے مراد مساجد ہیں۔ اذن۔ ای امر۔ اس نے حکم دیا۔ اذن مصدر۔ باب سمع۔ ماضی کا صیغہ واحدمذکر غائب۔ فیھا۔ میں ھا ضمیر کا مرجع بیوت اور اسمہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
ترفع۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب (کہ) وہ بلند کی جائے۔ اوپر اٹھانا۔ اوپر اٹھانے سے مراد عمارت کو اٹھانا بھی ہوسکتا ہے جیسے اذ یرفع ابراہیم القواعد من البیت واسمعیل (2:127) اور جب (حضرت ) ابراہیم اور (حضرت) اسماعیل (علیہما السلام) خانہ (کعبہ) کی بنیادیں بلند کر رہے تھے۔ اور اس کا مطلب مرتبہ کی بلندی بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً نرفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 40 :
مسکوۃ (طاق) ‘ مصباح (چراغ) ‘ زجاجۃ (شیشہ۔ قندیل) ‘ کو کت (ستارہ) ‘ دری (موتی کی طرح چمک دار) یوقد (روشن کیا جاتا ہے) ‘ زیت (تیل) یضیء (روشن کیا جاتا ہے) ‘ لم تمسس (نہ چھوا ہو) ‘ یضرب (بیان کرتا ہے۔ مارتا ہے) ‘ اذن (اجازت دی ہے) ‘ ترفع (بلند کیا جاتا ہے۔ کیا جائے) ‘ الغدو (صبح) ‘ الاصال (شام) لاتلھی (غافل نہیں کرتی) ‘ بیع (تجارت۔ لین دین) ‘ قیعۃ (قاع) چٹیل کھلا ریت کا میدان) ‘ الظمان (پیاسا) ‘ لجی (گہرپانی) ‘ سحاب (بادل) ‘ لم یکد (قریب نہیں ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 40 :
آسمانوں ‘ زمین اور کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی ہدایت کا نور موجزن ہے۔ جہاں بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
نیک لوگون کے اعلی اوصاف کا ذکر۔
(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے دل کا حال سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا ہاں جو لوگ قیامت کے دن آفتوں سے ڈر کر فجر وظہر وعصر مغرب، عشاء مسجدوں میں نماز کے لیے اس وقت پر حاضر ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی سوداگری ان کو اس حاضری سے باز نہیں رکھ سکتی ، اور زکوۃ کے وقت شریعت کے حکم کے موافق یہ لوگ زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں پھر فرمایا یہ لوگ نیک کام کرتے ہیں وہ کسی دکھاوے کے لیے نہیں کرتے بلکہ ان کا ہر ایک نیک کام اس نیت سے ہوتا ہے کہ بارگاہ الٰہی سے قیامت کے دن اس نیک کا اچھا بدلہ عطا ہو، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور کچھ زیادہ بھی ان کو دیوے جو نیک عمل کی جزا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
[47] مراد مسجدیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
اللہ نور ہے :
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمینوں کے نور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے ، اور قندیل ایسی صاف اور چمکدار ہے گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے ، اس میں برابر یکسان روشنی ہے نہ شرقی ہے اور نہ غربی تیل اس طرح کا مصفا کہ بغیر آگ جلنے کے تیار ہے ظاہر ہے کہ ایسی روشنی تیز ہوگی ، واضح ہوگی دور تک پہنچنے والی اور پاکیزہ ہوگی پس اپنے نور سے جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھلاتا ہے ، کیونکہ اللہ کی ذات ہر قسم کی تشبیہ سے پاک ہے ۔ (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ چناچہ آیت کے اختتام پر…
Read the full tafseer →(36) وہ اہل ہدایت جن کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہدایت کانو ملا ہے وہ ایسے گھروں میں عبادت کرتے ہیں جن کی قدرو منزلت اور رفعت شان کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نیز اس کا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اور اس کے نام کا ذکر کیا جائے ان مکانوں میں صبح و شام ایسے لوگ اللہ تعالیٰ پاکی بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 6۔ مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں اور ان کا ادب یہ کہ ان میں جنب وحائض داخل نہ ہو، اور ان میں کوئی نجس چیز داخل نہ کی جاوے، وہاں گل نہ مچایا جاوے، دنیا کے کام اور باتیں کرنے کے لئے وہاں نہ بیٹھیں، بدبو کی چیز کھا کر ان میں نہ جاویں وغیر ذلک۔
7۔ یعنی پانچوں نمازیں ادا کرتے ہیں، صبح کی نماز عدغدو میں آگئی اور چار نمازیں اصال میں آگئیں، کیونکہ آصال کہتے ہیں آفتاب ڈھلنے سے لیکر تمام رات تک۔
Read the full tafseer →وہ عظمت والے گھروں میں صبح وشام تسبیح میں مصروف رہتے ہیں :
60۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا نور ہر جگہ کار فرما ہے لیکن اس کو اخذ کرنے کے لئے کچھ مخصوص گھر بھی بنائے گئے ہیں جو کچھ کسی کی زبان سے نکلتا ہے بلاکم وکاست سب کا سب کائنات کے اندر محفوظ ہے لیکن دوسروں جگہوں پر جو سنائی دیتا ہے لیکن فائدہ کون حاصل کرتے ہیں ؟ وہی جو فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ اپنے سر پر آنکھیں رکھتے ہیں ۔ لیکن جو سپرہ چشم ہیں ان کو تو عین دوپہر کے وقت بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ اس طرح اللہ رب کریم کے نور کو اخذ کرنے کے لئے کچھ خاص عبادت خانے بنائے گئے ہیں جن کو اسلام کی زبان میں مساجد کا نام دیا گیا ہے اور ہم…
Read the full tafseer →فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
(The guided people worship Allah) in the houses that Allah has permitted to be raised and where His name recounted and His purity is pronounced, in the morning and in the evening, - 36.
In the previous verse Allah Ta’ ala had given a unique example of placing His Nur of guidance in the heart of believers. Toward the end of the verse it was clarified that only those draw benefit from this Nur, whom Allah loves and grants Divine help. In the above verse those places and buildings…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
68. Some commentators have interpreted these houses to mean the mosques, and raising them to mean constructing and reverencing them. Some others, however, take them to mean the houses of the believers and raising them to mean raising their moral status. The words to mention His name therein seem to refer to the mosques and support the first interpretation, but if we look deeper, we see that they support the second interpretation equally well. This is because divine law does not confine worship to mosques alone as is the case with the priest-ridden religions where the rituals can only be…
Read the full tafseer →